ملا منصور کی ہلاکت اورایران کی کامیابی
افغان طالبان کے سربراہ ملا منصور اختر کو تین روز قبل بلوچستان کے ضلع نوشکی میں نشانہ بنایا گیا۔ اس معاملے میں پاکستان اور افغانستان کو کوئی خاص فائدہ تو نہیں مل سکے گا البتہ نقصانات ضرور اٹھانے پڑیں گے ۔ پاکستان افغان طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لئے سر توڑ کوششیں کر رہا ہے۔ بارہا انکار کے بعد پاکستانی اصرار پر افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات کے چار اجلاس منعقد ہو چکے ہیں۔
گو کہ ان سے کچھ زیادہ فائدہ نہیں ہوا ہے تاہم مذاکرات مسلسل چلتے رہنے کا عمل ہے۔ اگر بات چیت میں دونوں طرف اعتماد سازی کی فضا پیدا ہو گی تو ہی خطے میں امن کا راستہ نکل سکے گا۔ افغانستان کو ملا منصور کی ہلاکت کا براہ راست نقصان اس طرح اٹھانا پڑے گا کہ طالبان کی جانب سے موسم گرما میں’’آپریشن عمری‘‘ تابڑ توڑ حملوں کااعلان کیا تھا۔ اس کے بعد کابل اور دیگر شہروں میں طالبان کی کارروائیوں میں تیزی بھی آ رہی ہے۔ امیر کی ہلاکت کے بعد طالبان کے حملوں میں شدت آئے گی جس کا خمیازہ افغان عوام کو بھگتنا پڑے گا۔
افغان حکومت کی جانب سے حزب اسلامی کے ساتھ امن عمل کے حوالے سے چند روز قبل ہی اہم پیش رفت دیکھنے میں آئی تھی۔ حزب اسلامی نے امن مذاکرات شروع کرنے کے حوالے سے ایک مسودہ پر دستخط بھی کئے تھے جس کے تحت گروپ کے تمام جنگجوؤں کے لئے عام معافی ، افغان نیشنل آرمی میں بھرتی کرنے سمیت کئی مراعات کی یقین دہانی کرائی گئی تھی۔ ملا منصور اختر کی امریکی ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد افغانستان میں برسرپیکار تمام قوتیں مذاکرات کا سلسلہ معطل کر سکتی ہیں اور اب تک کی تمام کوششوں پر پانی پھر سکتا ہے۔ گلبدین حکمت یار سمیت تمام گروپ مذاکرات کا راستہ چھوڑ کر پھر لڑائی کی طرف جا سکتے ہیں، جس سے خطے میں جنگ مزید طول پکڑے گی اور اس سے پاکستان اور افغانستان کی مزید عدم استحکام کا شکار ہوں گے۔
اس ساری صورتحال میں پاکستان اور افغانستان کے برعکس ایران نے بے پناہ فائدہ اٹھانے کی تیاری کر لی ہے۔ طالبان کمانڈر ملا منصور اختر کے ایران سے پاکستان آنے کے ثبوت سامنے آ چکے ہیں۔ باوثوق ذرائع کے مطابق ملا منصور اختر ایران میں مقیم ایک افغان گروپ کے ساتھ مستقبل کی مشاورت کے لئے گئے تھے ۔ ہائی ویلیو ٹارگٹ کی ایران آمد یقیناً ایرانی انٹیلی جنس حکام کے علم میں تھی اور ان کی ساری سرگرمیوں کو مانیٹر کیا گیا تھا۔ امریکی ڈرون اسی صورت میں ٹارگٹ کو نشانہ بناتا ہے جب ایک مخصوص چپ گاڑی میں یا ہدف کی جگہ پر پھینکی جائے ۔ ایرانی انٹیلی جنس حکام نے مذکورہ چپ گاڑی میں رکھی اور اس گاڑی کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ افغانستان جانے کے لئے میر جاوہ بارڈر پوسٹ کے راستے پاکستان میں داخل ہوئی۔ نوشکی کے علاقے میں گاڑی کو نشانہ بنایا گیا۔
اس معاملے میں ایران کا مفاد واضح ہے۔ پابندیاں ہٹنے کے بعد ایران امریکہ سے قربتیں بڑھا رہا ہے۔ ملا منصور اختر جیسے ہائی ویلیو ٹارگٹ کو نشانہ بنانے میں مدد کر کے یقیناً ایران امریکہ کا اعتماد حاصل کر سکتا ہے جو اس کے لئے مشرق وسطیٰ اور دیگر ممالک میں انتہائی معاون ثابت ہو سکتا ہے۔ ایران امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو خطے میں اثرو رسوخ بڑھانے کے لئے بھی استعمال کر رہا ہے۔ بھارت کے ساتھ چاہ بہار پورٹ توسیع سمیت دیگر اہم منصوبوں کے حوالے سے ایران کو مکمل سپورٹ حاصل ہے جبکہ گوادر اور پاک چائنہ اقتصادی راہداری کے خلاف ایران، بھارت اور مغربی ممالک کی کئی سازشیں پاکستانی سیکیورٹی ایجنسیز پہلے ہی ناکام بنا چکی ہیں۔ ایران اس معاملے میں افغانستان کا جھکاؤ بھی اپنی طرف کر رہا ہے ۔ چاہ بہار پورٹ سے نکلنے والی اقتصادی راہداری کو افغانستان سے بھی جوڑا جا رہا ہے ۔ اگرایران افغانستان کے راستے وسط ایشیائی ریاستوں تک رسائی حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کر لیتا ہے تو یہ ایرانی قیادت کی بڑی فتح ہو گی ۔
ملا منصور کی ہلاکت میں امریکہ کی مدد ایران کی جانب سے پاکستان کے لئے اہم پیغام تصور کیا جا رہا ہے۔ ایران مبینہ طور پر بلوچستان میں سرگرم رہنے والی جنداللہ اور دیگر گروپوں کے خلاف کارروائیوں کے معاملے میں پاکستان پر دباؤ بڑھا سکتا ہے اور پاکستان میں زیر حراست ’’را ‘‘ ایجنٹ کلبھوشن کے معاملے پر ملنے والی سبکی کا جواب بھی ہو سکتا ہے۔
ملا منصور کی ہلاکت کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پاکستان اور افغانستان کے لئے نقصان کا باعث بن سکتی ہے ۔ اس لئے دونوں ملکوں کو امن کے عمل کو سازشوں سے بچانے اور آگے بڑھانے کے لئے ایک دوسرے پر اعتماد کرنا ہو گا۔ پاکستان کو افغانستان میں دیرپا امن لانے کی کوششوں کے ساتھ ساتھ سیاسی ، سفارتی اور معیشت کے میدان میں بھی پڑوسی ملکوں کی سازشوں کا مقابلہ کرنا ہو گا۔