دلت اور مسلمان یکساں مظالم کے شکار
- تحریر محمد آصف اقبال
- بدھ 15 / جون / 2016
- 5025
مسلمانوں کے رہنماؤں و جماعتوں کی جانب سے یہ بات کافی پہلے سے کہی جاتی رہی ہے کہ دہشت گردی کے نام پر مسلمانوں کی گرفتاریوں کے سلسلے کی بنیاد درست نہیں ہے۔ اس کے باوجود بڑی تعداد میں مسلمان دہشت گردی کے نام پر گرفتار ہیں۔ ان گرفتار شدگان میں زیادہ تر ایسے ہیں جو شبہ پر گرفتار ہوئے ہیں یا ان کے خلاف شواہد و ثبوتوں کی کمی ہے۔ اس کے باوجود نہ اِن باتوں پر آج تک کان دھرا گیا اور نہ ہی گرفتاریوں میں میں کمی آئی۔ یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ ناانصافی کی ایک اور مثال ابھی حال میں سامنے آئی ہے۔ بابری مسجد دھماکہ کیس میں ملزم نصیر الدین احمدنے 23 سال جے پور جیل میں گزارے اور پھر انہیں بری کیا گیا۔ محمد عامر کا بھی کچھ ایسا ہی معاملہ ہے۔ 14 سال جیل میں کاٹنے کے بعد ان کے اوپر لگے 19 میں سے 17 الزامات میں انہیں بے قصور پایا گیا۔ عامر کو دہلی، روہتک، پانی پت اور غازی آباد میں بم پلانٹ کرنے کے الزام میں جیل میں رکھا گیا تھا۔
دوسری جانب مرکزی حکومت کے وزیر قانون سدانند گوڑا نے نریندر مودی حکومت کے دو سال مکمل ہونے پر علی گڑھ میں 'جشن ترقی' مناتے ہوئے ایک تقریب میں کہا کہ 'دہشت گردی کے جھوٹے الزامات کی بنیاد پر مسلم نوجوانوں کو گرفتار کرنا تشویشناک ہے۔ ہم اِس میں تبدیلی لانے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔ لاء کمیشن ان معاملات کی قانونی عمل میں تبدیلی لانے کے لئے رپورٹ تیار کر رہا ہے۔ سپریم کورٹ کے جج کی نگرانی میں رپورٹ تیار کی جا رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی کئی ماہرین قانون بھی رپورٹ کی تیاری کے عمل میں مصروف ہیں'۔ اس گفتگو کا جو بھی مقصد ہو، یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ نہ صرف مسلمان بلکہ ملک کے عوام اور حکومت میں موجود افرادبھی حقیقت سے اچھی طرح واقف ہیں۔لیکن اقدامات میں دیر کی جاتی ہے یا پھر اس طرح کے مسائل کو سرے سے نظر انداز کیا جاتا ہے۔اگرچہ ان ملزموں کے حق میں اقدامات کرنے کی بات وزیر قانون کی جانب سے کہی جارہی ہے اس کے باوجود جو قدم بہت پہلے اٹھایا جانا تھا، وہ ابھی تک صرف غوروفکر تک ہی محدود ہے۔
توجہ طلب بات یہ ہے کہ وزیر قانون نے یہ بات اُس وقت کہی جب ان سے مسلم نوجوانوں پر دہشت گردی کے جھوٹے الزام لگائے جانے اور رہائی کے بعد اسامنے آنے والے مسائل کے بارے میں سوال کیا گیا۔ اس سے پہلے گزشتہ ہفتے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے بھی یہ مسئلہ اٹھایا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ حکومت نے دہشت گردی سے متعلق معاملات کو لے کر اپنا نقطہ نظر کو تبدیل کیاہے۔ ساتھ ہی انہوں نے پولیس کو مشورہ دیا تھا کہ ان معا ملات کو ڈیل کرتے ہوئے صوابدید پر کام کیا جانا چاہئے۔ وزیر قانون ہوں یا وزیر داخلہ، باتیں دونوں کی بہت اچھی ہیں اور ہم اس کا خیر مقدم بھی کرتے ہیں، لیکن مسلمانوں کے حوالے سے بی جے پی اور آر ایس ایس کی جو پالیسیاں اب تک سامنے آتی رہی ہیں ان کی روشنی میں نہیں لگتا کہ وہ اس معاملے میں سنجیدہ ہیں۔ اور کوئی بڑا مثبت قدم اٹھا سکیں گے۔ لیکن وقت سے پہلے کسی بات کی نفی بھی صحیح نہیں ہے، اس لئے مان لیتے ہیں کہ جو کہا گیا ہے وہ جلد ہی پورا بھی کیا جائے گا۔
دوسری طرف یہ خبر بھی آج کل عام ہو رہی ہے کی بی جے پی کے صدر امت شاہ گزشتہ دنوں کسی حد درجہ پسماندہ گرجابند کے گھر کھانا کھا تے نظر آئے۔ انہوں نے ایسا کیوں کیا؟ یہ پوچھنے والا تو کوئی نہیں ہے۔ ہاں یہ ضرور کہا جا رہا ہے کہ جس طرح کانگریس کے راہل گاندھی دلتوں کے گھر کھانا کھانے پہنچ جاتے ہیں، ٹھیک اسی طرز عمل کو اختیار کرتے ہوئے بی جے پی کے امت شاہ بھی گرجابند کے گھر کھانا کھانے گئے تھے۔اور یہ گرجابند کے گھر کھانا کھاتے ہوئے فوٹو کو زیادہ سنجیدگی کے ساتھ لینے کی ضرورت بھی نہیں ہے کیونکہ اس طرح کے مناظر تو عام طور پر اتر پردیش میں اسمبلی یا پارلیمنٹری انتخابات سے قبل نظر آتے رہے ہیں۔ مذاق اڑنے والوں نے راہل گاندھی کے دلت کے گھر کھا نا کھانے کا اس وقت بھی مذاق اڑایا تھا اور مذاق اڑانے والے اِس وقت بھی مذاق اڑارہے ہیں۔اس سب کو نظر انداز کرتے ہوئے بی جے پی کو خود سے سوال کرنا چاہئے کہ وہ راہل گاندھی کے عمل کی نقالی میں کیوں مصروف ہیں ۔ جس عمل کو کبھی ڈرامہ کہا جاتا تھا،وہ ڈرامہ آج یہ لوگ خود ہی کیوں کھیل رہے ہیں؟اوراس سے حاصل کیا ہے؟
سینئر صحافی روش کمار اپنے ایک مضمون 'دوش سمرتھ کا اور سمرس بھوجن دلت کے گھر؟' میں لکھتے ہیں کہ ویسے بی جے پی کی جانب سے میڈیا کو بھیجے گئے دعوت نامہ میں گرجابند کو دلت بتایا گیا ہے جبکہ وہ حد درجہ پسماندہ کے زمرے میں آتے ہیں۔ بنارس سے اُن کے ساتھی اجے سنگھ نے اُنہیں بتایا کہ بند اور راج بھر کئی سالوں سے اوبی سی میں شامل کئے جانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ بند ماہی گیری سے منسلک ہوتے ہیں اور خوراک کے لحاظ سے گوشت خور ہوتے ہیں۔ پترِکہ ڈاٹ کا م کے ڈاکٹر اجے کرشن چترویدی نے جب ریاستی صدر موریا جی سے پوچھا تو انہوں نے بھی قبول کیا کہ گرجابند دلت نہیں ہے۔ ہمارے ساتھی اجے سنگھ نے بتایا کہ گرجابند پہلے اَپنا دَل میں تھے۔ پھر سماج وادی پارٹی سے منسلک ہو گئے اور اب بی جے پی سے منسلک ہیں لیکن بی جے پی کے لیڈر کہتے ہیں کہ وہ پارٹی کے حامی ہیں۔
دوسری طرف یہ حقیقت بھی عیاں ہے کہ ہندوستان میں دلتوں کو مندروں میں پوجا پاٹھ تک کی اجازت نہیں دی جاتی ۔ ان کے مندر الگ ہوتے ہیں اور دوسری قوموں کے مندر الگ۔ اَمت شاہ اور راہل گاندھی سے یہ سوال بھی لازماً پوچھنا چاہئے کہ دلتوں کو ملک کے تمام مندروں میں داخلے کی اجازت کیسے اور کب تک ملے گی ؟ساتھ ہی اس بارے میں پارٹی اور فرد واحد کا نظریہ کیا ہے؟ کیوں کہ صحیح بات یہی ہے کہ اَمت شاہ ہوں یا راہل گاندھی، اُن کا یا اُن جیسے دوسرے لیڈروں کا کسی دلت کے گھر کھانا کھا لینا کوئی خاص بات نہیں ہے، اس لیے کہ یہ سیاسی لوگ ہیں اور اِن کے ہر عمل کے پیچھے سیاست ہی کارفرما ہوتی ہے۔ ملک میں تبدیلی تب ہی ممکن ہے جبکہ کانگریس اور بی جے پی کے تمام لوگ ملک کے ہر گاؤں اور ہر گھر میں ایسی ہی مثال پیش کریں۔ اور اگر وہ ایسا نہیں کرتے اور اپنے موقف کی وضاحت اور عملی کوشش نہیں کرتے ،پھر جو کام آج تک نہیں ہو سکا، مستقبل قریب میں اس کی امید کن بنیادوں پر کی جا سکتی ہے؟ یہ بات اس لئے بھی کہی جا رہی ہے کہ کچھ دن پہلے ہی کا واقعہ ہے کہ ایک مندر کے پجاری اور ان کے ہمنوا ،دلتوں کے داخلہ پر روک لگاتے ہیں تو دوسری طرف دلتوں کو مندر میں داخل کرنے کے لیے ایک کوشش سامنے آتی ہے ، لیکن نہ صرف یہ کہ سماج کی جانب سے اس کا بائیکاٹ ہوتا ہے بلکہ مندر کے پجاری بھی اس عمل سے اختلاف رکھتے ہیں۔ یہ واقعہ اتراکھنڈ سے راجیہ سبھا ممبر پارلیمنٹ ترون وجے اور ان کی جانب سے کی گئی کوشش کا ہے،جس میں وہ چند دلتوں کو مندر میں عبادت کی غرض سے لے کر جاتے ہیں لیکن دہرادون کے پاس چراتا میں ان پر حملہ ہوتا ہے اورساتھ ہی پٹائی بھی ہوتی ہے۔وجہ صرف یہ تھی کہ ترون وجے دہرادون کے پوہر علاقے کے ایک قدیم شیو مندر میں دلتوں کے ایک گروپ کو داخل کرنے کے لئے ساتھ گئے تھے۔ اس واقعہ کے نتیجہ میں اصل فکر و عمل کا مشاہدہ کیا جاسکتا ہے جس کے قیام کی منظم و منصوبہ بند کوششیں جاری ہیں۔
اس پس منظر میں جس طرح آج ہندوستان کے دلت اور مسلمان مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، اور معاشرہ جس طرح اُ ن کو اور اُن کے مسائل کو نظر انداز کررہاہے،واقعات کی روشنی میں اگر مسئلہ کے حل کی بات کی جائے تو دو صورتیں سامنے آتی ہیں۔ ایک یہ کہ دلت اور مسلمانوں کو مشترک مسائل اور ان کے حل کے لیے متحد ہونا چاہئے۔ دوئم یہ کہ ہمت و حوصلہ اور منظم و منصوبہ بند سعی و جہد کے ساتھ ظلم کے خلاف آواز اٹھاتے رہنا چاہئے۔ کیونکہ ظلم سے نجات اگر درکار ہے تو خاموشی کے ساتھ یہ حاصل ہونے والی نہیں ہے۔ اور ویسے بھی خاموشی کو عموماً موت سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اگر ظلم کے خلاف آواز اٹھانے والوں کی شناخت مٹ گئی یا مٹا دی گئی تو چہار جانب ظلم کا غلبہ ہوگا۔ ان حالات میں نہ ملک میں امن قائم ہوسکتا ہے ، نہ ترقی کی منزلیں طے کی جاسکتی ہیں، نہ ملک آگے بڑھے گا اور نہ ہی دنیا میں ہماری کوئی حیثیت ہوگی۔