میرے ابو کہاں ہیں!
- تحریر منور علی شاہد
- جمعرات 26 / مئ / 2016
- 5048
چند دن قبل سوشل میڈیا پر گردش کرتی ہوئی ایک ویڈیو کلپ میری نظر سے گزرا جو کہ پاکستان کے موجودہ آرمی چیف کے ایک انٹرویو کے دوران پوچھے گئے ایک سوال اور اس کے جواب پر مشتمل تھا۔ سوال کا لب لباب یہ تھا کہ آپ مسلسل دورے کر رہے ہیں، دن رات کام کر رہے ہیں، کیا آپ تھکتے نہیں۔ اس کاجواب دیتے ہوئے آرمی چیف نے دراز کھولی اور سانحہ پشاور کے سکول کے بچوں کی چند تصاویر نکالیں اور کہا کہ تھکنے پر میں ان تصویروں کو دیکھتا ہوں تو پھر تازہ دم ہو جاتا ہوں۔
یہ ایک بہت طاقتور پیغام ہے اور دہشت گردی کے خاتمہ کا عزم بھی ۔ اس پیغام اور جذبے پر ہمیں کوئی اعتراض نہیں بلکہ خوشی ہے کہ اگر ان معصوم بچوں کی شہادتوں کی وجہ سے ہی پاکستان مستقل طور پر دہشت گردی سے نجات پا لیتا ہے اور امن کا گہوارہ بن جاتا ہے تو یہ بہت خوشی کی بات ہے۔ لیکن میرے جیسے انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والوں کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ ہمارا سوچنے کا انداز کچھ مختلف ہوتا ہے۔ اسی لئے یہ کام کرنے والوں کو مغرب اور یورپ کا ایجنٹ بھی کہا جاتا ہے۔ جبکہ حقیقت اس کے بلکل برعکس ہے ۔ ہم سب انسانوں کو ایک جیسا دیکھتے، اور سمجھتے ہیں اور پورا بلکہ کامل یقین رکھتے ہیں کہ دنیا میں کسی بھی ملک میں رہنے والے، کسی بھی عقیدہ، مذہب اور رنگ و نسل سے تعلق رکھنے والے بطور شہری مساوی حقوق کے حقدار ہوتے ہیں۔ اور تمام مذاہب کی تعلیم بھی یہی ہے۔
اقوام متحدہ نے انسانی حقوق کا ایک عالمی منشور منظور کیا ہے، جسے یونیورسل ڈ کلیریشن آف ہیومن رائٹس UDHR کہتے ہیں۔ انسانی حقوق کے اس عالمی منشور میں تمام انسان خواہ وہ کسی بھی ملک میں رہتے ہوں، کے مساوی حقوق بتائے گئے ہیں۔ اس عالمی قانون کی دفعہ نمبر تین کے مطابق ہر شخص کو اپنی آزادی، زندگی اور تحفظ کا حق حاصل ہے۔ اس لئے پاکستان کے اندر رہنے والے تمام پاکستانی خواہ ان کا عقیدہ اور مذہب کچھ بھی ہو ان کا یہ بنیادی حق ہے کہ ان کی زندگی آزاد ہو اور ان کو مکمل تحفظ حاصل ہو۔ لیکن بدقسمتی سے ایسا نہیں ہے۔ چیف کی اس میز کی دراز میں اگر مسلمان بچوں کی تصاویر موجود ہیں تو براہ کرم ان تصاویر میں اس پندرہ سالہ ولید کی تصویر بھی رکھ لیں جو 28مئی2010 کو لاہور میں احمدیوں کی عبادت گاہوں پر بد ترین دہشت گردی کے نتیجہ میں مذہب کے نام پر قتل ہو گیا تھا۔ مرنے کے بعد بھی وہ پاکستان کے اندر شہید نہیں کہلا سکتا کہ قانون اس کو نہ مسلمان مانتا ہے اور نہ ہی پاکستانی ۔ پشاور کے سکول میں مرنے والے بچوں کو ان کی ماؤں نے علم کے حصول کے لئے بھجوایا تھا جبکہ ولید کو اس کی ماں نے اللہ کی عبادت کے لئے بھیجا تھا ۔ ملکی قانون نے بچوں کو مسلمان اور کافر کے خانوں میں تو تقسیم کردیا لیکن ان بچوں کی ماؤں کا دکھ، غم سانجھا ہے۔ ان بچوں کی ماؤں کی تنہائیوں کا سوچیں جب وہ اپنے ان بچوں کی تصویروں کو سینے سے لگا کر چھپ چھپ کر روتی ہیں۔ ان ماؤں کے بچے تو کافر اور مسلمان ہیں، لیکن ان کے آنسوؤں کا دکھ اور رنگ ایک جیسا ہی ہے۔
انسانی حقوق کے لئے کام کرنا کوئی جرم نہیں اور نہ ہی یہ غیر اسلامی ہے۔ بلکہ ہم انسانیت کی تبلیغ کرتے ہیں۔ کشمیر ہو، فلسطین ہو یا کوئی اور ملک جہاں جہاں ظلم ہوتا ہے اس کے خلاف آواز بلند کی جاتی ہے۔ ا نسانی حقوق کی پامالیوں اور سانحوں کی فیکٹ فاینڈنگ کے دوران ایسے ایسے المناک مناظر دیکھنے میں آتے ہیں، کہ جن کو لاکھ کوشش کے باوجود بھلایا نہیں جا سکتا ۔ آج میں اسی المناک سانحہ کی یاد کے موقع پر ایک ایسے ہی کافر بچے کا سوال پوری قوم کے سامنے رکھتا ہوں، جو آج بھی میرے کانوں میں گونج رہا ہے۔ چند سال پہلے لاہور کے میو ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں سیالکوٹ سے کچھ شدید زخمی احمدی لائے گئے تھے جو کسی دہشت گرد ی کے نتیجہ میں زخمی ہوئے تھے۔ ہم پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق کے ممبرز کی حثیت سے وہاں پہنچے۔ پولیس کی کڑی نگرانی تھی۔ وارڈ میں خون آلودہ کپڑوں اور بستروں کو دیکھ کر ہم ساکت ہو کر رہ گئے۔ ہم کوالگ الگ بیڈز پر جانا تھا۔ میں اس بیڈ پر گیا جہاں دس گیارہ برس کا ایک لڑکا نیم بیہوشی کے عالم میں لیٹا ہوا تھا۔ ایک نرس پاس کھڑی تھی۔ اس نے اس کی حالت بتائی تو میں نے اس بچے کے ماتھے پر اپنے ہاتھ رکھا۔ میری نظریں اس معصوم سے چہرے پر تھیں جس کے پھول جیسے گال پر ابھی بھی خون کے نشان موجود تھے۔ میرے ہاتھ کا لمس بچے نے محسوس کرکے ایک جملہ اس کے منہ سے نکلا تھا جو مجھے آج بھی یاد ہے اور کبھی نہ بھول سکوں گا اور وہ یہ تھا کہ: “میرے ابو کہاں ہیں“۔
جملہ کہتے ہوئے میرے ہاتھوں پر بچے کے گرم گرم آنسوؤں کے قطرے گرہے تھے۔ اس دہشت گردی میں بچے کے والد اور چچا دونوں فوت ہو گئے تھے۔ بچے کے اس سوال کا جواب نہ کسی کے پاس ہے اور نہ ہی کوئی دے گا۔ المیہ یہ ہے کہ یہ سلسلہ تاحال جاری ہے۔ گوجرہ میں جب مسیحیوں کی پوری کالونی جب جلا دی گئی تھی تب بھی پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق کے فیکٹ فائینڈنگ وفد کے دورہ کے دوران ایک خاکستر ہو جانے والے گھر میں ایسا ہی ایک نہ بھولنے والا منظر دیکھا تھا۔ اس وقت تک چاروں طرف دھؤاں اٹھ رہا تھا۔ لیکن ایک عورت دو اینٹوں کا چولہا بنا کر کچھ پکانے کی کوشش کر رہی تھی اور قریب ہی چند سال کا بچہ بیٹھا ہوا تھا۔ دہشت اور خوف و ہراس کے وہ مناظر بھی نہیں بھلائے جا سکتے۔ وطن عزیز کے اندر امن اور بھائی چارے کی فضا قائم کرنے کے لئے مذہب اور سیاست کا الگ الگ ہونا ضروری ہے ۔ ان واقعات سے پوری دنیا میں پاکستان کا تشخص اور وقار مجروح ہو رہا ہے۔
کسی بھی جمہوری معاشرے میں ہر شہری کو مساوی حیثیت اور حقوق حاصل ہوتے ہیں اور ان کے درمیان رنگ ، نسل، مذہب اور عقیدہ کی بنیاد پر امتیاز نہیں روا رکھا جا سکتا۔ جہاں کہیں ایسا ہو گا تو پھر لازمی طور پر انتشار، عدم استحکام ہی پیدا ہو گا۔ اسی لئے پاکستان کے اندر عقیدہ اور مذہب کے نام پر تمام مذہبی اقلیتوں کے خلاف مسلح کاروائیوں کو روکنا ہو گا اور یہ دیکھنا ہو گا کہ جنت کو سب راستے آخر پاکستان سے ہی کیوں جاتے ہیں۔
پاکستان اس وقت اندرونی اور بیرونی سازشوں میں گھرا ہوا ہے اور سب سے بڑا خطرہ سہولت کار ہیں۔ لیکن آپس کی اندرونی سیاسی چپقلشوں اور مفادات کی بھاگ دوڑ نے ملکی سلامتی کو داؤ پر لگا دیا ہے۔ جس کا فائدہ منفی اور ملک دشمن عناصر اٹھا رہے ہیں۔ یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اس وقت پاکستان کو اندرونی طور پر مستحکم کرنے کی ضرورت ہے نیشنل ایکشن پلان ایک فوجی ضرورت کے تحت دہشت گردی کے خلاف چلایا جا رہا ہے اس کے دیرپا اور مستقل نتائج لینے کے لئے جمہوری اور آئینی طور پر بھی اصلاحات کی ضرورت ہے۔
پاکستان کے اندر انسانی حقوق کے معاملات بہتر کرنے اور مذہب کے نام پر اقلیتوں کی زندگیوں کو اجیرن بنانے والے اسباب دور کرنا ہو گا۔ معاشی، سیاسی، سماجی اور مذہبی استحکام کے لئے بلا امتیاز ہر پاکستانی کو مساوی مواقع دینے ہونگے۔ نئے پاکستان کس تکمیل اور تعمیرکسی فرد واحد کی وجہ سے نہیں بلکہ سنہری جمہوری اصولوں پر عمل درآمد ، تمام امتیازی قوانین کے خاتمہ اور مساوی حقوق دینے کی وجہ سے ممکن ہو گی۔