یورپ میں جعلی عاملوں کابڑھتا کاروبار
- تحریر مسعود مُنّور
- بدھ 25 / مئ / 2016
- 6707
کسی سیانے نے کہا تھا کہ ’’اگر مجھے معلوم ہوتا کہ میں اتنے سال زندہ رہوں گا تو اپنی صحت کا خیال رکھتا‘‘۔ یہ سن کر ایک دوسرا سیانا بولا ’’ہم شہزادے پیدا ہوئے تھے مگر تہذیب نے ہمیں مینڈک بنا دیا ہے۔‘‘
اصل قدر اس چیز کی نہیں ہوتی جو ہمارے پاس ہے، اس کی ہوتی ہے جو ہمارے پاس نہیں ہے۔ ملک عزیز میں جہاں دیگر شعبوں میں بدقماش افراد نے اپنے کالے کرتوتوں کے باعث بے اطمینانی، عدم اعتماد اور نفسیاتی بے چارگی کی فضا پیدا کر رکھی ہے وہاں اب دیار غیر میں کبھی یہی بدقماش لوگ اپنے پر پُرزے نکالنے اور پاؤں جمانے لگے ہیں۔ برطانیہ سے نکلنے والے اُردو اخبارات و رسائل اُٹھا کر دیکھئے تو آپ کو بہت سے اشتہارات ایسے نظر آئیں گے جو سادہ لوح عوام کو بے وقوف بنانے اور اُن کو ان کی خواہشوں کے جال میں جکڑنے کے حربے ہوں گے۔ مثلاً کامیاب اور مکمل علاج، حیرت انگیز کرامات والا نقش، کون کہتا ہے کلام بے اثر ہے، ہر الجھن کا خاتمہ تقدیر کو بدل دیتی ہے دُعا۔ دبئی پار سے کھلا خط۔ بنگال کے مشہور عامل کا اعلان۔ آئیے جوان بنا دوں، کس پر یقین کریں اور کس پر نہ کریں، انسانی مسائل کا فوری حل وغیرہ وغیرہ۔
یہ قسمت کا چکر بھی عجیب ہے مہربان ہوجائے تو فقیر کے سر پر تاج رکھ کر اُسے شاہوں کا شاہ بنا دیتی ہے اور نامہربان ہو تو تخت نشینوں کو خاک نشین بنانے میں ذرا بھی دیر نہیں کرتی ۔ جس انسان سے پوچھو وہ قسمت کا شاکی نظر آئے گا اور خواہشات ہیں کہ دم لینے نہیں دیتیں۔ ہر ایک کی یہ خواہش کہ مستقبل کے جھروکے سے جھانک کر آنے والے لمحات کی ایک جھلک دیکھ لی جائے۔ آنے والے دنوں کا خوف انسان کو چین سے بیٹھنے نہیں دیتا اور وہ ہے کہ بے چین ہو ہو کر سہارے ڈھونڈتا پھرتا ہے۔ عاملوں، جوتشیوں، رشیوں، پیروں فقیروں اور شعبدے بازوں کی چوکھٹوں پرحاضری دیتا ہے اور ان کے ہاتھوں لٹ کر بھی خوش رہتا ہے۔ یہ لوگ یہ شعبدے باز لوگ آپ کی قسمت کا حال بتا سکتے ہیں لیکن وہ یہ نہیں جانتے کہ آج تاریخ کون سی ہے۔ محبت میں کامیابی کا گر بتا سکتے ہیں اور خود کسی کی محبت نہ پا سکے۔ یورپ میں چونکہ سائنسی ترقی کا دور دورہ ہے اور نقل و حمل کے جدید ذرائع میسر ہیں اس لئے اب کسی عامل، جوتشی یا نجومی کے رُوبرو حاضری ضروری نہیں رہی بلکہ نجومی حضرات نے نقل و حمل کے جدید ذرائع سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے ٹیلی فون، فیکس، ای میل اور بذریعہ ڈاک بھی اپنے کاروبار کو وسعت دے رکھی ہے۔ مثلاً آپ کسی کورے کاغذ کے ایک طرف حال دل بیان کر کے اُسے سپرد ڈاک کردیں اور آپ کا کام ختم۔ لیکن یاد رہے کہ لفافے میں مطلوبہ فیس ڈالنا نہ بھولئے ورنہ آپ جواب سے محروم رہیں گے۔ اگر یہ سب کچھ ٹھیک طور پر انجام دیا تو آپ مطمئن رہیں وہ یقینا آپ کو مایوس نہیں لوٹائیں گے۔ میں کچھ ایسے لوگوں کو جانتا ہوں جو یورپ میں بالخصوص انگلینڈ میں ایسے عاملوں، جوتشیوں اور شعبدے بازوں کے ہتھے چڑھ کر نہ صرف بہت سی دولت سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں بلکہ بنا بنایا کام بھی بگاڑ چکے ہیں۔
ایسا ہی تجربہ میرے ساتھ بھی ہوا۔ میرے سر میں مستقل دردرہنے لگا تھا، میں نے اپنے ڈاکٹر سے بہت علاج کروایامگر افاقہ نہ ہوا۔ ایک رسالے میں ’’سو فیصد علاج‘‘ کا اشتہار دیکھ کر وہاں پہنچا۔ ایک پختہ عمارت کے گراؤنڈ فلور پر ڈاکٹر صاحب کا کلینک تھا۔ قد آدم شیشوں کے دروازے سے گزر کر پہلے مجھے استقبالیہ نشست سے واسطہ پڑا۔ یہ ایک چھوٹا سا کمرہ تھا جس کی پشت پر ڈاکٹر صاحب کا کمرہ تھا جس کا دروازہ اس استقبالیہ میں کھلتا تھا۔ استقبالیہ نشست پر ایک اچھے پہلوان کے ’’برادر خورد‘‘ بیٹھے ہوئے تھے۔ مجھ سے پہلے وہاں ایک خوش پوش اور بظاہر پڑھے لکھے تعلیم یافتہ قسم کے ایک صاحب بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ اب دوسرا مریض میں تھا۔ تھوڑی دیر بعد وہ تعلیم یافتہ صاحب اُٹھ کر چل دیئے اور پھر نہ جانے کیوں واپس نہ آئے۔ میں کچھ دیر انتظار کرتا رہا اور کمرےکا جائزہ لیتا رہا۔ کمرے میں دو عدد شوکیس رکھے تھے جن میں فاصلہ رکھ کر ایک ترتیب سے چند گتے کے ڈبے اور آدھی خالی شیشیاں رکھی ہوئی تھیں ۔ دیوار پر حرم شریف کی تصویر چوبی فریم میں لٹکائی ہوئی تھی۔ دس پندرہ منٹ بعد اس ’’برادر خورد‘‘ نے مجھے ڈاکٹر کے کمرے میں جانے کا اشارہ کیا۔ میں اندر داخل ہوا تو ڈاکٹر صاحب میز کے پیچھے اپنی کرسی پر بیٹھے ہوئے تھے۔ بولے فرمائیے۔
جناب ایک مسئلہ درپیش ہے… وہ دن جائے اور آج کا آئے۔ میرے سر کا درد جوں کا توں ہے مگر میں تین سو پاؤنڈ سے ہاتھ دھو چکا ہوں۔
اسی قسم کے بہت سے واقعات میری نظر سے گزرے ہیں اور جاننے والوں کی زبانی سُنے ہیں۔ میری رائے میں ابھی پانی سر سے نہیں گزرا۔ اگر ابھی سے ہم لوگوں نے یورپ میں کاروبار کرنے والے ان عاملوں، شعبدے بازوں اور جعلی پیروں کی روک تھام نہ کی تو ایک دن آئے گا یہ جعلی لوگ سادہ لوح عوام کی ضرورت بن جائیں گے لیکن اُس وقت بہت دیر ہو چکی ہوگی۔ اس لئے میں برطانیہ کے ارباب اختیار، کمیونٹی رضاکاروں اور پاک و ہند سے تعلق رکھنے والے سوشل ورکروں سے یہ گزارش کروں گا کہ وہ ان عطائیوں سے لوگوں کو بچائیں جو ان کی زندگیوں کے ساتھ کھیل رہے ہیں یہ لوگ محض دولت بٹورنے کا ڈھونگ رچائے ہوئے ہیں۔
برطانیہ کے ہیلتھ ڈپارٹمنٹ کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ان عناصر کی بیخ کنی کیلئے خصوصی اقدامات اُٹھائے۔ ایسے جعلی ڈاکٹروں کی تعلیمی قابلیت جانچے جو لوگوں کی کمزوری سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے نہ صرف ان کی صحت سے کھیل رہے ہیں بلکہ جعل سازی کے مرتکب بھی ہو رہے ہیں۔ متعلقہ محکموں کو اس ضمن میں ترجیحی بنیادوں پر خصوصی اقدامات کرنے چاہئیں تاکہ صحیح صورت لوگوں کے سامنے آسکے۔