مقبوضہ پارلیمان

یوں تو ہم میں سے اکثر لوگ کشمیر اور القدس کے ساتھ لفظ مقبوضہ دیکھتے، سنتے، پڑھتے اور استعمال کرتے آئے ہیں لیکن ہم میں سے کسی نے بھی نہ تو لفظ مقبوضہ کبھی پارلیمان کے لیے استعمال کیا اور نہ ہی کبھی یہ بات ہمارے تصور میں آئی کہ اس قسم کا لفظ پارلیمان جیسے ادارے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ وجہ صاف ظاہر ہے کہ پارلیمان کو عوامی امنگوں کا ترجمان سمجھا جاتا ہے جبکہ مقبوضہ وہ قطعہ زمین تصور کیا جاتا ہے جس پر کوئی قابض ہو۔ اور گویا قابض شخص، گروہ یا ملک مقبوضہ علاقے کے عوام کی امنگوں کو دبانے کی کوشش کرے۔ مقبوضہ اور پارلیمان آپس میں دو متضاد چیزیں ہیں۔ اور یہ دونوں لفظ دو ایسی الگ چیزوں کی ترجمانی کرتے ہیں جنہیں آپس میں یک جا کرنا بظاہر ناممکن نظر آتا ہے۔

بہرحال اگر وطن عزیز کی پارلیمان اور لفظ مقبوضہ کا بغور جائزہ لیا جائے تو وطن عزیز کی پارلیمان کو یہ شرف حاصل ہے کہ یہ پارلیمان دنیا کی کسی بھی لغت کے اعتبار سے لفظ مقبوضہ کو جانچنے والے ہر پیمانے پر پورا اترتی ہے۔ لہٰذا یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ وطن عزیز کی پارلیمان درحقیقت ایک مقبوضہ پارلیمان ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر کیونکر اس پارلیمان کو ایک مقبوضہ پارلیمان کہا جا سکتا ہے؟ بنیادی طور پر اس پارلیمان کو مقبوضہ پارلیمان کہنے کی دو اہم وجوہات ہیں۔ اول یہ کہ یہ پارلیمان اپنے قیام سے لے کر اب تک عوامی امنگوں کی ترجمانی کرنے میں ناکام رہی ہے جو کہ مہذب دنیا کی کسی بھی پارلیمان کا بنیادی مقصد ہوتا ہے۔ اور دوم یہ کہ اس پارلیمان میں موجود سیاسی لٹیروں نے پاکستان کے عوام کے ساتھ اس طرح کا رویہ اپنایا ہوا ہے کہ جس طرح سے کسی قابض فوج کے سپہ سالار کا رویہ مقبوضہ علاقے کے لوگوں کے ساتھ ہوا کرتا ہے۔

بات اگر پہلے نکتے پر کی جائے تو اس بات میں شک کی کوئی گنجائش نہیں کہ اس پارلیمان نے کبھی پارلیمان جیسا کوئی کام سرانجام دینے کی زحمت  نہیں کی۔ ملک کی نظریاتی و جغرافیائی حدود کے تحفظ کے معاملے پر عوامی امنگوں کی ترجمانی کی بات کی جائے تو اس پارلیمان نے دنیا بھر میں پاکستان کو ایک تماشہ بنا کر رکھ دیا ہے۔ اگر بات سانحہ مشرقی پاکستان کی کی جائے تو اس پارلیمان کے ایک سابق قائد  نے ادھر تم اُدھر ہم کا نعرہ لگایا اور پھر سانحہ مشرقی پاکستان کے بعد پاکستان کو دولخت کرنے والے غدار کو بھی اسی پارلیمان نے نہ صرف ملک سے بحفاظت جانے کی اجازت دی، بلکہ کچھ عرصہ بعد لاہور میں منعقد ہونے والی اسلامی سربراہی کانفرنس کے اجلاس میں اس قوم کے غداراعظم مجیب الرحمن کو مدعو کر کے پاکستان کے عوام کے زخموں پر نمک چھڑکا۔ حمود الرحمن کمیشن کی رپورٹ کو بھی اسی پارلیمان نے منظر عام پر نہیں آنے دیا۔ یوں سانحہ مشرقی پاکستان کے ذمہ داروں کو کیفرکردار تک پہنچانے کی راہ میں  پارلیمان ہی رکاوٹ بنی۔

ڈرون حملوں کے معاملے میں بھی اسی پارلیمان نے خود کو اندھا، گونگا اور بہرہ اور مملکت خداداد پاکستان کو یتیم، مسکین اور لاوارث ثابت کرنے کی بھرپور کوشش کی۔ اسی طرح ملکی مسائل کے حل کے لیے بھی اس پارلیمان نے قانون سازی کی کبھی کوئی سنجیدہ کوش نہیں کی۔ یہی وجہ ہے کہ آزادی کے تقریباً ستر سال بعد بھی ہمارے عدالتی نظام کا زیادہ تر دارومدار اب بھی برطانوی دور کے قوانین پر ہے اور وطن عزیز کی عوام اب بھی اس بات کے منتظر ہیں کہ آخر کب انہیں ایک شفاف نظام عدل میسر آئے گا۔ لہٰذا ان تمام باتوں کو مدنظر رکھ کر کہا جا سکتا ہے کہ وطن عزیز کی پارلیمان بطور ایک ادارہ اپنے فرائض سرانجام دینے میں ناکام رہی ہے۔

گوکہ وطن عزیز کی پارلیمان اپنی آئینی اور قانونی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہی ہے اور پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ کی جانب سے بھی اس بات کا بارہا اظہار کیا جا چکا ہے کہ ملک میں بہتر طرز حکمرانی کا نام و نشان نہیں ہے۔ بہرحال پھر بھی کچھ تجزیہ کار اور دانشور اسلام آباد میں موجود پہاڑوں کے دامن میں واقع سفید رنگ کی ایک عمارت کو اب بھی پارلیمان کہنے پر بضد ہیں۔ ان دانشوروں اور تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ گو کہ عوام کی نظروں میں پارلیمان اپنی افادیت تیزی سے کھوتی جا رہی ہے اور اخلاقی طور پر اب اسے حق حکمرانی حاصل نہیں ہے لیکن پھر بھی شہر اقتدار کے پہاڑوں کے دامن میں موجود اس سفید رنگ کی عمارت کو بھی آئینی اور قانونی طور پر اس ملک پر حکمرانی کا حق حاصل ہے۔

اگر پارلیمان کے حق حکمرانی کو ان حالات میں بھی تسلیم کرنے کا عہد کیا جائے کہ جن سے آج وطن عزیز اس پارلیمان کی نااہلی کے باعث گزر رہا ہے تو ہمیں بطور قوم اس بات کا بھی ادراک ہونا چاہیے ہے کہ دراصل ہمارے ملک کی پارلیمان ایک مقبوضہ پارلیمان ہے اور سیاسی لٹیروں کی ایک فوج نے اس پارلیمان پر اپنا قبضہ جما لیا ہے۔  درحقیقت سیاسی لٹیروں کی اس فوج نے اس مقبوضہ پارلیمان کے ذریعے پورے ملک کو یرغمال بنایا ہؤا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ کچھ دانشور ہمارے اس مقبوضہ پارلیمان کے تصور اور اراکین پارلیمان کے لئے سیاسی لٹیروں کی اصطلاح سے اتفاق نہ کریں۔ لیکن یہ حقیقت بھی کسی سے پوشیدہ نہیں کہ ہمارے اراکین پارلیمان کا طرز عمل بھی کچھ اسی طرح کا رہا ہے کہ جس طرح سے کسی قابض فوج کے لٹیروں کا طرز عمل کسی مقبوضہ علاقے کے عوام کے ساتھ ہوا کرتا ہے۔ ہمارے اراکین پارلیمان بھی کسی قابض فوج کی طرح باہر سے ملک میں حکمرانی کا خواب لے کر آتے ہیں اور اپنے اقتدار کا سورج کے غروب ہونے کے ساتھ ہی مقبوضہ علاقے سے چلے جاتے ہیں۔ سیاسی لٹیروں کی قابض فوج اس مقبوضہ پارلیمان میں عوام کے درمیان سے نہیں بلکہ باہر سے آتی ہے۔ 

ان سیاسی لٹیروں کی ایک خاصیت یہ بھی ہوتی ہے کہ ان کے بچے اور ان کے تمام تر اثاثے ملک سے باہر ہوتے ہیں جیسے کہ کوئی بھی قابض فوج مقبوضہ علاقے میں اپنے قیمتی اثاثے رکھنے سے گریز کرتی ہے۔ سیاسی لٹیروں کی اس فوج کا مقصد بھی کسی قابض فوج کی طرح مقبوضہ علاقے کے عوام کے مال و دولت کو لوٹ کر ملک سے باہر لے جانا ہوتا ہے۔ کسی مقبوضہ علاقے کی ایک اور خاصیت یہ ہوتی ہے ایک وائسرائے مقبوضہ علاقے میں قابض ملک کے مفادات کا ہر ممکن تحفظ کرتا ہے۔ گو کہ مملکت خداداد پاکستان نے حضرت قائداعظم کی قیادت میں آزادی کے فوری بعد لارڈ ماﺅنٹ بیٹن کو وائسرائے نہ بنا کر دنیا بھر کو یہ پیغام دیا تھا کہ پاکستان میں اب کسی وائسرائے کے لئے کوئی جگہ نہیں، لیکن بدقسمتی سے سیاسی لٹیروں کی فوج میں ہمیشہ سے ایسے لوگ موجود رہے ہیں جو کہ امریکہ، برطانیہ، سعودی عرب اور دیگر ممالک کی حمایت سے اقتدار میں آنے کی کوششوں میں مصروف رہتے ہیں۔ اقتدار حاصل کرنے کے بعد اپنے بیرونی آقاﺅں کے اشارے پر ملکی مفادات کو قربان کرتے ہیں۔ لہٰذا یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ ان سیاسی لٹیروں میں دنیا کی کسی بھی قابض فوج کی تمام تر خصوصیات پائی جاتی ہیں۔ اس لئے  کہا جا سکتا ہے کہ سیاسی لٹیروں کی اس فوج نے پاکستان کی پارلیمان کو ایک مقبوضہ پارلیمان بنا دیا ہے۔

پڑھنے والوں کے ذہن میں جو آخری سوال آ سکتا ہے وہ یہ ہے کہ اگر ہمارے اراکین پارلیمان سیاسی لٹیرے ہیں اور ہماری پارلیمان ایک مقبوضہ پارلیمان ہے تو پھر آئین اور قانون کی کیا ضرورت ہے؟ اگر مقبوضہ علاقوں کی تاریخ کا بغور جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ دنیا کی ہر قابض فوج مقبوضہ علاقے پر اپنے قبضے کو دوام بخشنے کے لئے کوئی نہ کوئی قانونی جواز تلاش کرنے کی کوشش ضرور کرتی ہے۔ اسی طرح سے پاکستان کی پارلیمان میں موجود اس قابض فوج نے بھی اپنے اقتدار کی خاطر آئین اور قانون کا سہارا لے رکھا ہے۔