ناروے، سویڈن اور ڈنمارک کے اشتراک کی تجویز

اسکینڈے نیویا کے تین ملکوں، ڈنمارک، سویڈن اور ناروے کے بارے میں اکثر و بیشتر یہی کہا جاتا ہے کہ یہ ملک آپس میں گہری مطابقت رکھتے اور تمدنی و ثقافتی اور سماجی اقدار میں  ایک دوسرے کے اتنے قریب ہیں کہ  اپنی مثال آپ ہیں ۔  ان ملکوں کے شہری ایک دوسرے کو اپنا بھائی سمجھتے ہیں۔ تھوڑے بہت فرق کے ساتھ وہ ایک دوسرے کی  زبانیں بھی سمجھ لیتے ہیں۔  تینوں ملکوں  کی مشترکہ  تاریخ  ہے۔ یہ ایک ہی طرح کا سماجی فلاحی نظام رکھتے ہیں اور ان کی سرکاری عمارات و شاہی محلات وغیرہ بھی ایک ہی طرح کے اور آپس میں ملتے جلتے ہیں۔  جب اتنا سب کچھ ایک ہی جیسا ہے اور تینوں ملکوں میں ’’ ایکتا ‘‘ کو مؤثر طریقے سے اجاگر کرتا ہے تو پھر  ڈنمارک، سویڈن اور ناروے آپس میں ضم ہو کر ایک ’’ بڑا ملک ‘‘ کیوں نہیں بن جاتے ؟

یہ سوال ناروے کے ایک ارب پتی تاجر پیٹر ستور ڈالن Petter Stordalen نے اٹھایا اور کہا ہے کہ اسکینڈے نیویا کے ان تینوں ملکوں کو آپس میں ضم ہو کر ایک  ملک بن  جانا چاہیئے ۔ سال رواں کے دوران  اسکینڈے نیویا کے ممالک  ڈنمارک، ناروے اور سویڈن کے متعلق امریکی و برطانوی  سرکاری و سیاسی حلقوں اور میڈیا میں بطور خاص توجہ دی جا رہی ہے۔ اِن تینوں ملکوں کو ایک ایسے بڑے جزیرے سے تشبیہ دی جا رہی ہے جس کا رائج الوقت تمدنی و سیاسی نظام یکساں و مثالی ہو ۔  مؤقر عالمی اخبارات مثلاً نیویارک ٹائمز، واشنگٹن پوسٹ،  انٹرنیشنل ہیرالڈ ٹربیون، ڈیلی میل اور کئی دوسرے اخبارات میں  اسکینڈے نیویا کے ان تینوں ملکوں کے متعلق پچھلے ایک سال سے تسلسل کے ساتھ، سیاسی وتمدنی اور ثقافتی صورت حال کی تصویر کشی کرنے والے مضامین لکھے گئےہیں۔   اِن ممالک کے بیچ پائی جانے والی  مطابقت اور یکسانیت کی تعریف کرتے ہوئے اُسے مثبت انداز میں پیش کیا جاتا ہے ۔

حال ہی میں روزنامہ واشنگٹن پوسٹ جیسے معتبر اخبار نے تینوں اسکننڈے نیوین ممالک کے تاریخی، تمدنی، سیاسی و سماجی پس منظر کی روشنی میں ایک تفصیلی مضمون میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ اگر اِن تینوں ملکوں یعنی ڈنمارک، ناروے اور سویڈن کو ایک کر دیا جائے تو یہ ان ممالک کے لوگوں اور خطے کے لیے بہت ہی فائدہ مند ہو گا۔ اس طرح معرض وجود میں آنے والا ملک، شمال مغرب میں ایک مضبوط و طاقتور مملکت کے طور پر دنیا کے نقشے میں ایک جدید ریاست کے طور پر شامل ہو سکتا ہے ۔ واشنگٹن پوسٹ کے اِس مضمون کی بنیاد ناروے ایک  ارب پتی تاجر پیٹر ستور ڈالن Petter Stordalen کی سوچ و فکر پر استوار ہے ۔ پیٹر ستورڈالن نے سویڈن کے اخبار گوتن برگ پوستن Gögenborg Posten کو ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ان تینوں ملکوں کو آپس میں ضم کرکے ایک بنانے سے بہت زیادہ فوائد حاصل کیے جا سکتے ہیں ۔

ستور ڈالن کا کہنا ہے کہ  سویڈن میں کم و بیش دس ملین افراد رہتے ہیں۔ ناروے و ڈنمارک کی آبادی مل کر دس ملین ہے۔  اگر ان کو اکٹھا کر لیا جائے تو بیس ملین افراد کی آبادی والا  ملک تجارتی و کاروباری لحاظ سے بہت سود مند ہوگا۔  عالمی سیاست میں بھی اسے ایک  عظیم حیثیت حاصل ہو جائے گی ۔ اور دفاعی اعتبار سے بھی یہ  خود پر انحصار کر سکے گا۔    ناروے کے اِس ارب پتی تاجر پیٹر ستور ڈالن کے  سویڈن اور ناروے میں کئی ہوٹل ہیں ۔ انہوں نے توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ  ذرا سوچیں کہ شمال مغرب میں ہمارا سب کا ایک  بڑا ملک  ہونا کتنا عظیم ہو سکتا ہے۔

واشنگٹن پوسٹ نے اپنے خصوصی مضمون میں ناروے کے ارب پتی تاجر پیٹر ستورڈالن کی اسی سوچ کو بڑھاتے ہوئے  اِن تینوں  ملکوں کی  مجموعی قومی پیداوار( بی این پی) کا دوسرے یورپی ممالک کی قومی پیداوار سے  موازنہ بھی کیا ہے ۔ اخبار نے لکھا ہے کہ ڈنمارک، ناروے اور سویڈن کی  بیس ملین   مشترکہ آبادی  بھی بہت اہم کردار ادا کر سکتی ہے ۔ ان ملکوں کی مشترکہ  قومی پیداوار  جرمنی کے بعد یورپ میں سب سے ذیادہ ہو سکتی ہے ۔  اگران تینوں ملکوں کی  ایک ’’  مشترکہ نارڈک اسٹیٹ ‘‘ بنا دی جائے تو یہ  دوسرے یورپی ممالک سے بہت آگے بڑھ سکتا ہے۔  

واشنگٹن پوسٹ نے اگرچہ اسکینڈے نیویا کے متذکرہ تینوں ممالک کو ایک کرنے کے حوالے سے تاجر پیٹر ستور ڈالن کے نظرئیے کی حمایت کی ہے تاہم یہ بھی لکھا ہے کہ  ایسا کرنے کی راہ میں  دشواریاں  بھی ہوں گی۔  مثال پیش کرتے ہوئے اخبار نے لکھا ہے کہ ڈنمارک اور سویڈن دونوں یورپی یونین کے رکن ہیں جب کہ ناروے اس سے باہر ہے ۔ ایک اور مثال پیش کرتے ہوئے واشنگٹن پوسٹ نے اشارہ کیا ہے کہ ناروے اور ڈنمارک دونوں نیٹو کے رکن ہیں اور سویڈن ایک غیر جانب دار ملک کی حیثیت میں اپنا تشخص بر قرار رکھے ہوئے ہے۔  

روزنامہ واشنگٹن پوسٹ کے مآخذ سویڈن کے روزنامہ Götenborg Post  میں شائع شدہ ناروے کے ارب پتی تاجر کے انٹرویو پر  رد عمل کا اظہار کرنے والے اخبار کے سویڈش قارئین کی رائے کو مد نظر رکھا جائے  تو ایک کثیر تعداد میں قارئین اس پر متفق میں کہ  ڈنمارک، ناروے اور سویڈن کو ایک مشترکہ ملک بنا دیا جائے۔  لیکن ان کی شرط یہ ہے کہ نئی  ریاست کا دارالحکومت کوپن ہیگن، اوسلو یا سٹاک ہالم نہیں بلکہ  سویڈن کے جنوب مغرب میں اُن کا اپنا  ساحلی و صنعتی شہر  Götenborg ( گوتنبرگ) ہونا چاہیے ۔ گوتنبرگ کے شہریوں کے اِس خیال سے واشنگٹن پوسٹ  نےبھی اتفاق ظاہر کیا ہے ۔

(نصر ملک کوپن ہیگن سے شائع ہونے والے انٹرنیٹ اخبار  www.urduhamasr.dk کے ایڈیٹر ہیں)