شہرِ ترسوس
- تحریر فرخ سہیل گوئندی
- منگل 14 / جون / 2016
- 5616
استنبول کا ایک ایئرپورٹ (اتاترک ایئرپورٹ) استنبول شہر کے ایک کونے میں ہے تو دوسرا صبیحہ گوکچن ایئرپورٹ دوسرے کونے میں۔ یوں تو اتاترک ایئرپورٹ ہی زیادہ معروف ہے مگر شہر میں بڑھتی فضائی آمدورفت کے بعد اب یہ دونوں ایئرپورٹ بھی کم محسوس کیے جارہے ہیں۔
صبیحہ گوکچن ایئرپورٹ سے ہمیں ادانہ جانا تھا جو اپنے علاقے کا اہم ایئرپورٹ ہے۔ وہاں سے ایک گھنٹے کی ڈرائیو کے بعد میرسن۔ میرسین، ترکی کا اہم ایئر پورٹ ہے۔ ادانہ کے میدانی خطے میں پھیلا یہ علاقہ زراعت اور تاریخ کے حوالے سے اپنی ایک شاندار شناخت رکھتا ہے۔ معروف ترک ناول نگار یشار کمال اسی خطے میں پیدا ہوئے اور ان کے بیشتر ناول اِن خطوں کے رومانس میں رچے بسے نظر آتے ہیں، خصوصاً ’’اناطولیہ کہانی‘‘ اور ’’بوئے گُل‘‘۔
مجھے چار راتیں مرسین میں قیام کرنا تھا جس دوران دو دن میں نے اس علاقے کی تلاش میں صَرف کرنے تھے۔ اس میں سب سے زیادہ بے چینی مجھے ترسوس کے تاریخی شہر میں دن گزارنے کی تھی۔ یہ خطہ چکرووا کا علاقہ کہلاتا ہے۔ کپاس اس خطے کی خاص کاشت ہے۔ دریائے سیہان نے اس خطے کو ہزاروں سال سے زرخیز کرکے اسے تہذیب وتمدن کا گہوارہ بنا رکھا ہے۔ یہ ترکی میں سب سے بڑی سطح مرتفع ہے۔ اناطولیہ کی سرزمین یہاں بحیرۂ روم کو چھوتی ہے۔ مرسین جدید اور ترسوس تاریخ میں اہم ترین سمندری پورٹس رہی ہیں۔ سطح مرتفع، سمندر اور ساتھ ہی سرسبز وادیاں، ایک قدرتی مصوری کا شہکار ہے یہ خطہ۔ اسی لیے پچھلے آٹھ ہزار سال سے انسان یہاں بستے ہیں اور دنیا کی بڑی بڑی تہذیبوں نے اس خطے کے حصول کے لیے جنگیں کیں۔ مصری، بازنطینی، عرب، یونانی، رومی اور ایرانی تہذیبیں اس خطے کے حصول کے لیے مد مقابل نظر آئیں اور یہاں ان کے آثار موجود ہیں۔ وادیوں میں ان تہذیبوں کے کھنڈرات جگہ جگہ نظر آتے ہیں۔ جدید ترک قوم میں یہ خطہ کہیں کہیں عرب رسم ورواج کے بہت قریب دِکھتا ہے۔ مگر بنیادی طور پر ترک تہذیب نے اس پر گہری چھاپ ثبت کررکھی ہے جس پر یہ سب نازاں ہیں۔ اس خطے کا ذکر بائبل سمیت لاتعداد قدیم مخطوطات میں بھی ملتا ہے۔
مرسین سے تیس کلومیٹر دور بحیرۂ روم کے کنارے بازنطینی اور رومی دور کے کھنڈرات جسے وہ جنت جہنم کہتے ہیں، میں ایک بار پہلے بھی دیکھ چکا ہوں۔ بحیرۂ روم کو چھوتے پہاڑی سلسلے کے اندر یہ زیرزمین کسی ’’راہ چلتے سیاح‘‘ کے لیے کیا کشش رکھ سکتے ہیں۔ وہاں ایک دن گزارنے کے بعد منصوبے کے مطابق دوسرا دن ترسوس کے شہر میں گزارنا تھا۔ مرسین سے تیس کلومیٹر بحیرۂ روم کے کنارے پر تاریخ اور حال کا زندہ شہر۔ جب ادانہ ایئرپورٹ سے مرسین آئیں تو ترسوس راستے میں پڑتا ہے، یوں میں نے اس شہر کو تین بار چھوا تھا، پایا نہیں تھا۔ کسی خطے، علاقے یا تہذیب کو چھونے اور پانے میں بڑا فرق ہے۔ ایک ’’انتہا پسند سیاح‘‘ کے لیے پانا اہم ہے۔
صبح ہم ترسوس کے لیے نکلے۔ چکرووا کا خوشگوار موسم اور وادیاں آپ کو ایک سحر میں لے لیتی ہیں۔ بحیرۂ روم کے اردگرد سارے خطے، چاہے وہ لبنان، شام، لیبیا، فرانس، ترکی، مراکش، سپین، اٹلی ہو، قسم قسم کے اورنجز Oranges کے حوالے سے جانے جاتے ہیں۔ ترکی میں Orange کو اسی لیے پرتکال کہتے ہیں اور ہمارے ہاں مالٹا جوکہ دونوں ہی بحیرۂ روم کے ملک ہیں۔ راستے میں قسم قسم کے مالٹوں کے باغات اور سڑک کے ساتھ ساتھ چلتی ریلوے لائن ترسوس تک جاتی ہے۔ ترسوس پہنچ کر خود کو گاڑی سے علیحدہ کرنے اور اپنے قدموں سے سرزمین کو چھوئے بغیر ترسوس کی تلاش بھلا کہاں ممکن تھی۔ ترسوس شہر کی سب سے بڑی شناخت اس کا صدیوں پرانا واحد دروازہ ہے جو پتھر کی چٹانوں سے کاٹی گئی بڑی بڑی سلیبوں سے بنا ہے۔ اس کا نام قلوپطرہ گیٹ ہے۔
صدیوں پہلے قدیم شہروں کی طرح ترسوس بھی فصیلوں کے اندر تھا اور اس کے کئی گیٹ تھے۔ یہ واحد گیٹ تھا جو بچ گیا۔ شہر کی بڑی شاہراہ کے وسط میں پتھر کی سلیبوں سے بنے اس گیٹ کو کئی حملہ آوروں نے تو عبور کیا ہی ہوگا لیکن اس گیٹ کو دنیا کے مشہور دانشوروں اور مذہبی راہبوں نے بھی عبور کیا۔ آج اس کے سامنے جدید ترکی کا سرخ پرچم اور دوسری طرف اتاترک کا مجسمہ نصب ہے جو ترک قوم کا دفاع کررہا ہے۔ یہ ترسوس ہی تھا جہاں قلوپطرہ اور انتھونی ملے۔ شیکسپیئر کے مشہور ڈرامے Antony and Cleopatra میں اسی شہر کے حوالے سے مارک انتھونی کی موت کی خبر پر قلوپطرہ خودکشی کرتے ہوئے کہتی ہے کہ ’’میں مرنے کے بعد اُسے (مارک انتھونی) دریائے بَردان (Cydnus) کے کنارے ملنے جا رہی ہوں۔‘‘ قلوپطرہ گیٹ، تاریخ کے اس لافانی کردار کی کہانی کو زندہ رکھنے کے ساتھ ساتھ شہر کے ہزاروں سال پرانے طرزِ تعمیر کو بھی بیان کررہا ہے۔
اسی شہر میں حضرت عیسیٰ ؑ کا ایک حواری سینٹ پال پیدا ہوا۔ ترسوس میں پیدا ہونے والے سینٹ پال نے مسیحیت کو اناطولیہ اور شام سے لے کر یونان اور یورپ تک متعارف کروایا۔ عبرانی زبان میں سینٹ پال کو Saul of Tarsus کہتے ہیں۔ ایک یہودی گھرانے میں پیدا ہونے والا مسیحیت کا سب سے بڑا مبلغ۔ سینٹ پال نے ترسوس میں مسیحی عبادت گاہ کے ساتھ ساتھ افیسس شہر اور پورے خطے میں لاتعداد مسیحی عبادت گاہیں قائم کیں۔ قدم چلتے چلتے اس وقت یکدم تھم گئے جب میری آنکھوں کے سامنے سینٹ پال کا تعمیر کردہ پہلا چرچ تاریخی داستانوں کے ساتھ حال میں کھڑا تھا۔ ترسوس شہر آج بھی قدیم کھنڈرات کے اوپر کھڑا ہے۔ بڑے بڑے تاریخی آثار ابھی بھی اس بستی کے نیچے دفن ہیں۔ ایک مسجد جو گرجاگھر کی طرز پر دیکھی تو قدموں کی رفتار تیز کردی۔ آباد مسجد کے گیٹ پر لکھا ہے، ’’یہ گرجا گھر 300 عیسوی میں تعمیر ہوا۔1455ء رمضان اولو شہبتین احمت نے اس گرجا گھر میں مینار کی تعمیر سے توسیع کرکے مسجد میں بدل دیا۔‘‘ مسجد سے نکلتے نمازی اس خدائی عبادت گا ہ کے تاریخی سفر کی زندگی کے آثار تھے۔ایک میناری اس مسجد کے سامنے تاریخِ انسانی کا ایک قدیم کھنڈر موجود ہے جسے ترک شعبہ آرکیالوجی نے بڑی احتیاط کے ساتھ محفوظ کر دیا ہے۔ ان قدیم کھنڈروں کو نمازیوں نے مسجد کے طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔ یہاں ایک قبر ہے جہاں روایات کے مطابق پیغمبر دانیال مدفون ہیں جس کے اوپر سبز رنگ کی کلمۂ پاک لکھی چادر پڑی تھی۔ میرے سمیت دوسرے زائرین نے کھنڈروں کے اندر دریافت شدہ پیغمبر دانیال ؑ کی قبر پر فاتحہ پڑھی ۔
یہ ترسوس شہر کا مرکز ہے۔ بڑے چوک کے اردگرد چند منٹوں میں ہم ان مقامات کو دیکھ سکتے ہیں ۔ بلدیہ کی طرف سے اطراف کا رخ بتانے والے اشاروں پہ لکھا تھا ، ’’اُولو جامع۔‘‘ آہ ، یہ یہاں ہے! روایت ہے کہ حضرت بلالؓ بھی ترسوس میں کہیں دفن ہوئے۔ لیکن اُن کے روضۂ مبارک کے بارے میں دیگر روایات بھی ہیں۔ البتہ مسجد موجود ہے۔ مجھے اب اِس غلامِ رسولﷺ کے نام سے منسوب مسجد کی زیارت کرنا تھی جس کی اذان نے حجاز کے سرداروں کے صدیوں پرانے نظام اور روایات میں دراڑیں ڈال دیں۔ اُولو جامع کو جامع کبیر اور جامع نور بھی کہتے ہیں۔اس کے پہلو میں ایک مسجد اور بھی ہے، جامع بلال حبشی۔
جامع نور، قدیم اور جدید ترک فنِ تعمیر کا شاندار شاہکار ہے۔ ایک مینار پر بڑا سا کلاک لگا ہے۔ مسجد1579ء میں تعمیر ہوئی اور کلاک والا مینار 1895ء میں تعمیر ہوا ۔ مسجد نور کے ساتھ قدیم مسجد میں روایات کے مطابق دو پیغمبروں ؑ حضرت لقمان ؑ اور حضرت شیثؑ کی قبریں ہیں اور ساتھ ہی ساتویں عباسی خلیفہ مامون الرشید کی قبر ہے۔ شہر کے مرکز میں موجود یہ آثارات، مزارات اور کھنڈرات ، ترسوس شہر کی قدامت کو بیان کر رہے تھے ۔ اس شہر میں عربوں کی مشہور ڈش حمس بھی پورے ترکی میں مقبول ہے۔ اس سے لطف اندوز ہوئے بغیر بھلا ترسوس کے باسیوں کے ذوق سے کیسے آشنائی ہو سکتی تھی۔ روایتی ریسٹورنٹ میں حمس سالم(حمس کے اوپر خشک کیا گوشت باسترما) سے ترسوس کے باسیوں کے ذائقے کا اندازہ ہوا۔ اس کے بعد رومی دَور کی بچی سڑک ، شلال کا چشمہ جہاں سکندرِ اعظم / مقدونی اس کے شفاف پانی سے نہایا کہ یہ اس کی خواہش تھی کہ ترسوس کی فتح کے بعد دس خوبصورت آبشاروں کے قدرتی حسن سے محظوظ ہو۔ شام گئے لمحے ختم ہو گئے مگر ترسوس کی تاریخ ختم نہ ہوئی۔