امریکہ کی ایشیا میں بڑھتی ہوئی مداخلت
- تحریر فرخ سہیل گوئندی
- ہفتہ 11 / جون / 2016
- 5187
چند روز قبل مجھے ویتنام کے دارالحکومت ہنوئی میں ایشیا اور یورپ میں سیکیورٹی اور امن کے موضوع پر بولنے کا موقع ملا۔ یہ اہتمام یورپ اور ایشیا کے ایک فورم کے تحت ہوا۔ اس فورم میں یورپ اور ایشیا کے ترقی پسند دانشور شامل ہیں۔ اس مذاکرے میں گفتگو، بحث اور مقالوں سے اندازہ ہوا کہ ایشیا کن تبدیلیوں کی طرف جا رہا ہے اور اس میں ایشیائی ممالک کے علاوہ عالمی طاقتیں کیا کردار ادا کررہی ہیں۔
مجھے مغربی ایشیا اور جنوبی ایشیا میں امن اور سلامتی کے موضوع پر چنا گیا تھا۔ یہ میرے مطالعے کا اہم موضوع ہے کہ مشرقِ وسطیٰ سے ہمارے خطے (جنوبی ایشیا) تک کی دنیا کن سٹریٹجک تبدیلیوں کا سامنا کررہی ہے۔ حال ہی میں وزیراعظم بھارت نریندر مودی کے دورۂ امریکہ کے بعد اس منظرنامے کو سمجھنے میں مزید آسانی ہوگئی ہے کہ خطے میں پاکستان کا اتحادی امریکہ اب کیسے نیا علاقائی الائنس بنا رہا ہے۔ بھارت کے ساتھ نیوکلیئر اور بحری تعلقات میں یک دم پیش رفت نے جنوبی ایشیا کا توازن بدل دیا ہے۔ اسی لیے عوامی جمہوریہ چین نے امریکہ بھارت نیوکلیئر تعلقات پر شدید ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے اس کی مخالفت کی ہے اور کہا ہے کہ پاکستان کو نیوکلیئر سپلائرز گروپ میں شامل کیے بغیر خطے میں امن ناممکن ہے۔
امریکہ نے 1783ء میں اپنے قائم ہونے پر پہلے سال کے بعد ہی عالمی سطح پر سٹریٹجک مداخلت کا آغاز کردیا تھا۔ 1784ء میں امریکہ نے الجزائر اور طرابلس میں اپنا جنگی بحری جہاز بھیج کر (تجارتی حقوق حاصل کرنے کے لیے) اس حکمت عملی کا آغاز کیا جس کے تحت وہ اب دنیا کے تمام براعظموں اور سمندروں میں اپنی بالادستی قائم کرنے کے لیے فوجی مداخلت کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ پچھلے 233 برسوں میں امریکہ نے دنیا کا کوئی ایسا خطہ نہیں چھوڑا جہاں اس نے مداخلت نہ کی ہو۔ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد یہ سمجھا جا رہا تھا کہ اب امریکہ دنیا میں فوجی اور سیاسی مداخلت کی حکمت عملی ترک کردے گا۔ لیکن ہم اگر غور سے دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ سرد جنگ کے بعد امریکہ نے یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ میں بڑے غاصبانہ انداز میں فوجی مداخلت کی پالیسی کو کم کرنے کی بجائے تیز کر دیا ہے۔ یوگوسلاویہ کے بکھر جانے کے بعد سربیا پر NATO نے اپنی تاریخ کا پہلا حملہ کیا، عراق پر دو بار یلغار اور افغانستان، شام اور لیبیا میں فوجی جارحیت، امریکہ کی اسی جنگی حکمت عملی کا نتیجہ ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ کاکیشیائی خطے، وسطی ایشیا، یوکرائن، یمن اور دیگر خطوں میں سیاسی معاملات میں عسکری دباؤ بھی شامل رہا ہے۔
سرد جنگ کے خاتمے کے بعد امریکہ درپے ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کو مستقل جنگی اکھاڑا بنائے رکھا جائے۔ اس کے لیے دہشت گرد گروپوں کا مذہبی جذباتی وجود امریکہ کی جنگی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ امریکہ طویل عرصے سے مذہب کو دنیا میں جنگ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کررہا ہے، خصوصاً اسلامی ممالک میں جہاں ایسی فصلیں بڑی زرخیزی سے اُگتی ہیں جو جنگوں اور تنازعات کو وسعت دینے کے لیے دلیل Reasons بن رہی ہیں۔ امریکہ، مشرقِ وسطیٰ کو مستقل جنگی اکھاڑا بنانے کے لیے ایسے دہشت گرد گروپوں کے لیے دو رُخی پالیسی پر کاربند ہے۔ اُن کو وجود میں لانے میں مدد گار اور پھر ان کے خاتمے کے لیے جنگ کرنے پر تیار۔ امریکہ نے مشرقِ وسطیٰ کو مستقبل میں فرقہ وارانہ بنیادوں پر تقسیم کرنے کے لیے گہری پالیسی اپنائی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ سے جنوبی ایشیا تک پھیلے امریکی مفادات میں نیا روس اور چین ایک بڑی رکاوٹ کے طور پر ابھر رہے ہیں، جس میں پاکستان اور سری لنکا اپنے تئیں پالیسی اپنانے میں کوشاں ہیں۔
پاکستان اور سری لنکا میں چین اپنے معاشی اور سٹریٹجک مفادات کے لیے طویل مدتی پالیسی پر کاربند ہے۔ پاکستان میں معاشی کاریڈورز سے لے کر گوادر کی بندرگاہ تک، چین ایک طویل مدتی سٹریٹجک پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ چین، خلیج فارس کے دہانے پر گوادر پر اپنے عسکری وجود کے ذریعے مغربی دنیا کو سپلائی ہونے والے 50% تیل پر نگاہ اور اثر قائم کرنے میں کامیاب نظر آ رہا ہے۔ گوادر تک چین کی رسائی نے جنوبی ایشیا میں طاقت کا نیا توازن بنایا ہے۔اس لیے پاکستان کا مستقل اتحادی امریکہ، جنوبی ایشیا میں بھارت سے مزید قربت بڑھانے کی طرف گامزن ہوا ہے۔ جنوبی ایشیا اس طرح امریکہ چین کشمکش میں سینڈوچ بنتا نظر آ رہا ہے۔ یقیناًایسے میں روسی فیڈریشن بھی اپنے علاقائی مفادات کے تحفظ میں پیچھے نہیں ہے، خصوصاّ کاکیشیائی اور وسطی ایشیائی خطوں میں امریکی اثرورسوخ کو روکنے کے لیے۔ کہ جہاں جارجیا میں امریکہ نے اپنے فوجی اڈے قائم کر کے روس کے گردفوجی دائرہ تنگ کر دیا ہے۔ پیسیفک سمندر میں امریکہ چین کی کشمکش مشرقِ وسطیٰ ، بحیرۂ روم، بحر ہند اور وسطی ایشیا سے کم نہیں۔ اگر ہم پیسیفک خطوں میں چین امریکہ کشمکش کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کس جانب بڑھ رہی ہے۔ امریکہ عالمی معاملات میں جارحانہ Agressiveاور چین عالمی معاملات میں سست رو Passive پالیسی کے تحت تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ پیسفک سمندر (بحرالکاہل)اور بحر ہند میں طاقت کا توازن بھارت امریکہ تعلقات میں گرم جوش پالیسیوں کے تحت بدل گیا ہے۔ بھارت خطے کی اہم بحری طاقت ہے۔ امریکہ بھارت تعلقات میں حالیہ پالیسی تبدیلی نے طاقت کا توازن بھارت اور امریکہ کے ہاں بڑھا دیا ہے۔
اگر ہم وزیراعظم بھارت نریندر مودی کی تقریر کو غور سے پڑھیں جو انہوں نے امریکہ میں اپنے حالیہ دورے میں کی ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ چین کے خلاف امریکہ بھارت دائرہ پیسفک اور انڈین اوشن میں بڑھ رہا ہے اور اس کے ساتھ بھارت، افغانستان اور مشرقِ وسطیٰ میں اپنا حصہ امریکہ سے مانگ رہا ہے۔ اس ساری صورتِ حال میں پاکستان کے لیے ایسی خارجہ پالیسی تشکیل دی جائے کہ وہ عالمی طاقتوں کا آلۂ کار بننے کی بجائے عالمی طاقتوں کی تضاداتی پالیسیوں سے قومی مفادات اٹھاتے ہوئے ایک خودمختار خارجہ پالیسی ہو۔ لیکن ایک بات طے ہے کہ ایک دو دہائیوں میں مشرقِ وسطیٰ، وسطی ایشیا، جنوبی ایشیا اور جنوب مشرقی ایشیا عالمی اور علاقائی طاقتوں کی کشمکش کا بڑا اکھاڑا بن کر رہے گا۔