دھوکہ، دھکہ اور مری کی سیر

اس کار خیر یعنی خالو جان کو پیش امام کی نوکری دلانے کی سعادت تو مجھ اکیلے پر آپڑی، چونکہ میں ہی ان کا چہیتا تھا۔ سارے بھائی بہن تو الگ ہو گئے۔ خالوجان نے صرف اتنی سی سرزنش کی کہ ہم نے ان کی صلاحیتوں اور تعلیم قابلیتوں میں جھوٹ کا سہارا کیو ں لیا۔ جبکہ ہمیں اور کچھ معلوم ہو نہ ہو اتنا ضرور معلوم تھا کہ نہ تو وہ دیو بند سے فارغ التحصیل ہیں نہ ہی امامت کا تجربہ رکھتے ہیں۔

اب جو ہم اگلی دفعہ گرمیوں کی چھٹیوں میں ملکوال گئے تو کراچی سے راولپنڈی تک کے اس سفر میں اور میرا چھو ٹا بھائی اکھٹے تھے۔ کافی تلاش کے بعد ہمیں ایک برتھ تو مل گئی مگر ہمیں دو چاہیئے تھیں۔ دن کا سفر یوں بھی بیٹھ کر طے ہوتا تھا، سو ہم دونوں ایک ایک سیٹ پر بیٹھ گئے۔ البتہ ذہن میں یہ بات پریشان کرتی رہی کہ ہماری دوسری بر تھ کون سی ہے اور کیا ہم دونوں کورات کو ایک ہی برتھ پرسونا پڑے گا۔ میں ایسا کوئی تجربہ نہیں کر نا چاہتا تھا چونکہ مجھے معلوم تھا کہ میرے ہر دل عزیز بھائی رات کو سوتے کم اور گھڑی کی سوئیوں کی طرح گھومتے زیادہ ہیں۔ ایسے میں انہیں کوئی پرواہ نہیں ہوتی کہ ان کے برابر میں کون لیٹا ہے۔ ہمارے سامنے والی برتھ پر ایک نہایت لحیم شحیم شخص برا جمان تھے اور راستے بھرہم دونوں بھائیوں سے اتنی شفقت سے گفتگو کر رہے تھے کہ ہمار حوصلہ نہیں تھا کہ یہ گمان بھی  دل میں لاتے کہ جس برتھ پر وہ بر اجمان ہیں وہی شا ید ہمارے نام سے بک ہو ۔

شام ہو چلی تھی۔ ٹی ٹی آیا تو میں نے اس سے سوال کیا ’’ جناب ہم دونوں بھائیوں نے دو برتھ بک کروا ئی تھیں۔ ہمیں ہماری دوسری برتھ نہیں مل رہی، کیا آپ ہماری راہنمائی فر مائیں گے۔ ٹی ٹی نے کیبن سے باہر نکل دروازے پر لگی چٹ کو پڑھا اور پھر ہماری طرف ایسے دیکھنے لگا جیسے ہم ہونق ہوں ۔ پھر کچھ توقف کے بعد جس برتھ پر ہم بیٹھے تھے اور جس پر وہ صاحب براجمان تھے دونوں کی طرف انگلی گھماتے ہو ئے بولا یہ دونوں برتھ ہیں تو سہی آپ دونوں بھائیوں کے لئے۔ اب ہم نے ان صاحب کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا تو وہ فوراََ بولے ہاں بھئی ہاں یہ میری برتھ نہیں یہ آپ لوگوں کی ہی ہو گی۔ شاید ۔۔۔ ٹی ٹی نے ان کی بات اچک کر کہا شاید نہیں یقیناََ۔

ٹھیک ہے ٹھیک ہے یہ لو گ یہاں سو جائیں گے میری برتھ برابر والے کیبن میں ۔۔۔ میں وہاں چلا جاؤں گا۔ ی کہہ کر ان صاحب نے ٹی ٹی کو چلتا کر دیا۔ ہماری ان صاحب سے یوں بھی دن بھر اچھی بات چیت رہی تھی اور اس کے عوض ایک مودبانہ تعلق تو قائم ہو ہی گیا تھا۔ ہم نے بھی ٹی ٹی کو الواداعی نگاہ سے دیکھا جیسے سب ٹھیک ہے اور وہ سر ہلاتا چلا گیا۔ ٹی ٹی کے جانے کے بعد وہ انگریزی میں ہم دونوں سے مخاطب ہوئے۔۔۔ تم دونوں بہت ذہین اور مہذب بچے ہو۔ کیا تم لوگ مجھ پر ایک عنایت کروگے۔۔۔ میں بھاری بھر کم تن وتوش کا آدمی اوپر کی برتھ پر اتر چڑھ نہ کر سکوں گا اگر تم میں سے ایک بھائی میرے ساتھ اپنی سونے کی برتھ بدل لے تو میں تم دونوں کا بہت شکر گزار ہوں گا۔ ان صاحب کی بات میں اتنی شفقت تھی کہ میں انکار نہ کر سکا اور کہنے لگا میرا چھوٹا بھائی آپ کی برتھ پرسو جائے گا۔ اور آپ اسی پر آرام فرما لیں۔ بھائی نے میری جانب ذرا غصے سے دیکھا مگر کہا کچھ نہیں۔ غالباََ وہ کہنا چاہ رہا تھا کہ میں کیوں تم جاؤں، دوسرے کمپارٹمنٹ میں۔ لیکن خیر یہ مسلہ طے ہوگیا۔ دوسرا کمپرٹمنٹ زیادہ دور تو تھا نہیں اند اندر سے انسان ہر وقت آجا سکتا تھا۔ میں نے بھائی کو اطمنان دلایا کہ میں اس کا خیال رکھوں گا۔ وہ بے فکر ہو کر سو جائے۔

پھر ہم سب لیٹ گئے۔ اور بتی کو مدھم کر دیا گیا۔ ریل کے سفر میں نیند کس کم بخت کو آتی۔ بس کروٹیں بدلتے رہے۔ پھر میری نہ جانے کب آنکھ بھی لگ گئی۔ میں شاید بے خبر سو رہا تھا کہ اچانک ایک زوردار آواز سن کر میں اٹھ کر بیٹھ گیا۔ بتی جلائی تو کیا دیکھتا ہوں کہ میرے ہمسفر، سامنے والی برتھ سمیت ، جو انہوں نے ہم سے بدلی تھی ، فرش پر پڑے ہیں۔ اوپر کی دو برتھ پر سے بھی لوگ اٹھ بیٹھے۔ اب عجیب و غریب صورتحال تھی وہ صاحب اپنے لحیم شحیم تن و توش کے ساتھ برتھ پر بیٹھے تھے اور برتھ مکمل باہر نکل کر فرش پر گری پڑی تھی۔ خیر بھئی دوسرے دونوں افراد کی مدد سے انہیں اٹھا کر میری برتھ پر بٹھا دیا گیا۔ شکر ہے ان کو چوٹیں بالکل نہیں آئی تھیں۔ پھر ٹی ٹی کو بلایا گیا۔ اس نے ڈھونڈ ڈھانڈ کر کسی آدمی کو پکڑا جس نے برتھ کو دوبارہ اس کی جگہ پہ نصب تو کر دیا مگر ساتھ میں یہ بھی کہہ گیا کہ یہ مکمل طور پر ٹھیک نہیں ہے اور دوبارہ گرنے کا خطرہ اب بھی باقی ہے۔ آپ کو احتیاط سے سونا ہو گا۔ ان صاحب کی حالت قابلِ رحم تھی۔ مگر کچھ ہو نہیں سکتا تھا۔ انہوں نے باقی رات جاگ کر کاٹی جیسے تیسے صبح ہوئی تو میں بھائی کو اٹھانے کے بہانے وہاں سے کھسک گیا۔ بھائی کو رات کا سارا واقعہ سنانے کے بعد ہم دونوں دیر تک ہنستے رہے ۔

بھائی کو ملکوال چھوڑ کر اور اپنی سرزنش کو بھگتا کر مجھے اپنے ایک دوست قمر کے ساتھ اسلام آباد کچھ کام کے سلسلے میں پہنچنا تھا۔ دراصل ہم دونوں ایک اسکالر شپ کے لیے کوشاں تھے۔ راولپنڈی کے ریلوے اسٹیشن پر اتر کر میں نے ادھر ادھر دیکھا کہ کس سمت چلوں۔ اجنبی جگہ اور کوئی جاننے والا نہ تھا۔ مجھے یہاں ایک دن کسی ہوٹل میں گزارا کرنا تھا اور امید تھی کہ قمر کے ساتھ ہی اس کے کسی دور پرے کے رشتہ دار کے پاس ہم دونوں اسلام آباد میں قیام کر سکیں گے۔ مگر قمر ایک دن بعد پہنچا ۔ تھوڑی ہی دیر بعد جانے کیسے ایک لڑکے سے ملاقات ہو گئی۔ وہ زیادہ بڑا نہ تھا۔ کہنے لگا میں آپ کو کسی قریبی ہو ٹل میں لیے چلتا ہوں۔ اندھا کیا چاہے دو آنکھیں۔ میں اس کے ساتھ ہو لیا۔ تھوڑا فاصلہ پیدل چلنے کے بعد ہی وہ واقعی ایک واجبی سے ہوٹل میں مجھے لے آیا۔ قیمت وغیرہ طے ہوئی اور ایک کمرہ مجھے مل گیا۔ چابی لیکر سیڑھیاں طے کر کے ہم اوپر آگئے۔ کھڑکی کھولی تو کیا دیکھتا ہوں کہ سامنے ہی ایک سنیما گھر ہے اور ٹریفک اور تیز لاؤڈاسپیکر کا شو کان پھاڑے دیتا ہے۔ پیسے اد کر چکا تھا۔۔۔۔ یہ سوچ کر کہ ایک دن ہی کی تو بات ہے چلو جیسے بھی ہوگزا را کر لیا جائےگا۔ میرا خیال تھا کہ وہ لڑکا یا شخص جس کا نام بھی مجھے اب معلوم ہو چکا تھا ، یعنی فاروق اب چل دے گا تو پھر منہ ہاتھ دھو کر کچھ آرام کر لوں گا۔ مگر اس نے ایک اور ہی تجویز پیش کی۔ چلیں آپ کو راولپنڈی دکھا دوں ۔ گھوم پھر کر کہیں شام کا کھا نا کھائیں گے۔ پھر میں چلا جاؤں گا۔

تجویز بری نہ تھی سو میں مان گیا۔ گھومتے گھامتے ہم ایک سنیما گھر نکل گئے ، پکچر دیکھ کر نکلے تو رات کافی ہو چکی تھی۔  ہوٹل پہنچے تو اس لڑکے نے مجھے پھر سے تذذب میں ڈال دیا یہ کہہ کر کہ اس کا گھر دور ہے اور کیا وہ رات میرے ساتھ قیام کر سکتا ہے ۔ صبح اٹھ کر چلا جائے گا۔ کمرے میں دو علیحدہ علیحدہ بستر لگے تھے۔ انکار کی کوئی صورت نہ تھی ۔ میں نے حامی بھر لی۔ برش وغیرہ سے فارغ ہو کر میں نے دروازہ اندر سے لاک کر لیا اور چابی اپنی تکیہ کے نیچے رکھ کر سو گیا۔ رات قریب دو بجے وہ اٹھ کر اپنے بستر پر بیٹھ گیا میری آنکھ بھی کھل گئی۔ یہ تو میں نہیں کہہ سکتا کہ وہ پہلے سے جاگ رہا تھا یا میری آنکھ بھی اسی لمحے کھلی تھی۔ خیر میں بتی روشن کی تو اس نے مجھے بتا یا کہ وہ پیشاب کی غرض سے باہر جانا چاہتا ہے۔ میں نے اسے چابی دی۔ جب وہ کافی دیر بعد لوٹا تو میری باری تھی اور میں باہر چلا گیا۔ واش روم میں مجھے خیال آیا کہ میر اپنا بٹوہ ، جس میں میری ساری رقم رکھی تھی، تکیے کی نیچے ہی رہ گیا ہے۔ میں ویسے ہی واپس پلٹا کمرے میں آکر کیا دیکھتا ہوں کہ وہ لڑکا میرا بٹوہ ہاتھ میں لیے اس میں رکھی رقم کو گن رہا ہے۔ میری اس غیر متوقع واپسی پر اس نے بوکھلا کر بٹوہ میرے حوالے کر دیا اور کہنے لگا میں دیکھ رہا تھا کہ تمہارے پاس ہوٹل اور کھانے کے پیسے ادا کر نے کے لیے رقم ہے کہ نہیں۔ میں نے بٹوہ لیتے ہوئے سپاٹ لہجے میں کہا تم فکر نہ کرو ہوٹل کا مالک تم سے کسی رقم کا مطالبہ نہیں کر ے گا۔ اور پھر میں اس سے بٹوہ لےکر دوبارہ باتھ روم چلا گیا جیسے کوئی بات ہی نہ ہو۔ مگر درحقیت اس لڑکے کی حرکت نے میری نیند اڑادی تھی۔

کروٹ بدلتے صبح ہو ئی تو ناشتے سے قبل ہی میں شوشہ چھوڑ دیا کہ ہوٹل کو خیر باد کہہ کر ہمیں ریلوے اسٹیشن چلنا ہو گا کیوں کہ صبح کی ٹرین سے میرا دوست قمر وارد ہو رہا ہے۔ میری اس بات پر فاروق بھونچکا رہ گیا۔ مگر بولا کچھ نہیں۔ اسٹیشن پہنچ کر فاروق مجھ سے کہنے لگا تم پلیٹ پر فارم جا کر قمر کو لے آؤ میں یہیں تم دونوں کا منتظر رہوں گا۔ اگرچہ کہ نہ اس نے مجھے خدا حافظ کہا نہ ہی میں نے اسے مگر دل ہی دل میں ہم ایک دوسرے کو خداحافظ کہہ رہے تھے۔ فاروق نے میری کافی مدد کی تھی۔ بدلے میں، میں نے اسے رات اپنے خرچے پر ہوٹل میں ٹھہرا لیا تھا اور شام کے کھانے کا بل بھی میں نے ہی ادا کیا تھا۔ لیکن رات والی بات کے بعد میرے دل میں کھٹکا تھا میں اور جلد سے جلد اس سے پیچھا چھڑانا چاہتا تھا۔ اس دن کے بعد فاروق کو میں نے دوبارہ نہیں دیکھا۔

اسٹیشن میں داخل ہو کر بجائے پلیٹ فارم کے میں ریلوے کی بکنگ آفس میں گھس گیا واپسی کی بکنگ کروانے کے واسطے۔ شام کو جب قمر پنڈی پہنچا تو ہم دونوں اس رشتہ دار کے گھر اسلام آباد جا دھمکے۔ ان لوگوں نے ہماری بڑ ی خاطر داری کی اور ہم اسلام آباد چھوڑنے تک وہیں مقیم رہے۔ اسلام آباد میں کبھی لگتا کہ ہمارا کام ہو جائے گا اور ہم منزل کے بالکل قریب ہوتے پھر ہمیں مایوسی ہو جاتی۔ قصہ یہ تھا کہ ڈھاکہ کے میڈیکل کالج میں دو سیٹیں پاکستانی طلباء کے لیے مختص تھی اور ہم دونوں یہ سوچ کر کہ ڈھاکہ کون جاتا ہو گا ، قسمت آزمائی کر نے نکل کھڑے ہوئے۔ اور شروع شروع میں ہمیں ایسا لگا کہ ہم بغیر کسی تگڑی سفارش کے کامیاب ہو جائیں گے۔  لیکن جوں جوں بات آگے بڑھتی گئی ہماری آنکھیں کھلتی گئیں۔

بات ہوتی صاحب تک پہنچ گئی اور بالآخر بلی تھیلے سے یوں باہر آئی کہ اس سال ڈھاکے میں تعینات ایمبیسی کے اسٹاف میں سے کسی کے دونوں بچوں کو یہ سیٹیں دے دی گئی ہیں۔ ہم اگلی دفعہ پھر سے کوشش کر سکتے ہیں۔ ہم دونوں اٹھارہ انیس سال کے بے پرواہ سے نوجوان تھے ۔ ہمیں ایسی ناکامیوں کے دور رس نتائج کی کوئی خاص فکر نہ تھی۔ ہم نے سوچا اسلام آباد میں تو اب فارغ بیٹھے ہیں چلو مری چلتے ہیں۔ قمر نے کسی سے بات چیت کرکے وہاں ایک ریسٹ ہاوس کا بندوبست کرالیا اور ہم دونوں ایک منی بس کے ذریعہ مری پہنچ گئے۔ جب ہم اسلام آباد سے چلے تو وہاں سخت گر می پڑ رہی تھی ۔ مگر جب ہم مری پہنچے تو لوگ سوئٹر پہنے نظر آئے۔ پتہ چلا تھوڑی دیر قبل برفباری ہوئی تھی اور موسم ٹھنڈا ہے۔

اسلام آباد کی ہی ہر یالی ہم کراچی والوں  کے لیے کیا کم تھی کہ ہم مری آگئے۔ اور موسم بھی غضب کا ہو رہا تھا۔ اتنے سارے درخت، پودے تو ہم نے صرف اپنے بچپن میں مشرقی پاکستان میں دیکھے  تھے۔ مری کی اونچی نیچی پہاڑیاں، بل کھاتے راستے، اترتی کھائیاں، درختوں کے جھنڈ اور بادلوں سے گھر ے موسم نے ہم دونوں کی طبیعت کو مسحور کر دیا۔