خون ریزی اور اسلام دشمنی

اتوار بارہ جون مقامی وقت کے مطابق رات کے 2:00 بجے امریکہ کے (Orlando) اورلانڈو شہر میں ایک مسلم نام کے آدمی نے ہم جنس پرستوں کے نائٹ کلب میں داخل ہو کر اندھادھند فائرنگ کی اور 49لوگوں کی جان لے لی۔لگ بھگ 50لوگ بُر ی طرح سے زخمی ہو کر ہسپتال میں زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہے ہیں۔یہ سانحہ امریکی تاریخ کا سب سے افسوس ناک واقعہ ہے جس میں ایک شخص نے فائرنگ کرکے اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کو مار دیا۔

اس نائٹ کلب کا نام (Pulse)پلس ہے جہاں لگ بھگ تین سو لوگ موجود تھے ۔ وہ ایک خاص تقریب منا رہے تھے۔اس آدمی کے پاس ایک خود کار رائفل تھی جس سے اس نے اپنے ناپاک ارادے کو بہت جلد اور تیزی سے سر انجام دیا۔2:09منٹ پر نائٹ کلب نے فیس بُک پر یہ پیغام جاری کیا کہ تمام لوگ پلس کلب سے نکل کر بھاگ کر جاب بچائیں۔ ۔کہا جا رہا ہے کہ یہ آدمی AR-15رائفل اپنے ہاتھ میں تھامے ہوئے تھا اور نائٹ کلب کے ایک سیکورٹی آفیسر سے گولیوں کا تبا دلہ بھی ہؤاتھا ۔تھوڑی دیر میں پولیس نائٹ کلب پہنچ گئی۔ اس شخص نے کئی لوگوں کو نائٹ کلب کے پ باتھ روم کئی لوگوں کو یرغمال بنا لیا۔ اس نے پولیس کو وارننگ دی کہ اس کے پاس دھماکہ خیز مواد ہے۔ اس دوران پولیس نے مزید کئی لوگوں کو نائٹ کلب سے نکال کر ہسپتال پہنچایا۔ پانچ بجے پولیس نے فیصلہ کیا کہ اب باتھ روم کی بیرونی دیوار کو دھماکے سے ا ڑاا دیا جائے ۔ تب حملہ آور خود ہی سامنے آگیا اور پولیس نے اسے مار گرایا۔

دنیا کے تمام اخباروں اور ٹیلی ویژن چینل پر بریکنگ نیوز کے طور پر اس خبر کو دکھایا جانے لگا۔ لیکن اس خبر میں ایک اور بات کافی اہم تھی، وہ تھی مارنے والے آدمی کا نام عمر متین تھا۔ یہ پتہ چلتے ہی خبروں میں عمر متین کو اسلا مک اسٹیٹ کا حامی ، مسلم انتہا پسند، جہادی اور دیگر نام دے دئے جانے لگے۔ خاص طور سے یہ حملہ ہم جنس پرستوں کے کلب پر ہؤا تھا اور میڈیا کا کہنا ہے کہ اسلام میں ہم جنس پرستی نفرت کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہے۔

ہم نے نمناک آنکھوں سے اس خبر کو سنا۔ جہاں معصوم لوگوں کی بلا وجہ موت پر افسوس ظاہر کیا تو وہیں میڈیا کی اسلام دشمنی پر ناراضگی بھی ظاہر کی۔کئی سوال ذہن میں آرہے تھے کہ کیوں اس مسلمان نام کے شخص نے بے گناہ لوگوں کی جان لے لی؟ اس آدمی کو کس جماعت نے بھڑکایا ہے؟ کون ایسا کروا رہا ہے؟ لیکن منہ کھولتے ہوئے خوف آ رہا تھا کیونکہ بات کی جائے تو کس سے کی جائے۔ بات کب تک اور کہاں تک چھپی رہتی ۔ دھیرے دھیرے عمر متین کے بارے میں معلومات سامنے آنے لگیں۔ ہم نے اللہ سے کہا کہ اے اللہ تیرے دین کا جو لوگ مذاق بنا رہے ہیں کیا تو خاموش بیٹھا دیکھتا رہے گا۔لیکن نہیں ایسا نہیں ہوا اور اب یہ بات سامنے آرہی ہے کہ عمر متین بذاتِ خود ایک ہم جنس پرست تھا اور وہ ہم جنس کلب میں باقاعدگی سے جاتا تھا۔
آئیے جاننے کی کوشش کریں کہ عمر متین کون تھا اور کیوں اس نے بے گناہ لوگوں پر گو لیاں چلائیں۔29سالہ عمر متین کا تعلق فورٹ پیرس علاقے سے تھا جو کہ اورلانڈو سے دو گھنٹے کی دوری پر ہے۔عمر متین کے والد صدیق متین افغانستان سے امریکہ آکر بس گئے تھے ۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں یاد ہے ان کا بیٹا عمر چند روز قبل جب میامی گیا تھا تو اس نے وہاں دو مردوں کو آپس میں چومتے ہوئے دیکھ کر کافی ناراضگی کا اظہار کیا تھا۔عمر متین کے والد کا یہ بھی کہنا ہے کہ انہٰں اندازہ نہٰں تھا کہ عمر اس طرح کا حملہ سکتا ہے۔ عمر متین کی سابق بیوی ستارہ یوسفی کا کہنا ہے کہ عمر سے شادی کرنے کے بعد وہ ہمیشہ اسے مارتا پیٹتا تھا۔ عمر دماغی طور پر غیر مستحکم بھی تھا اور اکثر تشدد پر اتر آتا تھا۔ستارہ یوسفی نے یہ بھی کہا کہ عمر کی دماغی حالت صحیح نہیں تھی اور اس واقعہ کو اسلامک اسٹیٹ سے جوڑنا غلط ہوگا۔تا ہم عمر نے طلاق لینے کے بعد دوبارہ شادی کی تھی اور اس کا ایک تین سال کا بیٹا بھی ہے۔

اس بات کا بھی انکشاف ہوا ہے کہ عمر متین کو کئی لوگوں نے ہم جنس نائٹ کلب میں کئی بار آتے ہوئے دیکھا تھا۔ اس کے علاوہ عمر متین دوسرے مردوں سے رشتہ قائم کرنے کا بھی خواہشمند تھا۔لیکن اس بات کا اب بھی پتہ نہیں چل سکا کہ عمر نے آخر کیوں ہم جنس کلب ہی کو نشانہ بنایا اور اتنے لوگوں کی جان لے لی؟

امریکہ کی ایجنسی(FBI) ایف بی آئی نے بتایا ہے کہ 2013میں عمر متین سے دو بار انتہا پسندی کے حوالے سے پوچھ گچھ کی گئی تھی۔ لیکن کوئی خاص ثبوت نہ ملنے کی وجہ سے عمر پر کوئی خاص نظر نہیں رکھی گئی تھی۔دریں اثنا عمر متین کے والد نے ان باتوں کو رد کرتے ہوئے کہا کہ عمر کا مذہب سے کوئی لینا دینا نہیں تھا۔ اس موقعہ کا فائدہ اٹھا کر ری پبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے تمام احمقوں کو پیچھے چھوڑ دیا ۔ انہوں نے اسلام دشمنی کا نمونہ پیش کرتے ہوئے یہ کہا ہے کہ وہ اسی لئے امریکہ میں مسلمانوں کے داخل ہونے پر پابندی لگانا چاہتے ہیں۔حالانکہ ڈونلڈ ٹرمپ کو کوئی یہ بتائے کہ عمر متین کی پیدائش نیو یارک میں ہوئی تھی نہ کہ کابل میں ۔لیکن مجھے ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان سے کوئی حیرانی نہیں ہوئی کیونکہ ایک احمق اور کم عقل آدمی سے آپ اور کیسی بات سن سکتے ہیں۔

لیکن امریکی صدر بارک اوباما نے ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس مسئلے کا حل ہمیں امریکہ میں ہی تلاش کر نا ہوگا ۔ہم مسلمانوں پر امریکہ داخل ہونے پر پابندی لگانے سے اس کا کوئی حل نہیں نکال سکتے۔ اس سے انتہا پسندوں کے حوصلے بلند ہوں گے۔

اس دردناک واقعہ کے بعد LGBT(lesbian,gay,bisexual and transgender)کے حامیوں نے مختلف مقامات پر دعائیہ تقاریب کا اہتمام کیا۔ لندن کے سو ہو علاقے مین ایل جی بی ٹی کے لوگوں نے جمع ہو کر مرنے والوں کے لئے دعائیں مانگیں، جس میں لندن کے مئیر صادق خان نے بھی شرکت کی۔اس کے علاوہ دعائیہ تقریب کا اہتمام برمنگھم، مانچسٹر، برائیٹن،لیڈس اور نوٹنگھم میں بھی کیا گیا۔اسکاٹ لینڈ کے گلاسگو شہر میں بھی ایسا ہی اجتماع منعقد ہؤا۔

دریں اثناء برطانیہ کی پولیس سیکورٹی کا جائزہ لے رہی ہے اور کسی بھی پبلک تقریب پر سیکورٹی کو مزید چوکس کر رہی ہے۔ہوم سیکریٹری تھریسا مے نے پارلیمنٹ میں سیکورٹی کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ پورے ملک میں سیکورٹی سخت کر د ی گئی ہے ۔ اورلانڈو کے واقعہ کے بعد لندن میں ہونے والے گے پرائیڈ کے جشن کو منسوخ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔اورلانڈو میں مرنے والوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے پارلیمنٹ میں اراکین نے ایک منٹ کے لئے خاموشی بھی اختیار کی۔
ہم جنس پرستی کو تمام مذاہب نے گناہ قرار دیا ہے۔ لیکن جب ہم جنس پرستی کی بات ہوتی ہے تو صرف اسلام مذہب پر ہی انگلی اٹھائی جاتی ہے۔ہم جنس پرستی کو غلط کہنے والے عیسائی ، یہودی اور دیگر مذاہب پر کیوں نہیں الزام لگایا جاتا ہے ۔ اس کا جواب صاف عیاں ہے اور وہ ہے ’ اسلام دشمنی‘۔

اتوار کو ہم جنس پرستوں کے نائٹ کلب میں اس واقعہ کی سختی سے مذمت ضروری ہے۔ ساتھ ہی ہم اس بات کی بھی مذمت کرتے ہیں کہ اس واقعہ کو اسلام مذہب سے کیوں جوڑا جا رہا ہے۔آخر مغربی میڈیا ہر اس طرح کے واقعہ کو غلط بیانی سے پیش کر کے کیوں اسلام دشمنی کا ثبوت دیتاہے۔اگر ایسا نہیں ہے تو عمر متین کو اب ’گن مین‘ کیوں کہا جارہا ہے۔حیرانی تو اس بات کی ہے جب سے اس بات کا اندیشہ پیدا ہؤاہے کہ عمر متین ہم جنس پرست تھا تو میڈیا نے اس خبر کی اہمیت کو کم کر دیا ہے۔

عمر متین کے نام سے تو لگتا ہے کہ وہ مسلمان تھا لیکن اس کی حرکتوں نے ثابت کر دیا کہ وہ ایک وحشی بھی تھا۔ تبھی اس نے اتنے سارے بے گناہ لوگوں کی جان لے لی ۔