ریل کا سفر اور پیش امام کی نوکری
- تحریر سرور غزالی
- سوموار 23 / مئ / 2016
- 10197
کسی بھی خاندن کی کسی روایت کی وجوہات کا تلاش کرنا بہت مشکل کام ہے۔ ہمارے خاندن کے بیشتر افراد ریلوے کی ملازمت کیوں کرتے رہے اس کی کوئی خاص وجہ مجھے آج تک نہیں مل سکی، باوجود میری تحقیق کہ۔مگر ایسا ہی رہا۔خاندان کے جس بزرگ کا شجرہ نصب اٹھا کر دیکھ لو۔۔۔۔بات ریلوے کی ملازمت تک جا پہنچے گی۔ ڈاکٹر ہو یا انجینئر، اعلی تعلیم یافتہ ہو یا واجبی، نوکری ریلوے میں ہی کر نی ہے ۔ یہ روایت اور باتوں کی طرح اب موقوف ہو چکی ہے۔ ۔ بعد کی نسل میں یہی نوکری ایک عیب بن گئی ۔یہاں تک کہ جب ہماری نسل نے نوکری کا سو چا تو ہر ایک نوجوان یہ کہتا تھا کہ سب کچھ کرونگا بس ریلوے میں نہیں جاؤنگا۔
سو ہمارے والد مرحوم بھی ریلوے میں نوکری کرتے رہے۔ اور ہماری ریلوے اسٹیشن، ریلوے کے اسٹاف، ریلوے کالونی، ریلوے کا بنگلہ اور خاص کر ریل کے ڈبے سے شناسائی بہت ہی چھوٹی عمر سے ہو چکی تھی۔ بقول شخصے ہم نے ریل کے ڈبے میں آنکھیں کھولیں۔ ریل اور سفر کا ظاہر ہے چولی دامن کا ساتھ ہے۔ سو ہماری یادداشت اپنے ہوش سنبھالنے کی عمر سے ریل کے انجن سے لیکر ہر چیز سے مانوس ہے۔
ریل کے سفرکی یاد میں مجھے اپنا سب سے پہلا سفر چٹاگانگ سے راجشاہی کا ہی یاد رہ گیا ہے۔ اس وقت میرے ابو کا ٹرانسفر ہوا تو ریل کی مال گاڑی بک ہوئی اور اس میں سارا سامان لا دا جانے لگا۔ کئی ایک دن تک یہی ہوتا رہا۔ جب سارا سامان اس طرح سے لد چکا تو ہم سب بھی باقی ماندہ تھوڑے بہت سامان جو سوٹ کیس، بستر بند اور اٹیچی میں رکھا جا سکتا تھا لیکر ایک ریل کے ڈبے میں سوار ہو گئے۔ ریل کے ڈبے کا ایک حصہ جس میں چھ برتھ ہوا کرتیں تھیں ہمارے لیے مختص تھا۔ اور ہم سب بھائی اور بہن، چند ایک کہ علاوہ ، ریل کے ڈے میں لاد دیئے گئے۔ ریل کے سفر کی یہ یاد آج بھی دل میں جاگزیں ہے۔ اور اس کے لطف سے آج بھی میں کبھی کبھی خاموش بیٹھ کر محظوظ ہوا کر تا ہوں۔
راجشاہی آج کے بنگلہ دیش کا ایک بڑا شہر ہے۔ اس زمانے میں بھی وہاں اسکولوں کے علاوہ کالج، خواتین کا کالج اور یونیورسٹی بھی ہوا کر تی تھی۔ یعنی تعلیم کی سہولیات وافر تھیں۔ ریلوے کی ملازمت جو ہمارے خاندان کی روایت رہی ہے وہ دراصل تعلیم کے حصول سے مشروط ہی رہی ہے۔ اور ہمارے بچپن میں ہمیں یہی بتا یا گیا کہ تعلیم واحد زیور ہے، واحد دولت ہے جو اس خاندان کی اصل جائیداد ہے۔اور جس کا حصول اس خاندان کی حقیقی پہچان ہے :
پڑھوگے لکھو گے بنو گے نواب، کھیلو گے کودوگے ہوگے خراب
کی مثل آج بھی ہمارے یہاں اسی طرح معتبر سمجھی جاتی ہے جیسے سو سال قبل سمجھی جاتی تھی۔ حالانکہ نواب بننا اس خاندان نے کبھی بھی باعث عزت نہ سمجھا۔ اور کھیل کود سے خراب ہو نے کی بات آج کے دور میں کسی طور پر بھی درست نہیں مانی جا سکتی۔
ریل کے اس سفر کے علاوہ میرے ذہن میں بے شمار ایسے سفر اور ان کے واقعات موجود ہیں جو ریل کے سفر اور سفر کی داستان بن کر قلم کی نوک پر مچلنے کو ہر دم تیار رہتے ہیں۔ راجشاہی میں گر چہ ادنیٰ سے اعلی تعلیم کی جو سہولیات مہیا تھیں ان میں ایک قباحت یہ تھی کہ پرائمری اور سکنڈری اسکول کی تعلیم کا بنگلہ زبان کے علاوہ کسی اور زبان میں حصول میں ممکن نہ تھا۔ اور ہمارے خاندان کی روایت کے مطابق مجھے کسی اردو یا انگریزی میڈیم اسکول میں ہی ڈالا جا سکتا تھا۔ کافی لیل وحجت کے بعد مجھے ایک بنگلہ میڈیم اسکول میں ڈال تو دیا گیا۔ مگر بے یقینی کی کیفیت طاری رہی۔ اور پھر ایک دن وہ بھی آیا کہ میں نے پہلی جماعت میں ہی بنگلہ میڈیم اسکول کے ایک بڈھے خرانٹ ماسٹر سے پنگہ لے لیا۔ پنگہ کا معترض لفظ صرف کراچی میں مروجہ ’’پنگہ ‘‘کی صورتحال کو واضع کر نے کے لئے استعمال کیا ہے۔ سو جناب ہم نے تو اسکول جانے سے صاف انکار کر دیا۔ ابو تو خیر سے کسی دورے پر گئے ہوئے تھے۔ بھایئجان بھی ڈھاکہ گئے ہوئے تھے۔ دونوں کی واپسی اور پھر اس مسئلے کے حل کی تلاش میں اتنا وقت ضائع ہوگیا کہ میرا اس اسکول میں جانا عملاََ ناممکن ہو گیا۔آخر کار مجھے ایشورڈی کے ایک اردو میڈیم اسکول میں داخل کر دیا گیا۔ اور میں اپنی بہن کے ساتھ وہاں اپنی خالہ کے گھر رہنے لگا۔
ایشورڈی قدرے چھوٹا قصبہ تھا۔ اب ہمارا ایشورڈی اور راجشاہی کے درمیان سفر کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ ہمارے ابو کی طرح ہمارے خالو بھی ریلوے میں ملازم تھے۔ ریلوے اسٹیشن کے بالکل سامنے آئی او ڈبلیو کے بنگلے سے پلیٹ فارم تک آنا جاناہمارے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا۔ البتہ خالو کے گھر سے اسٹیشن آنا تھوڑا پیچیدہ معاملہ تھا۔ عموماََ ہمارے ابو آکر ہمیں لے جاتے یا پھر خالوہمیں چھوڑ جاتے۔ مگر جب دونوں ہی مصروف ہو تے اور ہمار گھر جانے کا بہت دل چاہتا ۔ امی اور بھائی بہن سے ملنے کا جی چاہتاتو ہم کیا کر تے۔اس کا حل یہ ڈھونڈا گیاکہ اسکول ،جو کہ ریلوے کا ہی تھا اوراس کے اساتذہ جو کہ ریلوے کے اسٹاف ہی تھے، وہ ہماری ایک دو دن کی غیر حاضری کی غلطی کو درگذر کر دیا کر تے تھے۔ اس بات کے پیشِ نظر کہ ایک ریلوے کے اسٹاف کے بچے بحالت مجبوری اپنے گھر سے دور تعلیم کی غرض سے دوسری جگہ رہ رہے ہیں۔ اور ریلوے کا ہی کوئی اسٹاف ہمیں بوقتِ ضرورت ایشورڈی سے راجشاہی لے جایا کر تا۔ریلوے کے اسٹاف جو ریل گاڑی کے ساتھ چلتے وہ سب کے سب ہمیں جان گئے تھے۔ ریل کی رفتار کیا تھی شائید پچیس کلو میٹر فی گھنٹے ہو ا کرتی ہو گی۔ پھر ایک وقت ایسا آیاکہ میں اور میری بہن اس سفر کے اتنے ماہر ہو گئے کہ ہم بلا تکلف آنے جا نے لگے۔ ایک سائیکل رکشا والا ہمیں پلیٹ فارم تک لے آتا۔ یہاں ہمیں کسی ٹی ٹی کے حوالے کر دیتا کہ احمد صاحب کے بچے ہیں اپنے گھر جا رہے ہیں۔ وہ گارڈ صاحب یا ٹی ٹی صاحب ، ہمارے منہہ بولے چچا ہمیں اپنے ساتھ رکھتے اور راجشاہی میں اتار کر اس بات کا یقین کر لیتے کہ ہم اپنے گھر کے گیٹ سے اندر داخل ہو جائیں اور پھر وہ سیٹی بجاتے ریل کو آگے بڑھاتے چل دیتے۔ ریل کے ایسے بہت سارے سفر میں تو خیر ہمیں بہت کچھ تجربہ نہیں ہوا مگر ہوا یہ کہ ہم ریل کے عام ڈبوں کے علاوہ انجن، گارڈ کے ڈبے اور دیگر ڈبوں سے بھی روشناس ہو گئے۔
ریل کے ذریعہ سفر کا یہ سلسلہ جاری رہا اور ہم ان سفر کے عادی ہوتے گئے۔ حتی کہ ہم نویں جماعت میں پہنچ گئے۔ اور ایک دفعہ ہمیں امی، بڑی آپااور دو چھوٹے بہن و بھائیوں کے ساتھ کراچی سے منڈی بہاوالدین کا سفر کر نا پڑا۔ اس سفر میں یو ں تو ایک اٹنڈنٹ یا اردلی کہہ لیجئے ہمارے ساتھ تھا۔ ابو کو جو ریلوے کا پاس ملتا تھا اس میں یہ سہولت تھی کہ ایک ملازم ساتھ جا سکے۔ لہذا اسے بتا یا گیا کہ تم برابر کے ڈبے میں سفر کروگے اور راستے میں، بڑے جنکشن ریلوے اسٹیشن جہاں جہاں ٹرین تھوڑی زیادہ دیر کے لیے رکے وہاں وہاں تم اتر کر ہم بچوں کو دیکھ آوگے اور پانی وغیرہ لا کر دوگے۔ سفرشروع ہوا اور وہ صاحب پورے سفر میں ایسا غائب رہے جیسے انکا ہم سے کوئی تعلق ہی نہ رہا ہو۔ منڈی بہاوالدین میں ہم نے دس بارہ دن قیام کیا۔ خالوجان ریلوے اسٹیشن پر متعین تھے لہذا ہمارا فارغ وقت ریلوے اسٹیشن پر ہی گزرتاتھا۔
یہاں ہم نے اس زمانے میں سینما گھر جاکر فلم دیکھی۔ سینما گھر کی چھت پر فقط ایک ترپال سے ڈھکی ہوئی تھی۔ جب بارش ہوتی تمام لوگ بھیگ جاتے یا پھر سر پر پاؤں رکھ کر بھاگنا ہو تا۔ ہمارے خالہ زاد بھائی نے ہمیں پہلے ہی متنبہ کر دیا تھا۔ بھائی اگر تو ہلکی بارش ہوئی تب تو ہم تھوڑا بہت بھیگ کر بھی فلم دیکھ لینگے مگر زوردار بارش میں پیسے بھی جائینگے اور فلم بھی ادھوری رہے گی۔ ہم نے آسمان کی طرف دیکھا اور کسی ماہر موسمیات کی طرح پیش گوئی کردی۔۔۔آج ایسا کچھ نہیں ہوگا ، ہم چلتے ہیں فلم دیکھنے۔اور سچ مچ ہم پوری فلم دیکھ کر ہی اٹھے اور خشک ہی اٹھے۔ منڈی بہاوالدین میں قیام کے دوران ہم نے خوشاب کا ڈھوڈا کھایا۔پھر ہم لوگ روالپنڈی کے لیے روانہ ہوگئے۔ ہماری خالہ ہمارے ساتھ تھیں۔ چک لالہ کے ریلوے اسٹیشن پر ہم لوگ اتر گئے۔یہاں ہم لوگ چک لالہ کے بیس پر متعین ہماری ماموں زاد بہن کے شوہر جو کہ بطور صوبیدار متعین تھے، کے پاس ٹھہرے۔ یہاں ہماری عمر کے کزن بھی تھے اور ہمارے عمزاد بھی تھے۔ دس بارہ دن کے قیام کے دوران ہم نے یہاں خوب شرارتیں کیں اور بہت مزا آیا۔ ہمارے عمزاد سہیل بھائی سے ایک اور فلم سنیما گھر جاکر دیکھنے کی فرمائش کی۔ جسے انہوں نے ہمارے پیسوں سے فلم دکھانے کی شرط پر قبول کر لیا۔ جس میں ان کا ٹکٹ بھی ہمارے ذمہ رہا۔ تاہم فلم دیکھنے کے شوق نے اس رشوت ستانی کو بھی قبول کر لیا۔
اس دوران ہمیں ایک دن اسلام آباد کا دیدار بھی نصیب ہوا۔ دیدار اس لیے کہ اسلام آباد لے جانے کی ذمہ داری ہمارے بھائیجان کے سپرد تھی۔ وہ ان دنوں ہری پور میں ایک کالج میں زیر تعلیم تھے۔ اب ایک طالب علم کی حیثیت سے وہ ہم اتنے سارے بھائی و بہن کو کہاں کہاں گھماتے اور کتنا خرچ کر تے۔ لہذا اسلام آباد کا دیدار کرا دیا کہ دیکھو آئیندہ جب بھی آؤ اس شہرِ پر سکون کی ضرور سیر کر نا اپنے خرچے پر۔
منڈی سے خالو جان کا تبادلہ ملکوال ہو گیا۔ دونوں جگہیں ایک دوسرے سے زیادہ فاصلے پر نہ تھیں۔ ہمارے خاندان کے تمام افراد جو سابقہ مشرقی پاکستان سے زندہ بچ کر اور لٹ لٹا کر پاکستان آگئے تھے وہ سب کے سب کراچی میں رہ رہے تھے۔ مہاجرت کی ایک نفسیات یہ بھی ہوتی ہے کہ انسان ممکنہ حد تک اپنے عزیز و اقارب سے زیادہ فاصلے پر نہیں رہنا چاہتا۔ اور ماضی کے ایسے تجربے جو انسان پر خوف کی صورت میں طاری رہتے ہیں ، انسان کو مجبور کر تے ہیں کہ وہ اپنے جیسے ہی حالات سے دوچار انسانوں میں گھر ا رہے۔خاندان کے تمام افراد کے ساتھ ساتھ خالہ اور خالو جان کی بھی یہی خواہش تھی کہ خالو جان کا تبادلہ کراچی ہو جائے اور ہم سب اکٹھے یا آس پاس رہیں۔اور جب تک یہ نہیں ہو سکتا تھا ۔ہمیں کرا چی سے ملکوال جا کر خالہ خالو کے یہاں گرمیوں کی چھٹیاں گزار نی تھی۔ ہم بچوں کے لئے تو خیر ایک اچھا سلسلہ تھا۔ گر میوں کی چھٹی گزارنے اور اس بہانے اور دوسری جگہیں دیکھنے کو مل سکتی تھیں۔ ہماری خالہ مر حومہ اللہ انہیں جنت نصیب کرے کو خالو سے شکایت تھی کہ وہ کراچی تبادلے کی کوئی خاص کوشش نہیں کرتے۔اور اس شکایت کا وہ بر ملا اظہار بھی کرتی تھیں۔ شاید ان کی اس شکایت سے متا ثر ہو کر۔ یا خالہ خالو کی قربت کی خواہش سے مغلوب ہو کر ہم لو گ بھی خالو جان کے کراچی تبادلہ ہونے کو ضروری سمجھنے لگے۔ یا یہ سوچنے لگے کہ خالو ابا کو کراچی میں کوئی دوسری نوکری مل جائے۔
جنگ اخبار ہمارے یہاں پابندی سے آیا کر تا تھا۔ چونکہ ابا کو اخبار روزانہ پڑھنے کا چسکا بچپن سے تھا۔ پہلے تو گھر میں صرف مارننگ نیوز پھر اس کے بعد ڈان اخبار ہی آیا کر تا تھا اور ہم سب کو منہ چڑایا کر تا تھاکہ انگریزی سے تھوڑی بہت شد بد اور بات ہے چٹخارے لیکر اخبار پڑھنا ایک بالکل الگ بات ہے۔ مگرجب ہم لوگ جب ذرا بڑے ہوئے تو گھر میں جمہوریت کے پھریرے لہرا نے لگے اور اسی انقلاب سے ایک نئی روایت نے جنم لیا کہ اب گھر میں اردو اخبار آیا کرے گا چونکہ اکثریت کو انگریزی اخبار پڑھنے میں ذرا لطف نہیں آتا تھا۔بچوں کی دنیا اور نونہال جیسے رسالے البتہ اسی طرح بدستور آتے رہے۔ اخبار کی وساطت سے ہم لوگ نوکری وغیرہ کے اشتہار سے بھی آگاہ رہتے تھے۔ اور ایک دن ہمیں ایک اشتہار نظر آیا۔حسبِ دستور اس سہ پہر ہم سب بھائی و بہن اپنے اپنے صفحات لیے اخبار میں گم بھی تھے اور کچھ تبصرے بھی چل رہے تھے۔ یہی وہ وقت ہوتا تھا جب ہم سب اپنے اپنے اسکول کالج سے لوٹ کر کھانا کھا کر اخبار کی چھینا چھپٹی کر تے تھے، کبھی لڑائیاں بھی ہوتیں اور کبھی گر ما گرم بحث بھی۔مگر اس دن ہم سب سر جوڑ کر بیٹھے تھے اور اس اتحاد کی وجہ وہ اشتہار تھا جو ہم سب کے خیال سے خالو ابو کی نوکری کے لیے مناسب ہو سکتا تھا۔ گو کہ یقین سے کوئی بھی نہیں کہہ سکتا تھا کہ خالو جان کی اس سلسلے میں کیا رائے ہو تی۔
ہم نے اپنے تمام بزرگوں کو روزے نماز کا پابند ہی پایا تھا۔ تلاوت ہمارے گھر میں روزانہ کے معمولات میں سے تھی اور اس میں بڑے اور بچے، سبھی کی شرکت لازمی ہوا کر تی تھی۔ ہمارے بزرگ جیسے ابا، خالو وغیرہ سب کے سب باریش تھے۔ البتہ ہمارے یہاں کوئی بھی بزرگ مولانا یا پیش امام نہ تھا۔ سب کے سب سرکاری ملازمت پیشہ، دنیاوی کاروبار میں الجھے دیندار قسم کے لوگ تھے۔ اور یہی بات ہم لوگوں کے گو مگو ہو نے کی وجہ تھی۔ اشتہار ایک پیش امام کی جاب کا تھا۔ ہم لوگ نہیں جانتے تھے کہ خالو اوراس سے بھی زیادہ خالہ کا اس جاب کے لیے درخواست دائر کر نے پر کیا ردِعمل ہوگا۔ ایک بات طے تھی کہ اس جاب کے ملنے پر خالو کراچی میں قیام کر سکتے تھے۔ چونکہ اشتہار میں صاف صاف لکھا تھا کہ مزارِ قائد کے احاطے میں قائم ایک مسجد کے لئے ایک پیش امام کی اسامی خالی ہے۔ عموماََ ایسے اشتہارات میں اتنا وقت نہیں ہوتا کہ سوچ بچار یا کراچی سے خط کے ذریعہ ، چونکہ اس زمانے میں یہی ایک واحد راستہ خالہ خالو سے رابطے کا، رائے حاصل کر نے میں وقت کو ضائع کیا جاسکے۔
چنانچہ ہم بہن و بھائی نے فیصلہ کیا کہ پہلے اس اشتہار پر درخواست دے ڈالی جائے پھر دیکھا جائے گا۔ کیا پتہ درخواست پر کوئی جواب ہی نہ آئے۔ اچھا! ہم نے اشتہار خوب غور سے پڑھا اور اس میں لکھی قابلیت کے مطابق درخواست لکھنی شروع کر دی۔بہنیں ایسے لکھنے لکھانے کے کام مجھ ناتواں کے کاندھے پر ڈال دیا کرتی تھیں۔ سو یہ بار ہم شوخیاں بگھارتے اٹھانے کو تیار ہو گئے۔ ہمیں کچھ معلوم نہ تھا کہ خالو ابا کی قابلیت کیا ہے۔ لیکن اپنی طرف سے لکھ مارا کہ دیو بند سے فارغ التحصیل، اور فلاں فلاں مقام پر مسجد میں امامت کا تجربہ اور اور۔ انٹر ویو کے وقت تمام اسناد پیش کی جائینگی۔۔۔اور پھر باقاعدہ پورے اہتمام سے اسے ڈاک کے حوالے کر دیا گیا۔ بات آئی گئی ہو گئی۔
کرنا خدا کا یہ ہوا کہ اتھوڑی دنو ں بعد ہی یک دن ہمارے گھر ایک خط موصول ہوا اور یہ خط کیا تھا خالو جان کو امامت کی جاب کی آفر تھی۔اب ہم سب بہن و بھائی بڑے پریشان ہو گئے۔ اب خالو کو کون بتا ئے اور کیسے بتائے۔ ہم نے اس کام کے لیے اپنے چھوٹے بھائیجان کو منتخب کیا۔ وہ ہم سے بڑے بھی تھے اور ہم سب میں کافی شوخ تھے۔ اور ہمیں معلوم تھا کہ کوئی بھی بات وہ کسی بھی بزرگ سے موقع تلاش کر کے اس طرح پیش کر نے کے ماہر ہیں کہ نہ صرف خود تو صاف بچ جائینگے بلکہ اگر کسی کی سرزنش ہو نی ہے تو اس سرزنش کو بھی کم سے کم کی حد تک لے آئینگے۔ اب جب ہم نے ان کو خط دکھا یا تو وہ پہلے تو خوب ہنسے پھر کہنے لگے یہ آئیڈیا کس کا ہے یہ بتاو۔