فرانس احتجاجی مظاہروں کی زد میں

فرانس جل رہا ہے۔  پچھلے دو ہفتوں سے  دارالحکومت پیرس سمیت ملک کے بڑے بڑے شہروں اور قصبوں میں  ہزاروں کی تعداد میں کارکن، طلبا و زندگی کے کم و بیش سبھی شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد ہر روز شاہراہوں، سڑکوں اور پارکوں وغیرہ میں ٹائر جلا کر اپنے احتجاجی مظاہرے کر رہے ہیں۔  پولیس کی جانب سے انہیں تتر بتر کرنے کے لیے واٹر کیننز اور آنسو گیس کا بے دریغ استعمال بھی انہیں ان ’غیر معمولی‘ مظاہروں سے نہیں روک سکا ۔

ملک میں میٹرو اور ریل گاڑیوں کی آمد و رفت بند پڑی ہے  اور کارکن مظاہروں میں شامل ہیں ۔ آئل ریفائنریز  کے کارکنوں کی ہڑتالوں کے باعث ملک بھر میں   پٹرول و تیل کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے اور یہاں تک کہ ہڑتالوں کے باعث ملک میں بجلی و توانائی پیدا کرنے والے ’ ایٹمی پلانٹ‘ بھی بند پڑے ہیں ۔ فرانسیسی اشرافیہ کی ٹانگیں لرز رہی ہیں کیونکہ انہیں خطرہ ہے کہ آنے والے دنوں میں یہ احتجاجی مظاہرے اور کارکنوں کی ہڑتالیں ’متشددانہ رخ‘ بھی اختیار کر سکتی ہیں ۔ ان احتجاجی مظاہروں اور ہڑتالوں نے اگر اور کچھ نہیں تو کم سے کم یہ ثابت کر دیا ہے کہ  ’محنت کش طبقہ زندہ ہے‘ اور معاشرے میں اپنے حقوق اور اُن کے تحفظ کے لیے متحد ہے۔

فرانس میں یہ ہزاروں کارکن اور طلبا صدر فرانسس ہولاندے  Francois Hollande کی اعلان کردہ ’ لیبر مارکیٹ سے متعلقہ اصلاحات ‘ کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں جنہیں  فرانسیسی عوام کے  نچلے و متوسط طبقے کے خلاف قرار دیا گیا ہے۔  ملک کے طول و عرض میں سڑکوں پر نکلے ہوئے مظاہرین کو روکنے اور اُن کے احتجاجات  پر قابو پانے کے لیے صدر اولاند نے جو ’خصوصی فرمان‘ جاری کیا ہے،  وہ بے اثر ثابت ہو رہا ہے۔   نوجوان طلبا  اس حکم کی خلاف ورزی کررہے ہیں۔  یہ کہا جا سکتا ہے یہ یہ صدارتی فرمان ، اپنے مطالبات منوانے کے لیے مظاہرین کی قوت و اتحاد کے سامنے کوئی وقعت نہیں رکھتا اور وہ ٹس سے مس ہوتے دکھائی نہیں دیتے ۔

فرانس میں جاری اِن مظاہروں اور ہڑتالوں کو ’وسیع یورپی تناظر ‘ میں دیکھا جائے تو یہ صرف فرانس میں محنت کشوں کے حقوق کو محدود کردینے اور اُن کی ’ ٹریڈ یونینوں‘ کی قوت اور بازار روزگار کے امور میں ان کے عمل دخل کو کمزور بنانے کے لیے یورپی یونین کے رکن ممالک کی بعض حکومتوں کی اُن سرمایہ دارانہ پالیسیوں کا  حصہ ہیں جو یہ صنعتکاروں، آجروں اور سرمایہ داروں کے تحفظ کے لیے متعارف کروائی جا رہی ہیں ۔ یہ حکومتی چاہتی ہیں کہ  آجروں کو زیادہ سے زیادہ منافع ملے اور صنعتکاروں اور سرمایہ کاری کرنے والوں کے مالی مفادات کا ہر طرح سے ہر ایک حلقے میں تحفظ کیا جائے ۔

فرانسیسی صدر فرانسس ہولاندے Francois Hollande روزگار کی منڈی میں کارکنوں کے ’اوقات کار‘ کو بڑھانا چاہتے ہیں اور اس کے ساتھ ہی وہ  لوگوں کو روزگار سے فارغ کرنے  سے متعلقہ قوانین کو نرم کر دینا چاہتے ہیں۔ یعنی اگر کوئی آجر اپنے کسی کارکن کو روزگار سے فارغ کرنا چاہتا ہو تو وہ اُسے با آسانی نوکری سے نکال سکے گا۔  اس کے ساتھ ہی ان اصلاحات کے تحت ’ لچکدار ملازمتیں‘ متعارف کروائے جائیں گے، بالکل ویسے ہی جیسے کہ جرمنی میں دیکھا گیا تھا ۔ ڈنمارک میں اس سلسلے میں حکومت  کی حکمت عملی پر عمل نہیں ہو سکا تھا۔  لیکن فرانس میں یہ معاملہ اِس لیے بھی شدید صورت اختیار کر گیا ہے کہ وہاں سوشلسٹ پارٹی سے تعلق رکھنے والے صدر کی جانب سے یہ سب کچھ کیا جا رہا ہے۔ اوران کا اصل نشانہ محنت کش طبقہ ہے ۔ با الفاظ دیگر ایک سوشل ڈیموکریٹ صدر اپنے ہی مزدور طبقے کو دھوکا دے رہا ہے ۔

فرانسیسی لیبر مارکیٹ میں اصلاحات سے متعلقہ صدارتی فرمان کی ملک کے طول و عرض میں مزاحمت کی جا رہی ہے لیکن یورپی یونین صدر اولاند کی حمایت کر رہی ہے  جو کسی حد تک قابل فہم ہے۔ یورپی یونین کا کمیشن پچھلے دس سال سے کوشش کر رہا ہے کہ فرانس میں  ایسی اصلاحات نہ کی جائیں کہ تنخواہوں میں کمی ہو اور  ویلفیئر کا معیار گر جائے ۔ یورپی یونین کے کمیشن نے یہی پالیسی یونین کے دوسرے رکن ملکوں کے لیے بھی اپنا رکھی ہے ۔ بعض کا خیال ہے کہ فرانس میں پنشن کا معیار بہت اچھا ہے۔ پنشن پر جانے والوں کو روزگار سے علیحدہ ہونا مہنگا  نہیں پڑتا ۔ لیکن یہ بھی درست ہے کہ ہمیشہ کے لیے اس صورت حال کو بحال بھی نہیں رکھا جا سکتا۔

بورژوا ذہنیت یہ بات کھل کر ظاہر کرتی ہے کہ کئی ایک وجوہات کی بنا پر اور اب ملک میں جاری محنت کشوں اور طلبا کے احتجاجی مظاہرے اِس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ فرانسیسی صدر  اسی  صورت حال میں مبتلا ہیں جس کا سامنا یونان کی حکومت کو  کرنا پڑ رہا ہے۔ یہ صورت حال فرانس کے لیے کسی بھی لحاظ سے بہتر نہیں ہے۔  فرانس کو اپنے ہاں حالات کو معمول پر لانے کے لیے محنت کشوں اور طلبا کے مطالبات ماننے ہی ہوں گے۔ بصورت دیگر محنت کشوں اور طلبا کی جدو جہد مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔  اور حالات  نا خوشگوار رخ اختیار کر سکتے ہیں ۔