ناکام بنائی گئی خارجہ پالیسی

اکیسویں صدی کو عام طور پر دنیا میں تہذیب یافتہ صدی گردانا جاتا ہے لیکن یہ حقیقت بھی کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ آج کی مہذب دنیا کو یہ شرف بھی حاصل ہے کہ یہ کسی بھی غیر مہذب دنیا سے کہیں زیادہ غیر مہذب ہے۔ اور اگر بات خارجہ پالیسی کے حوالے سے کی جائے تو تہذیب یافتہ دنیا کی غیر مہذب حرکات کھل کر سامنے آ جاتی ہیں۔ 

اگر بات کشمیر کی ہو تو عالمی برادری کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کو پرانی کہہ کر ان پر عملدرآمد کرانے سے گریزاں نظر آتی ہے اور اگر ویسی ہی قرارداد جنوبی سوڈان کیلئے ہو تو اس پر من و عن عمل کرایا جاتا ہے۔ اسرائیلی افواج اگر فلسطینی عورتوں اور بچوں کو شہید کریں تو اسے اسرائیلی افواج کی دفاعی کارروائی کہا جاتا ہے اور اگر کشمیری یا فلسطینی نوجوان قابض افواج پر پتھر پھینکیں تو انہیں دہشتگرد کہا جاتا ہے۔ غرض یہ کہ دنیا میں آج بھی وہی صدیوں پرانا قصہ چلا آ رہا ہے کہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس۔ بس فرق ہے تو صرف اتنا کہ آج کی مہذب دنیا میں اسی پرانی لاٹھی کو تہذیب کا نیا لباس پہنا دیا جاتا ہے۔ درحقیقت خارجہ پالیسی و سفارتکاری اپنے ملک کی طاقت کی لاٹھی پر تہذیب کا لباس ڈال کر اپنے ملک کے ظاہری و باطنی مقاصد کو حاصل کرنے کا ہی نام ہے۔ لہٰذا بظاہر مہذب دنیا کے اس غیر مہذب دور میں ایک مضبوط خارجہ پالیسی کے بغیر کوئی بھی ملک اقوام عام میں سر اٹھا کر نہیں رہ سکتا۔
 
پاکستان جیسا ملک جسے گزشتہ سات دہائیوں سے مسئلہ کشمیر پر مسلسل جنگی کیفیت کا سامنا کرنا پڑرہا ہو اور جس کے ساتھ افغانستان جیسا غیر مستحکم ملک ہو اسے ایک مضبوط خارجہ پالیسی کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔ پاکستان گزشتہ دس سال سے زائد عرصے سے حالت جنگ میں ہے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اب تک چھیاسی ہزار سے زائد پاکستانی اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔ اور اب تک اربوں ڈالر کا نقصان معیشت کو ہو چکا ہے۔ پاکستان کے پاس واضح ثبوت موجود ہیں کہ ملک میں دہشت گردی کے ذمہ داروں کو بھارت اور افغانستان کی خفیہ ایجنسیوں کی پشت پناہی حاصل ہے۔ اور حال تو یہ ہے کہ بھارتی بحریہ کا حاضر سروس افسر بھی پاکستان میں دہشتگرد کارروائیاں کرتے ہوئے پکڑا گیا ہے لیکن ہم اپنے خفیہ اداروں کی اس کامیابی کو سفارتی سطح پر اجاگر کرنے میں ناکام رہے۔ وجہ صاف ظاہر ہے کہ اس ملک میں خارجہ پالیسی تو کیا پچھلے تین سال سے اس ملک میں کوئی وزیر خارجہ ہی نہیں ہے۔
 
ملک میں امریکہ ڈرون حملہ کر کے چلا جائے تو ہمیں چار دن تک اس بات کی تصدیق کرنے میں دشواری ہوتی ہے کہ آیا مرنے والا افغان طالبان کا امیر ملا اختر منصور ہی ہے یا کوئی اور۔ بھارتی بحریہ کا حاضر سروس افسر پکڑا جائے تو وزیراعظم صاحب لندن میں کھڑے ہو کر کہتے ہیں کہ دونوں ملکوں کو ایک دوسرے کے خلاف کارروائیاں بند کرنی چاہئیں۔ گویا کہ وہ پاکستان کے وزیراعظم نہ ہوں بلکہ اقوام متحدہ کے کوئی نمائندے ہوں۔ غرض یہ کہ امریکہ ڈرون حملے کر کے پاکستان کی خود مختاری کو پارہ پارہ کر دے، افغانستان سے این ڈی ایس کے لوگ دہشتگردی کر جائیں یا ایران بھارت نواز پالیسی اپنائے ، ہماری کوئی خارجہ پالیسی ہے ہی نہیں جو ان اقدامات کا مقابلہ کر سکے۔ البتہ ہمارے حکمرانوں پر برا وقت آئے تو وہ امریکہ ، برطانیہ اور سعودی عرب کا رخ کرنے میں ذرا دیر نہیں لگاتے کہ شاید انہیں وہاں سے کوئی مدد مل جائے۔ ان حالات کو دیکھ کر یہ محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی درحقیقت ناکام ہوئی نہیں ہے بلکہ اسے کامیابی سے ناکام کیا گیا ہے۔