جنگلات تو جلنے کے لیے ہوتے ہیں
چند ماہ قبل وزیر جنگلات سردار جاوید ایوب خان ہمارے گاؤں کجھورلہ تشریف لائے۔ کچھ لوگوں نے یہ موقع غنیمت جان کر جنگلات کے ملازمین کے ہاتھوں جنگلات کی کٹائی کا مسئلہ ان کی توجہ میں لانے پر زور دیا۔ ہم میں سے چند افراد کا موقف تھا کہ مقامی ملازمین نے جنگلات کی کٹائی روکنے کی یقین دہانی کروائی تھی، انہیں وعدہ پورا کرنے کا موقع دینا چائیے۔
مقامی ملازمین نے صرف اتنا کیا کہ پہلے کی طرح ٹھیکیداروں کو درخت فروخت کرنے کے بجائے جب کسی نے فوتگی یا شادی کے لیے درخت منظور کروایا تو ساتھ چند مزید درخت بلیک میں فروخت کر ڈالے۔ اس پر بھی احتجاج ہوا۔ تو جنگلات کی کٹائی کے کاروبار میں کچھ فرق پڑا۔ مگر صرف ہمارے علاقہ میں۔ اگلے قانونی اقدام کے طور پر میں نے سیکرٹری جنگلات فرحت میر کو ٹیلیفون کیا تو انہوں نے کہا کہ ہم ٹھیکداروں کے اڈوں اور آروں کے فوٹو بنوا کر انہیں ارسال کریں تاکہ ان کے ٹھکانوں پر اچانک چھاپے مارے جائیں۔ میں نے کہا جناب آپ اپنا کام ہمیں سونپ رہے ہیں۔ دوسرا ایسا ہم تب کریںاگر آپ کے ملازمین ملوث نہ ہوں ۔ آپ اپنے ملازمین کو قابو کریں جنگل کی کٹائی کا کاروبار خود بخود ختم ہو جائے گا۔ مگر ایسا ہونا تھا نہ ہوا۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ جنگلات کے کاروبار کا حصہ اوپر تک سب کو ملتا ہے۔
اب رمضان شروع ہوتے ہی آزاد کشمیر بھر کے جنگلات جلنا شروع ہو گئے ہیں۔ شاید آگ لگانے والوں کا خیال ہے کہ رمضان میں لوگ نڈھال گھروں میں لیٹے ہوئے ہوں گے اس لیے فروخت کیے جانے والے درختوں کے نشانات مٹانے کا بہترین موقع ہے۔ تین دن قبل کجھورلہ سے لے کر گھوڑا تک اتنی آگے پھیلی ہوئی تھی کہ تنگ لنک روڈز سے گاڑی نکالنا بھی مشکل تھا۔ سڑک کے دونوں اطراف آگ کے شعلے بلند ہو رہے تھے۔ مقامی وزیر مطلوب انقلابی سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ انہیں بتایا گیا کہ چیل کے زندہ درخت نہیں جل رہے۔ اس کا مطلب تو یہی ہوا کہ زندہ درخت نہ جلیں لیکن اگر کاٹے گئے درختوں کے نشانات مٹانے کے لیے آگ لگی ہوئی ہے تو یہ کوئی مسلہ نہیں ہے۔ کیونکہ جرم تو آخر چھپانا ہی پڑتا ہے۔
وزیر تعلیم مطلوب انقلابی کے کہنے پر ڈی ایف او کوٹلی نے مجھے ایک برائے نام فون کیا مگر کارروائی نہ کی۔ میں نے اسے دوسرے دن موبائل ٹیکسٹ کیا کہ رات کو مجھے آگ نظر آ رہی ہے مگر اس نے کوئی پرواہ نہ کی ۔ آج میں نے اسے ٹیلفون کیا تو اس نے عجیب منطق کا مظاہر کرتے ہوئے کہا کہ آگ تو ہر سال لگتی ہے یہ کوئی نئی بات نہیں۔ عوام آگ لگاتے ہیں اور عوام ہی اس کو بجھائیں۔ آپ خود مقامی لوگوں کو ساتھ لےکر آگ بجھا دیں۔ جب میں نے کہا کہ تنخواہ آپ لیتے ہیں اور کام میں کروں۔ تو وہ کہنے لگا کہ جنگل سے فائدہ بھی تو عوام ہی اٹھاتے ہیں۔
اس پر میں نے فون بند کر دیا کیونکہ مجھے لگ رہا تھا کہ وہ روزہ میں نہیں کسی نشے کی حالت میں بات کررہا تھا۔ اس نشہ کو گفتگو سے اتارا نہیں جا سکتا تھا۔ اس ملک کے ملازمین خود کو ملازم نہیں بلکہ حاکم تصور کرتے ہیں۔ ایسے حاکم جن کی نوکری کا مقصد عوام کا استحصال کرنا ہے۔ اس ملک کے عوام ریاستی حکمرانوں اورملازمین سے اتنے تنگ آ چکے ہیں کہ جلد یا بدیر ٹکراؤ ہو کر ہی رہے گا۔