عظیم باکسر اور انسان ۔۔۔ محمد علی
آج صبح آنکھ کھلی تو اس منحوس خبر کو پڑھ کر آنکھوں میں آنسو بھر آئے کہ دنیا کے عظیم باکسر محمد علی کا انتقال ہوگیا۔ اس کے بعد اس خبر کو برطانیہ کے ٹی وی چینلز پر سرخیوں میں دکھایا جانے لگا، تو یہ بھی بتایا گیا کہ باکسر محمد علی صرف باکسنگ کے لئے ہی نہیں مقبول تھے بلکہ ان کی زندگی ایک تحریک ، احتجاج اور سبق آموز بھی تھی۔ ہر نسل کے لوگوں نے یہ اعتراف کیا ہے۔ محمد علی کی زندگی پر عام و خاص لوگ اپنی رائے دے رہے ہیں تو وہیں ان کی باکسنگ کے ہنر کی تعریف بھی کر رہے ہیں۔ آج ہم اس عظیم باکسر محمد علی کی زندگی پر روشنی ڈالتے ہیں اور اس عظیم انسان کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں۔
باکسر محمد علی کو جمعرات 2 جون کو ان کی حالت بگڑ جانے کی وجہ سے اریزونا کے ایک ہسپتال میں داخل کیا گیا۔ اس وقت محمد علی کو سانس لینے میں دشورای ہورہی تھی اس کے علاوہ بھی پیچیدگی تھی جس کی ایک وجہ پارکنسن بیماری تھی۔ ان کے گھر والوں نے اس بات کی اطلاع دی ہے کہ محمد علی کی تدفین ان کے آبائی شہر (Louisville)لوی ول جو کہ (Kentucky) کینٹکی میں واقع ہے کی جائیگی۔ محمد علی کاپیدائشی نام (Cassius Marcellus Clay)کاسیس مارسیلس کلے تھا اور ان کی پیدائش امریکہ کے (Louisville)
لوی ول شہر میں 17 جنوری 1942 میں ایک عیسائی خاندان میں ہوئی تھی ۔ کہتے ہیں کہ محمد علی جب بارہ برس کے تھے تو کسی نے ان کی سائیکل چرا لی تھی۔ اس کے بعد محمد علی بہت مایوس ہوئے اور انہوں نے پولیس آفیسر کو کہا کہ میں اس مجرم کو سبق سکھاؤنگا۔ آفیسر جو مارٹن نے محمد علی سے کہا کہ اگر تم اس مجرم کو سبق سکھانا چاہتے ہو تو مقامی جِم میں لڑنے کا طریقہ سیکھنے کے لئے آؤ تبھی تم اپنے مقصد میں کامیاب ہوگے۔ محمد علی جن کا اس وقت نام کلے تھا آفیسر مارٹن کی بات سے متاثر ہوئے اور انہوں نے مقامی جِم جانا شروع کر دیا۔ آفیسر جو مارٹن کا کہنا تھا کہ محمد علی دیگر بچوں کے مقابلے میں چاک و چوبند اور محنتی تھے۔
محمد علی نے اپنے پروفیشنل باکسنگ کیرئیر کا آغاز 1960میں کیا تھا اور انہوں نے 1960کے روم اولمپکس میں لائٹ ہیوی ویٹ میں گولڈ میڈل جیت کر باکسنگ کی دنیا میں اپنے نام کی پہچان بنائی تھی۔ یہاں یہ بات بھی دلچسپ ہے کہ جب کلے کا روم اولمپکس جانے کے لئے انتخاب ہوا تو انہوں نے جہاز پر سفر کرنے کے خوف سے روم جانے سے انکار کر دیا تھا۔ پھر وہ اس شرط پر جہاز پر سفر کرنے پر آمادہ ہوئے کہ انہیں ایک پیرا شوٹ پہننے کی اجازت دے دی جائے ۔ روم اولمپکس میں کلے گولڈ میڈل جیت کر جب امریکہ واپس آئے تو ان کا والہانہ استقبال کیا گیا۔ اس دوران جب وہ کینٹکی کے ایک ریسٹورنٹ میں کھانا کھانے گئے تو ان کے سیاہ امریکی ہونے کی وجہ سے انہیں ریسٹورنٹ میں کھانا کھانے کی اجازت نہیں دی گئی۔اس واقعہ سے کلے اتنا دل بر داشتہ ہوئے کے انہوں نے اولمپکس گولڈ میڈل کو احتجاج کے طور پر دریا میں پھینک دیا۔
اس کے بعد 1964 سے 1967 کے درمیان محمد علی ہیوی ویٹ چمپئن رہے۔22 سال کی عمر میں محمد علی نے اپنا سب سے پہلا ہیوی ویٹ خطاب جیت کر دنیا کو حیرانی میں ڈال دیا تھا۔ اس وقت محمد علی نے پیشین گوئی کی تھی کہ وہ سونی لسٹن کو ہرائیں گے جو کہ کبھی نہیں ہارا تھا۔ اس مقابلے میں محمد علی نے شاندار باکسنگ کا مظاہرہ کیا اور انہوں نے پہلے منٹ اور پہلے راونڈ میں سونی لسٹن کو ڈھیر کر دیا تھا ۔ جو کہ اب تک باکسنگ کے تاریخ کا ایک عمدہ اور بہترین مقابلہ مانا جاتا ہے۔
جس وقت محمد علی نے سونی لسٹن سے مقابلہ کیا تھا اس وقت ان کانام کلے تھا اور وہ اس نام سے ہی جانے جاتے تھے۔ لیکن کلے ان ہی دنوں ’ نیشن آف اسلام ‘سے متاثر بھی تھے۔ محمد علی نے نیشن آف اسلام گروپ سے متاثر ہو کر ہی اسلام قبول کیا تھا جس کے زیادہ تر ممبر امریکی افریقی مسلمان ہیں۔ نیشن آف اسلام تحریک کا مقصد افریقی امریکن کی روحانی، ذہنی، سماجی اور معاشی حالت کو سدھارنا تھا جس سے کلے کافی متاثر ہوئے ۔ کہتے ہیں کہ محمد علی نے اپنے پیدائشی نام کلے کو ایک’ غلامی‘ کا نام قرار دیا تھا اس لئے جب لوگ انہیں کلے کہہ کر پکارتے تو وہ اس سے ناراض بھی ہوتے تھے۔ ایسا ہی ایک واقعہ باکسنگ رنگ کے اندر دیکھا گیا جب محمد علی نے باکسر ارنی ٹیریل کو گرا دیا اور وہ چیخ چیخ کر ارنی ٹیریل سے کہہ رہے تھے ’بتا بیوقوف میرا نام کیا ہے، کیا ہے میرا نام‘ ۔ یہ بات محمد علی نے اس لئے کی تھی کیوں کہ ارنی ٹیریل نے انہیں محمد علی پکارنے سے انکار کر دیا تھا۔
محمد علی کے بارے میں معروف پروموٹر ڈون کنگ جنہوں نے محمد علی کے زیادہ تر باکسنگ کو پروموٹ کیا تھا کا کہنا ہے کہ محمد علی میرے دوست تھے اور کبھی نہیں مر سکتے ۔ معروف باکسرجور ج فورمین جنہوں نے محمد علی سے مقابلہ کیا تھا ان کا کہنا ہے کہ محمد علی ایک عظیم انسان تھے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ میں نے اب تک اتنا اچھا انسان اپنی زندگی میں نہیں پایا ہے۔ معروف باکسر فلویڈ مے ویدر نے کہا کہ اب کوئی دوسرا محمد علی پیدا نہیں ہوگا۔ محمد علی دنیا کے تمام سیاہ لوگوں کی آواز تھے ان کی آواز اور باکسنگ کا نتیجہ ہے کہ آج میں اس مقام پر ہوں۔ محمد علی کی زندگی متنا زعہ فیہ بھی رہی ہے۔ جن میں ایک اہم واقعہ یہ تھا جب محمد علی نے امریکی آرمڈ فورس کی طرف سے ویتنام میں لڑنے سے انکار کر دیا تھا۔ اس کی بنا پر انہیں پانچ سال کی جیل کی سزا سنا ئی گئی تھی۔ امریکیوں نے محمد علی کی اس بات کے خلاف احتجاج بھی کیا تھا۔ جس کی وجہ سے 1967میں ان سے ہیوی ویٹ ٹائٹل واپس لے لیا گیا تھا اور ان کا باکسنگ لائسنس منسوخ کر دیا گیا تھا۔ لیکن محمد علی نے اپنے اس قدم کو کبھی غلط نہیں مانا اور کہا کہ میں انسانیت کے ناطے اس حکم کی خلاف ورزی کر تا ہوں ۔ لیکن 1971میں محمد علی پر سے یہ پابندی ہٹا لی گئی اور انہوں نے ایک بار پھر اپنی شاندار کارگردگی سے دنیا کے دل جیت لئے۔
محمد علی کو (The Greatest)دی گریٹیسٹ کے نام سے بھی بلایا جاتاہے۔ محمد علی نے 1964میں سونی لسٹن کو ہرا کر دنیا کا پہلا ہیوی ویٹ باکسر کا خطاب جیتا تھا۔ اس کے علاوہ محمد علی دنیا کے پہلے ہیوی ویٹ باکسر تھے جنہوں نے اپنی کیرئیر میں تین بار ہیوی ویٹ باکسنگ کا اعزعز حاصل کیا۔ انہوں نے 61 میچوں میں 56 میں کامیابی حاصل کی۔ ان میں 37ناک آؤٹ تھے۔ 1981 میں محمد علی نے باکسنگ سے ریٹائیرمنٹ لے لی۔ محمد علی کے کیرئیر کا خاتمہ دو ہار پر ہؤا۔ 1980میں انہیں ایک طرفہ مقابلے میں لیری ہومس سے شکست کھانی پڑی اور 1981میں ٹریور بربِک سے بھی انہیں شکست ہوئی تھی۔ زیادہ تر لوگوں کا محمد علی کی اس ہار کے بارے میں کہنا ہے کہ محمد علی کو بہت پہلے باکسنگ سے ریٹائرمنٹ لے لینی چاہئے تھی ۔
محمد علی جیسے ہی باکسنگ سے ریٹائر ہوئے ان کے صحت کے متعلق افواہیں گرم ہو گئی تھیں۔ تاہم بعد میں اس بات کا انکشاف ہوا کہ عظیم باکسر محمدعلی کو پارکنسن کی بیماری ہوگئی ہے۔ اس کے بعد محمد علی متعدد بار ٹیلی ویژن پر دکھائی دئیے جس میں انہیں گفتگو کرتے ہوئے مشکل پیش آتی تھی۔ ان کے ہاتھ کانپتے تھے اور وہ اکثر غنودگی کی حالت میں ہوتے تھے۔
سایک بار محمد علی نے کہا تھا کہ مجھے یوں یاد رکھا جائے: “ محمد علی نے تین بار ہیوی ویٹ ٹائٹل جیتا تھا۔ ایک ہنس مکھ اور ہر کسی کو برابر مانتے تھے۔ ایک اچھے انسان ہونے کے ناطے وہ ہر کسی کی عزت کرتے تھے اور اس کے عقائد کے حق میں بولتے تھے۔ جس نے ہمیشہ تمام لوگوں کے درمیان یقین اور محبت کے ساتھ ہم آہنگی کی کوشش کی۔ ااگر یہ تمام چیزیں بہت زیادہ ہوں تو مجھے صرف ایک عظیم باکسر اور ایک لیڈر اور لوگوں کے چیمپئن کے طور پر یاد رکھیں “۔ انہوں نے مزاحیہ طور پر یہ اضافہ بھی کیا تھا کہ میں اس بات پر برا نہیں مانوں گا اگر لوگ یہ بھول جائیں کہ میں کتنا خوبصورت تھا۔
محمد علی بلا شبہ ایک عظیم باکسر اور انسان تھے جس سے کسی کو انکار نہیں ہے۔ انہوں نے کہا تھا (I am the Greatest)میں عظیم ترین ہوں اور کون محمد علی کی اس بات سے انکار کرسکتا ہے جس نے ایک نہیں تین بار ورلڈ ہیوی ویٹ باکسنگ کا خطاب جیتا تھا۔ محمد علی کی سول رائٹس کی حمایت اور بے باکی نے دنیا کے کڑوروں لوگوں کو ان کا شیدائی بنا دیا تھا۔ محمد علی کو یوں تو کافی ایوارڈ اور اعزازسے نوازا گیا تھا جن میں 2000میں محمد علی کو بی بی سی کے ناظرین نے اسپورٹس پرسنالٹی آف دی سینچری (Sports Personality of the Century)سے نوازا تھا جو کہ ایک بہت بڑا اعزاز تھا۔ اس کے بعد انہیں امریکہ میں اسی طرح کا ایوارڈ (Sports Illustrated in the US)اسپورٹس الاسٹریٹڈ ان دی یو ایس سے بھی نوازا گیا تھا۔
محمد علی کی موت سے ایسا معلوم ہو رہا ہے کہ دنیا سوگوار ہوگئی ہے اور ہو بھی کیوں نہیں۔ اس عظیم باکسر نے دنیا کے اسپورٹس کا چہرہ ہی بدل دیا تھا۔ اسی لئے نسل در نسل اس بات کا اعتراف کرنے پر مجبور ہو گئیں کہ محمد علی نہ کہ صرف ایک عظیم باکسر تھے بلکہ ایک عظیم اور سچے انسان بھی تھے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ محمد علی کی انسان دوستی اور عظیم باکسر ہونے کی وجہ سے سے آج بھی وہ دنیا بھر کے کروڑوں لوگوں کے رول ماڈل ہیں اور ا ن کا نام تا قیامت باقی رہےگا۔