مشکلات میں گھرا پاکستان
- تحریر
- سوموار 23 / مئ / 2016
- 4701
یہ بات کسی شک و شبہ سے بالا تر ہے کہ دشمن قوتیں پاکستان کو کمزور سے کمزور پوزیشن میں لانے کے مذموم منصوبوں پر تیزی سے عمل پیرا ہیں۔ پاکستان کو ملکی دہشت گردی کے علاوہ افغانستان اور ہندوستان کی تخریبی کاروائیوں کا سامنا بھی ہے۔ اگر افغان حکومت خود پاکستان کے خلاف دہشت گردی کرانے میں ملوث نہیں تو بھی افغانستان کی سرزمین ہندوستان اور دوسرے ملکوں کی طرف سے پاکستان کے خلاف استعمال کی جا رہی ہے۔
دوسری طرف امریکہ کی بھرپور مدد اور حمایت سے ہندوستان اپنی جارحانہ جنگی طاقت میں تیزی سے اضافہ کررہا ہے اور اس سے جنوبی ایشیا میں طاقت کا توازن بھارت کے حق میں ہو رہا ہے۔ اس صورتحال میں پاکستان کے لئے جنگی ہتھیاروں کی فراہمی مشکل ہی نہیں ناممکن ہوتی نظر آتی ہے۔ امریکہ کی طرف سے ماضی میں بھی پاکستان کی فوجی مدد کرتے ہوئے اس بات کو یقینی بنایا جاتا رہا کہ یہ جنگی ہتھیار کسی طور بھی بھارت کے خلاف استعمال نہ ہو سکیں۔ اب بھی پاکستان کی لئے جنگی ہتھیاروں کی فراہمی کی وجہ دہشت گردی کے خلاف جنگ بتایا جاتا ہے، ہندوستان کے پاکستان کے خلاف خطرناک عزائم کو وجہ نہیں بتایا جاتا۔ امریکہ کی طرف سے چند ایف 16طیاروں کی فراہمی کے لئے پاکستان کو طیاروں کی قیمت میں’’سبسڈی‘‘ کے بجائے پاکستان کو ان کی پوری قیمت ادا کرنے کو کہا جا رہا ہے۔ پاکستان کے لئے ناگزیر ہو چکا ہے کہ اب امریکہ پر کلی انحصار کی پالیسی کو تبدیل کیا جائے ۔
امریکہ اپنی یہ پالیسی واضح کر چکا ہے کہ وہ پاکستان کو کسی بھی ایسی سرگرمی میں ملوث ہونے نہیں دے گا جو کسی طور بھی بھارت کے لئے خطرات کا موجب ہو۔ کچھ ہی عرصہ قبل روس نے پاکستان کو ہر طرح کے جنگی ہتھیار فروخت کرنے کی پیشکش کی تھی، پاکستان کو اب روس کے ساتھ تعلقات میں اضافے پر سنجیدگی سے غور ہی نہیں بلکہ اس بارے میں عملی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ پاکستان کی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کے لئے یہ ناگزیر ہو چکا ہے۔
اس خطرناک منظر نامے کے باوجود ملک کو ترقی اور استحکام کی راہ پر ڈالنے کے حوالے سے اگرچہ ایسے بڑے منصوبوں پر بھی عمل ہو رہا ہے جو پاکستان کی پائیدار ترقی کی اہم بنیاد ہو سکتے ہیں۔ لیکن ملک کو عدم استحکام سے دوچار کرتے ہوئے اسے کمزور تر کرنے کے لئے پاکستان کے خلاف دہشت گردی اور جنگی مذموم منصوبے ہی نہیں ، ملک کو بدترین سیاسی خلفشار میں مبتلا کرتے ہوئے سیاسی عدم استحکام سے دوچار کرکے، لاغر اور مجبور کرنے کی سازشیں بھی زور و شور سے جاری نظر آتی ہیں۔ ملک کی کئی سیاسی جماعتیں ’’ چاہتے اور نا چاہتے ہوئے‘‘ ملک میں ایسے سیاسی انتشار میں آلہ کار بنتی نظر آ رہی ہیں۔ اس کے نتائج ملک کے لئے مہلک ہوں گے ۔ یہ جماعتیں خود بھی اس بات پر متفق ہیں۔ سرکاری محکموں، اداروں کی کارکردگی کی اصلاح بدستور’’شجر ممنوع‘‘ بنی ہوئی ہے۔
ملک میں سیاسی کلچر کو بدستور کرپٹ اور نااہل بنائے رکھے کے’’ انتظامات‘‘ بھی مکمل نظر آتے ہیں۔ ملک میں عقل و شعور پر پابندیوں کو ملکی مفاد میں ضروری قرار دینا، غلط اور نقصان دہ پالیسیوں کے واضح ثبوت کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ پاکستان کی اسی صورتحال کو دیکھتے ہوئے ہندوستان مقبوضہ کشمیر میں اپنے قبضے کو دائمی بنانے کے لئے مقبوضہ ریاست میں مسلم آبادی کے تناسب میں تبدیلی کے لئے خطرناک منصوبوں پر عمل پیرا ہے۔ ان منصوبوں کے نتائج کشمیر کی اکثریتی مسلم آبادی کے لئے تو تباہ کن ہوں گے ہی لیکن یہ عوامل پاکستان کے لئے بھی ناقابل برداشت مہلک صورتحال پیدا کر سکتے ہیں۔ یہ تاریخی جملہ آج بھی ایک زندہ حقیقت ہے کہ ’’ اگر ہم نے کشمیر کو چھوڑ دیا تو کشمیرہمیں کہیں کا نہ چھوڑے گا‘‘۔
ملک کے اہم ترین امور حکومت کے ہاتھوں میں ہیں تو اس کا محاسبہ کیوں نہیں؟ اگر یہ اہم ترین امور سول حکومت کے’’ دائرہ کار‘‘سے باہر ہیں تو اس پر فریاد ، واویلا کیوں نہیں؟ پاکستان کی سیاسی جماعتیں اور ہمارا میڈیا پاکستان کو درپیش اس تمام صورتحال کو مکمل طور پر نظر انداز کرتے ہوئے ’’پانامہ لیکس‘‘ جیسے امور میں محدود و مقید نظر آرہا ہے۔ سیاسی جماعتیں اور میڈیا عوام کو بہتری کی راہ دکھلاتی ہیں لیکن یہ دونوں ہی اپنی اس صلاحیت سے محروم ہوتے نظر آ تے ہیں۔ مختصر طور پر یہی کہا جاسکتا ہے کہ پاکستان میں رہنے والوں کو پاکستان کی قدر کرنا چاہئے۔ اسے اگر آباد و خوشحال کرنے کی صلاحیت نہیں تو اسے برباد تو نہ کیا جائے۔