رمضان، مہنگائی اور ہمارے رویے

سوچا رمضان کا بابرکت مہینہ شروع ہو گیا ہے اشیائے ضرورت کی چند چیزیں جمع کر لوں تا کہ رمضان کے دنوں میں رش اور افراتفری سے بچ سکوں( کیو ں کہ ہم لوگ جمع کرنے کو بہتر خیال کرتے ہیں بجائے قناعت کے اوراس یقین کے ساتھ کہ پتھر میں چیونٹی بھی رزق پاتی ہے۔ بس سعی شرط ہے)۔ دوکاندار سے تھوڑی بہت دُعا سلام تھی اور موصوف بھی کچھ ہم سے واقف تھے یا پھر ہمارے واقفِ حال تھے یہ تو رب ہی بہتر جانتا ہے۔ خیر ازلی مسکراہٹ سے استقبال ہوا ۔

دوکاندار کو وہی چیزیں دہرائیں جو درکار تھیں ۔ اور جن کی دستیابی کا خیال رمضان جیسے با برکت مہینے میں رش سے بچنے کے لیے آیا تھا۔ دوکاندار نے سکون سے تمام فہرست سنی اور استہزائیہ انداز میں مُسکرا دیا۔ابھی میں اس مسکراہٹ کا راز جاننے کی کوشش کررہا تھا کہ دکاندار گویا ہؤا:
"سرکار یہ چیزیں ابھی آپ کو نہیں ملیں گی۔کچھ دنوں تک دستیاب ہوں گی۔ مارکیٹ میں آج کل ان کی کافی قلت ہے ۔(یہ فقرے اُس نے مونچھوں کو تاؤ دیتے ہوئے ببانگ دہل کہے)۔ دراصل سیزن شروع ہوگیا ہے نا اس لیے یہ تمام چیزیں گوداموں میں سٹور ہو گئی ہیں۔(یہ الفاظ مجھے ایک آنکھ مارتے ہوئے ارشاد فرمائی گئی جس پر میں تلملا بھی نہ سکا کیوں کہ اُس سے اُدھار جو لیتا تھا)۔عرض کیا کہ ابھی تو عید الفطر کا دور دور تک نشاں نہیں۔ اور شادی بیاہ کا سیزن بھی اختتام تک پہنچ چکا ہے ۔ اور کوئی اقلیتی تہوار بھی قریب نہیں ہے۔ پھر کاہے کا سیزن اور کاہے کا منافع۔

’بھولے بادشاہو! رمضان کا سیزن شروع ہوگیا ہے نا‘۔ اُس نے ایک تمسخرانہ انداز سے میری کم علمی کا تمسخر اڑاتے ہوئے قہقہ لگایا تو مجھے اپنے پاؤں کے نیچے سے زمین سرکتی ہوئی محسوس ہوئی۔ اور منمناتی ہوئی آواز میں استفسار کیا کہ محترم شاید آپ غلط بول گئے ہیں عید کی جگہ رمضان بول دیا شاید۔ جب وہ اپنی بات پر قائم رہا تو پوچھا کہ بھائی صاحب رمضان تو ایثار کا مہینہ ہے اور اس مہینے میں تو غرباء ، اقربا، مساکین، یتیموں کی مدد کا کہا گیا ہے نہ کہ منافع خوری کا ۔ تو وہ کھسیانی ہنستے ہوئے بولا ’صاحب جی! جاؤ اگلی دوکان پر ، سال میں ایک ہی مہینہ تو سیزن کا ہوتا ہے اور آپ چاہتے ہیں کہ اس میں بھی اب منافع نہ کمائیں‘۔

ایک لمحہ غور کیجئے کہ جس مہینے میں آسمان سے رحمتیں برس رہی ہوں گی۔ ہم اُس مہینے کی ساعتوں کو ناجائز منافع خوری اور سیزن لگانے کے چکر میں صرف کر رہے ہوں گے۔ پھر کیسے رحمت ہمارے بگڑے معاملات سنوارے گی۔ جب شیطان کے قید ہونے کے باوجود ہم شیطانی افعال سے جان چھڑانے کے بجائے چند ٹکوں کی خاطر دنیا و عاقت دونوں تباہ کرتے رہیں گے تو پھر کیسے یہ تصور بھی کیا جا سکتا ہے کہ رمضان کی عبادات ہماری اصلاح کر پائیں گی۔ جس مہینے میں عبادات کا اجر کئی گنا بڑھ جاتا ہے ، ہم اُس با برکت مہینے میں بھی اپنے دامن میں جب خار سمیٹ رہے ہیں تو پھر کیسے ہم توقع کر سکتے ہیں کہ اللہ اپنی رحمت کے جوش سے ہماری بگڑی سنوار دے گا۔

اللہ نے تو ہم کو موقع دیا۔ جب ہم خود ہی اس موقع سے فائدہ اٹھانے کے بجاے اُلٹا اپنا دامن تار تار کرنے پر تُلے ہوئے ہیں ۔ تو خدا کی رحمت کیسے ہم تک پہنچے گی۔ بخشش ہمیں ڈھونڈتی ہے ۔ اُن لمحوں میں جب ہم مضبوط قدموں سے دھرتی پر چلتے ہیں۔ جب ہم بخشش کو ٹھکرا رہے ہیں تو بخشش اُن لمحوں میں کیسے ہم پر سایہ کرے گی ، جب ہمارے قدموں میں کھڑے رہنے کی طاقت نہیں رہے گی۔ یہ ایک لمحہ فکریہ ہے۔ سوچئے اگر سوچنے کی طاقت ہو تو۔