جمہوریت خطرے میں ہے
جمہوریت جمہور کی حکمرانی کو کہتے ہیں۔ اور جمہور سے مراد عوام ہیں۔ گویا جمہوریت ایک ایسا طرز حکومت ہے کہ جس میں اقتدار عوام الناس کے پاس ہوتا ہے اور تمام تر فیصلے عوام کی منشا کے مطابق کئے جاتے ہیں اور حکمران عوام کے سامنے جوابدہ تصور کئے جاتے ہیں۔
گو کہ مغربی دنیا میں یہ طرز حکمرانی ماضی قریب میں ہی اپنایا گیا ہے لیکن دیکھا جائے تو جمہوریت کی اصل اساس سے بنی نوع انسان کو دین اسلام نے اس وقت متعارف کرایا کہ جب رسول اللہ محمد مصطفی نے فرمایا کہ اگر فاطمہ بنت محمد چوری کرتی تو ان کے بھی ہاتھ کاٹ دیئے جاتے۔ یہ وہ عدل و انصاف اور برابری کا درس تھا کہ جس کے تحت ایک عام مسلمان بھی مسجد میں کھڑا ہو کر فاروق اعظم سے سوال کر سکتا تھا اور یہی جمہوریت کی اساس ہے۔
بدقسمتی سے پاکستان میں ووٹوں اور لوٹوں کی گنتی کے عمل کو جمہوریت قرار دے دیا گیا ہے۔ افسوس کا مقام یہ ہے کہ اس ملک میں اب جمہوریت کا مرکز عزت ، اخلاق اور کردار کی بجائے ووٹ اور نوٹ بن کر رہ گئے ہیں۔ جس کے پاس جتنی دولت ہے وہ اپنی دولت کے بل پر اتنے ہی ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ اور کامیاب ہونے کے بعد جو چاہتا ہے کرتا پھرتا ہے اور اسے پوچھنے والا کوئی نہیں۔ یہ میرا ہی ملک ہے جہاں عوامی نمائندگان نے انہی عوام کو برسرعام طمانچے تک رسید کئے ہیں۔ اس پر شرمندہ ہو کر معافی مانگنے کی بجائے خود کو عوامی نمائندہ ہونے کی بنا پر خاص قدر و قیمت کا حامل گردانا ے۔ یہ میرے ملک کے ہی جمہوری حکمران ہیں جنہوں نے عوام پر ٹیکسوں کی بھرمار کر دی ہے اور جن کے اپنے بچے ٹیکسوں سے بچنے اور اپنی جائز یا ناجائز دولت کو چھپانے کیلئے پاناما جیسے ملکوں میں آف شور کمپنیاں بناتے رہے ہیں۔۔
یہ میرے ملک کے ہی جمہوری حکمران ہیں جو پاکستان کی سالمیت کے برعکس بلوچستان میں حالیہ امریکی ڈرون حملے کے باوجود اپنا دورہ برطانیہ ختم کرنے پر آمادہ نہیں ہوئے۔ قوم کو ملکی خودمختاری پر اس حملے کی اطلاع بھی لندن میں موجود ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے ہی دی۔ لیکن میرے ملک کے اسی جمہوری وزیراعظم نے اپنے بچوں کا نام آنے پر پاکستان کے غریب عوام کی خون پسینے کی کمائی سے چپکنے والے سرکاری ٹیلی ویثن پر ایک ماہ میں دو بار قوم سے خطاب کیا۔
آج پاکستان کے عوام یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ آخر ہمارے جمہوری حکمران ان سرکاری اسپتالوں میں جا کر اپنا علاج کیوں نہیں کراتے جو انہوں نے عوام کیلئے بنوائے ہیں اور جن کے رحم و کرم پر پاکستان کے عام عوام ہیں۔
افسوس کہ پاکستان کے اس جمہوری نظام میں جمہور کو کچھ نہ ملا اور جنہیں ملا وہ جمہور کا حصہ نہ تھے۔ درحقیقت یہی وہ عوامل ہیں کہ جن کے باعث پاکستان میں جمہوریت کو ہمیشہ خطرہ رہتا ہے اور ہمیشہ نظام کے لپیٹے جانے کا امکان رہتا ہے۔ ہاں پاکستان میں جمہوریت کو خطرہ ہے لیکن یہ خطرہ درحقیقت ہمارے جمہوری حکمرانوں کا پیدا کردہ ہی ہے اور یہ خطرہ اس وقت تک باقی رہے گا جب تک پاکستان کے جمہور تک جمہوریت کے ثمرات نہ پہنچ جائیں۔