رمضان خارجی رسم نہیں باطنی عمل ہے
یورپ اور امریکہ کے دانشوروں کے گروپ نے اقوام متحدہ سے اپیل کی ہے کہ وہ امریکہ کو ترغیب دے کہ وہ (امریکہ) مقدس ماہ رمضان کے دوران دنیائے اسلام میں اپنی فوجی کارروائیاں روک دے۔ ان حملوں کے جاری رہنے کی صورت میں مسلمان ملکوں میں بڑی نازک صورتحال پیدا ہوجائے گی۔ امریکہ نے اپنی ہٹ دھرمی کے باعث کہا ہے کہ ہماری انٹیلی جنس رپورٹوں کے مطابق اگر داعش اور طالبان پر بمباری میں کوئی نرمی کی گئی تو آنے والے دنوں میں امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک کو سنگین خطرات کا سامنا ہوگا۔ یہ کہ وہ ان دانشوروں کی بمباری بند کرنے کی خواہش نہیں مان سکتا۔ امریکہ نے ایک پالیسی بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ جیسے جیسے رمضان قریب آرہا ہے امریکہ اور دیگر اتحادی ممالک کو مزید دہشت گرد حملوں کے بارے میں تشویش ہے۔ اتحادیوں کیلئے اس کے سوا کوئی چارہ کار نہیں کہ وہ دہشت گردوں کے نیٹ ورک تک پہنچے اور ہر جگہ سے دہشت گردوں کو اکھاڑ پھینکے۔ دن مہینہ اور سال کوئی بھی ہو۔
تو آئیے دیکھتے ہیں کہ اس مقدس مہینے کے تقدس کے مسلمانوں پہ کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں کہ اصل روزہ محض ایک خارجی رسم نہیں بلکہ وہ ایک باطنی عمل ہے وہ مسلمان کی نفسیاتی حالت کا ایک جسمانی اظہار ہے۔ روزہ پابند زندگی کی ایک مشق ہے۔ روزے میں کھانا پینا چھڑانے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کو زندگی میں’’یہ کرو ، وہ نہ کرو‘‘ کے ایک لازمی کورس سے گزار کر سبق دیا جائے کہ اسی طرح تم کو پوری زندگی گزارنی ہے اس طرح تم کو ساری زندگی کیلئے ’’روزہ دار‘‘ بن جانا ہے۔ روزے کے مہینے کی پابند زندگی دراصل پورے سال اور ساری عمر کیلئے پابند زندگی کی ایک علامت ہے اگر ایسا نہیں ہے تو حدیث کے الفاظ میں اللہ کو اس کی حاجت نہیں کہ کوئی شخص محض اپنا کھانا پینا چھوڑ دے۔
روزہ… جس کو عربی میں صوم انگریزی میں فاسٹنگ اور ہندی میں برت کہتے ہیں، ہر مذہب میں کسی نہ کسی طور پایا جاتا ہے۔ رمضان کے مہینے کو حدیث میں ’’صبر کا مہینہ‘‘ (شہر الصبر) کہا گیا ہے۔ صبر و استقامت بلاشبہ زندگی کی سب سے بڑی طاقت ہے یہی تمام فتوحات اور کامیابیوں کا راز ہے۔ حقیقی روزہ صبر کی صفات پیدا کرتا ہے اور صبر ہی وہ شے ہے جو تمام اعلیٰ کامیابیوں کا دروازہ ہے۔ روزہ کیلئے عربی میں لفظ صوم کے اصل معنی ہیں ’’رکنا‘‘۔ صائم کے معنی ہیں ’’رکنے والا‘‘ ۔ زمانہ قدیم میں مشکل اوقات میں گھوڑا انسان کا سب سے بڑا ساتھی تھا۔ جنگ اور دشوار قسم کے سفر میں وہ انسان کے کام آتا تھا۔ اس مقصد کیلئے تربیت دینے کا ایک طریقہ یہ بھی تھا کہ گھوڑے کو محدود مدت کیلئے بھوکا پیاسا رکھا جائے تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ سختی کو برداشت کرسکے۔ اس طرح کے تربیت یافتہ گھوڑے کو ’’خیل صائم‘‘ (روزہ دار گھوڑا) کہتے تھے۔ اس طرح صائم سے مراد وہ انسان ہے جو کھانے پینے اور ازدواجی تعلقات سے وقتی طور پر رک جائے۔ یہ رکنا اور پرہیز کرنا آدمی کے اندر برداشت کی صلاحیت پیدا کرتا ہے وہ اس قابل ہوجاتا ہے کہ جب سختیاں اور دشواریاں پیش آئیں تو وہ ان کے مقابلے میں پوری طرح جم سکے۔
یہ حقیقت ہے کہ اسلامی کیلنڈر میں رمضان سب سے زیادہ مقدس مہینہ ہے۔ اتنا مقدس کہ قرآن شریف کا نزول اسی مبارک مہینے میں ہوا ۔ جنگ بدر 17رمضان کو لڑی گئی تھی جس میں خود حضورﷺ کی زیر کمان غازیوں کو پہلی فتح مبین حاصل ہوئی تھی۔ اس لئے یہ مقدس مہینہ کبھی کوئی مسئلہ تھا ہی نہیں۔ تاریخ حیرت انگیز طور پر رمضان کے مہینہ کی خصوصیت کی تصدیق کرتی ہے۔ روحانی مقابلہ کا یہ مہینہ اسلام کی تاریخ میں فوجی مقابلہ کا مہینہ بھی رہا ہے۔ اسلام اور غیر اسلام کے کئی بڑے معرکے اسی مہینے میں پیش آئے۔ مثال کے طور پر ان میں سے چند معرکوں کا ذکر کرتا ہوں۔
(1) جنگ بدر رمضان 2ء: جس میں رسول ﷺاور اصحاب رسول کو قریش کے اوپر فیصلہ کن فتح حاصل ہوئی۔
(2) فتح مکہ رمضان 8ء : جس نے پورے عرب پر اسلام کو غالب کردیا۔
(3) جنگ تبوک: رجب میں شروع ہوکر رمضان میں ختم ہوئی۔
(4) فلسطین رمضان 15ء : عمرو بن العاصؓ نے فلسطین کو فتح کرکے بیت المقدس کو اسلام کی حدود سلطنت میں شامل کیا۔
(5) معرکہ اسپین رمضان 91ء: طارق بن زیادنے اسپین میں کامیاب پیش قدمی کی۔
(6) سندھ رمضان :96 محمد بن قاسم سندھ میں داخل ہوا اور وہاں اسلام کو پھیلایا۔
(7) اندلس رمضان 138ء: عبدالرحمٰن الداخل اندلس میں فتح یاب ہوا اور وہاں باقاعدہ سلطنت امویہ قائم کی۔
(8) صقلیہ رمضان 212ء: زیاد بن الاغلب نے جزیرہ صقلیہ کو فتح کیا۔
(9) حروب صلیبیہ رمضان 584ء: صلیبی جنگ میں صلاح الدین ایوبی نے صلیبی طاقتوں کو شکست دی۔
(10) معرکہ یمن جالوت رمضان 658ء: جس نے تاتاریوں کو شکست دیکر مسلم دنیا میں ان کی پیش قدمی کو روک دیا۔
(11) جنگ سویز رمضان 1393ء: مصری فوجوں نے اسرائیلی فوج کو شکست دیکر نہر سویز پر دوبارہ قبضہ کرلیا۔ ماضی قریب16اکتوبر1973 کی یہ جنگ جوکہ یہودیوں کے مقدس ’’یوم کپور‘‘ کے موقع پر لڑی گئی تھی تاریخ میں یہ جنگ ’’جنگ رمضان‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔ علاوہ ازیں ایران اور عراق کی آٹھ سالہ جنگ میں آٹھ بار رمضان المبارک وارد ہوا لیکن جنگ نہیں روکی گئی۔ لبنان الجزائر اور افغانستان میں افغان گروپوں کے درمیان خانہ جنگیوں میں بھی جنگ نہیں روکی گئی۔
اس قسم کے تاریخی واقعات بتاتے ہیں کہ روزہ اور جدوجہد میں کوئی تضاد نہیں ہے۔ روزہ کی مشقت آدمی کو کمزور نہیں کرتی۔ بلکہ اس کو اس قابل بناتی ہے کہ حق و باطل کے معرکہ میں زیادہ قوت کے ساتھ حصہ لے سکے۔