دلوں میں بسا ہوچی مِن
- تحریر فرخ سہیل گوئندی
- منگل 07 / جون / 2016
- 5234
رات کو ہوچی مِن کے مقبرے پر پرچم سرنگوں ہونے کی تقریب کا کیا ہی لطف تھا۔ خوشگوار موسم میں آسمان سے بارش کی چند بوندیں، سینکڑوں قسم کے پھولوں کی خوشبوؤں سے مہکی فضا اور ویتنامیوں کا خاموشی سے تقریب میں شامل ہونا۔ گرے نائٹ پتھرسے بنا بلند مقبرہ سرخ روشنیوں میں سرخ مقبرہ دِکھ رہا تھا۔
سفید یونیفارم میں ملبوس ویتنامی عسکری دستوں کی پریڈ، ویتنام کے قومی ترانے کی دُھن میں ستارے والے سرخ پرچم کا سرنگوں ہونا، مقبرے کے اردگرد وسیع رقبہ اور وہاں پر موجود عمارتوں پر ٹمٹماتی روشنیاں اور ان کے بیچوں بیچ، ہتھوڑے اور درانتی والا سرخ اشتراکی پرچم، یہ سب مجھے برلن دیوار گرنے سے پہلے کے زمانے میں لے گئے۔ سرخ جنت کا منظر تھا۔ لیکن ہم نے طے کیا تھا کہ ایشیا کے اس عظیم لیڈرکو دن کے وقت اپنی عقیدت کا نذرانہ پیش کیا جائے جو پچھلی صدی میں دنیا کے سارے براعظموں میں آزادی اور انقلاب کی علامت بنا۔ معلوم ہوا کہ اگر آپ ہوچی مِن کے مقبرے پر جانا چاہتے ہیں تو آپ کو صبح آٹھ بجے لمبی قطار میں کھڑا ہونا پڑے گا۔ سرمایہ دار دنیا نے سرد جنگ میں ڈبل روٹی پر لمبی قطاروں کو اپنے میڈیا سے خوب اجاگر کیا، لیکن کبھی یہ نہیں بتایا کہ ہوچی مِن، ماؤزے تنگ اور لینن کے مقبروں پر بھی لمبی قطاریں لگتی ہیں۔ سرد جنگ کے خاتمے، دوسرے الفاظ میں ’’سرخ جنت کی بربادی‘‘ اور فوکو ہاما کے بقول "End of History" بیان کیے جانے کے بعد، ایشیائی عوام کے ہیرو انقلابی کے مقبرے پر اس قدر طویل قطار کہ سیاحوں اور مداحوں کو باور کروایا جاتا ہے کہ صبح آٹھ سے گیارہ بجے تک جو بھی شخص قطار میں شامل ہو گا، صرف وہی مقبرے کے اندر ہوچی مِن کی میت کو دیکھنے کا موقع حاصل کر سکتا ہے۔
ہنوئی شہر کے وسط میں ہوچی مِن کا مقبرہ رات کی روشنیوں میں سرخ اور دن کو گرے نائٹ کے پتھر کی وجہ سے گرے دکھائی دیتا ہے۔ اس شہر نے اس انقلاب کی قیادت کی جس نے دنیا بھر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ ایشیا تو ہوچی مِن کی انقلابیت میں ایسا رنگا کہ انقلابات اور آزادی کی تحریکیں اسی کے نام سے عنوان ہوئیں۔ ویتنامیوں نے آزادی اور انقلابی جدوجہد کے تاریخ ساز باب رقم کیے تو امریکی سامراج نے بربریت کے۔ ہوش سنبھالنے سے پہلے ہمارے کانوں میں جو نعرہ پڑا اور جس نے ہمیں اپنی طرف متوجہ کیا، وہ تھا،’’سرخ ہے، سرخ ہے، ایشیا سرخ ہے۔ خونِ ویتنام سے، ایشیا سرخ ہے۔‘‘
صبح صبح ہمیں بادنھ سکوائر پہنچنا تھا، انکل ہو کے مقبرے پر، جو انکل سام کے خلاف لڑتا ہوا آزادی اور کامیاب انقلاب کا رہبر قرار پایا۔ ایک دبلا پتلا ویتنامی جس نے فرانس اور پھر امریکہ کے ایوانوں ہی نہیں، ان کی گلیوں، قصبات اور شہروں کو ہلا کر رکھ دیا۔ ہوچی مِن ، شہر ہنوئی میں آج بھی دنیا بھر سے آئے عقیدت مندوں کی نظروں کا محور ہیں۔ وہی ہنوئی جس کو امریکیوں نے تہ و بالا کرنے کے لیے، کھنڈرات کا ڈھیر بنانے کے لیے B52 جیسے جدیدبمبار طیاروں سے لمحوں کو شہر ہنوئی پر بمباری کی، وہ ہنوئی آج دن اور رات مسلسل جاگتا ہے اور اس کے دل میں ہوچی مِن بستا ہے۔
مقبرے پر جانے کے لیے ہمیں یہ معلوم نہیں تھا کہ قطار کہاں سے شروع ہوتی ہے۔ قطار کو رہنمائی کرنے والی بچیاں، سرخ کرتے اور سفید پاجامے میں ملبوس بڑے دھیمے انداز میں ہوچی مِن کے مداحین کی رہنمائی کر رہی تھیں۔ مجال ہے کہ کہیں دھکم پیل، لڑائی اور غصے کا اظہار ہو۔ جو قومیں سڑکوں پر لڑتی نظر آتی ہیں، وہ میدانِ جنگ میں ہتھیار پھینکتی ہیں۔ قطار کیا تھی، شہر کی گلیوں سے شروع ہوتا، بل کھاتا ایک منظم دھارا تھا انسانوں کا، بچے، بوڑھے، جواں، مرد، خواتین، زیادہ تر ویتنامی اور کچھ سیاح، سکولوں کے بچوں کے گروہوں کے گروہ، سرخ ٹائیاں لگائے یا پھر سر پر سرخ پرچم ستارے والے ٹوپی پہنے، ان کی استانیاں۔ گلیوں سے شروع ہوتی قطار دھیرے دھیرے مقبرے سے ملحقہ عمارات میں داخل ہوئی۔ کیا منظم قوم ہے، کوئی سیکھے ویتنامیوں سے انتظام کسے کہتے ہیں۔
قطار جب مقبرے کے احاطے میں داخل ہوئی تو ہم لکڑی کے بنے شیڈ کے نیچے تھے، جو ہر روز آنے والے ہزاروں عقیدت مندوں کو اپنے سائے میں لینے کے لیے بنائی گئی ہے۔ دھوپ اور بارش سے بچاؤ کے لیے، ساتھ ساتھ بڑی بڑی ٹی وی سکرینیں لگی ہیں۔ ان انتظامات سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہوچی مِن کے مقبرے پر لوگ ہر روز اسی طرح ہزاروں کی تعداد میں آتے ہیں۔ سکولوں کے بچوں کا علیحدہ انتظام تھا۔ مقبرے کے احاطے میں ہی ہوچی مِن کا پیلے رنگ کا گھر بھی ہے، جو اب میوزیم ہے۔ سکیورٹی کی تضحیک کرنے والا نظام نہیں بلکہ ایک مہذب انداز تھا۔ سرخ رنگ ہر طرف نمایاں تھا، بچوں کی ٹائیوں، ٹوپیوں اور قمیصوں پر، خواتین کے لباس سے۔
ایک بات ویتنامی قوم کے حوالے سے بیان کرنا ضروری ہے، میں نے متعدد قومیں اپنے سفروں میں دیکھی ہیں، لیکن ویتنامی ایک اور حوالے سے بھی منفرد ہیں کہ ان کے ہاں توندیں نہیں دیکھیں۔ مرد کیا اور خواتین کیا، فٹ قوم۔ سنا ہے رات آٹھ بجے کے بعد کھانا نہیں کھاتے اور ہر ویتنامی شام کو ورزش کرتا ہے۔ قطار کی منتظمین بچیاں ہمارے جنوبی ایشیا کی کیٹ واک کرنے والی خواتین سے زیادہ سمارٹ نظر آئیں۔ ویتنامیوں کے چہروں پر غصہ نہیں مسکراہٹ ہی ملی۔ جو قومیں آزادی کی طویل جنگیں لڑ کر آزاد ہوئیں، ان کے ہاں زندگی کس قدر خوش کن ہے، اس کا اندازہ ایسے ممالک کے سفروں سے ہوا۔
قطار دھیرے دھیرے ہوچی مِن کی طرف بڑھ رہی تھی۔ ہم جب قطار میں شامل ہوئے ہمارے آگے یقیناً بیس، تیس ہزار لوگ ہوں گے۔ بل کھاتی قطار، سرخ جنت کی منظم زندگی کا ہی سبق ہے۔ غیر منظم قوموں میں قطار میں کھڑے ہونا عیب ہے، اسی لیے تو ہمارے ہاں قطاروں میں کھڑے ڈبل روٹی خریدنے پر سرخ جنت کو طعنے دئیے جاتے تھے۔ ہم سینما کی ٹکٹ لے کر رمضان کے دنوں میں سموسے خریدتے ہوئے جو کرتے ہیں، اس سے ہمارے قومی کردار National Character کا آسانی سے اندازہ ہو جاتا ہے۔ قطار میں کھڑے لوگ خاندانوں کی شکل میں بھی آئے تھے۔ والد، والدہ، بچے، اسے کہتے ہیں قومی ہیرو۔ میرے جیسے چہرے کو دیکھ کر متعدد بچوں نے قطار میں دھیرے دھیرے بڑھتے ہوئے تصاویر لینے کی فرمائش کی۔ ایک فیملی نے کیا تصاویر لیں، سلسلہ چل نکلا۔ ماں باپ بچے سب نے کندھوں پر ایک دوسرے کے ہاتھ رکھا اور مسکراتے ہوئے تصاویر لیں۔ پچھلی صدی میں جس ایشیا کے بارے میں کہا جارہا تھا کہ ایشیا سرخ ہے، اس ایشیا نے آج کی صدی میں ثابت کر دکھایا کہ یہ اور اگلی صدی ایشیا کی ہے۔ قدم بہ قدم ہوچی مِن کے مقبرے کی طرف۔
یہ مقبرہ سابق سوویت یونین کے رہنما لینن کے مقبرے سے متاثر ہو کر بنایا گیا۔ اس کی تعمیر سوویت یونین اور ویتنامیوں کی مشترکہ منصوبہ بندی سے ہوئی۔ کہتے ہیں ہوچی مِن نے کہا تھا کہ اس کی لاش کو جلا کر اس کی راکھ کو سارے ویتنام پر نچھاور کر دیا جائے۔ لیکن ہوچی مِن کے دنیا سے رخصت ہونے کے بعد ویتنامی کمیونسٹ پارٹی نے فیصلہ کیا کہ ہوچی مِن کی میت کو لینن اور ماؤزے تنگ کی طرح حنوط کر دیا جائے۔ ہوچی مِن کا مقبرہ لینن اور بلغاریہ کے اشتراکی انقلاب کے بانی جارجی دیمیتروف کے مقبرے کی طرح تعمیر کیا گیا ہے۔ جارجی دیمیتروف کا مقبرہ 1989ء میں اشتراکیت کے خاتمے کے بعد میت نکال کر دھماکہ خیز مواد سے چار روز مسلسل نیست و نابود کر دیا گیا، جو کہ صوفیہ کے وسط میں واقع تھا۔ دھماکوں سے اڑانے سے ’’جمہوری جنت‘‘ کے دعوے دار وہ سب کچھ مٹانے پر یقین رکھتے ہیں جو کسی زمانے کی یادگار کے طور پر ہی کیوں نہ برقرار رہے۔ اسی کے بعد بامیان میں بدھ مجسمے اور شام میں پالمیرا کے ہزاروں سال قدیم آثار دھماکوں سے اڑائے گئے۔
قطار کو اس وقت خاموشی اختیار کرنے، کیمرے بند کرنے اور ادب کے ساتھ مقبرے میں داخل ہونے کی ہدایت کی جاتی ہے جب قطار مقبرے کے عین سامنے پہنچ جاتی ہے۔ قدم سیڑھیوں پر چڑھے، چوبدار بت بنے کھڑے تھے، وہی چوبدار ’’چھوٹے قد کے ویتنامی جنہوں نے بڑے قد کے امریکیوں کو ناکوں چنے چبوا دیے‘‘۔ایک قدم Step کے بعد بائیں طرف مڑے، پھر دوسرا سٹیپ اور ہم وہاں موجود تھے جہاں ہوچی مِن اپنے کوٹ اور پتلون میں ملبوس لیٹا ہوا ہے۔ آہ یہ ہے وہ ہوچی مِن جس نے واشنگٹن، پیرس اورلندن کے ایوانوں کو ہلا کر اور دنیا کو جگا دیا تھا۔ اس کے سر کے پیچھے کی طرف اوپر دیوار پر کندہ ویتنام کا ستارہ اور ساتھ ہی اشتراکی درانتی ہتھوڑا۔ تو کیا ابھی ’’تاریخ کا خاتمہ‘‘ نہیں ہوا؟
فوکوہاما نے کہا تھا سرخ جنت اب قصۂ پارینہ ہے۔ تو پھر یہ کیا ہے؟ عقیدت مند وہاں لیٹے ہوچی مِن کا دیدار کر رہے تھے۔ شیشے کے فریم میں حنوط ہوچی مِن۔ سابق سوویت یونین کے ماہرین نے اس میت کو حنوط کیا اور ابھی بھی ہوچی مِن ہر سال اس ٹھنڈے کمرے میں موجود مقبرے سے ماسکو کا سفر کرتا ہے جہاں حنوط شدہ ہو چی مِن کی Dead Body کو ماہرین دیکھتے ہیں۔ میت کے گرد چکر لگاتے عقیدت مند، خاموش، سست رفتار اور گہری آنکھوں سے اس بدن کو دیکھ رہے تھے کہ جب اس میں روح تھی تو اس نے کس جرأت، بہادری، دانش مندی اور تدبر سے ایک ہزار سالہ غلامی کا طوق اُتار کر ویتناموں کو دنیا کی باوقار قوموں میں لاکھڑا کیا۔