ایوبیہ، پشاور اور اشعر بھائی کی سرپرستی
- تحریر سرور غزالی
- سوموار 06 / جون / 2016
- 6967
مری کا مطلب ہوتا ہے چوٹی۔ اسے اسلام آباد کا بازو ئے دراز بھی کہا جا سکتا ہے۔ صوبہ پنجاب کا یہ علاقہ تحصیل مری کہلاتا ہے۔ جو کہ ضلع راولپنڈی کی سب ڈویژن کا حصہ ہے۔ یہ مرگلہ کی پہاڑیوں کا سلسلہ ہے جو کہ اسلام آباد کے گردواقع ہیں۔ اسلام آبادسے ساٹھ کلو میٹر کے فاصلے پر جنوب میں واقع ہے۔ مری روڈ کے ذریعہ اسے اسلام آباد سے جوڑا گیا ہے۔
برطانوی راج میں مری 1864 تک صوبہ پنجاب کا موسمِ گرما کا دارالحکومت تھا۔ جسے بعد میں شملہ منتقل کر دیا گیا۔ یہ ہمالیہ کے مغربی پہاڑی سلسلے کی وہ کڑی ہے جو نیچے کو اترتی ہے۔ یہاں کا موسم گرمیوں میں نہایت خوشگوار اور سردیوں میں برفباری کے دلآویز مناظر سے بھرپور ہوتا ہے۔ سر ہنری لارنس جو کہ پنجاب کے انتظامی بورڈ کے صدر تھے انہوں نے 1851 مری کی ابتدائی تعمیر میں دلچسپی لی۔ یہاں 1850 میں میونسپلٹی کی بنیاد رکھی گئی تھی۔ شہر مری کی بنیاد 1853میں رکھی گئی۔ اور یہاں مئی 1857میں ایک چرچ تعمیر کیا گیا۔ اور مرکزی شاہراہ مال تعمیر ہوئی ۔ اور چرچ کے بالمقابل تجارتی مرکز قائم ہوا اور یہاں پوسٹ آفس وغیرہ کی بنیاد رکھی گئی۔ 1947 تک اس علاقے میں مقامی لوگوں(غیر یورپی باشندوں) کا داخلہ ممنوع تھا۔1857 میں مقامی قبائل یہاں بھی برطانوی سامراج کے خلاف بغاوت کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔ تاہم برطانیہ سرکار نے اس سرکشی کو دبا دیا۔
لاہور کو ریل کے ساتھ راولپنڈی سے ملانے کی دیر تھی کہ مری کی قسمت چمک اٹھی اور یہ علاقہ پنجاب کے سرکاری ملازمین کی پسندیدہ تفریح گا ہ بن گیا۔ بڑے بڑے محل نما مکانات اور حویلیاں تیار کی گئیں جس میں انگریز سرکاری ملازمین اپنے بیوی بچوں کے ساتھ قیام کر نے لگے۔ اور اسے یورپی تہذیب عطا ہوئی۔ اس کے اطراف کی پہاڑیاں اور کھائیاں برطانوی افواج کے دستوں کو بخوبی عام لوگوں کی نظروں سے اوجھل رکھتیں۔ یہاں کی تفریح گا ہیں ان یورپی سیاحوں کی آماجگاہ بنی رہتیں جو کشمیر جانے کے لئے یہاں سے گزرتے تھے۔ یہ پنجاب سے قریب ترین واقع نہایت عمدہ تفریح گاہ ہے۔
مری میں گورنر پنجاب کی رہائش کشمیر پوائنٹ پر ایک عالیشان عمارت ہے جو کہ انیسویں صدی کے برطانوی فنِ تعمیر کا نمونہ ہے۔ یہاں پنجاب اور سندھ ہاوس ہیں، سپریم اور لاہور ہائی کورٹ کے جج صاحبان کی رہائشیں ہیں، ریسٹ ہاؤس ہیں، سرکاری اور نیم سرکاری دفاتر اور سفارت خانوں کے ذیلی دفاتر بھی موجود ہیں۔ یہاں آئے ہوئے مہمان یہاں سے خشک میوے اور پھل سوغات کے طور پر اپنے ہمراہ لے جاتے ہیں۔ اسی طرح دستکاری اور دیگر گھریلو مصنوعات بھی بطور سوغات خریدی جاتی ہیں۔
ہم مری میں ہم دو تین دن گزار چکے تھے اور اب ہم نے دوسرے دن صبح ایوبیہ جانے کا پروگرام بنا لیا۔ ہوا یہ کہ مری میں ایوبیہ کے پروگرام بننے سے قبل ایک شام ہمیں ایک لڑکا ملا جو کراچی میں میرے محلے میں رہتا تھا۔ شارق کو میں براہ راست نہ جانتا تھا۔ مگر جب اس نے بتا یا کہ وہ میرے دوست رضا کو جانتا ہے تو پھر ہم دونوں یو ں گھل مل گئے جیسے ایک دوسرے کو برسوں سے جانتے ہوں۔ شارق نے بتا یا کہ وہ ہمارے گھر کے بالکل قریب واقع پولیس لائن میں رہتا ہے۔ پولیس لائن میں بھلا کون رہتا ہوگا ظاہر ہے پولیس والے ہی۔ اپنے محلے میں مجھے معلوم تھا کہ کئی ایک ڈی ایس پی صاحبان رہا کر تے تھے۔ جن سے ہمارے ابو اور بھائی جان وغیرہ کی واقفیت بھی تھی۔ اور ان کے لڑکوں کے ساتھ ہم کرکٹ بھی کھیلا کر تے تھے۔ مگر قریبی پولیس لائن یعنی عام پولیس کے سپاہیوں کی رہائش گاہ سے ہمارا کوئی تعلق کبھی نہیں رہا۔ پولیس کے سپاہی کا بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں کوئی اچھا مقام نہیں ہے۔ نوجوان لڑکے عرف عام میں پولیس کے سپاہی کو ٹلا کہتے ہیں۔ جبکہ ہمارے تعلقات پولیس کے سپاہی سے کچھ خاص نہیں ہوتے تھے۔ لیکن پولیس افسران سے تو اچھے تعلقات استوارکرنا ہمارے لیے بہت ضروری بھی ہو تا تھا۔ ان باتوں کو سوچے بغیر ہماری شارق سے دوستی ہو گئی اوریہ اسی کی صلاح تھی کہ ہم ایوبیہ دیکھے بغیر نہ جائیں۔ شارق فوج میں بھرتی ہو گیا تھا اور مری کے قریب اس کی تربیت گاہ تھی۔ اس نے ہمیں ایوبیہ دیکھانے کی پیش کش کی، جسے ہم دونوں نے خوشی خوشی قبول کر لیا۔ بلکہ اسے دعوت بھی دی کہ وہ شب ہمارے ساتھ بسر کر کے صبح صبح ہمارے ساتھ چلے۔ مگر اس نے بتا یا کہ اسے رات باہر رہنے کی اجازت نہیں۔ کل کا دن البتہ وہ چھٹی لے سکے گا۔
دوسرے دن مری سے ہم منی بس پ ایوبیہ کے سفر پر نکل کھڑے ہوئے ۔ یہ سفر کافی دشوار گزار پہاڑی راستے، سڑک کے تنگ اور خطرناک موڑ وں سے پر تھا۔ بہت سارے لوگ چپ سادھے تھے جیسے اندر سے ڈر رہے ہوں۔ ممکن ہے یہ میرے اپنے اندر کا چھپا ڈر تھا۔ اور دیگر مسافروں کے لئے روز کی طرح کا عام سا سفر ہو ۔ میں خاصی خوشی کا اظہار کر رہا تھا اور ضرورت سے زیادہ باتیں کر رہاتھا۔ ایوبیہ بھی مری میں واقع ایک ہل اسٹیشن اور تفریح گاہ ہے۔ یہ چار ہل اسٹیشنوں پر مشتمل ہے جن کے نام خانس پور، گور ڈاکا، چانگلہ گلی اور خیرا گلی ہیں۔ ایوبیہ میں منی بس سے اتر کر ہم ادھر پھرے اور پھر یہاں کی خاص تفریح چئرلفٹ پر سوار ہوگئے۔ ہمیں منی بس کے سفر کے دوران ایک مولوی صاحب بھی مل گئے جو خود بھی تفریح کی غرض سے نکلے ہوئے تھے۔ چئرلفٹ پر بھی وہ ہمارے ساتھ ہی آگئے۔ چئر لفٹ پر دو دو افراد کو اکٹھے سوار ہو نا تھا ۔ اور اس پر سوار ہوتے وقت قمر اور شارق نے، جو میرے بہت زیادہ باتیں کر نے سے تنگ آگئے تھے جان بوجھ کر مجھے ان مولوی صاحب کے ساتھ سوار کر ادیا ۔
چئر لفٹ پر سیر کے دوران مولوی صاحب نے مجھے ایک کیسٹ پیش کی جس میں ان کی خوبصورت آواز میں تلاوت ریکارڈ تھی۔ اور کہنے لگے کہ آپ اسے کچھ روپیہ کے عوض خرید لیں۔ میں نے چئرلفٹ کا خاصا مہنگا کرایہ دے تو دیا ہے مگر اب میرے پاس پیسے سب ختم ہو گئے ہیں۔ میں ہوا میں معلق، قران کی تلاوت کی کیسٹ کو کیونکر منع کر تا۔ میں نے مولوی صاحب کو مطلوبہ روپے دے کر جان چھڑائی۔
ایوبیہ کی چئر لفٹ سے ہم نے پہاڑوں کا حیرت انگیز نظارہ کیا۔ گہری کھائیاں یہاں سے اور زیادہ خطرناک لگیں۔ جبکہ پہاڑوں کے دامن اور وادیاں بہت دلکش لگ رہے تھے۔ لفٹ جب پہاڑوں کے بیچوں بیچ ہو تی ہے تو انسان سچ مچ ہوا میں معلق ہو تا ہے۔ لفٹ سے اتر کر ہم سڑک پر آگئے جہاں دونوں طرف بہت ساری چھوٹی چھوٹی دوکانیں سوغاتوں سے بھری تھیں۔ گرم شالیں، ٹوپیاں، نکلس اورہار اور بے شمار ڈیکوریشن یعنی آرائش کی چیزیں بک رہیں تھیں اور ٹورسٹ خوب جی بھر کے خریداری کر رہے تھے۔ ہم لوگوں کو واپس بھی مری جانا تھا۔ چونکہ ہم لوگوں کی رہائش وہیں ریسٹ ہاؤس میں تھی اور شارق کو بھی اپنے بیس واپس پہنچنا تھا۔ سو ہم تینوں واپسی کے سفر پر تکان اورایوبیہ چھوڑنے پر ملول ہونے کی وجہ سے کافی چپ تھے۔ میری ساری چہک جیسے ایوبیہ کے خوبصورت پہاڑوں میں گم ہو کر رہ گئی تھی۔ حالانکہ ہمیں ابھی ایک رات اور مری کی خوبصورت وادی میں ہی گزانا تھا۔ جو کہ بہت ہی دلکش تھی۔
مری سے اسلام آباد آنے کے بعد میں نے قمر کو کہا کہ یہاں اسلام آباد آکر اگر میں اپنی رشتے کی ایک بہن سے نہ ملا تو انہیں اور کراچی میں ان کے گھر والوں کو شکایت ہو جائے گی۔ میں اس سے قبل جب اسلام آباد آیا تھا تو ان کے یہاں ایک رات رکا بھی تھا۔ لہذا میرا فرض ہے کہ میں ان سے بھی ملنے چلا جاؤں۔ مجھے اپنے رشتے کے بہنوئی کے دفتر کا پتہ تھا کہ وہ وزار ت خارجہ میں بطور سیکشن آفیسر تعینات ہیں۔اسلا م آباد میں کسی سرکاری اہلکار سے ملنا کوئی معمولی کام نہیں۔ گیٹ پر پہچان کراؤ، کام کی غرض، ملنے کی وجہ بتاؤ۔ پھر پر چی بنے گی۔ افسر متعلقہ کو مطلع کیا جائے گا۔ اور پھر اگر وہ افسر ملنا چاہے گا تو اپنے کسی ماتحت کو نیچے بھیجے گا۔ جو آپ کو لے کر اوپر جائے گا۔ اور اگر افسر کی مرضی نہ ہوئی تو وہ آپ سے نہیں ملے گا۔ تمام کاروائی کے بعد جب میں اوپر پہنچا تو اشعر بھائی نہایت تپاک سے ملے۔ اور پھر پوچھنے لگے تم کب اسلام آباد آئے۔ ان کے اس سوال کا جواب میرے لئے خاصا مشکل تھا۔ کچھ توقف کے بعد میں نے کہا۔۔۔۔ وہ ایسا ہے کہ میں کچھ کام کے سلسلے میں یہاں پچھلے ہفتےآیا تھا۔ مگر کام نہ بنا تو پھر مری ایوبیہ کی سیر کو نکل کھڑا ہوا۔۔۔ اوہ۔۔۔۔ تو تم ایک ہفتے سے یہاں ہو اور آج ملنے آئے ہو۔ ان کا اوہ کہنا خاصا معنی خیز تھا۔
اشعر بھائی کو شاید میری اس بات سے تکلیف ہوئی تھی کہ ایک ہفتے بعد ان سے ملنے آیا تھا۔ وہ شاید اسلام آباد میں میرا خود کو سرپرست سمجھے بیٹھے تھے جبکہ میں ایک لا ابالی سا نوجوان تھا۔ کہاں ٹھہرے ہو۔۔ انہوں دوسرا سوال داغ دیا جو اور بھی مشکل تھا۔ ابھی میں انہیں بہ مشکل تمام ہی یہ بتا پایا تھا کہ میں اپنے دوست قمر کے ساتھ ہوں اور اسی کے ایک رشتہ دار کے پاس ٹھہرا ہو اہوں۔۔۔ کہ انہوں نے ٹیلی فون گھما کر کوئی نمبر ملانا شروع کر دیا ۔ یہ اس زمانے کی بات ہے جب ٹیلی فون پر نمبر ملانے کے لیے ڈائیل کو گھمانا پڑتا تھا۔ اشعر بھائی جانے کیا سمجھے۔۔۔ شاید وہ سمجھ رہے تھے کہ میں ابا کو بتائے بغیر اپنے دوست کے ساتھ گھر سے بھاگ نکلا ہوں۔ ان کے اس اچانک ابا کو ٹیلی فون ملانے سے کم از کم میں یہی سمجھا۔ لیجیئے سرور سے بات کیجئیے انہوں نے ابا کو ساری تفصیلات سے آگاہ کر نے کے بعد ٹیلی فون کا چونگہ میری طرف بڑھا دیا۔ ظاہر سی بات تھی کہ ابا کو معلوم تھا کہ میں قمر کے ساتھ اسلام آباد آیا ہوا ہوں۔ مگر جو بات میرے لیے اچھنبے کی تھی وہ یہ کہ مجھے ایک بار پھر ملکوال جا نا تھا۔ بھائی کو ساتھ لے کر واپس کراچی آنے کے لیے۔ میرے ذمہ اس کو ملکوال پہنچانا تھا۔ اسے وہاں سے واپس کراچی بڑے بھائی جان کے ہمراہ جا نا تھا۔ مگر ابو نے بتا یا کہ بڑے بھائی کا پروگرام بدل گیا ہے اور مجھے ہی اس کو ساتھ لا نا ہے۔۔۔۔ مگر ابا۔۔۔ میں تو قمر کے ساتھ ۔۔۔ میں نے بولناچاہا۔۔۔ لیکن وہ ابا ہی کیا جو میری بات سنتے انہوں جواباََ کہا قمر کراچی سے بھی اکیلے گیا تھا۔۔۔ تم لوگ وہاں ملے، سیر تفریح کی، اب تم دونوں الگ الگ کراچی کے لیے روانہ ہو جاؤ۔ تمہارا ریلوے کا پاس یوں بھی کراچی سے پشاور تک کے لئے جاری ہوا ہے۔ تم کسی بھی راستے سے واپس آسکتے ہو۔ ابا کے حکم کی عدولی میرے لیے کب ممکن تھی۔ وہ اپنی بات کر نے کے بعد یہ کب پوچھتے تھے کہ آیا ایسا ممکن ہے بھی یا نہیں۔ بس حکمِ حاکم مرگِ مفاجات۔۔۔۔ خدا حافظ وغیرہ کے بعد میں نے دیکھا کہ اشعر بھائی کے ہونٹوں پر ہلکی ہلکی مسکراہٹ کھیل رہی تھی۔ وہ پھر سے میرا سرپرست بن کر کافی ہلکا محسوس کر رہے تھے۔ فون کو کریڈل پررکھ کر وہ بولے اب ہم گھر چل رہے ہیں ۔ تم اپنی آپا سے تو ملنے چلو گے نا۔۔۔۔ اور میں خاموشی سے ان کے ساتھ ہولیا۔
آپا کا تو مجھے پتہ تھا کہ وہ مجھے کسی نئی مصیبت میں نہیں پھنسا سکتیں تھیں۔ وہ تو بہت ہی شفیق اور محبت کر نے والی تھیں۔۔۔ لیکن ان کے گھر اشعر بھائی کے ساتھ، جاتے ہوئے میں یہ ضرور سوچ رہا تھا کہ یہ تو وہی ہوا گئے تھے روزے بخشوانے گلے پڑی نماز۔ مجھے یہ بھی تشویش تھی کہ بھلا اب میں قمر کو کیا کہوں گا۔۔۔ کہ بس یار ہم نے خوب تفریح کر لی اب تم گھر سدھارو اور میں اپنے راستے سے کراچی جاؤں گا۔ مجھے پتہ تھا کہ قمر کا ریل کا ٹکٹ کراچی سے براہ راست راولپنڈی کے لیے تھا اور وہ کسی دوسر روٹ پر سفر نہیں کر سکتا تھا۔ میں نے مری میں آپا کے لیے تھوڑا خشک میوہ خریدا تھا۔ جب میں نے وہ ان کے حوالے کیا وہ بہت خوش ہوئیں۔ آپا بہت نیک انسان ہیں وہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر اتنا خوش ہو جاتیں کہ انسان کو ان پر پیار آجاتا ہے۔ وہ اتنی معصوم ہیں کہ کوئی کم ہی ایسا ہوتا ہوگا۔ چلتے وقت انہوں نے کچھ روپے میری جیب میں ٹھونس دیئے۔ یقیناً انہوں سوچا ہو گا کہ میں خود سفر میں ہوں۔ کم سن ہوں ان کے لیے سوغات لا یا ہوں تو خرچہ ہوا ہو گا۔ میرے لاکھ انکار پر وہ نہ مانیں۔ کہنے لگیں تم فرح اپنی چھوٹی بہن کے لیے ان پیسوں سے کوئی تحفہ خرید لینا۔
میں نے قمر کو جب تمام صورتحال سے آگاہ کیا تو وہ ہنسنے لگا ۔۔۔ بولا اور تم حسبِ عادت غصے میں ہو گے کہ تمہارے ابو اب تم دوبارہ ملکوال جانے کا کہہ رہے ہیں۔ میں نے کہا ہاں نا۔۔۔ اب ہم تم الگ الگ کراچی کا سفر کریں گے جو مجھے پسند نہیں۔ ایسا کچھ نہیں ہو گا وہ اطمینان سے بولا۔ وہ تمہارے خالو ہیں نا ۔۔۔ ملکوال میں، میں بھی انہیں جانتا ہوں۔ بس چلو اسی بہانے میں ان سے مل لوں گا۔ ہم بس کے ذریعہ ملکوال اور پھر وہاں سے بھائی کو ساتھ لے کر کراچی چلے جائیں گے۔ قمر نے جس آرام سے سارے مسئلے کا حل ڈھونڈ لیا تھا اس پر میں حیران ہو رہا تھا۔ لیکن کیا ہم پشاور بھی نہیں جا سکتے کیا تمہارے بھائی کو بہت جلد کراچی واپس جا نا ہے۔ قمر مجھ سے پوچھ رہا تھا۔۔۔ میں نے اسے دلاسہ دلایا نہیں ہم ضرور پشاور بھی جائیں گے جیسا ہم نے کراچی سے چلتے وقت طے کیا تھا۔ وہاں ہم نے ضیاء بھائی ، بھائی جان کے دوست سے بھی ملنا ہے۔ اور ان کو اطلاع بھی مل چکی ہوگی کہ ہم دونوں ان کی طرف آئیں گے۔ ایک دن بعد ہم لوگ بس پکڑ کر پشاورروانہ ہو گئے۔
پشاور آتو گئے مگر ہمارے پاس پشاور میں ضیاء بھائی کا مکمل پتہ نہیں تھا۔ یہ بات میں نے قمر کو بتا دی تھی۔ مگر وہ کہنے لگا ارے ہم وہاں کسی سے محکمہ تحفظ نباتات کے دفتر کی بابت دریافت کر لیں گے اور پہنچ جائیں گے۔ بس سے اتر کر ہم نے پشاور کی کھلی ٹھنڈی ہوا میں سانس لیا تو طبیعت خوش ہو گئی۔ پشاور میں ، میں نے پہلی بار دیکھا کہ سڑک کے کنارے اونچے اونچے تیز پات کے درخت لگے ہوئے تھے۔ ان کے پتوں سے ایک مخصوص قسم کی خوشبو ہوا میں بکھر رہی ہے۔ مجھے یہ اس سے پہلے نہیں معلوم تھا کہ گرم مسالے اور پلاؤ وغیرہ میں استعمال ہونے والا یہ پتا اس طرح کے درخت پر اگتا ہے۔ اور یہ اتنی کثرت سے پہاڑی علاقوں میں پایا جاتا ہے۔
درخت تیز پات کا گھر ہمالہ کا پہاڑ ہے۔ کشمیر، ضلع کانگڑہ، شملہ کے پہاڑ سے لے کر یہ بنگال سلہٹ اور برما کے پہاڑوں تک عام ملتا ہے۔ یعنی انسانوں کی بنائی سرحد وں کو یہ نہیں مانتا۔ چلو انسان کی بنائی سرحدیں تو انسان کی ضرورت ہے۔ مگر اسے یہ ضرور سوچنا چاہیئے کہ وہ ان سرحدوں کے آر پار انسانوں اور جانوروں کی آمد و رفت تو بند نہ کرے۔ تیز پات کا یہ پودا تمام سرحدوں کے آر پا ر اپنے فوائد رنگ و نسل کے فرق کو جانے بغیر سبھوں کو یکساں بانٹتا رہتا ہے۔ اس درخت کی اونچائی چالیس فٹ تک ہوتی ہے اور اس کے تنے کی گولائی چار پانچ فٹ ہوتی ہے۔ اس کا تنا سیدھا اور چھال بھورے یا پیلے رنگ کی ہوتی ہے۔ جس پر سفید داغ ہوتے ہیں۔ اس کے سفیدی مائل پھول کثرت سے اس کی ڈالیوں میں لگے ہوتے ہیں۔ اس کا پھل نصف انچ لمبا ہوتا ہے جو کہ پک کر کالے رنگ کا ہو جاتا ہے۔ اس پر بیساکھ کے ماہ میں نئے پتے نکلتے ہیں جو کہ چھوٹے چھوٹے گلابی پیازی رنگ میں اپنی بہار دکھاتے ہیں۔ بعد میں یہ پتے پک کر زردی مائل کھردرے ہو جاتے ہیں ۔ ان کا ذائقہ تیز اور خوشبو دار ہو تا ہے۔ پہاڑی علاقوں میں لوگ تیز پات گرم کپڑوں میں رکھتے ہیں اور اس طرح سے انہیں کیڑوں سے بچا تے ہیں۔ اس کی لکڑی بھی خوشبو دار ہوتی ہے۔ تیز پات کے بے شمارطبی فوائد بھی ہیں۔
تو بات ہورہی تھی ہمارے پشاور بغیر ٹھیک ٹھیک پتے کے پہنچنے کی۔ جناب بس سے تو ہم اتر ہی چکے تھے۔ اب ہم نے ادھر ادھر پلانٹ پروٹیکشن کے سرکاری دفتر کا پتہ پوچھنا شروع کیا۔ ہمیں پوچھ پوچھ کر پتہ ڈوھونڈ نکالنے کا تجربہ تو کافی تھا مگر کراچی میں ہی اس کا تجربہ تھا۔ پشاور کا بالکل نہ تھا۔ اور اس دن ہمیں پتہ چلا کہ ہم تو بالکل اناڑی ہیں۔ کسی نے ہمیں پشاور کی یونیورسٹی کے زرعی ڈپارٹمنٹ کا راستہ دیکھا دیا۔ یہ کہہ کر وہیں کہیں یہ محکمہ بھی ہو گا۔ اب جو ہم وہاں پہنچے تو پتہ چلا کہ تو پشاور یونیور سٹی کے کیمپس میں داخل ہو چکے ہیں۔ وہاں ایک طالب سے پوچھا تو اس نے بتا یا کہ یہ تو یونیورسٹی ہے اور یہاں تو کوئی سرکاری محکمہ نہیں ہے۔ مگر زراعت کے شعبے کے اس طالب علم نے ہمارے ہاتھ سے وہ اٹیچی جسے اٹھائے اٹھائے ہمارے ہاتھ شل ہو رہے تھے ہم سے لے لیا۔ اور پھر ہم سے پوچھنے لگا کہ ہم کہاں سے آئے ہیں۔ ہمارے یہ بتانے پر کہ ہم تو دراصل کراچی سے ہیں۔ اس نے ہماری خاطر تواضع کر نا شروع کر دی۔ ہمیں پینے کو پانی دیا اور کہنے لگا آپ لوگ اب میرے ساتھ چلیں ۔ مجھے تو خود بھی معلوم نہیں کہ یہ سرکاری دفتر کہاں واقع ہے مگر آپ لوگ اکیلے تو سارا دن پھر تے رہیں گے اور کیا پتہ ڈھونڈ پائیں گے بھی کہ نہیں۔ میں آپ لوگوں کے ساتھ مل کر تلاش کر تا ہوں اور پھر دیکھتے ہیں۔ وہ ایم ایس کا طالب علم عمر میں ہم سے کچھ بڑا ہی تھا۔ تین چار گھنٹے ہمارے ساتھ پھر تا رہا۔ ہمارا اٹیچی بھی اس نے اٹھا رکھا تھا۔ ہمارے ضد کر نے پر بھی ہمی دینے کے لیے تیار نہ ہوا۔ آخر کار جمرود روڈ پر پلانٹ پروٹیکشن کے دفتر پہنچا کر ہی رخصت ہوا۔
معلوم یہ ہوا کہ ضیاء بھائی کہیں باہر تشریف لے گئے ہیں۔ مگر ہم نے جب بتا یا کہ ہم کراچی سے ان سے ملنے آئے ہیں تو ایک قاصد ہمیں ان کے دفتر کے برابر میں ہی واقع ان کی رہائش پر لے آیا۔ یہاں چوکیدار نے ہمیں بیٹھک میں بٹھادیا۔ تھوڑی دیر بعد جب ضیاء بھائی نمودار ہوئے تو ہماری جان میں جان آئی کہ وہ وہی ضیاء بھائی تھے جن کی ہمیں تلاش تھی۔ اور پھر جب انہوں نے سارا ماجرہ بسلسلہ تلاشِ دفتر سنا تو وہ اپنے دوست، ہمارے بڑے بھائی جان کو لگے کوسنے۔ بچوں کو بھیج دیا پتہ تک نہ دیا۔ فون نمبر ہی دے دیتا۔ میں گاڑی بھجوا کر تم لوگوں کو بلوا لیتا۔ خیر چوکیدار نے جلدی جلدی کھانا تیار کیا اور ہم سب نے اکٹھے کھا نا کھایا۔ پشاور کا پلانٹ پروٹیکشن کا دفتر اور ضیاء بھائی کی سرکاری رہائش بہت خوبصورت تھی۔ ہم لوگوں نے یہاں خوب انجوائے کیا۔ سرکاری گاڑی ہمیں کہیں بھی لے جاتی اور ہم گھوم پھر کر آجاتے۔ خیبر پاس دیکھنے گئے۔ پشاور کا مشہور باڑہ زیادہ نہ تھا ۔ ضیاء بھائی خود تو بہت مصروف رہتے۔ صبح ناشتے کے بعد شام کو ہی کھانے پر ملتے ۔ مگر دن بھر ہم لوگ کہیں بھی آجا سکتے تھے۔ جب گاڑی کی ضرورت ہوتی کوئی نہ کوئی ہمیں پہنچا دیتا یا کہیں سے پک کر لیتا۔ ایسا لگتا کہ ہم صرف ضیاء بھائی کے ہی نہیں سارے دفتر کے مہمان ہیں اور ہر کوئی اپنے اپنے حصے کی مہمانداری کا حق ادا کر رہا ہو۔
پشاور سے واپسی پر ہمیں روالپنڈی، پھر وہاں سے بس پکڑ کر ہمیں ملکوال روانہ ہو نا تھا۔