سویڈن: مہاجرین کے لئے امید کی کرن
2015 کے وسط سے لے کر اب تک یورپ میں مہاجرین کے سیلاب کی وجہ سے جو بحران پایا جا رہا ہے ، اُس کا کوئی ٹھوس و پائیدار حل ابھی تک سامنے نہیں آیا ۔ یورپی یونین میں مشترکہ طور پر اورکئی ممالک انفرادی سطح پر مہاجرین کی وجہ سے پیدا ہونے والے سیاسی و اقتصادی اور سماجی مسائل کی وجہ سے پریشان ہیں۔ اب سویڈن نے کسی حد تک رحمدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے موجودہ بحران میں ا امید کی کرن دکھائی ہے ۔
پچھلے سال سویڈن میں ایک لاکھ، ساٹھ ہزار سے بھی زائد مہاجرین نے پناہ کی درخواستیں دی تھیں۔ یہ تعداد 2014 کے مقابلے میں دوگنا زیادہ تھی ۔ سویڈن تحمل و بردباری اور انسان دوست روایت کی وجہ سے مشہور ہے۔ لیکن اتنی بڑی تعداد میں مہاجرین کی آمد سے اسے بھی کئی چیلنجوں کا سامنا ہے ۔ سب سے بڑا مسئلہ مہاجرین کے لیے رہائشی جگہوں کی فراہمی ہے۔ اس مسئلے نے مہاجرین سے متعلقہ دوسرے چھوٹے چھوٹے مسائل کو بھی اجاگر کیا۔ ان کی بنا پر قوم پرست سویڈش گروہ نسلی اقلیتوں کے خلاف لوگوں کے جذبات بھڑکانے کی کوششیں کرتے رہتے ہیں ۔
سویڈش محکمۂ شماریات کے مطابق پچھلے سال ملکی آبادی میں ایک لاکھ نفوس کا اضافہ ہوا۔ اس تعداد میں 75000 تارکین وطن شامل تھے لیکن آبادی میں ہونے والے اِس اضافے کی تعداد میں پناہ کے لیے سویڈن آنے والے مہاجرین کو شامل نہیں کیا گیا تھا۔ کیونکہ جب تک پناہ کے لیے ان کی درخواستوں پر حتمی فیصلہ نہیں ہو جاتا اور پناہ نہیں مل جاتی انہیں سرکاری اعداد و شمارمیں شامل نہیں کیا جا سکتا ۔ سویڈن پہنچنے والے ایک لاکھ ساٹھ ہزار مہاجرین میں سے پنتیس ہزار بچے اور کم عمر نوجوان (چودہ پندرہ سال کے عمر والے) بھی شامل ہیں جو والدین یا کسی سرپرست کے بغیر سویڈن پہنچے تھے ۔
شام میں جاری خانہ جنگی کے تناظر میں سویڈن یورپی یونین کے ملکوں میں واحد ملک ہے جس نے اپنی آبادی کے تناسب سے اپنے ہاں سب سے زیادہ مہاجرین کو خوش آمدید کہا ہے ۔ اور سویڈن کے ان فراخدالانہ اقدامات کے اثرات سماج پر بھی پڑے ہیں ۔ سویڈن کی وزیر ایمپلائمنٹ اور مہاجرین کے ساتھ رابطہ کی وزیر یلوا یونسن Ylva Johansson نے اس صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مہاجرین کے اچانک اتنی بڑی تعداد میں سویڈن آ جانے سے ہمیں انہیں بنیادی سہولتیں فراہم کرنے کے لئے دشواریوں کا سامنا تھا۔ اسی وجہ سے کچھ لوگ حکومت سے مطالبہ کرنے لگے ہیں کہ سویڈن کب تک اتنی بڑی تعداد میں مہاجرین کے لیے اپنے دروازے کھلے رکھے گا ۔ ہم خود بھی یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ انسانیت کے تحفظ و بہبود کے لیے سویڈن کے پر کشش اعتدالانہ نظام سماج کو کب تک بحال رکھا جا سکے گا ۔ یکے بعد دیگر ہر سال آنے والے مہاجرین کو ہم کب تک سہولتیں مہیا کر سکیں گے؟ لیکن ہم مایوس و نا امید نہیں ہیں ۔
اِن حالات میں سویڈش حکومت نے نئے آنے والے مہاجرین کے لیے کچھ فوری اقدامات کئے ہیں اور کچھ نئی پابندیاں بھی عائد کی گئی ہیں۔ حکومت نے خاندانوں کو یکجا کرنے کے سلسلے میں مہاجرین کے لیے کچھ مالی شرائط بھی رکھی ہیں۔ سویڈن کی امیگریشن پالیسیوں میں یہ حالیہ تبدیلیاں شائد اُن پالیسیوں ہی کی وجہ سے ہیں جو یورپی یونین کے مختلف ممالک بھی اپنا رہے ہیں۔
سویڈن میں پناہ کے لیےداخل ہوتے ہی ہر فرد کے لیے لازم ہے کہ وہ فوراً درخواست دے اور ایسی درخواستوں پر صرف سویڈش امیگریشن ایجنسی ہی غور کرنے کی مجاز ہے۔ حالیہ مہینوں میں ایسی درخواستوں کی تعداد بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔ اِس لیے درخواستیں نمٹانے پر ذیادہ وقت بھی صرف ہوتا ہے۔ اس دوران درخواست گزار گزربسر کے لیے کام کر سکتا ہے۔
سویڈن میں انسان دوستی کی بیشتر غیر سرکاری تنظیمیں( این جی اوز) مہاجرین کی مدد کے لیے پیش پیش رہتی ہیں۔ اس کے باوجود مہاجرین مخالف اکا دکا ایسے واقعات بھی رونما ہوئے ہیں۔ تاہم ااس قسم کے واقعات سے سویڈن کے درگذر کرنے کے تشخص رواداری‘ میں فرق نہیں پڑا ۔ تاہم ملک میں مزید پناہ گزین لینے کے لئے رائے عامی متاثر تبدیل ہورہی ہے۔
سویڈن میں مہاجرین کی آبادکاری، روزگار فراہم کرنے اور انٹگریٹ کرنے کے لیے مثبت پالیسیاں امید کی کرن ہیں ۔ سویڈن کی وزارتِ ایمپلائمنٹ کے جاری کردہ اعدادو شمار کے مطابق ملک میں شرح پیدائش کے بتدریج کم ہوتے ہوئے رجحان کو سامنے رکھتے ہوئے، سولہ سے چونسٹھ سال عمر والے تارکین وطن کی اشد ضرورت ہے۔ تاکہ افرادی قوت کی کمی کو پورا کیا جا سکے۔ ماہرین اقتصادیات اور محققین اس بات پر متفق ہیں کہ اگر افرادی قوت کی اس کمی کو پورا کرنا ملک کے وسیع المدت مفاد میں ہے۔
(نصر ملک کوپن ہیگن سے شائع ہونے والے انٹرنیٹ اخبار www.urduhamasr.dk کے ایڈیٹر ہیں)