برطانیہ میں ماہِ رمضان

الحمداللہ امسال بھی ہمیں ماہِ رمضان کی سعادت نصیب ہوئی۔ سوموار 6 جون کوبرطانیہ میں رمضان کا پہلا روزہ رکھا گیا۔ اس سال رمضان کا روزہ برطانیہ سمیت پورے یورپ میں لگ بھگ اٹھارہ گھنٹے سے لے کر بائیس گھنٹے تک کا ہو گا، جس کی وجہ سے مسلمانوں میں صبر کے ساتھ اضطراب بھی پایا جا رہا ہے۔

رمضان کا مہینہ ایک معنوں میں صبر کی عکاسی کا مہینہ ہے۔ جس میں اللہ مسلمانوں کو اس بات کا موقعہ فراہم کرتا ہے کہ وہ زندگی کو اللہ کے بتائے ہوئے راستے پر چلنے کا عہد کریں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اللہ کی باتوں کو صحیح طور پر مان رہے ہیں ؟ یا کیا ہم رمضان کو محض ایک تہوار کی طور پر منا رہے ہیں؟ یا کیا صرف بھوکا پیاسا رہنا ہی روزہ ہے؟ یا کیا ہم اپنی زندگی کی عکاسی کر رہے ہیں؟ ایسے کئی سوال ہیں جن کا جواب ہمیں اپنے اندر تلاش کرنا ہوگا اور اس کا جواب ہمیں اسی رمضان کے مقدس مہینے میں ملے گا ۔ تو آئیے سب سے پہلے رمضان کے حوالے سے کچھ باتیں کریں اور ساتھ ہی ساتھ اپنی زندگی کی عکاسی بھی کریں۔

رمضان صرف بھوکا پیاسا رہنے کا مہینہ نہیں ہے بلکہ رمضان اسلامی سال کا ایک مقدس مہینہ ہے جس میں اللہ شیطان کو قید کر دیتا ہے اور اپنے بندوں پر رحمتوں کی بارش کرتا ہے۔ رمضان میں لوگوں کو اپنے غصہّ پر قابو رکھنا چاہئے اور کسی جھگڑے جھمیلے سے گریز کرنا چاہئے۔ اس مہینے میں مسلمانوں کو روزہ رکھنے کے ساتھ ساتھ اپنی جنسی خواہشات سے بھی پرہیز کرنا چاہئے اور غریبوں اور مسکینوں میں زکوٰۃ  بانٹنی چاہئے۔ حاملہ، حائضہ، ضعیف، مسافر، بیمار اوروہ بچے جو بلوغت تک نہیں پہنچے، وہ روزے سے مستثنی ہیں۔

روزہ رکھنا دراصل اللہ کو خوش کرنا اور اپنے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ کے نقشِ قدم پر چلنے کی ایک عمدہ مثال ہے۔ روزہ کو اگر وزن کم کرنے یا پرہیز کرنے کی نیت سے رکھا جائے تو یہ ایک رسم کہلائے گا۔ اس کے علاوہ اگر کوئی رمضان میں روزہ رکھ کر اس کے اصل معنی اور جذبہ سے غافل رہے تو یہ بھی محض ایک رسم ہوگا کیونکہ بہت سارے لوگ بے علمی میں روزے کو رسمی طور پر رکھتے ہیں، جو کہ ایک نادانی ہے۔ اس طرح سے روزہ رکھنے سے اس کی اہمیت ختم ہو جائے گی اور اس سے روح کو تقویت نہیں ملے گی۔
حضرت محمد ﷺ نے فرمایا کہ رمضان صبر ، دوسرے انسانوں سے ہمدردی ، اللہ سے قربت، کثرت سے عبادت، قرآن کی تلاوت اورقرآن کو سننے کا مہینہ ہے۔ حضرت محمد ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ ان ہی باتوں کے ذریعہ بندہ قیامت کے روز اللہ سے اپنی سفارش اور گناہ کا کفارہ کروائےگا۔

حضرت محمد ﷺ نے فرمایا کہ میرے پاس جبریل آئے تھے، جب میں نے پہلی سیڑھی پر قدم رکھا تو انہوں نے کہا: ہلاک و برباد ہوجائے وہ شخص جو رمضان المبارک کا مہینہ پائے پھر بھی اس کی بخشش نہ ہو ، میں نے کہا :آمین۔ جب میں نے دوسری سیڑھی پر قدم رکھا تو انہوں نے کہا:  ہلاک و برباد ہوجائے وہ شخص جس کے سامنے آپکا نامِ مبارک لیا جائے اور وہ آپ کی خدمت اقدس میں درود شریف نہ بھیجے، میں نے کہا:آمین۔ جب میں نے تیسری سیڑھی پر قدم رکھا تو انہوں نے کہا ہلاک و برباد ہوجائے وہ شخص جو اپنے والدین کو بڑھاپے کی حالت میں پائے لیکن وہ(ان کی خدمت نہ کرے) جنت میں داخل نہ ہو ، میں نے کہا: آمین۔ (ترمذی)

بارہا رمضان میں دیکھا گیا ہے کہ کچھ لوگ افطار کا عمدہ اعلیٰ انتطام کرتے ہیں اور روز مرہ کے عبادت اور تلاوت سے غافل ہوجاتے ہیں۔ آج کل افطار پارٹی اس کی ایک عمدہ مثال ہے جہاں لوگ جمع ہو کر اپنی شخصیت کی نمائش کرتے ہیں ۔ ہم یہاں بھول جاتے ہیں کہ روزے کا مقصد سادگی ہے نہ کہ خواہش کو پورا کرنا اور جشن منانا جیسا کہ افطار کی پارٹیوں میں دیکھا جاتا ہے۔ قرآن نے فرمایا ہے، یٰبنیء ادَمَ خُذُوا زِینتَکمُ عندِکُلِّ مَسجِدِ وکُلُوا و اشربُو اوَ لَا تسُرِ فُو ا اِنّہُ لَا یُحِبّ المُسرِفیِنَ: (الا۔عرَافِ:۳۱) اے اولادِ آدم ہرنماز کے وقت اپنا لباس زینت (پہن) لیا کرو اور کھاؤ پیو اور حد سے زیادہ خرچ نہ کرو کہ بیشک وہ بے جا خرچ کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا ۔

رمضان میں ایک اور عام غلطی ہم سب کرتے ہیں جب روزے کو سو کر یا آرام کر کے گزارتے ہیں۔ حالانکہ ہونا یہ چاہئے کہ اس مہینے میں لوگوں کو زیادہ سے زیادہ عبادت کرنی چاہئے ۔ تاہم اس مہینے میں سحری کے لئے جاگنا بہتوں کے لئے ایک دشوار بات ہوتی ہے۔ خاص کر ان لوگوں کے لئے جن کے لئے روز مرہ کے کام و کاج پر جانا ضروری ہوتا ہے۔ ایسے لوگوں کو اپنے کام کے مطابق یا تو چھٹی لے لینی چاہئے یا وہ اپنے کام کے اوقات میں تبدیلی کر لے تاکہ انہیں عبادت کرنے میں آسانی ہو۔

اس سال برطانیہ میں زیادہ تر لوگوں کے افطار کا وقت کافی تاخیر سے ہورہا ہے مثلاً لندن میں افطار کا وقت  9:20شام تو سحری کا وقت 2:44 ہے۔ اس کے علاوہ اسکاٹ لینڈ اور کئی دوسرے مقامات پر اس سے بھی زیادہ تاخیر میں افطار اور سحری کی ابتدا ہے۔ تاہم ڈنمارک، سویڈن، ناروے اور آئیس لینڈ وغیرہ میں لگ بھگ روزہ بیس سے بائیس گھنٹے کا روزہ ہے ۔ جس کے لئے علماء نے ان ملکوں میں روزے اور عبادت کے لئے ایک فتویٰ جاری کیا ہے کہ وہاں کے لوگ یا تو سعودی عرب کے وقت پر افطار کریں یا قریبی ترکی مساجد کے اوقات کے مطابق بھی روزہ کھول سکتے ہیں۔

(NHS-National Health Service)این ایچ ایس جس کے ماتحت برطانیہ کے ہسپتال اور جنرل سرجری کاکام ہوتا ہے، کے ترجمان کا کہنا ہے کہ رمضان میں وہ اپنے مسلمان ملازمین کو کام سے چھٹی اور ڈیوٹی اوقات کی تبدیلی کے لئے آسانیاں میسر کرتے ہیں۔ تاکہ اس کا مسلم اسٹاف اپنی سہولت کے مطابق  کام کر سکے۔ اس سال اسکول کے امتحان میں بھی مسلم بچوں کو رمضان کی وجہ سے کافی دشواریاں ہو رہی ہیں۔ جس کے لئے اسکول کے ہیڈ ماسٹرز نے مسلم بچوں کے لئے خاص سہولت کا انتظام کیا ہے۔ تاہم اسکول کے ہیڈ ماسٹرز نے اس بات کا بھی اعتراف کیا ہے کہ آنے والے چند سال بچوں کے لئے کافی دشوارہوں گے۔  ٹیچرس یونین نے حکومت کو اس بات کا بھی مشورہ دیا ہے کہ رمضان کی وجہ سے امتحان کے اوقات میں تبدیلی کر دی جائے۔ لیکن امتحان ریگولیٹر نے اس گزارش کو منظور نہیں کیا۔

یہاں یہ بات بتانا بھی دلچسپ ہے کہ اس سال برطانیہ کے مسلمان پچھلے سال کے 163100mسو میلین زکوۃ کی ادائیگی کے رکارڈ کو توڑدیں گے۔ (Human Appeal) ہیومن اپیل کے چیف ایگزیکیٹو عثمان مقبول نے بتا یا کہ پچھلے پانچ برسوں میں ان کی چیریٹی کا سالانہ عطیہ 1635mسے بڑھ کر 16330mملین ہو گیا ہے۔ جس سے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ لوگوں میں برطانیہ کے چیریٹی کو زکوٰۃ ادا کرنے کا رجحان بڑھا ہے۔ ہیومن اپیل کے فنڈ لگ بھگ دنیا کے پچیس ممالک میں جاتے ہیں جن میں اس فنڈ سے بھوکوں کے لئے کھانا، بے گھروں کے لئے مکانات، دماغی معذور لوگوں کے لئے علاج اورگھریلو تشدد جیسے واقعات کے متاثرین کی امداد کے  لئے خرچ کیا جاتا ہے۔ عثمان مقبول کا کہنا ہے کہ چیریٹی گھر سے شروع ہوتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہماری چیریٹی برطانیہ کے مسلمانوں میں مقبول ہے۔  اس کے علاوہ مسلم ہینڈ، مسلم ایڈ، زکوٰۃ فاونڈیشن اور چھوٹی بڑی کئی چیریٹی ہیں جو برطانیہ میں سر گرم ہیں اور رمضان میں مختلف طریقے سے اپنے پروجیکٹ اور ٹیلی ویژن چینل کے ذریعہ زکوٰۃ کی ادائیگی کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں۔

برطانیہ میں لمبے روزے کے اوقات کے باوجود لوگ روزے سے گریز نہیں کرتے۔ اس کی کئی وجوہات ہیں۔ ایک تو یہاں کا موسم سہانا ہوتا ہے اور دوسرے لوگوں میں  مذہب سے قربت موجود ہے۔ یہاں دیگر مذاہب کے لوگوں کو رمضان کی معلومات ہوتی ہیں اور وہ  روزہ رکھنے والوں کو بہت عزت و احترام کرتے ہیں۔ مسجدوں میں عام دنوں کے نمازوں کے علاوہ تراویح پڑھنے کا معقول انتظام ہوتا ہے اور زیادہ تر مساجد میں افطار کا بھی انتطام کیا جاتا ہے، جہاں روز مرہ کے نمازیوں کے علاوہ بیرون مما لک کے طا لب علموں اور بنا خاندان والے لوگوں کی بھیڑ ہوتی ہے۔ بہت سارے لوگ اپنے گھروں میں افطار کا انتظام کرتے ہیں جس میں خاندان کے افراد کے علاوہ دوست و احباب بھی شرکت کرتے ہیں۔

اس مضمون میں  اس بات کی پوری کوشش کی گئی ہے کہ آپ لوگوں کو برطانیہ اور یورپ میں رمضان اور اس کی اہمیت کے بارے میں بتاؤں۔  یہ ضروری ہے کہ  ہم اس مقدس مہینے کی اہمیت کو جانیں اور کوشش کریں کہ ہم سچے اور نیک مسلمان بنیں۔ ہمیں اپنے کردار کو اتنا بلند کرنا چاہئے کہ دوسرے لوگ ہمیں دیکھ کر کہیں ’اگر اُمًت ایسی ہے تو نبی کیسے ہوں گے‘۔

جب ہم اللہ کے احکام اور حضرت محمد ﷺ کی بتائی ہوئی باتوں پر عمل کر ینگے توا نشا اللہ ہمارا روزہ اور عبادت بھی ضرور قبول ہوں گی ۔ آئیے ہم سب مل کر دعا مانگیں کہ اللہ  ہمیں نیک راہ پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ ہمارے کردار کو بلند بنائے۔  ہماری قوم کو تباہی سے بچائے ۔  ہماری نسلوں کو محفوظ رکھے۔  ہماری پریشانیوں کو دور کرے۔  ہمیں باہمی رنجش سے بچائے۔  اور اللہ ہماری عبادت کو قبول فرمائے ۔ آمین ثم آمین