ڈاکٹر عبدالسلام اورجھنگ کی دھرتی
- تحریر حبیب الرحمٰن
- اتوار 29 / مئ / 2016
- 11354
جھنگ ایک ایسی سرزمین ہے جس نے ڈاکٹر عبدالسلام جیسیے عظیم سائنسدان کو جنم دیا۔ ڈاکٹرعبدالسلام کو پاکستان کے پہلے نوبل انعام یافتہ سائنسدان ہونے کااعزاز حاصل ہے جنہوں نے یہ کارنامہ فزکس کے میدان میں سرانجام دیا۔ڈاکٹرعبدالسلام29جنوری1926ء کوجھنگ سٹی کے محلہ داؤدشاہ میں پیدا ہوئے اس وقت ان کا خاندان غربت و افلاس کا شکارتھا۔
عبدالسلام کے والدچوہدری محمد حسین محکمہ تعلیم میں ملازم تھے والدہ ہاجرہ حسین نے بچپن میں ہی ان کی تعلیم پر خصوصی توجہ دی ۔ 6سال کی عمر میں جب انہیں گورنمنٹ مڈل سکول جھنگ(موجودہ گو رنمنٹ ہائی سکول)میں داخلے کا ٹیسٹ دلوایا گیاتو سکول کے ہیڈماسٹرنے قابلیت کو بھانپتے ہوئے پہلی کی بجائے تیسری کلاس میں داخل کیا۔1938ء میں صرف بارہ سال کی عمر آٹھویں کا امتحان ضلع بھر میں پہلی پوزیشن کے ساتھ پاس کیااور اس وقت چھ روپے وظیفہ کے حق دار ٹھہرے۔
1940ء میں گورنمنٹ ہائی سکول جھنگ سٹی سے میٹرک کا امتحان ریکارڈنمبروں کے ساتھ پاس کیاتو حکومت کی جانب سے بیس روپے وظیفہ جاری ہوا۔1942ء میں انٹرمیڈیٹ کے امتحان میں پچاسی فیصد نمبر حاصل کیے اور حکومت کی جانب سے تیس روپے ماہوار وظیفہ کے ساتھ’’ گولڈ میڈل‘‘ سے نوازا گیا۔ 1944ء میں گورنمنٹ کالج لاہور سے بی۔اے آنرز میں گولڈمیڈل حاصل کیا اور ساتھ ہی ریاضی میں ایک تحقیقاتی مقالہ لکھاااس دوران وہ کالج یونین کے صدر اور رسالے کے چیف ایڈیٹر بھی رہے۔1946ء میں ایم۔اے ریاضی کے امتحان میں اول آنے کے بعدانگلستان کی کیمبرج یونیورسٹی میں ریاضی کے تین سالہ بی۔اے آنرز کورس کا آغاز کیااور ریاضی کے ساتھ ساتھ فزکس کا امتحان بھی شاندار نمبروں سے پاس کیا۔بعد ازاں انہوں نے پی۔ایچ۔ڈی میں اٹامک ذرات کی تحقیق کا موضوع بنایا اور بہت کم وقت میں چنے گئے مسئلہ کا حل نکالاجس پر1950ء میں انھیں یونیورسٹی نے سمتھ ایوارڈ سے نوازا۔
1951 گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور میں ریاضی پڑھانا شروع کی1952 میں پنجاب یونیورسٹی میں میتھ کے ہیڈ منتخب ہوئے۔ ڈاکٹریٹ کے بعد عبدالسلام برِصغیر سے تعلق رکھنے والے پہلے سائنسدان تھے جنہیں کیمبرج میں پڑھانے کا فریضہ سونپا گیا۔اس دوران آپ نے تدریس کے ساتھ تحقیق کا کام بھی جاری رکھا۔1954ء میں ایک تحقیقاتی مقالہ لکھا1955ء میں پانچ اور1956ء میں چار مزید مقالے لکھے۔اکیس برس کی عمر میں عبدالسلام امپیریل کالج لندن میں پروفیسر بنا دئیے گئے۔1957ء میں کیمبرج یونیورسٹی ہوپکن انعام اور1958ء میں آدم انعام دیا گیاجبکہ انگلستان کی فزیکل سوسائٹی کی جانب سے میکس ویل میڈل ملا۔1959ء میں حکومت پاکستان نے انہیں ’’ستارۂ پاکستان،پرائیڈآف پرفارمنس ‘‘ایوارڈ اور بیس ہزار انعام سے نوازا۔1964ء میں آپ کو دنیائے سائنس کی معتبر ترین تنظیم ’’رائل سوسائٹی ‘‘نے ہیوز میڈل سے نوازا۔1961ء میں صدرِ پاکستان ایوب خان کی پیشکش پر بغیر تنخواہ کے انہوں نے حکومت کا سائنسی مشیر بننا منظور کیا ۔ ذوالفقار علی بھٹو کے دورِحکومت تک اِس عہدے پر فائز رہے اس دوران پاکستان میں آپ کوریاضی اورفزکس کا باپ جانا جاتا تھا۔ اس کے علاوہ اس دوران آپ نے ’’پاکستان سائنس فاؤنٖڈیشن ‘‘ قائم کی مگر 1974ء میں احمدیہ جماعت کے خلاف بِل کی منظوری کے بعد احتجاجاََ ملک چھوڑکر چلے گئے کیونکہ ان کا تعلق بھی اسی جماعت سے تھا۔
ڈاکٹر عبدالسلام کا اہم اور بڑا کار نامہ’’ تھیوری آف یونیفیکیشن آف فنڈامینٹل فورس‘‘ یا’’ گرینڈ یونیفیکیشن تھیوری‘‘ ہے انہوں نے بتایا کہ الیکٹرومیگنٹزم اور کمزور نیوکلائی فورس دراصل ایک ہی قوت ہیں اور اِس نظریہ کوریاضیتاتی فارمولا سے ثابت کرنے پر انہیں1979ء میں نوبل پرائز سے نوازا گیا۔ان کا تحقیقاتی کام 1993ء تک جاری رہ سکااور اس کے بعدپٹھوں کے خطرناک مرض کے سبب وہیل چیئر تک محدود ہو گئے۔ تاہم اس دوران انھوں نے مختلف ممالک کے دورے کئے اور یونیورسٹیز میں لیکچرز دیئے۔نوبل انعام کے علاوہ274ایوارڈ حاصل کرنے والی یہ عظیم ہستی بالآخر21نومبر1996ء کو ستر سال عمر کی میں خالقِ حقیقی سے جا ملی اور انکی میت کو پاکستان واپس لا کر چناب نگر میں سپردِخاک کیا گیا۔
ڈاکٹرعبدالسلام کی پیدائش پونے دو مرلے کے چھوٹے سے گھر میں ہوئی جسےْ ’’تحفظ نوادرات کے ایکٹ مجریہ1975ء‘‘کے تحت جون 1981ء میں محفوظ قرار دے دیا گیا۔
یہ تو صرف ایک عظیم شخصیت تھی جس سے جھنگ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ یہ ایشیاکاوہ واحد ضلع ہے جہاں کے بیٹے ڈاکٹر عبدالسلام نے سانئسی دنیا میں عظیم خدمات سرانجام دینے پر نوبل انعام حاصل کیا۔اس کے علاوہ سر زمین جھنگ نے بہت سی ایسی عظیم شخصیتوں اور سپوتوں کو جنم دیا جنہوں نے دنیا میں کسی نہ کسی شعبہ میں اپنا لوہا منوایا۔اس دھرتی کو سلطانوں کی دھرتی بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہاں سلطان العارفین حضرت باہو سلطان ،روڈو سلطان اور ماجھی سلطان کے مزار موجود ہیں۔ ڈاکٹر شہر یار جیسے طبیب،بریگیڈئیر نصرت سیا ل شہید جیسے جانباز،نواب امان اللہ سیال،کرنل عابد حسین،سیدہ عابدہ حسین،مہر اسلم بھروانہ اور مخدوم فیصل صالح حیات جیسے سیاستدانوں کا تعلق بھی جھنگ سے ہے۔مجید امجد،شیر افضل جعفری،واصف علی واصف جیسے شعراء،علیم ڈار جیسے ایمپائیر،نذیر ناجی،اور محمود شام جیسے قلم کار،حافظ احمد یار جیسے سیرت کے لکھاری اور معروف ڈاکٹر طاہرالقادری کا تعلق بھی جھنگ سے ہے۔پاکستان کی اسمبلی کے سب سے کم عمر رکن مولانا ایثارالقاسمی اور مولانا حق نواز جھنگوی بھی اسی دھرتی پر پیدا ہوئے۔
ڈاکٹر عبدالسلام کے گھر کو حکومت نے تحفظ نوادرات ایکٹ کے تحت تو محفوظ کر لیامگراس کے ساتھ ساتھ یوں لگتا ہے کہ جھنگ کو بھی ’’قدیمہ،،کے طورپر محفوظ کر لیاگیا ہے ۔یہ ضلع جوں کا توں موجود ہے اس نے کوئی خاطر خواہ ترقی نہیں کی۔یہاں ٹریفک کا کوئی اچھا نظام موجود نہیں ہے کوئی ٹریفک سگنل ہے نہ کوئی ون۔وے،بس وہی چھوٹے اور پرانے روڈ موجود ہیں جنہیں کو مرمت کر کے کام لیا جا رہا ہے شاید اسی وجہ سے آئے روز ٹریفک حادثات بڑھ رہے ہیں ۔یہاں کوئی میڈیکل کالج ہے نہ کوئی یونیورسٹی اور نہ ہی کوئی اچھی سہولیات والا بڑا ہسپتال ہے۔ مطلب یہ کہ یہاں بڑے شہر کی تمام سہولیات نہیں ہیں ۔اتنی خدمات کے با وجود معلوم نہیں یہ شہر کب ترقی کرے گا۔