اسرائیلی پروپیگنڈا مہم میں تیزی
مشرق وسطیٰ میں پڑوسی ملک شام میں خانہ جنگی اور دوسری جانب اردن و لبنان میں مہاجرین کے بحران کی وجہ سے ممکنہ شورش کے آثار سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اسرائیل اپنی سرحدوں کو مزید پھیلانے کا منصوبہ رکھتا ہے۔ اس پر عملدرآمد سے پہلے اس منصوبے کے خلاف اٹھنے والی ممکنہ آوازوں کو دبانے کے لیے اُس نے یورپی یونین کے رکن ملکوں میں کئی ’لابی گروپ‘ قائم کئے ہیں، جنہوں نے اپنا کام شروع کر دیا ہے ۔
اسرائیل کے وزیر انصاف ایلات شکید Ayelet Shaked اور وزیر دفاع اویگدور لیبرمان Avigdor Lieberman ے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل اگلے سال کے وسط تک ’ دریائے اردن کے مغربی کنارے‘ کے ساٹھ فیصد علاقے کو اسرائیل میں ضم کرکے اُسے باقاعدہ طور سے اپنا حصہ بنا لے گا ۔ یہ مقبوضہ علاقہ فلسطینیوں کا ہے اور اسرائیل اس پر قابض تو ہے لیکن اقوام متحدہ کی قرادادوں اور اوسلو معاہدے کے تحت اسے یہ علاقہ ہر حال میں فسطینیوں کو واپس کرنا ہے۔
اس علاقے کو مستقل طور پر اسرائیل کا حصہ بنائے جانے کی تائید کرتے ہوئے بیشتر اسرائیلی وزیروں نے بھی مکمل حمایت کا اظہار کیا ہے۔ اِس منصوبے کو جلد از جلد مکمل کرنے پر زور دیا جا رہا ہے ۔ اسرائیل کو پختہ یقین ہے کہ مشرق وسطیٰ کی موجودہ شورشیں اور خانہ جنگیاں اسے موقع فراہم کرتی ہیں کہ وہ اپنی سرحدوں کو وسعت دے سکتا ہے ۔ وہ بھی جانتا ہے کہ ایسا کرتے ہوئے اُسے اپنے دوستوں کو اعتماد میں لینا ہے اور ان اقدامات کے خلاف کسی بھی ممکنہ سیاسی تادیبی کارروائی اور تنقید و مذمت سے بچنے کے لیے بھی اقدامات کی ضرورت ہوگی۔ اس کے علاوہ اسرائیل کو اپنی مصنوعات کو یورپی منڈیوں میں کھپانے کا مسئلہ بھی درپیش ہے۔ مقبوضہ (فلسطینی)علاقوں میں پیدا ہونے والی اشیاء کو اسرائیلی اشیاء کے ’ لیبل‘ لگا کر عالمی منڈیوں میں فروخت کرنے میں بھی شدید دشواریوں کا سامنا ہے ۔ اسرائیل اِن دشواریوں اور مستقبل قریب میں اپنے خلاف کسی بھی ممکنہ تحریک کو اٹھنے سے پہلے ہی دبا دینا چاہتا ہے ۔
فی الوقت اسرائیل اپنی ساری توجہ یورپی یونین پر مرکوزکئے ہوئے ہے ۔ اسرائیلی ’لابی گروپس‘ برسلز میں یورپی یونین کے کمشنروں، یورپی پارلیمنٹ کے ارکان اور یورپی یونین کے ’ہیڈکوارٹرز‘ سے متعلقہ اعلیٰ عہدیداروں سے مسلسل رابطے میں رہتے ہیں۔ اور اسرائیلی مفادات کو فروغ دینے اور اسرائیل پر کی جانے والی کسی بھی تنقید کو دبانے کے لیے کوشاں ہیں ۔ اسرائیل کی پروپیگنڈا مہم پر نگاہ رکھنے والی ایک ’تحقیاتی‘ تنظیم کی جاری کردہ ایک حالیہ رپورٹ میں بتایا کیا گیا ہے کہ پچھلے پندرہ سال کے دوران، یورپ میں اسرائیلی پروپیگنڈا کرنے والے گروپوں کی تعداد دو گنا ہو چکی ہے۔ اگرچہ ان گروپوں کی اصل تعداد کے بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا لیکن یہ تعداد 180 کے لگ بھگ ہے۔ اسی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ یہ گروپوں اسرائیل سے متعلق یورپی یونین کے 75 فیصد قوانین و ضوابط پر اثر انداز ہوئے ۔
اِن لابی گروپوں کو حالیہ برسوں میں اسرائیل کے لیے حمایت میں بڑی کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔ ان گروپوں نے بعض یورپی ملکوں کے اسرائیل بارے سخت رویے کو نرم کرنے میں بھی کامیابی حاصل کر لی ہے۔ یہ ملک پہلے اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں روا رکھے گئے ظلم و ستم پر بھرپور آواز اٹھاتے تھے اور فلسطینی علاقوں کو اسرائیل میں ضم کرنے کی کوششوں پر صدائے احتجاج بلند کرتے تھے۔ اب یہ ملک دبے الفاظ میں ’ دھول تو جھاڑتے ہیں لیکن اکثر و بیشتر خاموش ہی رہتے ہیں۔‘
یورپی یونین کے ممالک میں اسرائیلی مصنوعات کے بائیکاٹ کے لیے عوامی تحاریک کے نتیجے میں یہ پالیسی اپنائی گئی تھی کہ ’ اسرائیل اپنے اور فلسطینی خود مختار علاقے میں تیار کردہ سامان، پھلوں اور دیگر برآمدی تجارتی اشیا کو الگ الگ رکھے اور ان پر ’میڈ ان اسرائیل ‘ اور ’ پروڈیکٹ آف فلسطین‘ کے الگ الگ ’لیبل‘ لگائے ۔ لیکن اس پالیسی پر ابھی تک مکمل عملدرآمد نہیں کیا گیا۔ یورپی یونین کے بیشتر ممالک اسرائیل کے اِس تجارتی کاروباری بے آمانی کو نظر انداز کرتے ہوئے فلسطی علاقوں میں پیدا کردہ مال کو اسرائیل مال کے طور پر درآمد کر رہے ہیں۔ یہ سب کچھ اسرائیلی لابی گروپوں کے پروپیگنڈے کا اثر ہے۔
یورپی یونین کے مرکز برسلز اور برلن، پیرس، کوپن ہیگن ، لندن اور ہیگ کے علاوہ امریکہ کے کئی بڑے شہروں میں اسرائیلی لابی اور اسرائیلی حکوت کے براہ راست زیر اثر متعدد گروپس ’اسلاموفوبیا‘ کی تحریکوں کے ذریعے مسلمان مخالف افواہیں پھیلانے، اسلام کو یورپی و امریکی ثقافت و اقدار کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دینے اور لوگوں میں مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے اور اُنہیں خوف میں مبتلا کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں ۔ ان لابی گروپوں کے اخراجات پورے کرنے کے لیے مقبوضہ علاقوں میں آباد کیے گئے یورپی و امریکی یہودی باقاعدہ فنڈ مہیا کرتے ہیں ۔ اسرائیل کے حمایتی یہ گروپس ہر وقت مسلمانوں کے متعلق متعصابہ پروپیگنڈا کرنے، اسلام کے بارے میں غلط معلومات پھیلانے اور ہر موقع پر اسرائیل کا دفاع کرنے میں مصروف عمل ہیں۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے مختلف فرضی اسلامی ناموں سے پروپیگنڈا ’ویب سائٹس ‘ بھی بنا رکھی ہیں ۔
اسرائیل کی مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں فلسطینی عوام کے خلاف متعصابہ استعماری اپارتھائیڈ پالیسیوں کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ انتہائی دائیں بازو کے صیہونیت پرست اویگدور لیبرمان Avigdor Libermann کو ملک کا نیا وزیر دفاع مقرر کر دیا گیا ہے ۔ یہ وہی شخص ہے جس کی بطور وزیر دفاع تقرری پر تبصرہ کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم ایہود باراک نے کہا ہے کہ ’ اسرائیل میں فاشسزم کے بیج بو دیے گئے ہیں۔‘
عالمی اقتصادی بحران کے تناظر میں اسرائیل کو بھی قومی اقتصادی گراف گرنے کا سامنا ہے ۔ اور اس سے نکلنے اور یورپی اور امریکی مالی امداد میں اصافے کے لیے، اُس کے لابی گروپ بڑی تیزی سے کام کر رہے ہیں ۔ متحدہ عرب امارات سے اسرائیل کے غیر سرکاری تعلقات اور ان عرب ریاستوں میں مختلف تعمیراتی و پیداواری اور ثقافتی شعبوں میں خاموشی اور رازداری سے وہ اپنے تجارتی مفادات حاصل کرنے میں آگے بڑھ رہا ہے۔ حال ہی میں سعودی عرب جیسے بڑے اسلامی ملک اور اسرائیل کے درمیان سفارتی تعلقات کے آغاز کے لیے ہونے والے مذاکرات اور اسرائیلی عہدیداروں کا دورہء ریاض بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔
یورپ میں اسرائیلی مصنوعات کے بائیکاٹ کی عوامی تحریکیں زورپکڑتی جا رہی تھیں اور اسرائیل میں یورپی سرمایہ کاری کو ختم کرنے پابندیاں لگانے کا مطالبہ بڑی شدت سے کیا جاتا تھا۔ اسے ختم کرانے کے لیے اسرائیلی لابی گروپوں کی پروپیگنڈا مہم اپنا اثر دکھا رہی ہے ۔ جولائی 2014 میں غزہ پر اسرائیلی حملے اور فلسطینیوں کی املاک و گھروں، سکولوں اور ہسپتالوں وغیرہ کو تباہ و برباد کر دیا گیا تھا لیکن اس کے باوجود نہ تو کہیں صدائے احتجاج بلند ہوئی اور نہ ہی کہیں عرب دنیا میں اس پر کسی قسم کے رد عمل کا اظہار کیا گیا۔ اسرائیل میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے حوالے سے ابھی حال ہی میں جاری کی گئی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2014سے اب تک اسرائیل میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں پچاس فیصد اضافہ ہوا ہے ۔ امریکہ ، ڈنمارک ، فرانس اور جرمنی سرمایہ کاری کرنے والے ملکوں میں نمایاں میں ۔ ان ملکوں کا مہیا کردہ سرمایہ زیادہ تر فلسطینی علاقوں میں پہلے سے موجود یہودیوں بستیوں کی تجدید نو اور نئی بستیاں بسانے پر صرف کیا جا رہا ہے ۔
اگرچہ اسرائیل کو ’ٹورسٹ انڈسٹری‘ میں شدید خسارے کا سامنا رہا ہے اور بیشتر ہوٹل سیاحت کے مہینوں میں خالی پڑے رہتے تھے لیکن اب اسرائیلی پروپیگنڈہ گروپوں کی وجہ سے یہ صورت حال کچھ حد تک بدل چکی ہے ۔ ان تمام باتوں کے باوجود اسرائیل کی اپنی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیل کے خلاف بندشوں اور اسرائیلی مصنوعات کے بائیکاٹ کی تحاریک کی وجہ سے اسرائیل کو ایک عشاریہ چار بلین ڈالر سالانہ خسارے کا سامنا ہو سکتا ہے۔ ایک امریکی ’تھنک ٹینک‘ کے مطابق خسارے کا یہ تخمینہ اگلے دس سال میں 43 بلین ڈالر تک پہنچ سکتا ہے ۔ اس متوقع مالی خسارے کے باوجود اسرائیل اس خسارے کی اصل وجہ کو دور کرنے اور فلسطینیوں کے حقوق اور ان کے لیے ایک مکمل آزاد و خود مختار ریاست کے وجود کو تسلیم کرنے سے انکار کرتا ہے۔
فلسطینی پیداواری ذرائع پر قبضہ جمانے اور فلسطینی مال کو اسرائیلی مال ظاہر کر کے یورپی منڈیوں میں فروخت کرنے اور پیسے کمانے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ یورپ میں اپنے خلاف عوامی تحریکوں کو زائل کرنے کے لیے لابی گروپوں کی سرپرستی کر رہا ہے ۔ یہ لابی گروپ طرح طرح کے مفروضوں، جھوٹی معلومات اور افواہوں کے ذریعے یورپی یونین کے کمشنروں، یورپی پارلیمنٹ کے ارکان اور پالیسی ساز اداروں کو متاثر کرنے اور اسرائیل کے حق میں فلسطین مخالف حمایت حاصل کرنے میں مصروف ہیں ۔ شائد وہ یہ بات بھول چکے ہیں کہ اسی طرح کی کاوشیں ’اپاتھائیڈ جنوبی افریقہ‘ بھی کیا کرتا تھا۔ آخرکار 1980 میں جنوبی افریقہ میں ’آ پیاتھائیڈ‘ کو شکست ہوئی۔ اسرائیل میں ایسا ہو گا یا نہیں یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔
(نصر ملک کوپن ہیگن سے شائع ہونے والے انٹرنیٹ اخبار www.urduhamasr.dk کے ایڈیٹر ہیں)