کراچی براستہ نارووال
- تحریر سرور غزالی
- منگل 14 / جون / 2016
- 10191
پشاور سے واپسی پر ہم لوگ پیر بدھائی کے بس اڈے پر اترے اور وہیں سے بس پکڑ کر ملکوال کی طرف چل پڑے۔ اس زمانے میں ڈائیووبس سروس کا چلن نہیں تھا۔ نہ ہی بس اسٹاپ اتنے شاندار اور آرام دہ ہوا کر تے تھے۔ بس دھول مٹی سے اٹی ایک جگہ ہو تی تھی جہاں بسیں رکتیں ۔ بے شمار بسوں کا جنگل ہوتا۔شوراتنا کہ کان پڑی آواز سنائی نہ دیتی۔ بس میں سوار ہوتے وقت ہم نے کنڈکٹر سے یہی پوچھا تھا کہ کیا یہ بس ملکوال جائے گی اور ہمیں اس نے یہی بتا یا تھاکہ ہاں۔ مگر جب بس چل پڑی اور وہی کنڈکٹر ٹکٹ لینے آیا اور اس سے ہم نے ملکوال کا ٹکٹ خریدنا چاہا تو اس نے ہمیں بتا یا کہ یہ بس ملکوال نہیں نارووال جا رہی ہے۔ دراصل پنڈی سے کوئی بس ملکوال جاتی ہی نہیں تھی۔ اور اسی لئے اس کنڈکٹر کے نے ٹھیک سے سنے بغیر یہ فرض کر لیا کہ ہم نارووال کا پوچھ رہے ہیں۔ نارووال کا نام ہم نے کبھی بسوں پر لکھا تو دیکھا ہو گا ، لیکن ہمارے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ یہ کہاں ہو گا اور آیا یہ کوئی شہر ہے یاکسی گاؤں کا نام ہے۔ بس چلتی رہی اور ہم پریشان ہوتے رہے۔ پھر اسی کنڈکٹر نے ہی ہماری مشکل حل کر نا چاہی اور ہمیں بتا یا کہ اسی بس سے ہم خوشاب اتر جائیں اور وہاں سے ٹرین پکڑ کر ملکوال چلے جائیں۔
ہمیں ریل سے سفر کر نے کا تو بچپن سے تجربہ تھا مگر کسی بس سے اتنا طویل سفر کر نے کا ہمیں بالکل بھی تجربہ نہیں تھا۔ میں نے قمر سے کہا کہ خوشاب کا مجھے پتہ ہے کہ وہاں سے ملکوال ٹرین جاتی ہے۔اور میں اس نام سے یوں واقف ہوں کہ خالوجان نے مجھے بتا یا تھا خوشاب سے ٹرین آتی ہے اور وہاں سے ، وہاں کی سوغات’ ڈھوڈا ‘ کسی ساتھی کے ہاتھوں انہوں نے منگوایا بھی تھا۔
ہم نے حامی بھر لی اورخوشاب کا ٹکٹ خرید کر مست ہو کر بیٹھ گئے اور سفر کا مزہ لینے لگے۔
ہم لوگ اسلام آباد ، پنڈی سے چل کر پاکستان کے پوٹھوہاری علاقے سے گزرتے تقریباََ سو کلو میٹر دور پہاڑوں پر چڑھتے اترتے کافی اونچائی پر واقع کلر کہار پہنچ گئے۔ ان دنوں موٹر وے موجود نہ تھی۔لہذا جو بھی سڑک دستیاب تھی غنیمت تھی۔ کہیں چوڑی کہیں پتلی، بل کھاتی لہراتی سڑک۔کلر کہار اس وقت تک بطور کسی تفریح گاہ بھی دریافت نہیں ہؤا تھا۔ البتہ یہاں دربا رسخی آہو باہو نام کا ایک مزار تھا جس پر عقیدت مند آیا کر تے ہیں۔ بس یہاں رکی ہم سب اترے اور اس جگہ سے خاصے مر عوب ہوئے۔ ہم نے ایک دوسرے سے کہا کہ دیکھنا ایک دن یہ علاقہ مری وغیرہ کی طرح ایک تفریح گا ہ کے طورپر ضرور ابھرے گا۔ اور ہوا بھی یہی۔
کلر کہار چکوال سے صرف 26کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ اور اب موٹر وے ایم ٹو اسلام آباد لاہور کے ساتھ واقع ہے۔ یہاں ناشپاتی ، انار اور لوکاٹ کے باغ پائے جاتے ہیں۔اور ان باغات میں مور بھی گھومتے نظرآتے ہیں۔ جن کے بارے میں مشہور ہے کہ انہیں یہاں سے کہیں اور لے جایا جائے تو وہ اندھے ہو جاتے ہیں۔ گمان غالب ہے کہ قدرتی ماحول میں یہ مور کی پرورش کی بہترین جگہ ہے اور اسی لیے یہ کہاوت مشہور ہو گئی ہے۔ یا پھر ان بزرگ کی کرامات ہے جو یہاں دفن ہیں۔ یہ علاقہ تخت بابری کی وجہ سے بھی مشہور ہے اور کہا جاتا ہے کہ بابر کشمیر جاتے ہوئے اکثر یہاں قیام کر تا تھا۔ کلر کہار اپنی
نمکین پانی کی جھیل کی وجہ سے بھی مشہور ہے۔ جو سطح سمندر سے پندرہ سو فٹ کی بلندی پر آٹھ کلومیٹر پر پھیلی ایک جھیل ہے۔ اس کی گہرائی ساڑھے چار فٹ ہے۔ صاف و شفاف اور قدرتی پانی سے لبریز پہاڑوں کے درمیان چشموں سے بھر کر یہ جھیل بہتی ہوئی ندی میں بدل جاتی ہے۔ (ماخذ معلومات وکی پیڈیا)۔ موروں کی اس وادی میں ہم لوگ ٹھہر کر تازہ دم ہوئے اور پھر بس کا سفر دوبارہ شروع ہو گیا۔ ہمیں معلوم نہ تھا کہ ہم پر کیا گزرنے والی ہے۔
یہاں سے خوشاب تک کا فاصلہ زیاد ہ نہ تھا۔ ہم خوشاب پہنچ گئے۔ بس اسٹاپ سے ہم ریلوے اسٹیشن پہنچے۔ اسٹیشن خالی تھا۔ کوئی شخص موجود نہ تھا۔ قمر نے شک کا اظہار کیا کہ کیا پتہ یہاں سے ٹرین کی سروس بحال ہے بھی کہ نہیں۔ مگر میں نے اسے تسلی دی۔یہاں چھوٹی جگہوں پر ریل کے گزرنے کے اوقات کے علاوہ ایسا ہی سناٹا ہوا کر تاہے۔ ابھی تھوڑی دیر بعد ریل کا عملہ اور پھر مسافر آنا شروع ہو جائیں گے۔ہم لوگ وہیں کسی بینچ پر بیٹھ کر سستانے لگے۔ تھوڑی دیر بعد ہی سب سے پہلے ایک ملازم نے ریل کی آمد کا گھنٹہ بجا یا اور دھیرے دھیرے اسٹیشن مسافروں اور ریل کے عملے سے بھر گیا۔ ملکوال کی ٹرین کا وقت ہوا اور پھر گاڑی نمودار ہوئی۔ میرے پاس ریل سے سفر کر نے کا ایک پاس تو تھا ۔ مگر وہ اس روٹ پر وہ ناکارہ تھا۔ ریلوے ملازمین کے بچے جو بچپن سے ریل میں سفر کرتے آئے ہوں اور خاص کر ہم جیسے جو بچپن سے ہی تن تہنا سفر کر نے کے عادی ہوں، وہ یہ جانتے ہیں کہ پیسوں کی بچت کیسے کی جاتی ہے۔ سو ہم نے ٹی ٹی کو تلاش کیا اور اس سے اپنا مدعا بیان کیا اور اپنا پاس نکال کر دکھایا تاکہ اسے ہماری بات کا یقین بھی ہو جائے۔ اس نے پوچھا کہاں جانا ہے ۔ میں نے بتا یا ملکوال اورساتھ میں یہ بھی کہ وہاں ریلوے اسٹیشن پر میرے خالو بطور ٹکٹ کلکٹر کام کرتے ہیں۔ اچھا توتم لوگ شاہ جی کے بھانجے ہو۔ تو اس بیابان میں شام گئے تم لوگ یہاں کیا کر رہے ہو۔ ٹی ٹی نے الٹا ہم سے سوال کر ڈالا۔ پھر ہم نے اسے اپنے بھٹکنے کی ساری داستان گوش گزار کی۔ جسے سن کر وہ بولا اس سے آگے والے ڈبے میں سیکنڈ کلاس میں اوپر کی دو برتھیں خالی ہیں اوپر چڑھ کر چپ چاپ سو جاؤ۔ ملکوال ہم رات کے بارہ بجے کے قریب پہنچیں گے۔ ملکوال پہنچنے پر میں خود تم لوگوں کو اٹھا کر اتار دونگا۔ دن بھر کے تھکے ہو بے فکر ہو کر سو جاؤ۔
ہم لوگ جو ریل کے ڈبے، سروس اور عملے سے بہت مانوس تھے، ٹی ٹی چچا کے یقین دہانی کو کافی جان کرکمپار ٹمنٹ میں گھس گئے اور جا کربرتھ پرخواب خرگوش کے مزے لینے لگے۔ رات بارہ بجے ٹی ٹی چچا نے ہمیں جگایا اور ہم دونوں آنکھیں ملتے اسٹیشن پر اتر گئے۔ خالو جان اسٹیشن پر موجود نہ تھے۔ چنانچہ ہم گھر کی طرف چل پڑے۔ پانچ منٹ میں ہم خالہ کے گھر کے سامنے کھڑے تھے۔ رات کے بارہ بج رہے تھے۔ ایسے میں بلا اطلاع میرا ایک دوست کے ساتھ یوں اچانک پہنچ جا ناخالو جان کی ڈانٹ کو آبیل مار مجھے کے مصداق دعوت دینا ہی تھا۔ مگر مرتا کیا نہ کرتا۔۔۔
ہم ۔۔۔ بلکہ میں نے دروازہ کھٹکھٹا یا۔ جواب نہ دارد۔۔۔کئی دفعہ اسی عمل کو دہرانے پر اندر سے خالوجان کی آواز سنائی دی۔۔۔کو ن ہے اتنی رات گئے کیا بات ہے۔۔۔خالوجان دروازہ کھولیئے میں سرور ہوں ، پنڈی سے آرہا ہوں۔۔۔۔۔اچھا۔۔خالو جان کی آوازمیں حیرت صاف سنی جاسکتی تھی۔ پھر خالو جان نے دروازہ کھولا۔۔۔۔اور چھوٹتے ہی سوال کر ڈالا۔۔۔ارے اس وقت کدھر ۔۔۔کہاں سے۔۔۔۔وہ۔۔وہ میں نے ہکلاتے ہوئے کہا۔۔۔دراصل ہم بس کے ذریعہ براہ راستہ خوشاب یہاں پہنچے ہیں۔۔۔۔ خوشاب کے راستے۔۔ خالو جان نے بڑبڑاتے ہوئے دہرایا۔ اور بولے چلو منھ ہاتھ دھو لو اور کچھ کھا پی لو۔ چھوٹا بھائی ان کی مد د کر نے لگا اور وہ چارپائی نکال کر لانے لگے جس پر ہم دونوں کو سونا تھا۔ اور خالہ جلدی جلدی چولہا جوڑنے لگیں۔ شکیل بستر رضائی نکال رہا تھا۔ گرما گرم انڈے اور پراٹھوں سے سیراب ہو کر ہم سب سو نے کے لیے بستر پر لیٹ گئے۔صبح اٹھ کر خالو کب اسٹیشن۔۔۔۔ یعنی اپنے دفتر چلے گئے ہمیں پتہ ہی نہ چلا۔ دن کے کھانے کے وقت البتہ جب وہ گھر آئے تو ان کا موڈ ہمیں کچھ ا چھا نہیں لگا۔ کھانا کھانے کے بعد آم کا دور چلا اور اس وقت تک خالو جان نے اپنا سوالنامہ تیار کر لیا ہو گا ۔۔۔ میں نے سوچا۔۔۔میں ان کی عادت سے واقف تھا وہ کسی بھی مسلے کو فوراََ نہیں بلکہ بعد میں نہایت سکون سے ڈسکس کر نے عادی تھے۔ اور پھر اپنی رائے دیتے ۔ یہ سننے والے پر منحصرہوتا کہ آیا وہ اپنا مدعا بیان کرنا چاہتا یا خاموش رہتا۔ ان کی تجویز سے اتفاق کرو یا نہ کرو وہ اپنی بات منوانے پر کبھی بھی مصر نہ ہوتے۔
پھر خالو جان نے بات شروع کی۔۔۔تو تم لوگ بس سے خوشاب کیوں گئے۔ وہاں کی سیر بھی کی کیا ؟ انہوں نے سوال کیا۔
جی نہیں میں نے مری ہوئی آواز میں کہا۔ اور پھر خالو جان کو تفصیل بتا نے لگا کہ کس طرح ہم غلط بس میں بیٹھ کر بھٹکتے بھٹکتے خوشاب اور ٹرین کے ذریعہ ملکوال پہنچے۔
اچھا یہ سب تو ہوا۔۔۔۔ مگر کیا تم لوگوں کے پاس اتنے پیسے بھی نہ تھے کہ تم خوشاب سے ٹکٹ خرید کر ریل میں سوار ہوتے۔۔۔۔ خالو جان اپنے اصل مو ضوع کی طرف آگئے۔۔۔۔انہیں اصل میں غصہ اس بات پر ہی تھا کہ ہم لوگوں نے خوشاب سے ملکوال تک کا سفر بغیر ٹکٹ کیوں کیا۔ خالو جان اس معاملے میں ہمیشہ سے ہی بہت سخت تھے۔ ہم میں سے کسی کو اس بات کی اجازت نہیں تھی کہ بلا ٹکٹ سفر کریں اور وہ بھی ان کا نام استعمال کر کے۔ ضرور اس ٹی ٹی نے خالو جان کو بتا یا ہوگا کہ کس طرح ہم اس کے پاس گئے تھے اور اس نے ہمیں بلا ٹکٹ سفر کر نے کی اجازت دے دی تھی۔ تم لوگ جانتے ہو خالو جان نے اپنی بات بڑھائی۔ ہم لوگوں کو یہ بات زیب نہیں دیتی کہ ہم لوگ اس طرح کی کوئی حرکت کریں جو احکام الہی کے منافی ہو۔ اس کے علاوہ اگر کوئی اسپیشل چیکنگ ہوتی تو پھر کوئی رعایت نہ ہوسکتی تھی۔ اور ان سب باتوں کے علاوہ اب میں اگر کبھی اپنے اس ساتھی کے کسی رشتہ دار کو بلا ٹکٹ سفر کر نے پر پکڑوں تو کیسے، میں تو احسان مند ہو چکا ہوں اس کا۔ اتنی ساری باتیں تو ہم لوگوں نے کبھی سوچی بھی نہ تھیں۔
ملکوال میں ہم لوگوں کو ہمیشہ کے بر عکس اس دفعہ زیادہ دن نہیں رکنا تھا۔ ہم پہلے ہی ادھر ادھر گھوم پھر کر کافی وقت گزار چکے تھے۔ اور ہم لوگوں کی بی ایس سی کی کلاسز شروع ہو رہی تھیں۔ ہم تینوں ہی کو جلد از جلد کراچی پہنچنا تھا۔اب مسلہ یہ تھا کہ کراچی کے لیے ہم تینوں کی سیٹیں بک نہیں تھیں۔ ہمیں اپنے ااپنے ریلوے پاس پر سیٹیں بک کرو انی تھیں۔ بھائی اور میرے لیے ایک پاس تھا اور قمر کا اپنا ۔ مگر سیٹ بک کروانے کے لیے پندرہ دن قبل کا وقت درکار تھا ۔بصورت دیگر سیٹ کا ملنا ممکن نہ تھا ۔ خالوجان نے یہ کیا کہ پہلے تو پندرہ دن کے بعد کی سیٹ بک کروالی۔ اور اس کے بعد کوشش کر تے رہے کہ کسی طرح کسی خالی ہو نے والی سیٹ کو بک کر والیا جائے۔ لیکن یہ کام اتنا آسان نہ تھا۔ پھر ہم لوگوں کو سرگودھا سے بیٹھنے اور آگے رات کے سفر کے لئے برتھ ملنے کی امید بھی بندھ گئی۔ مسلہ یہ کھڑا ہوگیا کہ ملکوال سے سرگودھا تک کا سفر کیسے کیا جائے۔ اور پھر عین سفر کے دن ، صبح یہ طے کیا گیا کہ ہم تینوں کو ریلوے کے ڈاک کے ڈبے میں سفر کرنا ہو گا۔
ڈاک کا ڈبا کسی بھی ریل گاڑی میں ہمیشہ سے ایک پوری بوگی کی صورت میں لگا ہو تا ہے۔ اور ریل کے ذریعے ڈاک کی ترسیل کتنی اہم ہے اس کا اندازہ اس شعر سے ملاحظہ فرمائیں۔ اگر کسی کو کسی کا خط نہ مل رہا ہو تو وہ یوں شکایت کیا کر تا تھا :
کیا ڈاک گاڑی جل گئی کیا ڈاک خانہ بند
کیا خطا مجھ سے ہوئی کہ خط کا آنابند
ڈاک کے ڈبے میں اس سفر کو بھی میں ایک خوش گوار یادوں کا حصہ مانتا ہوں۔ ڈاک کا عملہ اس پورے ڈبے میں صرف دو افراد پر ہی مشتمل تھا۔ مگرتمام ڈاک ایک فردہی ٹھکانے لگا رہا تھا۔ نہایت خوش اسلوبی سے وہ شخص خطوں کو چھانٹ چھانٹ کر ایک خاکی رنگ کے بڑے سے تھیلے میں بند کر تا جاتا اور اس کا ساتھی تھیلے کے منہ پر ڈوری باندھتا اور اسے ایک مخصوص سیل لگا تا۔ سیل کو آگ پر پگھلا کر لگا یا جاتا اور اس پر ڈاک کی مہر لگا ئی جاتی۔ اور ایسے سر بمہر تھیلے پوسٹ آفس میں دوبارہ ایک ڈاک کا کارندہ ہی کھولنے کا مجاز ہوتا۔ اب تو نہ جانے ایسا کچھ ہوتا ہے کہ نہیں ۔
ڈاک کے ڈبے میں گفتگو بھی ہوتی رہی اور میں نے ازراہ مذاق اس شخص سے کہا کہ آپ کیا ایک ایک خط کو دیکھتے ہو، چھانٹتے ہو۔ کیوں نہ ہاتھ بھر بھر اٹھا کر ہاتھوں پر تول کر تھیلے میں بھر دیا جائے۔ کیا ایسا نہیں کیا جا سکتا ۔میرے اس مذاحیہ سوال پر وہ شخص ذرا بھی خوش نہ ہوا بلکہ الٹا ناراض ہونے لگا۔ وہ ایک نہایت ایماندار ڈاک کا ملازم تھا۔ اور اسے ڈاک کی ذ مہ داری پر شک و شبہ بھی پسند نہ تھا۔ ۔۔۔۔اس طر ح ملکوال سے سرگودھا اور پھر کراچی کا سفر طے ہو گیا۔۔۔۔۔