تعلیم ہی ہجوم کو قوم بناتی ہے

معاشروں کی تنزلی کا ایک بنیادی سبب تعلیم سے اغماض کی عادت بھی قرار دی جا سکتی ہے۔ میں نے پالیسی کی جگہ عادت کا لفظ جان بوجھ کر استعمال کیا ہے، کیوں کہ پالیسیاں تو ہر وقت اور ہر نئے سال اور ہر نئی حکومت کی آمد پر بنتی اور معرضِ وجود میں آتی رہتی ہیں اور پھر ان میں طرح طرح کی تبدیلیاں بھی رونما ہوتی رہتی ہیں ۔ حکومتیں اور حکمران جماعت کے کارندے اپنی مرضی کے مطابق ان کے نقش و نگار سنوارتے رہتے ہیں، لیکن عادات کا فلسفہ اس سے قدرے مختلف ہے۔ عادت ،جو ایک بار انسانی زندگی میں داخل ہو جائے ،تو پھر اس سے چھٹکارا ناممکن ہو جاتا ہے۔

انسان ہر قسم کے عمل سے جان چھڑا سکتا ہے سوائے عادت کے، لہٰذا یہی کہنا بہتر لگا ہے کہ ہر سطح پر تعلیم کی جانب سے آنکھیں بند کر لینا ہمارا انفرادی نہیں، بلکہ قومی وطیرہ بن گیا ہے۔ فرد سے لے کر خاندان تک اور خاندان سے لے کر معاشرے تک اور پھر معاشرے سے لے کر ایوان اقتدار تک یہی بے حسی دیکھنے میں آتی ہے۔ پاکستانی معاشرے میں آج بھی سکول کی عمر تک پہنچنے والے بچوں کی 35-40فی صد تعداد سکول کا منہ دیکھنے کی روادار نہیں ہے۔ اگر بچوں کے والدین سے پوچھا جائے، تو وہ اپنی معاشی مجبوریوں کا رونا رو کر چپ ہو جاتے ہیں۔ لیکن قوم کا یہ اثاثہ، جو معاشرے کا ایک فعال حصہ اور کارآمد جز بن سکتا ہے اور معاشرے اور قوم کی ترقی میں مرکزی کردار ادا کرنے کے قابل ہو سکتا ہے، جسے ہم قوم اور معاشرے کا مستقبل بھی کہتے ہیں، بالکل ناکارہ اور بیکار کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے۔

حکومتی سطح پر بھی تعلیمی شعبہ سے متعلق کوئی خیر کی خبر نہیں آتی۔ بجٹ کا تین فیصد حصہ اس شعبے کے لیے مختص کیا جاتا ہے، یعنی اونٹ کے منہ میں زیرے والی بات۔ یہ تو محاورہ ہے، لیکن دیکھا جائے، تو اس محاورے کی سچائی بھی مخدوش ہوتی نظر آتی ہے، کیوں کہ یہاں تو زیرے سے بھی کم جسامت اور حجم کی کوئی شے اونٹ کے منہ میں دی جاتی ہے اور پھر اس میں سے بھی بہت سے غیر ضروری اخراجات نکل آتے ہیں، جن کا پیٹ بھرنا بھی اشد ضروری ہوتا ہے۔ اساتذہ کی تنخواہیں، اب جاکر قدرے معقول ہوئی ہیں کہ اس میں بھی سابقہ حکومت کا بہت بڑا کردار ہے، ہر چند کہ اس اضافے پر بھی اُس وقت کی اپوزیشن نے واویلا کیا تھا۔ اب بھی ابتدائی تعلیم کے مدرسوں میں تعینات اساتذہ کی کسمپرسی دیکھنے کے لائق ہے۔

گزشتہ دنوں قومی اسمبلی اور سینٹ کے ممبران کی تنخواہوں میں بے پناہ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ یقیناًیہ’ غریب‘ لوگ ہیں، انہیں بھی اپنے بچوں اور خاندان کا پیٹ پالنا ہے،۔ آخر یہ سب لوگ صرف تنخواہ پر ہی تو گزارا کرتے ہیں۔ امیر عوام سے ووٹ لے کر اسمبلیوں میں آ بیٹھنے کے بجائے عوام کے درپر صبح شام حاضری دیتے ہیں، ان سے مسائل کا پوچھتے ہیں، پھر ان کے حل کے لیے اسمبلیوں کے دروازے پر دستک دیتے ہیں اور پھر تمام ثمرات ایک ایک کرکے عوام کی جھولی میں ڈال دیتے ہیں۔ عوام سے کیے ہوئے وعدے طاق پر نہیں سجاتے، بلکہ انہیں پورا کرنے میں وقار اور عزت محسوس کرتے ہیں ۔ جب ایسا ہے، تو کیوں نہ ان غریب نمایندوں کی روزی روٹی کا اہتمام کیا جائے، کیوں نہ حکومت عوام کے غمگساروں کی اشک شوئی کرے اور کیوں نہ عوام کے ان ہمدرد لوگوں کی پانچوں اُنگلیاں گھی میں ہوں۔ حیرت کی بات ہے کہ جہاں ’نوازشات‘کی ضرورت ہے وہاں انعامات واکرامات کی بارش نہیں ہوتی اور جہاں پہلے سے کھیت ہرے بھرے ہیں، وہاں جل تھل ہو رہا ہے۔ واہ ری قدرت تیرے بھی اپنے ضابطے ہیں اور تیرے بھی اپنے کھیل ہیں، تو اگر غریب کو غریب نہ رکھے، تو حکمران طبقہ کس پر حکمرانی کرے، حکمران پر تو حکمرانی نہیں کی جاسکتی ناں!

پاکستان کو معرضِ وجود میں آئے کوئی 69 ہونے کو آئے ہیں،۔کیا زمانہ تھا، جب قائداعظم کی ایک آواز پر مسلمانوں کا ہجوم ایک قوم میں ڈھل کر سامنے آیا تھا اور پھر یہی قوم اپنے مقصد کے حصول کے لیے یک جان دو قالب ہو گئی تھی۔ 1940ء میں قراردادِ پاکستان منظور ہوئی اور اگست 1947ء میں، یعنی کل سات برسوں میں دنیا کے نقشہ پر ایک نیا ملک پاکستان کے نام سے طلوع ہو چکا تھا۔ جب مقصد میں سچائی اور کردار میں یکتائی ہو، تو اسی طرح کے معجزے رونما ہوتے ہیں، پھر اسی قوم کو تقریباً 24 برسوں میں ہم نے پھرسے ہجوم میں تبدیل ہوتے دیکھا۔ یہ وہ زمانہ تھا، جب پاکستان کا خواب دیکھنے والے اور اس خواب کو تعبیر دینے والوں دونوں رہنما راہی ملک عدم ہو چکے تھے اور ان کے بچوں سے نہ یہ ملک سنبھالا گیا، نہ یہ قوم اور 1971ء میں ہم نے وہ کام کر دکھایا، جس سے ہمارا ہمسایہ کانوں تک خوش نظر آیا۔ پھر کیا تھا وہ دن اورآج کا دن یہ قوم ایسی ہجوم میں تبدیل ہوئی کہ پھر قوم نہ بن سکی اور نہ اسے کوئی ڈھنگ کا لیڈر میسر آسکا اور اگر آیا بھی تو اسے دار پر لٹکا دیا گیا۔ یہ ایک لمبی کہانی ہے، پھر کبھی سہی۔ابھی تو ہجوم اور قوم اور پھر قوم سے ہجوم تک آئے ہیں ، یہ طویل اور اذیت ناک سفر ہے،دیکھنا یہ ہے کہ اب یہ ہجوم کس طرف جاتا ہے؟

معاشروں کا بکھراؤ زندگی کو ہر سطح پر متاثر کرتا ہے، اگر کسی کو متاثر نہیں کرپاتا تو وہ ہمارا حکمران طبقہ ہے، کیوں کہ وہ پاکستانی روایات کو خوب سمجھتا ہے اور پاکستانی عوام کو بہلانے پھسلانے کے ہزار طریقے جانتا ہے۔ کبھی پڑھا لکھا پنجاب کا نعرہ لگایا جاتا ہے اور کبھی پڑھو پنجاب، بڑھو پنجاب کا خواب دکھایا جاتا ہے۔ خواب دیکھنا اور دکھانا اچھی بات ہے، لیکن تب، جب اس کی تعبیر بھی ممکن ہو۔ مگر تعبیر کی فکر کرنے والے منوں مٹی کے نیچے آرام فرما ہیں۔ اب تو خواب دکھانے والے سبزباغ دکھاتے ہیں اور منوں دولت گٹھڑیوں میں باندھ کر باہر کے ملکوں میں لے جاتے ہیں اور پھر قوم کے پوچھنے پر عجیب ڈھٹائی کے ساتھ مسکراتے اور منہ بناتے دیکھے جاتے ہیں۔

بجٹ کی آمد آمد ہے، غیر ترقیاتی کاموں پر اربوں روپوں کا تصرف دکھایا جائے گا، اسمبلی ممبران کی جیبوں کا خیال رکھا جائے گا، اورنج ٹرینوں کا گیت گایا جائے گا، زندگی کے تمام غیرفعال اداروں، یعنی سفید ہاتھیوں کو پالنے کے منصوبے بنائے جائیں گے اور ان کی تکمیل و تعمیر کا اعلان کیا جائے گا۔ لیکن تعلیم کے لیے ہر ممکنہ حد تک کم سے کم رقم مختص کی جائے گی، کیوں کہ تعلیم انسان کو تہذیب سکھاتی ہے اور تہذیب بکھرے ہوئے انسانوں کو ایک مرکز پر لاتی اور ہجوم کو قوم میں تبدیل کرتی ہے۔ ہم یہ کام کسی قیمت پر نہیں کرنا چاہتے، کیوں کہ ایک مضبوط قوم کسی بھی وقت حکمرانوں کا محاسبہ کر سکتی ہے!