پاکستان پھوپھو پارٹی (پی پی پی)
- تحریر فرخ سہیل گوئندی
- منگل 31 / مئ / 2016
- 5836
پاکستان میں سیاسی جماعتیں روزِ اوّل سے ہی اس بات کی دعوے دار ہیں کہ وہ جمہوریت کے قیام کے لیے جدوجہد کر رہی ہیں اور یہ تو فوجی ڈکٹیٹرز ہیں جو جمہوریت پر شب خون مارتے ہیں اور جمہوری تسلسل کو کمزور کرتے ہیں۔ یہ بات غلط نہیں کہ مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکنوں اور متعدد رہنماؤں نے پاکستان کی جمہوری جدوجہد میں بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ حتیٰ کہ اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر دیا، لیکن یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہماری بیشتر سیاسی جماعتیں روز بہ روز خاندانوں کے وراثتی نظام کے تحت ہوتی جارہی ہیں۔ کوئی ایک ایسی انتخابی جماعت دکھلا دیں جو کارکنوں کے کنٹرول میں ہو۔ ان ’’جمہوری جماعتوں‘‘ کے چھوٹے چھوٹے فیصلوں سے لے کر اہم ترین فیصلوں میں کہیں سیاسی کارکن کا اختیار نظر نہیں آتا۔
پاکستان کی سب سے تاریخ ساز جماعت پاکستان پیپلزپارٹی کو ہی دیکھ لیں۔ اس پارٹی کے بنیادی منشور کے اہم ترین دونظریے ہیں، ’’جمہوریت ہماری سیاست ہے‘‘ اور ’’ طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں‘‘۔ پی پی پی نے ایک وقت تک ان اصولوں کو اپنانے کی بھرپور کوشش کی اور اس حوالے سے اس پارٹی کے بانی قائد سولی پر بھی جھول گئے۔ لیکن آج پی پی پی کس نہج پر کھڑی ہے۔ پارٹی حقیقی جمہوریت سے نکلی تو بھٹو خاندان کی کرشماتی قیادت کے محور پر چلتی رہی۔ حقیقی خاندان (بھٹوخاندان) کا صفایا ہوا تو خاندان کا عنوان ہی بدل گیا۔ بلاول جو حاکم علی زرداری کے پوتے اور آصف علی زرداری کے صاحب زادے ہیں، ’’بھٹو‘‘ قرار دے دیئے گئے اور اسی طرح ان کی دونوں ہمشیرگان آصفہ اور بختاور بھی زرداری سے بھٹو قرار دے دی گئیں۔ آصف علی زرداری اس حکمت عملی کے معمار ہیں جس کے تحت پارٹی چلائی جارہی ہے۔ اگر اس پارٹی میں فیصلوں کا سرچشمہ دیکھیں تو معلوم ہو گا کہ پارٹی عوام، لاڑکانہ اور بھٹوز سے نکل کر نواب شاہ اور زرداریوں کے ہاں جا بسی۔ پی پی پی اب پاکستان پیپلزپارٹی سے کہیں زیادہ پاکستان پھوپھو پارٹی بن چکی ہے۔
بلاول کی پھوپھیوں نے جس طرح پیپلز کے Gap کو بھرا ہے، وہ کمال بھی جناب آصف علی زرداری کا ہے۔ اس جمہوری انقلابی پارٹی کا پیپلزپارٹی سے پھوپھو تک کا سفر بڑا تلخ ہے۔ اب فیصلے پیپلزکی بجائے پھوپھو ہی کرتی ہیں۔ پنجاب، سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا جہاں بھی پارٹی کے معاملات نبٹائے جائیں، اگر ’’ابا حضور‘‘ نہیں تو آپ کو ’’پھوپھو‘‘ ہی سرگرم نظر آتی ہیں۔ ’’پھوپھو پارٹی‘‘ دیکھیں کیا کمال دکھلاتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق 2008ء سے 2013ء تک ’’پھوپھو پارٹی‘‘ نے جو کارنامے کیے ہیں، اس کی تفصیلات میں جائے بغیر ہم دیکھ سکتے ہیں کہ ’’پھوپھوپارٹی‘‘ کس مقام پر پہنچ چکی ہے۔ حکمرانی کے پانچ سالوں میں ’’ابا حضور‘‘، پھوپھو اور ان کے اہل خانہ نے پارٹی کے نظریات، اصول اور کارکنوں کا جو حشر کیا وہ تو اپنی جگہ، لیکن دکھ یہ ہے کہ ایک ایسی پارٹی جو وفاق میں ایک اہم وفاقی اتحاد کی علامت، سماج میں طبقاتی تفریق کے خلاف نظریاتی آواز، تنگ نظر روایات کے خلاف روشن خیالی اور جدیدیت کی علمبردار تھی، اس پاکستان پیپلز پارٹی کی ہیت ہی بدل گئی۔
پیپلزپارٹی سے ’’پھوپھو پارٹی‘‘ کا سفر دل خراش بھی ہے اور حیران کن بھی۔ دیکھیں کس صفائی سے عوام، محنت، جدوجہد کے عظیم الشان کارکنوں اور نظریے سے علیحدگی پیش ہوئی، بلکہ خاندان سے دوسرے خاندان کو ’’انتقالِ اقتدار‘‘ بڑی چابکدستی سے ہوا۔ پارٹی میں عوام اور کارکنوں کا راج ہی ختم نہیں ہوا، بلکہ اس خاندان سے بھی پارٹی کولاتعلق کر دیا گیا جس کے چار افراد اس میدانِ کارزار میں لڑتے ہوئے شہید ہوئے۔ ذوالفقار علی بھٹو، شاہ نواز بھٹو، مرتضیٰ بھٹو اور محترمہ بینظیر بھٹو کی قتل گاہوں کو کیسے صفائی سے پانی سے دھو دیا گیا۔ ذرا تصور میں لائیں پھوپھی کو بے نظیر کے مقابلے میں۔ آصفہ، بختاور اور بلاول کو شاہ نواز بھٹو اور مرتضیٰ بھٹو کے ساتھ، ’’سب پر بھاری‘‘ آصف علی زرداری کو ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ۔ چشمِ تصور خود فیصلہ کرے گی، کتنا فرق ہے۔
کہاں پھوپھو کی پارٹی، کہاں بھٹو کی پارٹی۔ کہاں نظریات کی پارٹی اور کہاں مفاہمت کی پارٹی۔ کہاں وہ پارٹی جس کے قائدین کے ہاں روٹی کھانے کو نہیں اور جدوجہد کے عظیم الشان باب رقم کردیئے۔ معراج محمد خان، خورشید حسن میر، بابائے سوشلزم شیخ محمد رشید، ملک معراج خالد، حنیف رامے اور ڈاکٹر مبشر حسن کی قیادت اور کہاں یوسف رضا گیلانی، رحمن ملک اور خورشید شاہ کی پارٹی۔ تب آپ کو فرق معلوم ہو گا بھٹوکی پارٹی اور پھوپھو کی پارٹی میں۔ اُن کی جیبیں جدوجہد کرتے خالی ہو گئیں، اِن کی جیبیں ’’جدوجہد‘‘کرتے کرتے بھرتی چلی گئیں۔ پیپلزپارٹی سے پھوپھو پارٹی کی ٹرانسفارمیشن، پاکستان کی جمہوری جدوجہد کا ’’درخشاں باب‘‘ ہے۔ اس سے آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ پاکستانی جمہوری جدوجہد کہاں پہنچی اور اگر سفر ایسے ہی جاری رہا تو کہاں بات ختم ہو گی۔