یورپ میں پھیلتا فاشزم

آسٹریا کے حالیہ صدارتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں انتہائی دائیں بازو کی قومیت پرست ’’ فریڈم پارٹی ‘‘ نے اکثریت حاصل کر کے آسٹریا کی قومی سیاست میں ہلچل مچادی ہے۔ یورپی مبصرین ’’ فریڈم پارٹی‘‘ کی اِس پیشرفت کو یورپی اتحاد اور  اعتدال پسند سیاسی پارٹیوں کے لیے خطرے کی ایسی گھنٹی قرار دے رہے ہیں جو یورپ بھر میں اقلیتیوں (غیر یورپی پس منظر رکھنے والوں) اور خاص کرمسلمانوں کے خلاف کسی بڑی تحریک کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے ۔ اِس سے پہلے کہ ہم آسٹریا میں کرائے گئے صدارتی انتخابات کے پس منظر اور نتائج کا تجزیہ کریں، آئیے  یورپی ممالک میں انتہائی دائیں بازو کی قومیت پرست انٹی امیگرنٹس اور انٹی اسلام پارٹیوں کی بڑھتی ہوئی مقبولیت پر ایک نظر ڈالتے ہیں ۔ 

پچھلے تین سالوں کے دوران یورپی یونین کے مختلف ممالک میں کرائے گئے قومی پارلیمانی انتخابات میں انٹی امیگرنٹس قومیت پرست پارٹیوں نے جو ووٹ حاصل کیے اُن کی شرح تناسب کچھی یوں رہی:
• آسٹریا میں فریڈم پارٹی نے 21 فیصد ووٹ حاصل کیے ۔
• اٹلی میں نارتھرن لیگ پارٹی نے 4 فیصد ووٹ حاصل کیے ۔
• ڈنمارک میں ڈینش پیپلز پارٹی کو 21 فیصد ووٹ ملے ۔
• جرمنی میں ’’ الٹرنیٹوو فار جرمنی ‘‘ پارٹی کو  4 عشاریہ 7 فیصد ووٹ ملے  ۔
• سویڈن میں ’’ سویڈن ڈیموکراٹس‘‘ پارٹی  کو  13 فیصد ووٹ ملے ۔
• سلواکیہ میں ’’آور سلواکیہ ‘‘ پارٹی نے 7 فیصد ووٹ حاصل کیے ۔
• سویٹزرلینڈ میں ’’ سویٹزرلینڈ پیپلز پارٹی‘‘ نے 29 فیصد ووٹ صاحل کیے ۔
• نیدرلینڈ (ہالینڈ) میں فریڈم پارٹی نے  10 فیصد ووٹ حاصل کیے ۔
• فرانس میں ’’ نیشنل فرنٹ ‘‘ نے 14 فیصد ووٹ حاصل کیے ۔
• فن لینڈ میں ’’ دی فنز ‘‘ پارٹی کو  18 فیصد ووٹ ملے ۔
• ہنگری میں ’’جوبِک ‘‘ پارٹی کو  21 فیصد ووٹ ملے
• یونان میں ’’ گولڈن ڈان ‘‘ پارٹی نے 7 فیصد ووٹ حاصل کیے  ۔
ان ملکوں میں قومیت پرست پارٹیوں کو ملنے والے ووٹوں کی شرح تناسب سے اِن کی سیاسی پیشرفت کا  اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔   یورپ بھر میں قومیت پرستی کے نام پر نیا فاشسزم جنم لے چکا ہے جس کی بد ترین مثال آسٹریا میں کرائے گئے حالیہ صدارتی انتخابات ہیں ، جن میں پورا ملک سیاسی لحاظ سے   دو حصوں میں تقسیم ہو گیا ہے ۔ ایک روایتی جمہوری سیاسی دھڑا اور دوسرا، انتہائی دائیں بازو کا قومیت پرست دھڑا ۔ آسٹریا اور  یورپی یونین کے بیشتر  ممالک  کو  دوسری عالمی جنگ کے بعد اپنی ’’ شناخت و تشخص ‘‘ کا مسئلہ پیش آیا تھا۔ اس اس اندیشے نے دوبارہ سر اٹھا لیا ہے اور قومیت پرستی کے شعلوں کو ہوا دی ہے ۔  دائیں بازو کی انتہا پسند قومیت پرست سیاسی قوتیں اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے پاؤں مضبوط کر رہی ہیں اوریورپ کا سیاسی نقشہ بھی کافی حد تک بدل رہا ہے ۔

آسٹریا میں انتہائی دائیں بازو کی انٹی اسلام و انٹی امیگرنٹس ’’ فریڈم پارٹی ( ایف پی او) نے ملک کے اُس اعتدال پسندانہ جمہوری اتفاق رائے کو ہلا کر رکھ دیا ہے جو دوسری جنگ عظیم کے بعد بڑی کوششوں سے معرض وجود میں آیا تھا۔ حالیہ صدارتی انتخابات میں فریڈم پارٹی کے رہنما Norbert Hof نے انتخابات کے پہلے مرحلے میں کامیابی حاصل کر کے ملک میں قومیت پرستی  یا نئے فاشزم کی بنیاد رکھ دی تھی ۔ 2000میں فریڈم پارٹی کے بانی رہنما Joerg Haider کی قیادت میں پارٹی نے پہلی بار بہترین انتخابی نتائج حاصل کیے اور ملکی پارلیمنٹ میں ایسا مقام حاصل کر لیا کہ اُس کی اِس کامیابی پر پورا یورپ تذبذب کا شکار ہو گیا۔  اسے یورپی اتحاد کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دینے لگا ۔ ایف پی او نے پچھلے سال کرائے گئے بلدیاتی انتخابات میں بھی ملک بھر میں نمایاں پوزیشن حاصل کی اور خاص کر بالائی آسٹریا میں تو اِس نے تیس فیصد ووٹ حاصل کرکے اعتدال پسند قوتوں کو  حیران کردیا۔ آسٹریا میں قومیت پرستی کے ابھرتے ہوئے جنون نے   روایتی سیاسی کوششوں کے  مواقع کو محدود کر دیا ہے۔ اب نتیجہ سب کے سامنے ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ  فاشزم ایوان صدر کے دروازے پر دستک دے رہا ہے اور آسٹریا میں نسلی اقلیتیوں اور خاص کر مسلمانوں کا ناطقہ بند کرنے والا ہے ۔ تاہم  23 مئی کے صدارتی انتخابات کے دوسرے مرحلے کے نتائج میں  فریڈم پارٹی کے رہنما نوبٹ ہوفر کو  اپنے مد مقابل الیگزینڈر وین ڈیر بالن  سے شکست کھانی پڑی۔ آسٹریا کےرائے دہنگان کی ایک قلیل اکثریت نےنوبٹ ہوفر کو یورپی یونین میں  دائیں بازو کا پہلا قوم پرست صدر منتخب ہونے سے روک دیا ہے۔

23 مئی کے الیکشن میں نوبٹ ہوفر بہت ہی کم فرق سے آگے چل رہے تھے لیکن 24 مئی کو ڈاک سے ملنے والے ووٹوں کی گنتی کے بعد وین ڈیر بالن  ان پرسبقت لے گئے۔ وین ڈیر بالن کی انتخابی مہم یورپی یونین کی حامی تھی اور انھیں گرین پارٹی کی حمایت بھی حاصل تھی۔ نوبٹ ہوفر کی فریڈم پارٹی نے مہاجرین کی تعداد میں اضافے کے پیشِ نظر یورپی یونین مخالف جذبات اور خدشات کو ہوا دی تھی۔  آسٹریا کے صدارتی انتخابات میں اپنی شکست کو تسلیم کرتے ہوئے انہوں نے اپنے حامیوں کے نام پیغام میں کہا ہے کہ یہ ان کے لیے ایک افسوناک دن ہے لیکن دکھی ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ اس الیکشن میں جو کوششیں کی گئی ہیں وہ ضائع نہیں گئیں بلکہ مستقبل میں ان کا اثر نظر آئے گا۔

اٹلی میں پچھلے سال کرائے گئے مقامی انتخابات میں غیر ملکیوں مخالف نارتھرن لیگ پارٹی کو قومیت پرست انتخابی ایجنڈے کی بنیاد پر جو فتح حاصل ہوئی وہ خود پارٹی قیادت کی سوچ سے بھی کہیں زیادہ تھی ۔ 1991میں اپنے قیام سے اب تک اگرچہ اس پارٹی کے ایجنڈے میں یہ بھی شامل ہے کہ نارتھرن علاقے پر مشتمل ایک نئی اسٹیٹ ‘‘ پاڈانیا ‘‘ قائم کی جائے  اور ٹیکسوں میں کمی کی جائے لیکن پارٹی اِن مطالبات کو اب بظاہر اتنی اہمیت نہیں دیتی اور اس کی ساری توجہ ملک بھر میں غیر ملکیوں اور نئے آنے والے مہاجرین کے خلاف نئے ہتھکنڈے استعمال کرتے ہوئے انہیں ’’ ملک بدر‘‘ کرانے پر مرکوز ہے ۔ یہ پارٹی نارتھ افریقی ممالک سے آنے والے مہاجرین اور تارکین وطن کے سخت خلاف ہے اور اس کے رہنما  اِن  مہاجرین  اور مسلمانوں کے خلاف ایسے ایسے متعصبانہ و توہین آمیز بیانات دیتے رہتے ہیں جو باعث شرم ہوتے ہیں ۔  2013 میں کرائے گئے عام انتخابات میں اس پارٹی کو چار فیصد ووٹ ملے تھے اور سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ اگر اب انتخابات ہوں تو یہ پارٹی دس سے پندرہ فیصد ووٹ با آسانی حاصل کر سکتی ہے ۔

ڈنمارک جو اپنے سخت ترین امیگریشن قوانین کی وجہ سے پہلے ہی بہت بدنام ہے وہاں حالیہ انتخابات میں  تارکین وطن اور مسلمانوں مخالف انتہائی دائیں بازو کی قومیت پرست ڈینش پیپلز پارٹی مضبوط قوت بن کر ابھری ہے اور اپنی اسی قوت کے بل بوتے پر اُس نے دائیں بازو ہی کی  وینسٹرا پارٹی کی یک جماعتی حکومت کو  ’’ یرغمال‘‘ بنا رکھا ہے ۔ اس پارٹی کی اسلام دشمنی و مسلمانوں مخالف پالیسیوں اور سیاسی شعلہ بیان بازی کو دیکھا جائے تو یہ نا صرف ڈنمارک بلکہ یورپ بھر میں غیر یورپی تارکین وطن اور خاص کر اسلام اور مسلمانوں پر قدغن لگانے کے لیے متحرک دکھائی دیتی  ہے۔ ڈینش پارلیمانی انتخابات میں اسے 21 فیصد ووٹ ملے۔ اس کی مقبولیت کا اثر دوسری پارٹیوں پر یوں پڑا ہے کہ وہ دائیں بازو کی ہوں یا بائیں بازو کی، ایک آدھ کو چھوڑ کر ، مہاجرین اور تارکین وطن کے متعلق وہ بھی اپنی گرتی ہوئی سیاسی ساکھ کو سہارا دینے کے لیے ڈینش پیپلز پارٹی ہی کے نقش قدم پر چلنے لگی ہیں۔

جرمنی میں نئے نازیوں سمیت دیگر کئی قومیت پرست دائیں بازو کی قوتیں مہاجرین اور مسلمان مخالف جدو جہد میں مصروف ہیں۔ ’’ الٹرنیٹو پارٹی ‘‘ کی انتہا پسندی اور قومیت پرستی نے سیاسی ماحول میں ایک بھونچال برپا  کر دیا ہے۔ سخت گیر پالیسیوں  کی وجہ سے یہ پارٹی بڑی تیزی سے رائے دہندگان میں مقبول ہوتی جا رہی ہے اور اس کے شدت پسندانہ نظریات کی حمایت کرنےوالوں میں دن بدن اضافہ ہورہا ہے ۔ مہاجرین مخالف مظاہرےاس پارٹی کا روزمرہ کا وطیرہ ہے جس سے جرمن چانسلر انجیلا مرکل کی  شامی مہاجرین کے لیے انسان دوست امیگریشن پالیسیوں کو سخت خطرہ لاحق ہے۔ پچھلے سال جرمنی نے شام، عراق اور افغانستان سے تعلق رکھنے والے ایک عشاریہ ایک ملین مہاجرین کو اپنے ہاں پناہ دی اور ’’ الٹرنیٹو پارٹی ‘‘ نے ان مہاجرین کے اسلامی پس منظر کو نشانہ بناتے ہوئے اُنہیں جرمنی کے لیے خطرہ قراردیاہے ۔

الٹرنیٹوو پارٹی نے جرمنی  میں’’ اسلامی نظریات کی تبلیغ کو ممنوع قرار دینے‘‘ اور قرآن کی تبلیغ و پرچار پر پابندی لگانے کے لیے تحریک چلا رکھی ہے۔ جب کہ پارٹی پہلے سے موجود مساجد کے میناروں کی بلندی کم کرانے اور نئی مساجد پر قطعاً مینار تعمیر نہ کرنے کا مطالبہ کرتی ہے ۔ پارٹی کی رہنما  کا کہنا ہے کہ بیشک مسلمان  پرامن رہتے ہوئے  اپنی دین کی پیروی کرتے ہوں گے، اسلام کا جرمنی سے کوئی تعلق نہیں۔‘ جرمنی کے مشرقی شہرDresden سے شروع ہونے والی اسلام و مسلمانوں کے خلافPegida نامی  متشددانہ تحریک  اب پورے ملک میں پھیل چکی ہے ۔ اس تحریک کی جانب سے بڑے تسلسل کے ساتھ کیے جانے والے مظاہروں میں ہزاروں لوگ شامل ہوتے ہیں ۔   قومیت پرست نئے نازیوں کے گروپ جو فاشسزم کی علامت سمجھے جاتے ہیں،  پیگیڈا تحریک کی بھرپور حمایت کرتے ہیں اور خود بھی تارکین وطن پر جہاں کہیں موقع ملے حملے کرنے ، املاک کو جلانے اور ہراساں کرنے سے گریز نہیں کرتے ۔

سویڈن میں قومیت پرست ’’ سویڈن ڈیموکریٹس( ایس ڈی)‘‘ نے غیر ملکیوں، مہاجرین اور مسلمانوں کے خلاف جس طرح تحریک شروع کرکے ملک میں روایتی طور پر تارکین وطن دوست اور سماجی تحفظ  کی حامی سوشل  ڈیموکریٹس پارٹی کا ناک میں  دم کر رکھا ہے، اس کی وجہ سے سویڈن کے انسان دوست ہونے کے عالمی تشخص پر بھی اب سوالیہ نشان لگ رہا  ہے ۔ سویڈن میں ’’کثیر الثقافتی ‘‘ سماج کے خلاف یہ پارٹی ملک میں تارکین وطن کی آمد کو یکسر بند کردینا چاہتی ہے۔ 2014کے انتخابات میں یہ پارٹی ملک کی تیسری بڑی پارٹی کے طور پر ابھر کر سامنے آئی اور تیرہ فیصد ووٹ حاصل کر کے اپنے پاؤں جما چکی ہے۔ لیکن پارلیمنٹ میں دوسری پارٹیوں کا اس سے رابطہ نہ ہونے کے برابر ہے اور وہ ایس ڈی کی پالیسیوں کو اہمیت دینا تو کیا ان کو سننا بھی گوارا نہیں کرتیں۔ حالیہ دنوں میں سویڈن میں نئے آنے والے مہاجرین کے کیمپوں اور انہیں رہائش کے لیے مہیا کی گئیں پبلک عمارات کو نئے نازی گروپوں کی طرف سے آگ لگانے کی وارداتیں بھی ہوچکی ہیں ۔ جب کہ مسلمانوں کی ایک دو مساجد اور ان کے ثقافتی مراکز کو بھی نذر آتش کرنے کی کوششیں کی جا چکی ہیں ۔ سویڈن میں  2014 سے  ایک لاکھ ساٹھ ہزار سے بھی زائد مہاجرین پناہ کے لیے پہنچے تھے۔

سویٹزر لینڈ میں انٹی امیگرنٹس ’’ سوس پیپلز پارٹی‘‘ نے اکتوبر 2015 کےپارلیمانی انتخابات میں 29 عشاریہ چار فیصد ووٹ حاصل کر کے نمایاں کامیابی حاصل کی اور یوں اسے پارلیمنٹ کی دو سو نشستوں میں سے  پینسٹھ نشستیں ملیں ۔ سویٹزر لینڈ یورپی یونین کا رکن نہیں لیکن وہ یورپی یونین کے میثاق شینگن میں شامل ہے۔ اور یوں اس کے شہریوں کو یورپی یونین کے ملکوں میں آزادانہ نقل مکانی کی سہولت حاصل ہے ۔  تارکین وطن کی ایک کثیر تعداد اس ملک میں رہتی ہے۔ ان کے خلاف اگرچہ پہلے ہی سے سوس متعصبانہ رویہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں لیکن مہاجرین کے تازہ  بحران کی وجہ سے سوس پیپلز پارٹی  کی مقبولیت میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور قومیت پرستی اور انتہا پسندی کے رجحانات پہلے سے کہیں زیادہ پھیل چکے ہیں ۔ یہ پارٹی ملک میں سخت ترین امیگریشن پالیسیوں کے نفاذ کا مطالبہ کرتی ہے اور ملک میں تارکین وطن اور خاص کرمسلمان تارکین وطن کی آمد کے سخت خلاف ہے۔ انہیں سوس معاشرے میں ’’ کالی بھیڑیں ‘‘ قرار دیتے ہوئے  اکثر و بیشتر مظاہرے کرتی ہے ۔ ناقدین اور سیاسی مبصرین ان مظاہروں کو  بد ترین قومیت پرستی اور متعصبانہ نسل پرستی کے اظہار سے تشبیہ دیتے ہیں ۔

سلواکیہ  میں انتہائی قومیت پرست ’’پیپلز پارٹی اور سلواکیہ‘‘ کے انتہا پسند رہنما  Marian Kotlebaکی قیادت میں پارٹی نے نئے نازیوں کی طرح ملک میں نسلی اقلیتوں اور خاص پر جپسیوں کے خلاف  تحریک چلائی۔ اس کے نتیجے میں پارٹی کے رہنما مارئین کوٹلیبا اپنے چودہ پارٹی ارکان کے ساتھ پارلیمانی انتخابات میں جیت کر پہلی بار پارلیمنٹ میں داخل ہوئے ۔  وہ سلواکیہ میں 1939 سے 1945 کے درمیان نازیوں کے قائم کردہ ایک ملیشیا ’’ ہلنکا گارڈز‘‘ کی پیروی کرتے ہیں اور انہی  گارڈز کی وردی سے ملتی جلتی  وردی پہنتے تھے۔ لیکن اب انہوں نے  یہ وردی بدل تو دی ہے لیکن اُن کے نظریات ابھی تک وہی ہیں بلکہ ان میں خطرناک حد تک شدت آ گئی ہے ۔  انہوں نے  تارکین وطن کو  ملک میں اقتصادی بحران، جرائم  میں اضافے کی وجہ قرار دیتے ہوئے قوانین کو  سخت بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔

نیدرلینڈ/ہالینڈ کے Geert Wilder کویورپ کے سب سے بڑے تسلیم شدہ انٹی اسلام قومیت پرست رہنما کے طور پر جانا جاتا ہے ۔ اُن کی انٹی یورپی یونین ’’ فریڈم پارٹی‘‘ ڈچ رائے عامہ کے جائیزوں میں سر فہرست ہے۔ وہ  مسلمان تارکین وطن کے خلاف انتہائی توہین آمیز بیان بازی کرتے ہیں اور اُن سے ملک چھوڑنے کا مطالبہ کرتے ہیں ۔ ان کا مطالبہ ہے کہ  نیدرلینڈ /ہالینڈ میں مسلمانوں کی مقدس کتاب قرآن پر پابندی لگا دی جائے ۔ وہ اسلام کو نازی ازم سے تشبیہ دیتے اور اسے نا صرف ہالینڈ کے لیے بلکہ یورپ بھر کے لیے ایسا ’’سرطان ‘‘ قرار دیتے ہیں جو بڑی سرعت سے پھیلتے ہوئے یورپی جمہوری اقدار کو  دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے ۔ انہوں نے ملک میں مراکش کے مسلمان تارکین وطن کے خلاف بطور خاص  تحریک شروع کر رکھی ہے۔ اس پر انہیں عدالتوں میں مقدمات کا بھی سامنا ہے۔  لیکن ان کا کہنا ہے کہ مسلمانوں اور اسلام کے متعلق ان کے نظریات و تحریک کو  کوئی  نہیں روک سکتا ۔ 2010 میں کرائے گئے عام انتخابات میں اُن کی ’’ پی وی وی‘‘ پارٹی نے 24 پارلیمانی نشستیں حاصل کیں اور یوں وہ ملک کی تیسری بڑی پارٹی بن چکی ہے ۔

فرانس  میں بیشتر سیاستدان اورمبصرین Marine Le Pen کے نیشنل فرنٹ ( پارٹی) کو  نہ صرف ملکی بلکہ یورپ بھر کی لبرل ڈیموکریٹک روایات کے لیے بہت بڑا چیلنج سمجھتے اور خطرہ تصور کرتے ہیں ۔ قوم پرستی میں حد سے بڑھا ہوا یہ نیشنل فرنٹ مسلمانوں کے شدید خلاف ہے اور ان کے خلاف شعلہ بیانی اس کا وطیرہ ہے ۔ نیشنل فرنٹ نے 2015 میں ملک میں کرائے گئے ’’ ریجنل انتخابات‘‘ میں چھ عشاریہ آٹھ ملین ووٹ حاصل کر کے، بڑے بڑے سیاسی مبصرین کو حیران اور روایتی لبرل سیاست کے پرستاروں کو پریشان کردیا تھا ۔ لیکن اسے  دو علاقائی حلقوں میں  شکست کا سامنا بھی کرنا پڑا تھا ۔ نیشنل فرنٹ کی موجودہ رہنما کے والد اور فرنٹ کے بانیJean-Marie Le Pen ہمیشہ ہولوکوسٹ کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے رہے اور اُن کے اس رویے کی وجہ سے  فرانس، اسرائیل اور یورپ بھر میں ان کے خلاف آواز اٹھائی گئی۔ فرنٹ افریقی النسل مسلمانوں اور خاص کر مراکش اور الجزائر سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن کو نشانہ بناتے ہوئے فرانس میں مسلمانوں کی تعداد کو محدود کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔

فن لینڈ میںFinns Party جو پہلےTrue Finns کے نام سے جانی جاتی تھی، پچھلے سال کے عام انتخابات میں  ایک بڑی پارٹی کے طور پر ابھری ۔ اس قومیت پرست اور انٹی امیگرنٹس پارٹی کے رہنماTimo Soini موجودہ مخلوط حکومت میں وزیر خارجہ ہیں ۔ یہ پارٹی فن لینڈ میں سخت ترین امیگریشن قوانین کے اطلاق کا مطالبہ کرتی ہے اور تارکین وطن کی آمد کو کنٹرول کرنے کے لیے سخت اقدامات  کی حامی ہے ۔  اس پارٹی کی جڑیں فن لینڈ کے دیہی علاقوں میں کافی مضبوط ہیں اور اب بڑے بڑے شہروں  تک بھی پھیل رہی ہیں ۔ تارکین وطن اور مہاجرین کو نشانہ بناتے ہوئے یہ پارٹی فن لینڈ میں جس طرح اپنے قوم پرست متعصبانہ نظریات کا پرچار کرتی ہے اس کی وجہ سے  اب یہ قابل ذکر مقبولیت حاصل کر رہی ہے ۔

ہنگری میں انتہائی دائیں بازو کی قومیت پرست ’’ جوبک‘‘  پارٹی ملک کی تیسری بڑی پارٹی شمار ہوتی ہے ۔2014 میں کرائے گئے انتخابات میں اسے 20 عشاریہ سات فیصد ووٹ ملے تھے۔ انتہائی نسل پرست ایجنڈا رکھنے والی یہ پارٹی اپنے باقاعدہ یونیفارم والے گارڈ رکھتی ہے جو ملک میں جپسیوں اور دوسری نسلی اقلیتوں کا پیچھا کرتے ہیں اور انہیں ہراساں کرتے رہتے ہیں ۔ جپسیوں کو ملک کے مختلف مسائل کی جڑ قرار دیتے ہوئے پارٹی کا کہنا ہے کہ ’’جپسی کرائمز‘‘ کے خلاف وہ اپنی کارروائیاں جاری رکھے گی اور اس سلسلے میں ابھی بہت کچھ کیا جانا باقی ہے ۔ ہنگری میں یہویوں کے خلاف جوبک پارٹی کے رہنماؤں کے متعصابہ بیانات نے اِس برادری کو بھی ہراساں کر رکھا ہے اور وہاں آباد مسلمان بھی پارٹی  تعصب کا نشانہ بنتے ہیں۔  اس پارٹی کے جلوسوں اور مظاہروں میں اُن جھنڈوں کو لہرایا جاتا ہے جو دوسری جنگ عظیم کے دوران ہنگری پر مسلط نازی ازم کی حمایت کرنے والی پارٹی کے پرچم سے مشابہت رکھتے ہیں ۔ جوکب پارٹی ملک میں کنزرویٹوو پارٹی کی حکومت کی حمایتی ہے اور اپنے دباؤ سے اس نے وزیر اعظمViktor Orban کی حکومت کو پچھلے سال سربییا کی سرحدوں سے ملحقہ اپنی سرحدوں پر خار دار تاروں کی  باڑ لگا کر ملک میں مہاجرین کی آمد کو بند کر دینے پر مجبور کردیا تھا ۔

یونان میں انتہائی دائیں بازو کی  قومیت پرست ’’ گولڈن ڈان ‘‘ پارٹی کو  ’’ نئی نازی‘‘ پارٹی سمجھا جاتا ہے اور یونان کے اقتصادی بحران ، وہاں مہاجرین کی آمد اور ان کی وجہ سے پیدا شدہ مسائل کو مخصوص رنگ میں اچھالتے ہوئے یہ پارٹی کافی مقبولیت حاصل کر چکی ہے ۔ اس پارٹی کے کئی ارکان پر گھناؤنے جرائم میں ملوث ہونے اور  سیاسی مخالفین کو قتل کردینے جسے الزامات کے تحت مقدمات قائم ہیں۔  پارٹی کے رہنما پر 2015 میں  ایک انٹی فاشسٹ موسیقارPavlos Fyssas کو قتل کرنے کا الزام ہے ۔ ان  کے باوجود پچھلے سال ستمبر میں  یونان میں کرائے گئے انتخابات میں  یہ پارٹی سات فیصد ووٹ حاصل کر گئی۔ پارلیمنٹ میں اب اِس کے اٹھارہ ارکان ہیں ۔ جو کہ یونانی سیاسی میدان میں تیسری بڑی قوت سمجھے جاتے ہیں ۔ اس پارٹی کی حمایت کرنے اور اسے ووٹ دینے والوں میں ان لوگوں کی اکثریت ہے جو حالیہ اقتصادی بحران کا شکار  بنے ہیں ۔ یہ لوگ تارکین وطن اور مہاجرین کو یونانی اقتصادیات پر بوجھ سمجھتے ہیں اور انہیں ملک بدر کرنے کے حامی ہیں۔ یہ پارٹی یورپی  یونین کے خلاف ہے اور اس کی مشترکہ امیگریشن پالیسیوں کو تسلیم نہیں کرتی ۔  

(نصر ملک کوپن ہیگن سے شائع ہونے والے انٹرنیٹ اخبار  www.urduhamasr.dk کے ایڈیٹر ہیں)