میں کس کی طرف ہوں!

میرے گزشتہ کالم ’’پاکستان پھوپھو پارٹی‘‘ (پی پی پی) نے سوشل میڈیا کے اکٹیوسٹس Activists کے ہاں خوب رونق لگائے رکھی۔ پیپلزپارٹی کے وہ کارکن جنہوں نے دہائیوں پی پی پی کا پرچم سربلند رکھتے ہوئے جدوجہد کے دوران عقوبت خانوں، جیلوں اور مقدمات کا سامنا کیا، انہوں نے اس کالم کو بہت سراہا بلکہ متعدد نے کہا کہ ابھی تشنگی رہ گئی، بہتر ہے کہ آپ اس پر کتاب لکھیں۔ کتاب یقیناً میرے  ایجنڈے میں شامل ہے اور وقت آنے پر پی پی پی کی جدوجہد اور اس پارٹی کو اس انجام تک پہنچانے کی داستان رقم کروں گا۔

اس کالم میں اس ذکر پر کہ کیسے آصف علی زرداری کا خاندان پارٹی کا ’’مالک‘‘ بن بیٹھا ہے، جس میں آصف علی زرداری کی ہمشیرہ فریال تالپور کو پارٹی پر عملی اختیارات کا حتمی مالک بنایا ہوا ہے، اسے پارٹی کے لیے جدوجہد کرنے والوں، پارٹی کے نظریاتی، پرانے اور ذوالفقار علی بھٹو شہید کے مداحوں نے بہت سراہا کہ کیسے اس خاندان نے پارٹی کو عوام، نظریات، فلسفے، اصول، ایماندار، بھٹو خاندان اور پارٹی کے نظریاتی کارکنوں سے کاٹ کر رکھ دیا ہے۔ یہ کہ وہ پارٹی جو ایمانداری، نظریات، وفاقیت، جدوجہد اور کمٹمنٹ کی پہچان رکھتی تھی، کیسے لوٹ مار کرنے والوں کے قبضے میں چلی گئی جس پر پاکستان کے سیاسی و صحافتی حلقے بھی تشویش کا شکار ہیں۔ کہ یہی وہ واحد پارٹی تھی جو سیاسی حوالے سے پاکستانی وفاق کو ایک لڑی میں پروئے ہوئی تھی اور اب یہ حال ہے کہ لوٹ مار اور موقع پرستی نے اس کا یہ کردار بھی ختم کر دیا ہے۔

یقیناً یہ موضوع کسی ایک کالم میں مکمل طور پر سمیٹا نہیں جا سکتا لیکن گزشتہ کالم ’’پاکستان پھوپھو پارٹی‘‘ میں اس موضوع کو چھیڑا تو تعریف اور تنقید پر مبنی جملے سوشل میڈیا کی زینت بنے۔ تنقید کرنے والوں کا موقف موضوع پر تنقید کی بجائے راقم کی ذات تھی جس میں الزام تراشی اور کردارکشی کے سوا کچھ بھی نہ تھا۔ اِن میں سے چند ایک کو میں ذاتی طور پر جانتا ہوں کہ کیسے انہوں نے ’’پاکستان پھوپھو پارٹی‘‘ میں اپنی جیبیں بھریں اور ان سیاسی کارکنوں کا سیاسی قتل کیا، جو قتل گاہوں میں آمرانہ ادوار میں لڑتے لڑتے اپنی زندگی کے پرائم ٹائم کو قربان کر گئے۔

میرے اس کالم پر یہ ردِعمل یا سوال بھی سامنے آیا کہ ’’میں کس کی طرف ہوں‘‘ یہ سوال اس لیے اٹھا کہ میں جب کبھی کوئی کالم مین سٹریم کی کسی بڑی سیاسی جماعت پر لکھتا ہوں تو  متذکرہ سیاسی جماعت کا تجزیہ کرنا مطلوب ہوتا ہے، اس میں اس جماعت کی پالیسیوں کی تعریف بھی ممکن ہے اور تنقید بھی۔ اگر پی ٹی آئی پر تنقید کر دی تو پی ٹی آئی کے فاشسٹ مزاج نوجوان ٹوٹ پڑتے ہیں، اگر کسی کالم میں پی ٹی آئی کی کسی پالیسی کی تعریف کر دی تو مسلم لیگ (ن) والے الزام تراشی پر اُتر آتے ہیں اور ایسے ہی کسی ایک دوسری جماعت پر تجزیہ کرتے ہوئے ردِعمل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

میرے نزدیک یہ اہم نہیں کہ میں کسی جماعت کا تجزیہ کرتے ہوئے اس کا طرف دار یا تنقید نگار بنوں، میرے لیے اہم یہ ہے کہ جو میں دیکھ رہا ہوں اس کو اپنے تجزیے میں کیسے لاؤں۔ ہمارے یہاں کالم نگار چوں کہ سیاسی دھڑوں میں بٹ چکے ہیں، اس لیے قارئین ان کو اسی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ہمارے ہاں کالم نگاری ابھی اس نہج پر نہیں پہنچی جو دنیا کی جدید صحافت میں کی جارہی ہے۔ ہمارے اکثر کالم نگار مالی اور اقتدار کے مفادات کی بنیاد پر مختلف سیاسی دھڑے بندیوں کا حصہ ہیں۔ وہ اپنے اپنے دھڑے سے پلاٹ، نقد حتیٰ کہ حکومتی عہدوں سے بھی مستفید ہوتے ہیں ۔ اس لائن میں دوسرے درجے کے وہ کالم نگار بھی شامل ہیں جو اپنی سینئرز کے ’’نقشِ قدم‘ پر چلنے کے خواہاں ہیں کہ کسی طرح وہ بھی کالم نگاری کی بدولت کسی ’’سیاسی دربار‘‘ کا حصہ بن جائیں۔ ایک دوڑ لگی ہوئی ہے درباری مقام پانے کے لیے۔ اسی لیے جب بھی مفادات اُٹھانے والے کالم نگاروں، صحافیوں اور اینکرز کی فہرست شائع ہوتی ہے تو ہم کئی ناموں کو اس میں دیکھ کر حیران ہو جاتے ہیں۔ کئی نئے آنے والوں نے بھی ’’مقام پالیا‘‘ ہے کسی نہ کسی ایک سیاسی دربار میں۔

ہماری ہم عصر سیاسی تاریخ میں متعدد صحافیوں نے صحافت سے سیاست کی طرف بڑی کامیابی سے سفر کیا۔ وہ مختلف سیاسی جماعتوں کی حمایت کے سبب حکومتی اعلیٰ عہدوں کو ہی حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے، بلکہ سیاست کی باگ دوڑ اپنے ہاتھوں میں لے کر سیاسی قیادت میں شریک کار بھی ہوئے ہیں۔ لیکن راقم کا سفر اس سے الٹ ہے۔ ہم نے نوجوانی میں نہیں نہایت کم عمری میں ایک سیاسی اکٹویسٹ Political Activist کے طور پر سیاسی جدوجہد میں قدم رکھا اور ایسا قدم رکھا کہ ہر آنے والے دن کے ساتھ اس میدانِ کار زار کی گہرائیوں میں اترتے چلے گئے۔ اس جدوجہد کی طویل داستان ہے جسے میں یہاں رقم کرنا نہیں چاہتا۔ بس اتنا کہوں گا کہ اس جدوجہد کی کہانی، جیل، عقوبت خانہ، مقدمات اور ریاستی تشدد و جبر کی داستان ہے۔ اس دوران موت نے بھی چند سینٹی میٹر کے فاصلے سے ہمیں چھوا۔ جدوجہد کے دوران راقم کا اور ہزاروں کارکن ساتھیوں کا مطمع نظر اعلیٰ سیاسی یا حکومتی عہدہ، اقتدار، شہرت یا دولت نہ تھا، بلکہ جو اپنے پاس تھا اس کو بھی لٹانے کو ترجیح دی۔ اگر ہم چاہتے تو سیاسی اقتدار اور ان حکومتی عہدوں پر متعدد بار فائز ہوتے جس کا خواب ’’درباری کالم نگار‘‘ اور صحافت کو اقتدار کا آلہ سمجھنے والے کرتے ہیں۔ ہم کسی کے ’’طرف دار‘‘ نہیں تھے، بلکہ ہم خود ’’ اپنی طرف‘‘ تھے۔ ہم خود سیاست تھے، سیاسی جماعت ہمارے حوالے سے پہچانی جاتی تھی۔ ہماری جدوجہد پاکستان کے عوام یعنی محنت کشوں، کسان اور نچلے طبقات کے حقوق کی بحالی سے متعلق تھی۔

اس دوران ہم نے  ریاستی جبر کا سامنا کیا اور اپنی ماضی کی سیاسی جماعت کے اندر جاگیرداروں کے تشدد کا بھی مقابلہ کیا۔ مجھے اس میں کوئی عار نہیں کہ ہم نے ذوالفقار علی بھٹو سے عشق اور پی پی پی کے نظریے سے اپنی کمٹمنٹ پر فخر کیا۔ جو ابھی بھی ہمارے خون میں شامل ہے۔ لیکن مجھے کسی جماعت کا آلہ کار بننا منظور نہیں تھا۔ اسی لیے قلم اور علم کو اپنی جدوجہد کا ہتھیار Instrument بنایا۔ مجھے یہ کہنے میں بھی کوئی عار نہیں کہ سیاسی فکر کے حوالے سے میں ترقی پسند ہوں اور پاکستان کے سیاسی مسائل کا حل سوشلزم اور جمہوریت میں یقین رکھتا ہوں۔ اگر مجھ سے آج کوئی پوچھے کہ آپ ذاتی طور پر کس جماعت کو اپنے سیاسی فکر کے قریب تصور کرتے ہیں تو بھی منافقت کی بجائے کھل کر اپنا مؤقف بیان کردوں گا۔ آج عوامی ورکرز پارٹی، جناب عابد حسن منٹو کی قیادت میں واحد بائیں بازو کی جماعت ہے جواپنے نہایت محدود وسائل کے باوجود ان طبقات کے حقوق کے لیے سرگرم ہے جوپاکستان کی اکثریت ہیں اور جن کے بارے میں ہماری مین سٹریم سیاسی جماعتیں اور پاپولر میڈیا گونگا ہے۔

میں یہاں یہ بھی عرض کرتا چلوں کہ میں سیاست کو مذہبی عقیدے کے طور پر نہیں لیتا کہ اس میں تنقید نہیں کی جا سکتی۔ بحیثیت قلم کار میرا قلم کسی بھی سیاسی دربار میں مقام پانے کی بجائے عوام کے حقوق اور معاملاتِ سیاست کو اپنے تئیں دیکھتے ہوئے تجزیہ کرتا ہے۔ مجھے اس سے کوئی سروکار نہیں کہ میں کس کی طرف ہوں، میرا مطمع نظر بس یہ ہے کہ معاملاتِ سیاست و ریاست کس نہج پر ہیں اور ان کا میں کیسے تجزیہ Analyze کر رہا ہوں۔ اس پر یہ توقع رکھنا کہ میں کسی سیاسی دربار کا حامی یا مخالف بن جاؤں، مجھے بھلا اس سے کیا۔ میں قلم  کا ایک مزدور ہوں، میری زندگی کی تمام راحتیں قلم مزدوری کی مرہونِ منت ہیں۔ میرا اخبار روزنامہ ’’نئی بات‘‘ میرا فخر ہے جو میرے الفاظ کو بغیر کسی ردوبدل کے شائع کرتا ہے۔ میری قلم مزدوری کا معاوضہ مجھے عطا کرتا ہے۔ میں ایک ٹیکس گزار ہوں، اپنی تمام آمدن کا مکمل ٹیکس دیتا ہوں۔ سوائے اللہ تعالیٰ کی ذات کے مجھے کسی دربار سے کوئی لینا دینا نہیں۔ میں اپنے قلم کی طرف ہوں اور میرا قلم پاکستان کے محنت کش عوام، مزدور، کسان اور سرزمین مادرِ وطن کی طرف ہے۔