ایک سرے پر آگ، دوسرے پر بے وقوف!
- تحریر مسعود مُنّور
- جمعرات 02 / جون / 2016
- 5783
ہمسایہ ملک بھارت سے خبر آئی ہے کہ ہائی کورٹ کے مسلمان جج نے ایک مقدمہ کی کارروائی کے دوران سگریٹ نوشی کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دئے ہیں کہ “ سگریٹ نوشی کے بارے میں اسلامی تعلیمات خاموش ہیں“۔ فاضل جج کے فرمان پر غور کیا جائے تو سوال پیدا ہوتا کہ اسلام میں تمباکو نوشی کس زمرے میں آتی ہے۔ اور کیا سگریٹ نوشی کے لئے اجتہاد کی گنجائش ہے۔ ہم یہ بحث علمائے دین پر چھوڑتے ہیں اور سگریٹ نوشی کے نقصانات کا جائزہ لیتے ہیں۔
شاید یہ بات کم لوگ جانتے ہیں کہ میڈیکل تجرباتی لیبارٹری میں جب مینڈک کو زندہ لایا جاتا ہے تو چیر پھاڑ کرنے سے پہلے اسے بے ہوشی کے عمل سے گزاراجاتا ہے جس کےلئے مینڈک کے منہ میں سگریٹ کا تمباکو بھرا جاتا ہے اس سے وہ بے ہوش ہوجاتا ہے۔ پھر میڈیکل تجربات کرنے والے سرجن با آسانی اسکی چیر پھاڑ کرکے اس کے اندرونی نظام کا جائزہ لیتے ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ مینڈک اور انسان کا نظام ہاضمہ یکساں ہے لیکن غور کرنے پر پتہ چلے گا کہ ہضم کرنے کی صلاحیت انسانوں میں مینڈکوں سے کہیں زیادہ ہے۔
ایک سروے کے مطابق دنیا میں تمباکو نوشی کرنے والوں کی تعداد تقریباً ایک ارب 15کروڑ ہے جن میں45فی صد مرد اور15 فی صد عورتیں شامل ہیں۔ اور اسی تناسب سے دنیا میں ہر روز تقریباً گیارہ ہزار افراد تمباکو نوشی کے سبب سے موت سے ہمکنار ہوجاتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آخر تمباکو ہے کیا جس سے لوگ موت خریدتے ہیں؟ اس کا آغاز کب ۔ کہاں اور کیسے ہوا۔ تمباکو کے پتوں کی باقاعدہ دریافت پہلی بار کولمبس نے کیوبا کے سفر کے دوران کی تھی۔ 1492ء میں جب کولمبس کیوبا کے ساحل پر اترا تو وہاں کے باشندوں کواس نے ان پتوں کو سونگھتے ، چباتے ، پیستے دیکھا۔ پھر اس کے ردعمل پر غور کیا تو اسے معلوم ہوا کہ اس کے استعمال کرنے والوں پر ان پتوں کا گہرا اثر ہوتا ہے۔
1560 ء میں فرانس کے سفیر برائے پرتگال نے قیدی جہاز رانوں سے یہ پتیاں حاصل کیں کیونکہ اسے بتایا گیا تھا کہ ان پتیوں کے لگانے سے زخم مندمل ہوجاتے ہیں اور اس سے السر کا علاج بھی کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ان کو وبائی امراض جیسے طاعون وغیرہ سے بچنے کیلئے بھی موثر خیال کیاجاتا تھا۔ اس وقت کے ڈاکٹروں کا خیال تھا کہ یہ نظام ہاضمہ کودرست کرتی ہیں اور خون کی صفائی میں معاون ہیں۔ کیوبا میں اسپین سے جو ملاح اور جہازی آئے وہ اسپین لوٹتے ہوئے اپنے ساتھ تمباکو کے پتے بھی لے آئے۔ اس کی وجہ سے اسپین، فرانس اور جرمنی میں سگار بننے شروع ہوگئے۔ یہ1788ء کی بات ہے۔
ادھر امریکہ کی سرزمین پر سگار بنانے کا پہلا کارخانہ 1821ء میں قائم ہوا۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے تمباکو کی وبا نے ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ تمباکو چین میں استعمال ہوتا ہے۔ اس کے بعد امریکہ کا نمبر آتا ہے اور تیسرے نمبر پر ہمارا ہمسایہ بھارت ہے ۔ صرف بھارت میں تقریباً دس ہزار کروڑ روپے تمباکو اور اس کی مختلف شکلوں میں اڑا دیئے جاتے ہیں۔ دنیا بھر میں تمباکو نوشی جوں جوں بڑھی اسکے مضر اثرات بھی عیاں ہوتے گئے۔ چونکہ میڈیکل سائنس اتنی ترقی یافتہ ہوچکی ہے کہ تمباکو کے مضمرات کا تفصیلی جائزہ لے سکے اس لئے انگلستان میں سب سے پہلے ( غالباً اٹھارویں صدی میں) ایک گروپ نے اس کی مخالفت کی۔ بادشاہ جیمز نے تمباکو کے خلاف فرمان جاری کیا ۔ امریکہ نے1960ء میں سگریٹ کے مہلک اثرات کو دیکھتے ہوئے سگریٹ کے پیکٹوں پر ’’ سگریٹ پینا صحت کیلئے نقصان دہ ہے۔ ‘‘ لکھنا لازمی قرار دیا۔
عالمی ادارہ صحت نے1980ء سے ہی تمباکو نوشی کے خلاف عالم گیر پیمانے پر مہم شروع کردی۔ 1987ء میں اس نے دنیا بھر میں پھیلے ہوئے اپنے دفاتر میں سگریٹ پینے پر پابندی عائد کردی۔ امریکہ ہی میں1971ء میں ریڈیو اور ٹی وی پر سگریٹ کے اشتہارات پر پابندی لگا دی گئی۔ کینیڈا نے1980ء میں یہی قانون نافذ کیا۔ آسڑیلیا نے 1987ء میں اپنی تمام ہوائی کمپنیوں میں دوران سفر ہر قسم کا تمباکو پینے پر پابندی عائد کردی۔ آج یورپ اور امریکہ کی بیشتر ہوائی کمپنیوں کے جہازوں میں مسافروں کو تمباکو نوشی کی قطعی اجازت نہیں۔ اس سے یہ مت سمجھئے کہ تمباکو نوشی صرف جہاز کے مسافروں ہی کو نقصان پہنچاتی ہے۔ گھروں اور دفتروں میں بھی تمباکو نوشی کے نقصان کا خطرہ لاحق رہتا ہے اور ان میں سب سے بڑا خطرہ کینسر کے موذی مرض کا ہے۔ ایک خبر کے مطابق تمباکو نوشی کرنے والے افراد خانہ کو اسموک فری مکان میں رہنے والوں کی نسبت 4 گنا زیادہ خطرات ہوتے ہیں۔
تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ تمباکو نوشی نہ کرنے والے اپنے گھر میں کسی فرد کے تمباکو نوشی کرنے سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں جو افراد یومیہ دس سے پندرہ سگریٹ پیتے ہیں ان کے افراد خانہ کو نہ پینے والوں کی نسبت 4 گنا زیادہ خطرات لاحق ہوتے ہیں۔ آخر میں یہ بتانا ضروری سمجھتا ہوں کہ ایک تازہ تحقیق کے مطابق کسی قسم کے آپریشن سے قبل سگریٹ نوشی ترک کردینی چاہئے۔ اگر مستقل طور پر ممکن نہ ہو توکم ازکم آپریشن سے آٹھ ہفتے قبل سگریٹ سے مکمل پرہیز کرنا چاہئے۔ یہ انکشاف ڈنمارک میں ڈاکٹروں کی ایک ٹیم کی تحقیق کے بعد سامنے آیا ہے جس میں کہاگیا ہے کہ تمباکو نوشی جاری رکھنے والے 52%افراد آپریشن کے بعد مختلف پیچیدگیوں سے دوچار ہوئے۔ جبکہ تمباکو نوشی ترک کرنے والے صرف18فیصد افراد مختلف مسائل سے دوچار ہوئے۔
چلو یہ مانا کی ادنیٰ سا اک چراغ ہوں میں
مگر ہواؤں کو الجھن میں ڈال رکھا ہے