ہنوئی میں زندگی کا رقص

رات کو چیئرمین ہوچی مِن کے مقبرے پر ویتنام کے ستارے والے سرخ پرچم کے سرنگوں ہونے کی تقریب میں ویت نامیوں نے جس مہذب اور منظم انداز میں شمولیت کی، اس سے کسی قوم کے سنجیدہ ہونے کا اندازہ ہوا۔ نعرے اور دعوے نہیں، ادب اور محبت کا خاموش اظہار۔ ہزاروں شہری ہررات بلاناغہ یہاں آتے ہیں اور اپنے قائد ہوچی من کے مقبرے پر پرچم لپیٹنے کی تقریب میں شامل ہوتے ہیں۔

فوجی دستے ادب سے پرچم لپیٹتے ہیں تو فوراً ہی شہری خاموشی سے منتشر ہو جاتے ہیں۔ مقبرے کے سامنے ویتنام کی قومی اسمبلی، آزاد ویتنام کی اشتراکی جمہوریت کا وہ ادارہ ہے جو ویتنامیوں نے انقلاب اور بیرونی حملہ آوروں سے جنگ کے بعد قائم کیا۔ اسی میدان میں جہاں ہوچی من کا مقبرہ ہے، اس کے ایک طرف صدارتی محل ہے، جس پر ویتنام کی کمیونسٹ پارٹی کا ہتھوڑا اور درانتی رات کو روشنیوں میں جگمگا رہا تھا۔ تیسری طرف ہوچی من کا گھر، اسی میدان Ba Dinh Square میں 2ستمبر 1945ء کو آزاد سلطنت کا اعلان کیاگیا۔ سینکڑوں سال چینیوں کے تسلط میں رہنے والے ویتنامیوں کی آزادی کی جدوجہد ایشیا میں اپنی نوعیت کی علیحدہ  تاریخ رکھتی ہے۔

ویتنام انیسویں صدی میں فرانس کی کالونی بن گیا۔ فرانس سے آزادی کی جدوجہد میں کامیابی ہوئی تو جاپان نے قبضہ کرلیا۔ جاپانیوں کے خلاف طویل گوریلا جنگ میں ویتنامیوں نے ایشیا میں انقلاب ، جنگ کی عظیم تاریخ رقم کی۔ امریکہ نے اس دوران جاپان کی مدد کی۔ تاریخ میں کہیں کہیں دلچسپ مماثلتیں ملتی ہیں۔ سلطنت عثمانیہ کی راکھ سے ترکوں کی جنگ آزادی میں بیرونی طاقتوں کے خلاف ترکوں کی جدوجہد اور پھر انقلاب کی داستان کہیں کہیں ویتنام سے ملتی ہے۔ ذرا ایک اور دلچسپ قدرِ مشترک دیکھیں کہ دونوں کے پرچم مکمل طور پر سرخ ہیں۔ جمہوریہ ترکیہ کے سرخ پرچم میں چاند (ہلال)ستارہ اور ویتنام کے سرخ پرچم میں اشتراکیت کا ستارہ۔ اور ان دونوں قوموں سے میری محبت بھی مشترک۔

ہوچی من کے مقبرے سے رات کوواپسی میں چلنا شروع کیا۔ رات کے گیارہ بجے تھے۔ شہر جاگ رہا تھا۔ ویتنام جاگ رہا تھا۔ جیسے ایشیا جاگا، پچاس کی دہائی سے۔ یکدم دیکھا ہنوئی کا Flag Tower ، واپسی سامراج کی دوسو سال پرانی عمارت، روشنیوں میں جگمگاتا اور اس پر لہراتا سرخ پرچم اور خوشگوار موسم۔ یہ ٹاور، ہنوئی میں امریکی سامراج کی خوفناک بمباری کے دوران خوش قسمتی سے بچ گیا۔ اسی کے ساتھ وار میوزیم ہے جو ہنوئی کے اہم میوزیم میں سے ایک ہے۔ ابھی نظریں نوآبادیاتی ٹاور سے ہٹی نہیں تھیں اور قدم رکے نہیں تھے کہ لوگوں کے غول کے غول یوں چلتے پھرتے نظر آئے جیسے کوئی میلہ لگا ہوا ہے۔ بچے سائیکلوں اور ٹرائی سائیکلوں پر رواں دواں۔ ہنوئی کو میں نے کسی بھی رات سویا نہیں دیکھا۔ فٹ پاتھوں پر قدم قدم پر خودرو کیفے ہنوئی کے رہن سہن کی منفرد پہچان ہیں۔ زندگی کو میلے کی طرح منانا Celebrate کرنا ویتنامیوں کی روٹین ہے ۔  یہ رویہ میں نے اُن قوموں میں دیکھا جنہوں نے جنگ اور انقلاب کا تجربہ کیا ہو۔  لبنانیوں، فلسطینیوں، قبرصیوں اور ترکوں میں زندگی کی قدرپائی جاتی ہے۔ نوآبادیاتی ٹاور کے سامنے ایک بڑا سا پارک ہے، روشنیاں، درخت اور ناچتے انسان۔ جی ہاں، رقص کرتے عام شہری۔ ایک فٹ پاتھ کیفے سے اونچی آواز میں ساٹھ کی دہائی کی موسیقی چل رہی تھی۔ راہگیر جوڑے، بچے زندگی کا رقص کرتے نظر آئے۔

کئی سال پہلے اردن میں اقوامِ متحدہ کی کانفرنس میں شرکت کے دوران مجھے فلسطینیوں کا مقدمہ لڑنے کے لیے پورا مہینہ ملا۔ ہرروز مجھے امریکی سامراج کی مشرقِ وسطیٰ میں جارحیت اور اسرائیل کی بربریت کو اپنے الفاظ میں بے نقاب کرنے کا موقع ملا۔ اس کانفرنس میں دنیا کے لاتعداد ممالک کے مندوبین شریک تھے۔ سارا دن امریکہ اور اسرائیل پر میری تنقید نے مجھے فلسطینیوں کا ترجمان بنا ڈالا۔ رات پڑتی تو فلسطینی عرب، لاطینی امریکی اور دوسرے دوستوں کے ساتھ فلسطینیوں کا مشہور رقص ’’دَبکے‘‘ کرتا جس میں پنجابی بھنگڑے کی آمیزش اس رقص کو مزید دلچسپ بنا دیتی۔ ہماری ایک مندوب ساتھی ویتنامی Ms. Tha جو ہانگ کانگ میں پولیٹکل سائنس کی استاد تھی، دن بھر میری سامراج اور اسرائیل پر تنقید اور رات کو رقص کرتے دیکھ کر کہنے لگی، ’’ہوچی من کا کہنا ہے کہ جو قومیں رقص نہیں کرسکتیں، وہ لڑ بھی نہیں سکتیں۔‘‘ میری ویتنامی دوست کی یہ بات مجھے کبھی نہیں بھولی۔

جب میں نے پارک کے ساتھ پھیلے سیاہ گرینائٹ پر ویتنامیوں کو رقص کرتے دیکھا تو معلوم ہوا زندہ دلی ، زندہ دل لوگوں کا شیوہ ہوتا ہے۔ رقص اور جنگ، رقص اور انقلاب، رقص اور جدوجہد۔ ویتنام کے ساتھ ٹاور کے سامنے پارک میں رقص کرتے ویتنامیوں کو رنگ برنگی روشنیوں تلے رقص کرتے ، بچوں کو کھیلتے دیکھ کرقدم ہی کیا نظریں بھی یکدم جم گئیں۔ سوویت انقلاب کے عظیم بانی ولادی میر لینن کے ایستادہ مجسمے والے اس پارک کا نام ہی ’’لینن پارک‘‘ ہے۔ دائیں ہاتھ میں کوٹ کو تھامے قدآور لینن کا مجسمہ۔ 1980ء میں محنت کشوں کے انقلاب کے بانی لینن کی 110ویں سالگرہ کے موقع پر سابق سوویت یونین کے عوام نے ویتنام کے عوام کو یہ تحفے کے طور پر دیا تھا۔ اس مجسمے کو نصب کیے جانے سے پہلے اس پارک کا نام Thong Nhat Park تھا۔ جب لینن آیا تو اس کا نام لینن پارک رکھ دیا گیا۔ مگر اب ہنوئین اس پارک کو لینن پکارتے ہیں۔

کھیلتے کودتے بچے، خوش باش خاندان، پارک کے ساتھ سڑک سے جڑے اس پلے لینڈ پر زندگی کو بھرپور طور سے منا  Celebrate کررہے تھے۔ میرا کیمرا ان مناظر کو تصویروں اور ویڈیو میں محفوظ کرنے میں مصروف ہوا تو سات آٹھ سال کی ایک بچی جو اپنی سائیکل پر سوار اس پلے گراؤنڈ میں زندگی کو انجوائے کرنے میں مصروف تھی، آئی اور فرمائش کی کہ میرے ساتھ تصویر بناؤ۔ آہ، زندہ دل قوم کے زندہ دل بچے۔ فیوڈل طرزِ زندگی کے مسترد رویوں سے مبرا مسکراتی بچی کے ساتھ تصویر کیا بنائی، فرمائشوں کی لائن لگ گئی۔ بچوں اور مسرور خواتین کا جھرمٹ لگ گیا۔

ویتنامی ملنسار اور سادہ لوگ ہیں۔ جاگیرداری پھوں پھاں نہیں، جو ہمارے ہاں ہر طبقے میں پائی جاتی ہے۔ لینن کے پہلو میں میلہ لگا ہوا تھا۔ میری روسی مندوب ساتھی رخسانہ یہ دیکھ کر حیران ہورہی تھی۔ کیا قوم ہے، رقص میں مست۔ میں نے کہا، رخسانہ رقص زندگی ہے، جیسے مولانا روم کے مرید رقصِ درویش کرتے ہیں، یہ رقصِ زندگی کرتے ہیں۔ انہیں زندگی کی قدر ہے۔ صدیوں پر محیط اِن کی قومی زندگی کے حصول کی جدوجہد ۔ کوئی ویتنامیوں سے پوچھے کہ زندگی کیا ہے۔ چین، فرانس اور جاپان کی غلامی کے بعد امریکی سامراج کے قتل عام کی کہانیاں۔ رخسانہ آؤ، آزادی، انقلاب اور زندگی کا رقص کریں، لینن کے پہلو میں، ہنوئی کی گلیوں میں جہاں خون ہی خون، لوتھڑے ہی لوتھڑے تھے انسانی جسموں کے، اور ویتنامیوں نے رقصِ انقلاب کیا، آج وہ رقصِ زندگی کررہے ہیں۔