طلاق طلاق طلاق

پچھلے دنوں بی بی سی کی ویب سائٹ پر ہندوستان کی ایک خاتون سائرہ بانو کی طلاق اور سپریم کورٹ کیس کے سلسلے میں خبر کو پڑھ کر افسوس ہوا۔ آج کے دور میں اسلام کے خلاف جس طرح سے پروپگنڈہ کیا جا رہا ہے اس سے زیادہ تر مسلمان واقف ہیں ۔افسوس ناک بات یہ ہے کہ طلاق کے طریقہ کار کو مذاق بنا دیا گیا ہے لیکن دُکھ اس بات پر بھی ہے کہ اسلام کے متعلق جس طرح باتوں کو توڑ موڑ کر پیش کیا جا رہا ہے اس سے صاف ظاہر ہورہا ہے کہ ان تمام باتوں کے پیچھے ایک خاص گر وپ سر گرم ہے ۔جو کسی نہ کسی بہانے اسلامی احکامات اور اس سے منسلک باتوں کو اس طرح پیش کر رہاہے جس سے لوگوں کے جذبات کوٹھیس پہنچے ۔

پہلے تو میں آپ کو بی بی سی کی رپورٹر گیتا پانڈے کی روداد بتا دوں پھر طلاق کے متعلق شرعی طور پر اسلام کے نقطہ نظر کے بارے میں بات کریں گے۔
گیتا پانڈے لکھتی ہیں کہ شاید ہندوستان واحد ملک ہے جہاں ایک مسلم شوہر اپنی بیوی کو صرف تین بار طلاق طلاق طلاق کہہ کر اپنی بیوی کو چھوڑ سکتا ہے۔لیکن اس طرح تین بار طلاق کہہ کر اپنی بیوی سے چھٹکارا پانے کی عمل پر سپریم کورٹ غور کر رہی ہے کہ کیا یہ ایک غیر آئینی بات ہے؟ یہ معاملہ پچھلے سال اکتوبر میں سامنے آیا جب اتر کھنڈ سے تعلق رکھنے والی دو بچوں کی ماں 35سالہ سائرہ بانو اپنے والدین کے گھر علاج کے لئے پہنچی۔ ان کی شوہر کی طرف سے ایک خط موصول ہوا جسے طلاق نامہ کہا جارہا ہے اور جس میں انہوں نے لکھا کہ ہم تمہیں’ طلاق‘ دے رہے ہیں۔ اس کے بعد سائرہ بانو پندرہ سال تک اپنے شوہر کا تعاقب کرتی رہی جوشاید الہ آباد میں مقیم ہے اور سائرہ بانو کو اب تک اس سے ملنے میں ناکامی ہوئی ہے۔سائرہ بانو نے بی بی سی کے دہلی شاخ کو فون کر کے بتا یا کہ’ اس کے شوہر نے اپنا فون بند کر دیا ہے اور اس کے پاس اس کے شوہر سے رابطہ کر نے کا کوئی اور راستہ بھی نہیں ہے۔میں بے حد پریشا ن ہوں اور میرے بچوں کی زندگی تباہ ہورہی ہے‘۔اس کے بعد فروری میں سائرہ بانو نے بے بس اور مایوس ہوکرکر سپریم کورٹ میں مقدمہ دائر کر کے اس بات کی مانگ کی ہے کہ تین بار طلاق کہہ کر طلاق دینے کی روایت پر مکمل طور پر پابندی لگا دی جائے ۔کیونکہ مسلمان شوہر اپنی بیویوں کو اپنی جائداد سمجھتے ہیں۔سائرہ بانو جو کہ اتر کھنڈ کے ایک گاؤں میں رہ رہی ہیں، اس بات کی امید کر رہی ہیں کہ سپریم کورٹ اس طرح دی گئی طلاق کو غیر مؤثر کردے گی۔

بی بی سی رپورٹر کا یہ بھی کہنا ہے کہ پچھلے کئی سالوں سے مسلم عورتیں تین بار طلاق کہنے کی روایت کے خلاف تحریک چلا رہی ہیں۔ لیکن اب تک کوئی ان باتوں پر دھیان نہیں دے رہا ہے اور صورتِ حال بد سے بد تر ہو رہی ہے۔ جدید ٹیکنالوجی نے اس روایت کو مزید آسان بنا دیا ہے۔ کوئی بے ایمان مسلم مرد اس ٹیکنالوجی کا فائدہ اٹھا کر ٹیکسٹ، پیغام،پوسٹ، ٹیلی فون وغیرہ کے ذریعہ طلاق دے رہے ہیں۔ کچھ مثالیں ایسی ہیں جس میں مرد اسکائپ ، واٹس اپ اور فیس بُک کے ذریعہ بھی تین بار طلاق دے کر غائب ہوجاتے ہیں۔
ممبئی کی ایک تنظیم بھارتیہ مسلم مہیلا آندولن نے ایک رپورٹ جاری کر کے اس بات کا انکشاف کیا کہ لگ بھگ سو طلاق ایسے ہوئی ہیں جن میں مرد تین بار طلاق کہہ کر اپنی بیوی کو چھوڑ چکے ہیں۔اس تنظیم کی بانی پروفیسر زکیہ سومن کا کہنا ہے کہ 2007سے اب تک ہزاروں عورتوں نے ان کی تنظیم سے رابطہ کیا ہے جس میں انہوں نے بتایا کہ ان کے شوہروں نے زبانی تین بار طلاق کہہ کر انہیں چھوڑ دیا ہے ۔ جس سے ان عورتوں کی زندگی عذاب ہوگئی ہے اور وہ بے گھر اور مفلس ہوگئی ہیں۔

پروفیسر زکیہ سومن نے بی بی سی کو بتایا کہ ہندوستان ہی ایک ایسا واحد ملک ہے جہاں تین بار طلاق کہنے کی روایت اب بھی برقرار ہے جو قرآن کے طلاق فرمان کے خلاف ہے اور جو ایک وحشیانہ اور نا قابلِ قبول بات ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ مسلم پرسنل لاء کی اس روایت کا فوری طور پر جامع جائزہ لیا جا نا چاہئے۔پروفیسر زکیہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ تین بار طلاق کہنے کے معاملے کو بد تر بنانے میں مولوی اور قاضی اہم رول ادا کرتے ہیں۔ بھارتیہ مسلم مہیلا آندولن نے اکتوبر میں وزیر اعظم نریندر مودی کو خط لکھ کر مطالبہ کیاہے کہ مسلم طلاق اور کثرت ازواج کے معاملے میں اصلاحات کی فوری ضرورت ہے۔ اس تنظیم نے اس معاملے میں سپریم کورٹ کا دروازہ بھی کھٹکھٹایا ہے۔

آل انڈیامسلم پرسنل لاء بورڈ کی ورکنگ کمیٹی کی ممبر اسما زہرا نے اس روایت کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ طریقہ حرام ہے ۔لیکن اس بات پر بھی اصرار کیا کہ اب بھی مسلمانوں میں طلاق کی شرح کم ہے تاہم اسلام دشمنوں نے اس معاملے کو جان بوجھ کر ہوا دی ہے۔اسما زہرا نے کہا کہ مودی حکومت اوربھارتیہ جنتا پارٹی تین بار طلاق کہنے کے معاملے کے ذریعہ ہمارے مذہب میں دخل اندازی کر رہی ہے۔وہ یونیفارم سول کوڈ کو متعارف کرانا چاہتی ہے۔اسما زہرا کا کہنا ہے کہ تین بار طلاق کہنے کی روایت پر پابندی لگانا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے اختیار میں بھی نہیں ہے کیونکہ پرسنل لاء بورڈ ایک اخلاقی باڈی ہے اور ہم لوگوں کو صرف اس کی تعلیم ہی دے سکتے ہیں۔

اس روایت کے خلاف دیگر سر گرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ زیادہ تر اسلامی ملکوں ، جن میں پڑوسی پاکستان اور بنگلہ دیش شامل ہیں، تین بار طلاق کہنے کی روایت پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ لیکن یہ روایت ہندوستان میں اب بھی کامیابی سے استعمال کی جارہی ہے۔ہندوستان میں مسلمان سب سے بڑا اقلیتی طبقہ ہے جس کی آبادی لگ بھگ 155ملین ہے اور ان کی شادیاں اور طلاق مسلم پرسنل لاء کے تحت ہوتی ہیں۔ اسے اسلامی قانون بھی کہتے ہیں۔اگرچہ تین بار طلاق کہنے کا رواج کئی برسوں سے استعمال کیا جارہا ہے لیکن یہ طریقہ قرآن اور شریعت میں کہیں موجود نہیں ہے۔اسلامی اسکالرز کا کہنا ہے کہ قرآن نے طلاق دینے کے قواعد کو واضح کیا ہے۔ اس میں میاں اور بیوی کو تین ماہ کا وقت دیا جاتا ہے تا کہ طلاق سے پہلے مفاہمت کی کوشش ہو سکے۔
اسلام میں علیحدگی کے چار طریقے کار ہیں۔ شوہر جب بیوی سے علیحدگی حاصل کرنا چاہے تو اسے’ طلاق ‘کہتے ہیں۔ بیوی اگر اپنی مرضی سے علیحدہ ہو تو اسے’ خلع ‘کہتے ہیں۔ جب شادی تحلیل ہو جائے تو اسے ’فسخ نکاح‘ کہتے ہیں اور طلاق کے اختیار کو اگر مرد اپنی بیوی کے سپرد کر دے تو اس کا یہ فعل’ طلاق تفویض‘ کہلائے گا۔

میاں بیوی کے ازدواجی تعلقات کوآئندہ زندگی میں توڑنے کا نام طلاق ہے۔اسلام نے طلاق کو اچھا فعل قرار نہیں دیا بلکہ بہت برا فعل کہا ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں ارشاد فرمایا: الطلاقُُ مرتنٰ فاِمساکُ بمعروفِ اَو تَسر یحُ بِا حسان(البقرہ ۔ ۲۲۹)ترجمعہ : طلاق دو مرتبہ ہے پھر یا تو اچھے طریقے سے روکنا ہے یا احسان کے ساتھ چھوڑ دینا ہے۔طلاق کے متعلق حدیث ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کو حلال چیزوں میں طلاق سب سے زیادہ نا پسند ہے۔ (ابو داؤد)

اسلام میں شادی اور طلاق کے متعلق بہت ہی صاف ستھری بات بتائی گئی ہے۔ لیکن ہندوستان میں تین بار طلاق کہنے کی رسم کو اس طرح الجھایا جارہا ہے جس سے اس معاملے کا حل کم اور سیاست زیادہ نظر آرہی ہے۔ یوں بھی طلاق کے معاملے میں زیادہ تر مسلمانوں کو بہت کم علم ہے جس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ طلاق کو برا سمجھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ زیادہ تر طلاق کی کاروائی غلط طریقے سے ہوتی ہے۔

اس کے باوجود یہ عمل اثر انداز تو ہوتا ہے لیکن اس کے اثر ات طلاق شدہ خاندان اور ان کے رشتہ داروں پر تباہ کن ہوتے ہیں۔اس کے علاوہ درست طریقے سے طلاق نہ ہونے کی وجہ سے مفاہمت اور مہر جیسی معاملات مشکل کا شکار ہو جاتے ہیں۔ حالانکہ یہ معاملات اسلامی شریعت کے مطابق ضروری ہیں۔

سائرہ بانو کی بے بسی اور ما یوسی کی داستان اور اسلام کے احکامات سے پتہ چلتا ہے کہ اسلام کچھ کہتا ہےاور مسلمان کچھ کرتا ہے۔ سائرہ بانو کی کہانی کو سن کر یہی محسوس ہوتا ہے کہ اس کے شوہر نے اس کے ساتھ طلاق جیسے لفظ کا بے جا استعمال کر کے اپنی جان چھڑا لی۔ لیکن کیا سائرہ بانو کے شوہر کو مذہب کے احکامات اور تعلیم سے واقفیت ہے؟ مجھے نہیں لگتا کہ ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ہندوستان میں بہت سے مسلمان اپنی جاہلیت اور ہندو ثقافت کے اثرات سے اس طرح کے قدم اٹھاتے ہیں جس سے پروفیسر زکیہ جیسی کارکن سپریم کورٹ سے انصاف کی توقع کر رہی ہیں۔

ہندوستان کے زیادہ تر مسلمانوں میں پیدائش سے لے کر شادی اور موت کے سفر تک کئی ایسی رسوم موجود ہیں جو نا خواندگی اور اور گمراہی کی پیداوار ہیں۔ جو لوگ اب بھی گمراہ کن اور فرسودہ باتوں پر یقین کر کے اسلام کی خوبصورت اور عملی باتوں کا مذاق اڑا رہے ہیں، میں ان سے درخواست کرونگا کہ اس معاملے کو سیاسی رنگ نہ دیا جائے۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ اور علماء جلد از جلد کوئی ایسا حل نکالیں جو سب مسلمانوں کے لئے مفید اور سبق آموز بات ہو۔