پاک ایران تعلقات پر مدیر کاروان کا ایرانی نیوز ایجنسی کو انٹرویو

(ایران کی مہر نیوز ایجنسی کے نمائیندے علی کاوسی نژاد نے کاروان کے مدیر سید مجاہد علی سے برصغیر کی صورت حال اور پاک-ایران تعلقات کے حوالے سے ایک انٹرویو لیا ہے۔ قارئین کی دلچسپی کے لئے اس انٹرویو کو اردو قالب میں یہاں شائع کیا جا رہا ہے۔)

سوال: حالیہ دنوں میں " نریندر مودی" نے ایران کا سفر کیا  اور ایران، ہند  اور افغانستان کے  حکام نے چابہار منصوبے کے معاہدے پر دستخط کیے۔ کیا یہ منصوبہ  پاک ۔ چین راہداری منصوبے کے مد مقابل  ہوگا ۔ پاکستانی حکام کا اس کے بارے میں کیا رد عمل سامنے آئے گا؟

جواب: اس وقت دنیا مقابلہ کی صورت حال کو بہتر سمجھتی ہے۔ اس لئے اصولی طور پر چابہار منصوبے سے گوادر منصوبے پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ لیکن برصغیر کی سیاسی صورت حال کی وجہ سے بھارت جس معاہدے میں بھی شامل ہوگا پاکستان میں اسے شک و شبہ کی نگاہ سے دیکھا جائے گا۔ نریندر مودی کے دورہء ایران سے پہلے ہی چین اور پاکستان گوادر اور چابہار بندرگاہوں کو ملانے کی تجویز دے چکے ہیں۔ افغانستان ، وسطی ایشیا اور اس راستے سے روس اور دیگر ملکوں تک رسائی کے لئے ضرورت اس قدر زیادہ ہے کہ میرا خیال ہے کہ گوادر اور چابہار مل کربھی بار بدرداری کی ان ضرورتوں کو پورا نہیں کر سکیں گے۔ تا ہم ملکوں کے درمیان سیاسی افہام و تفہیم ضروری ہے۔ ایران، پاکستان اور بھارت کے درمیان غلط فہمیاں دور کروانے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔

س: ایرانی صدر "حسن روحانی" نے  کہا  ہے کہ چابہار منصوبہ کسی ملک یا ممالک کے خلاف نہیں ہےاور علاقے کے دوسرے ممالک اس میں  شامل ہو سکتے ہیں ۔ کیا پاکستان اس منصوبے میں حصہ دار بننے کی خواہش ظاہر کرے گا؟

ج: صدر حسن روحانی نے بالکل بجا فرمایا ہے۔ کوئی ذی شعور تعاون کی اس ضرورت سے انکار نہیں کر سکتا۔ جیسا کہ اوپرعرض کیا کہ پاکستان اور چین کی طرف سے ایسی خواہش کا اظہار پہلے ہی ہو چکا ہے۔ اگر علاقے کے سب ملک مل کر مشترکہ مفاد کے اقتصادی منصوبوں میں تعاون کریں تو اس میں سب ملکوں کے عوام کا فائدہ ہے۔ پاک چین اقتصادی منصوبے کے حوالے سے بھارت کو بھی یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے۔

س: بلوچستان میں امریکی ڈرون حملے کے بعد پاکستانی وزارت خارجہ نے امریکی سفیر کو بلا کراپنی تشویش کا اظہار کیا۔ کیا پاکستان  کی خفیہ ایجنسی " آئی ایس آئی" نے طالبان کی قیادت ختم کرنے میں امریکہ کا ساتھ دیا  ہے ؟

ج: پاکستان نے سرکاری طور پر ڈرون حملہ کی مذمت کی ہے۔ لیکن درپردہ معاملات کیسے طے ہوتے ہیں اس کے بارے میں بہت بعد ہی معلومات سامنے آتی ہیں۔ یہ قیاس آرائیاں تو کی جا رہی ہیں کہ پاکستانی حکام کو اس حملہ کے بارے میں پتہ تھا اور شاید کسی حد تک ملا اختر منصور کی نشاندہی کرنے کے لئے تعاون بھی کیا گیا ہو۔ اگرچہ اس وقت پاکستان کے حکام یہ نہیں مانتے لیکن وہ بھی ملا منصور کے سخت رویہ اور مذاکرات سے مسلسل انکار کی وجہ سے پریشان تھے کیوں کہ اس کا پاکستان کے امریکہ کے ساتھ تعلقات پر اثر پڑ رہا تھا۔ اس لئے پاکستان بھی درحقیقت امریکہ کی اس بات سے متفق ہوگا  کہ ملا منصور امن اور مذاکرات کی راہ میں رکاوٹ بن رہے تھے۔ 

س: افغانستان کے چار فریقی مذاکرات کا پانچوان دور گذشتہ دنوں میں اسلام آباد میں منعقد ہوا ۔ بعض  تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ یہ مذاکرات مثبت ثابت نہیں ہوں گے آپ کا کیا خیال ہے؟  کیا ایران، ہندوستان اور روس  ان مذاکرات میں شریک ہو سکتے ہیں؟

ج: یہ چار ملکی گروپ ابھی تک موجود ہے اور اسے ختم نہیں کیا گیا۔ میرا خیال ہے کہ گروپ ابھی کام کرے گا اور طالبان کی نئی قیادت کو اس عمل میں شامل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ البتہ اگر طالبان نے حملوں کا سلسلہ جاری رکھا تو چار ممالک پر مشتمل اس گروپ کی افادیت مشکوک ہو جائے گی۔
اصولی طور پر تو ایران، روس اور ہندوستان کو بھی اس عمل کا حصہ ہونا چاہئے تاکہ سب ملک اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے جلد از جلد امن کے لئے راہ ہموار کرسکیں۔ لیکن ہندوستان نے افغانستان کے راستے سے پاکستان میں تخریب کاری کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ اس لئے پاکستان اور بھارت کے درمیان اعتماد موجود نہیں ہے۔ اس طرح امریکہ، روس کو اس علاقے میں کوئی اہم رول دینے پر آمادہ نہیں ہوگا۔ چین کو بھی علاقے میں کثیر سرمایہ کاری اور افغانستان اور طالبان پر اس کے اثر و رسوخ کی وجہ سے اس گروپ میں شامل کیا گیا ہے۔ 

س: افغان صدر  اشرف غنی نے کابل کے دہشتگردانہ حملے کے بعد اعلان کی کہ اسلام آباد نے حقانی گروپ کے خلاف موثر کارروائی نہیں کی اور  افغانستان اسلام آباد کے خلاف بین الاقوامی سطح پر اپنی آواز اٹھائے گا۔  کیا اشرف غنی کی حالیہ باتوں کی وجہ سے امریکی سینٹ نے پاکستانی کی امدادی رقم بند کی؟

ج: حقانی نیٹ ورک کے ساتھ پاکستان کا تعلق ایک سنگین معاملہ ہے لیکن پاکستانی قیادت کا کہنا ہے وہ اب بلا تخصیص دہشت گرد گروہوں کے خلاف کارروائی کررہے ہیں۔ اگرچہ امریکہ اس دعویٰ کو تسلیم نہیں کرتا۔ تاہم امریکی سینیٹ افغانستان کی وجہ سے نہیں واشنگٹن میں بھارتی لابی کی وجہ سے پاکستان کے خلاف اقدام کرتی ہے۔ لیکن آج ہی خبر آئی ہے کہ سینیٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی نے کولیشن سپورٹ فنڈ CSF سے 800 ملین ڈالر پاکستان کو دینے کی منظوری دی ہے۔ یہ فیصلہ ملا منصور کی ہلاکت کے چار روز بعد کیا گیا ہے۔

س: پاک و ہند کے جامع مذاکرات میں کیا کیا  رکاوٹیں حائل نظر  آتی ہیں۔  انڈیا  نے گذشتہ ہفتوں میں  بیلسٹیک میزائیلوں کے کامیاب تجربے کیے ہیں اور پاکستان نے اس حوالے سے اپنا شدید رد عمل دکھایا ہے۔  پاکستان نے انڈیا  کے ایٹمی پروگرام کے خلاف کیا کیا پالیسیاں اپنا رکھی ہیں؟ کیا انڈیا  سلامتی کونسل کی مستقل رکنیت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گا؟

ج: یہ ایک مشکل سوال ہے۔ تاہم اگر میں سوال کے آخری حصے کا پہلے جواب دوں تو میرا خیال ہے ہندوستان کو سلامتی کونسل کی مستقل رکنیت مستقبل قریب میں نہیں مل سکے گی۔ اس کی وجہ پاکستان کی مخالفت نہیں بلکہ چین کا ویٹو ہو گا۔
امریکہ اور مغرب، ہندوستان کو چین کے مقابلے پر تیار کررہے ہیں۔ یہ مقابلے بازی اقتصادی بھی ہے تاکہ چین کی دنیا کی منڈیوں پر اجارہ داری کو توڑا جا سکے اور عسکری بھی تاکہ چین کو ایشیا میں ہی ایک مقامی طاقت کے ذریعے چیلنج کیا جا سکے۔ دنیا کی طاقتیں جب تک اس قسم کے بلاک بنانے کا سلسہ بند نہیں کرتیں مختلف ملکوں کے درمیان اختلافات بڑھتے رہیں گے۔
جہاں تک اقوام متحدہ کا معاملہ ہے تو اس کے نظام میں وسیع نوعیت کی اصلاحات کی ضرورت ہے تاکہ صرف پانچ بڑے ملک ویٹو کی بنیاد پر فیصلوں پر اثر انداز نہ ہوں بلکہ ہر ملک کو کسی حد تک انصاف حاصل کرنے کا مساوی موقع مل سکے۔ صرف انڈیا کے سلامتی کونسل کا مستقل بننے سے یہ اصلاح ممکن نہیں ہوگی بلکہ اس بات کی تصدیق ہوجائے گی کہ موجودہ نظام ہی درست ہے۔ یہ بہر حال ایک غلط اور افسوسناک فیصلہ ہوگا۔
جہاں تک ہندوستان کے ساتھ پاکستان کی مقابلے بازی کا تعلق ہے، بد نصیبی سے یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک دونوں ملک باہمی مسائل حل کرنے کے لئے پیش رفت نہیں کرتے۔ دونوں ملکوں کے سیاست دان بوجوہ مذاکرات شروع کرنے میں ناکام ہو رہے ہیں۔ بھارت کی فوجی طاقت کا مقابلہ کرنے کے لئے پاکستان بھی میزائل سسٹم استوار کررہا ہے۔ بھارت کی اینٹی بلاسٹک میزائل  کی حالیہ صلاحیت جسے متبادل اسٹرائک آپشن کا نام دیا جا رہا ہے، (جس کے ذریعے کسی ملک کو اپنے روایتی اثاثے ضائع ہونے کی صورت میں بھی حملہ کرنے کی صلاحیت حاصل رہتی ہے) جنگ کی صورت میں پاکستان کے لئے نہایت خطرناک ہو سکتی ہے۔ پاکستان بھی اس کا مقابلہ کرنے کی تیاری کرے گا۔ اس طرح دونوں مل کر بحر ہند کو متبادل محاذ کے طور استوار کرلیں گے۔
بھارت نے چند برس قبل جب پاکستان کے خلاف کولڈ سٹارٹ اسٹریٹیجی اختیار کی تھی جس کے تحت وہ اچانک بھرپور حملہ کرکے پاکستان کے وسیع علاقوں پر قبضہ کرسکتا ہے تو اس کے مقابلے میں پاکستان نے بھی موبائل ایٹمی صلاحیت حاصل کی۔ اس طرح خطے اور دنیا کو ایک نئی خطرناک صورت حال سے دوچار کیا گیا ہے۔

س: ایران پر عالمی پابندیاں ہٹ جانے سے  کیا ایران ۔ پاک گیس پائپ لائن منصوبہ  مستقبل  میں ترقی کر سکتا ہے؟ کیونکہ پاکستان نے قطر اور روس سے  گیس حاصل کرنے کی غرض سے معاہدے کر لیے ہیں۔

ج: پاکستان کے پاس گیس اور تیل کے ذخائر نہیں ہیں۔ اسے بڑھتی ہوئی آبادی اور صنعتی ضرورتوں کی وجہ سے گیس کی بڑی مقدار کی ضرورت رہے گی۔ قطر سے مائع گیس درآمد کرنے کا منصوبہ فوری ضرورت پر قابو پانے میں مدد دے گا۔ کیوں کہ یہ گیس ٹینکرز کے ذریعے کراچی کی بندرگاہ پر آئے گی۔ جبکہ روس کے ساتھ معاہدہ افغانستان کے حالات اور دیگر سیاسی اور سفارتی حالات کی روشنی میں ہی مکمل ہو سکے گا۔ جبکہ ایران کے ساتھ ہونے والے معاہدے کا نصف کام تو ہو چکا ہے۔ پاکستان کی حکومت کو اب اس سلسلہ میں پیش رفت کرنی چاہئے۔ پاکستان میں عام رائے اس منصوبے کے حق میں ہے لیکن حکومت نامعلوم وجوہات کی بنا پر اس منصوبے پر عمل درآمد کے سلسلہ میں سستی کا مظاہرہ کررہی ہے۔