پسند کی شادی ، عین اسلامی ہے
- تحریر منور علی شاہد
- اتوار 12 / جون / 2016
- 5548
زینت کی ماں پر خون سوار تھا اور غصے اور طیش کی وجہ سے اس کی ممتابیٹی کے مرنے سے پہلے ہی مر چکی تھی۔ زینت کی ماں کے ایک ہاتھ میں مٹی کا تیل اور دوسرے میں ماچس تھی۔ اٹھارہ سالہ ایک ہفتے کی دلہن زینت ماں کا یہ ناقابل یقین روپ دیکھ رہی تھی اور انتہائی خوفزدہ تھی۔ زرد چہرہ تھا اور اس کے لبوں سے آخری الفاظ جو نکلے تھے وہ یہ تھے کہ ماں ایسا مت کرو، مجھے مت مارو۔
پھر دیکھتے ہی دیکھتے زینت کہ یہ الفاظ خوفناک چیخوں میں بدل گئے اور پھر آہستہ آہستہ چیخیں مدھم ہوتی گئیں۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ ایک گھنٹہ تک زینت کے گھر سے چیخنے چلانے کی آوازیں آتی رہی تھیں۔ گویا اس کی ماں یہ لرزا دینے والا منظر دیکھتی رہی ۔ ایک ہفتہ کی دلہن بیٹی کو سرخ جوڑے میں الوداع کہنے کے وعدے پر اسی گھر میں اسے جلا کر خاکستر کردیا جہاں کبھی وہ بھاگتی پھرتی ہوگی، امی امی کہتی ہو گی۔ محلے والوں نے میڈیا کو بتایا کہ پولیس کے آنے پر اس کی جلی نعش سیڑھیوں پر پڑی تھی۔ لڑکی کے شوہر نے میڈیا کو بتایا کہ لڑکی کی والدہ اور اس کے اہل خانہ اس شرط پر زینت کو گھر لے گئے تھے کہ وہ جمعہ کو باقاعدہ اہتمام سے رخصت کریں گے۔
حالیہ ہفتوں میں لڑکی کو زندہ جلانے کا تیسراواقعہ ہے اور یہ رحجان انتہائی خطرناک ہے جس کو روکنے کی ضرورت ہے۔ گزشتہ ماہ ایبٹ آباد میں ایک 17 سالہ عنبر نامی لڑکی کو جرگہ کے حکم پر زندہ جلادیا گیا تھا، اسی طرح مری میں بھی انیس سالہ ماریہ کو تشدد کے بعد زندہ جلا دیا گیا۔ اس پس منظر میں بہت سی وجوہات ہیں۔ لیکن سب سے زیادہ اور بڑی وجہ پسند اور نا پسند کی ہے۔ جب لڑکی جب اپنی پسند کی شادی کرتی ہے تو جلتی ہے اور جب وہ گھر والوں کی پسند ماننے سے انکار کرے تو بھی جلتی ہے۔ معصوم لڑکیوں کی اپنی پسند کی شادی کی خواہش ہی جرم بن گئی، جس نے ان کو آگ کا ایندھن بنا دیا ۔ جرم کرتا کوئی ہے لیکن اس کی سزا لڑکی یا عورت کو ملتی ہے۔ کبھی لڑکی جرگوں کے فیصلے کی نذر ہو کر زندہ جلا دی جاتی ہے اور کبھی خود گھر والے غیرت کے نام پر جگرکے ٹکرے کو جلادیتے ہیں۔
پیارے نبیﷺ اور حضرت خدیجہؓ ساتھ ساتھ تجارت کیا کرتے تھے اور حضرت خدیجہؓ آپﷺ کے اخلاق، سیرت، شرافت اور کردار سے اس قدر متاثر تھیں کہ آپﷺ کو پسند کرتے ہوئے آپﷺ سے شادی کی خواہش ظاہر کی اور آپﷺ نے دعوت قبول فرمائی۔اب غیرت کے نام پر قتل کرنے والے اور اس پر خاموش تماشائی بنے رہنے والے علماء کرام اور نظریاتی اسلامی کونسل بتائے کہ پسند کی شادی کہاں منع ہے۔ کہاں سے ثابت ہوتا ہے کہ پسند کی شادی کی سزا قتل یا زندہ جلانا ہے۔ اسلام کی تو پہلی شادی ہی پسند کی ہے۔ حبیب جالب نے خوب کہا تھا:
اس دیس میں لگتا ہے کہ عدالت نہیں ہوتی
جس دیس میں انسان کی حفاظت نہیں ہوتی
پاکستان میں بھی اب یہی لگتا ہے کہ کوئی عدالت نہیں لگتی جو انسانوں کی حفاظت کرے۔ ایک وحشت ہے جو پورے پاکستان میں رقص کر رہی ہے۔ پاکستان کے لوگوں کی ذہنی نشو نما جن خطوط پر مولوی اور نظام تعلیم کر رہا ہے اس کی وجہ سے آج حوا کی بیٹی کا پاکستان میں کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ پاکستان کے اندر اسلامی نظریاتی کونسل کی موجودگی کے بعد اب پاکستان کوکسی بیرونی دشمن کی ضرورت نہیں رہی۔ اس نے اپنے فیصلوں سے ملک کی فضا ایسی بنا دی ہے جہاں ہر طرف، ہر وقت عورت خطرات ہی میں گھری رہے گی ۔ اس پر تشدد بڑھے گا۔ اب تک کہ ایسے واقعات کی کسی بھی عالم یا مذہبی جماعت نے مذمت نہیں کی۔ اس سے یہ بات اخذ کی جاسکتی ہے کہ ان کی دانست میں یہ سب کچھ درست ہے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ پاکستان کے اندر لڑکیوں اور عورتوں کے ساتھ ہر قسم کی زیادتیوں کی ایک اہم وجہ معاشرے کا مولویوں کے زیر اثر ہونا بھی ہے۔
لاہور کا واقعہ اس قدر سنگین اور ناقابل یقین ہے کہ اس کی بازگشت نہ صرف وزیراعظم ہاؤس تک جا پہنچی بلکہ سینٹ نے بھی اس کا نوٹس لیا ہے۔ وزیراعظم نے واقعہ کی رپورٹ طلب کی ہے۔ جبکہ سینٹ میں ممبران نے عورتوں کے زندہ جلائے جانے واقعات پر بحث کرتے ہوئے سخت تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ معاشرے میں بچوں کو زندہ جلانے کا رحجان بہت خوفناک ہے۔ معاشرے کی اصلاح کرنے کی ضرورت ہے۔ سینٹ کے مختلف اراکین نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ ہم سماجی پسماندگی کی طرف جا رہے ہیں۔ ایسے واقعات دہشت گردی ہیں۔ قانون سخت نہ کیا گیا تو ایسے واقعات کو روکنا ممکن نہ ہوگا۔ جمعرات کو سینٹ چئیرمین نے ہاؤس کی توجہ اس طرف مبذول کرائی تھی کہ پچھلے چند دنوں سے بچیوں کو زندہ جلایا جا رہا ہے۔ یہ نہایت افسوسناک اور اسلام کی تعلیمات کے خلاف ہے۔ اس کو قابل تعزیر جرم قرار دینا چاہئے۔ اپوزیشن لیڈر اعتزاز احسن نے کہا آج کی خوفناک خبر یہ ہے کہ ماں نے اپنی بیٹی کو زندہ جلادیا اور پھر اعتراف بھی کر رہی ہے۔
سینٹر شیری رحمان نے کہا کہ لڑکیوں کا استحصال کیا جا رہا ہے اس کو سنجیدہ لینے کی ضرورت ہے۔ سینٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ اسلام سے پہلے بچیوں کو زندہ درگو کر دیا جاتا تھا۔ اب ان کو جلایا جا رہا ہے اور تسلسل کے ساتھ اسلامی نظریاتی کونسل خواتین اور بچیوں کے خلاف سفارشات دے رہی ہے۔ یہ بات بہت خوش آئند ہے کہ سینٹ میں لڑکیوں کے زندہ جلائے جانے کا نوٹس لیا گیا ہے۔ چئیرمین سینٹ کی طرف سے اس معاملہ کو قایمہ کمیٹی آف ہیومن رائٹس کے حوالے کیا گیا ہے تاکہ مناسب قانون سازی کے لئے اقدام ہو سکے۔