امریکہ: ناقابل اعتبار دوست

  • تحریر
  • ہفتہ 18 / جون / 2016
  • 5735

پاکستان نے افغانستان کے ساتھ آمد و رفت کو قانونی بنانے کے لئے اپنی سرحد پر نگرانی کے عمل کو موثر بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس مقصد کے لئے مختلف علاقوں میں افغانستان سے آنے والے راستوں پر گیٹ نصب کرنا ناگزیر ہے۔پاکستان افغانستان کے درمیان آمد و رفت،تجارت کے تاریخی راستے،درہ خیبر میں لنڈی کوتل کے قریب واقع سرحدکے علاقے انگور اڈہ میں پاکستان کی طرف سے اپنے علاقے میں راستے پر گیٹ نصب کرنے کے معاملے پہرفائرنگ کے کئی واقعات میں دونوں طرف سے جانی نقصان بھی ہوا ہے۔

افغانستان قانونی اور غیر قانونی طور پر اشیائے خورد و نوش ہر قسم کی بھیجی جاتی ہیں اور اس کاروبار میں ملک کی با اثر شخصیات اور خاندانوں کے نام بھی شامل ہیں۔ایران کی سرحد سے بھی پاکستان جائز و ناجائز تجارت کے علاوہ غیر قانونی آمد و رفت بھی ہوتی ہے ،یوں افغانستان ہی نہیں ایرنی سرحد کو بھی بھارت سے ملنے والی سرحد کی طرح محفوظ کرنا ضروری ہے۔اس وقت بھارت ،امریکہ نے افغانستان کو پاکستان کے خلاف کاروائیوں کا موثر اڈہ بنا رکھا ہے جہاں سے پاکستانی علاقوں میں تباہ کن اور ہلاکت خیز مسلح حملے بھی ایک معمول ہیں۔پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کے خلاف دہشت گرد کاروائیوں کے لئے بھی افغانستان استعمال ہو رہا ہے۔خاص طور پر بھارت اور امریکہ افغانستان کی حکومت کے بھر پور تعاون سے پاکستان اور چین کے اقتصادی مفادات کو نشانہ بنانے میں سرگرمی سے ملوث نظر آتے ہیں۔

مشیر خارجہ سرتاج عزیز ،سیکرٹری خارجہ اعزاز چودھری اور سیکرٹری دفاع ریٹائرڈ لیفٹنٹ جنرل محمد عالم خٹک نے سینٹ کی خارجہ اور دفاع کمیٹیوں کو بتایا ہے کہ ’خطے میں طاقت کا توازن بگڑ رہا ہے۔ افغانستان کے حوالے سے پاکستان نے سٹریٹیجک گہرائی کی پالیسی کو ترک کر دیا ہے،امریکہ کی بھارت کی مدد و حمایت پاکستان اور چین کے خلاف ہے،امریکہ کو بتا دیا ہے کہ ایٹمی پروگرام پر کوئی شرائط قبول نہیں۔ افغانستان میں طاقت کے استعمال کی پالیسی سے ہی طالبان اور داعش پیدا ہوئے۔ طالبان سے مذاکرات کئے جائیں،پاکستان میں افغان طالبان کے خلاف آپریشن کا مطلب نئی جنگ پاکستان میں لانا ہو گا۔امریکہ حقانی نیٹ ورک کے خلاف کاروائی اور میزائلوں کی رینج کم کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے لیکن پاکستان نے امریکہ کے ان مطالبات کو مسترد کر دیا ہے۔ہم نے امریکہ کے ساتھ قریبی تعلقات بڑھا کر نتائج دیکھ لئے ہیں۔ امریکہ کی دوستی کوئی نعمت نہیں۔ پاکستان کے عالمی سطح پر تنہا ہونے کا تاثر درست نہیں،امریکہ پر ہمارا انحصار درحقیقت کچھ بھی نہیں۔ ہم روس کے ساتھ2ارب ڈالر کی نارتھ ساؤتھ گیس پائپ لائین تیار کر رہے ہیں۔ بھارت کی جانب امریکی جھکاؤ خطے میں عدم توازن کا باعث بنا تو پاکستان کے خلاف نیو کلیئر کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچے گا۔ امریکہ کی سب باتیں نہیں مان سکتے،بارڈر منیجمنٹ ناگزیر ہے،ہماری خارجہ پالیسی کا محور بھارت رہا ہے۔ پاکستان کا کشمیر کی وجہ سے ہمیشہ اختلاف رہا ہے‘۔

پاکستان کے لئے امریکہ ایک کشش کے طور پر سامنے رہا ہے اور پاکستان کی تاریخ امریکی مفادات کے لئے استعمال ہونے کے واقعات سے لبریز ہے۔ ایک ’’سرخے‘‘ دوست کی بات یاد آتی ہے کہ ’’امریکہ دس بیس روپے دے کر فقط ہمارا گزاراہ ہی چلاتا ہے جبکہ روس جس ملک سے دوستی کرے ،اس کی صنعت کو بھی ترقی دیتے ہوئے ملک کو مستحکم بناتا ہے‘‘۔یہ الگ بات ہے کہ ہمارا وہ ’’سرخا ‘‘ دوست عرصہ دراز پہلے امریکہ چلا گیا اور پھر کبھی پاکستان نہیں آیا۔ایک تاثر یہ بھی ہے کہ پہلے پاکستان کو برطانیہ کنٹرول کرتا رہا اور جب دنیا کا اقتدار امریکہ کو منتقل ہوا تو ہماری آقائیت بھی برطانیہ سے امریکہ کو منتقل ہو گئی۔ جب جب امریکہ کو پاکستان کی ضرورت پڑی،پاکستان نے امریکہ مفادات کے لئے اپنے آپ کو خطرات کی نذر کر دیا۔پاکستان1955ء میں مغرب اور مشرق وسطی کے بارے میں قائم سنٹرل ٹریٹی آرگنائیزیشن (CENTO) المعروف ’’بغداد پیکٹ‘‘ میں شامل ہوا تو بھارت نے اسے مسئلہ کشمیر کے حل سے گریز کے لئے ایک بہانہ بنا لیا۔

امریکہ کے چین سے تعلقات استوار کروانے میں پاکستان کا کردار تاریخ کا حصہ ہے۔امریکہ اور روس کی سرد جنگ کے تمام ادوار میں پاکستان امریکہ کا اتحادی بنا رہا اور امریکہ کے لئے پاکستان نے روس کو اپنا دشمن بنا لیا۔روس، افغانستان میں اپنی حمایت یافتہ حکومت کی مدد کے لئے فوجیں لے کر آیا تو جس طرح امریکہ نے عراق پر حملے کے لئے ’’ ماس ڈسٹرکشن ویپنز‘‘ کا جھوٹا پروپیگنڈہ کیا اسی طرح امریکہ نے یہ شوشا چھوڑا کہ روس افغانستان کے بعد پاکستان پر قبضہ کر کے ’’گرم پانی‘‘کے سمندر تک پہنچنا چاہتا ہے۔افغانستان میں روس کے خلاف امریکی مفادات کے لئے جنگ میں پاکستان مغرب کی فرنٹ لائین سٹیٹ بن گیا۔جنگ افغانستان کے مہلک عوامل نے پاکستان کو لاکھوں افغان مہاجرین،مہلک اسلحے کی بھر مار اور ہیروئین کے’ گراں قدر تحائف‘ عطا کئے ۔افغانستان سے روسی انخلاء سے پہلے ہی امریکہ نے روس کے ساتھ معاہدہ کرتے ہوئے اپنے مفادات محفوظ کر لئے اور افغانستان اور پاکستان سے لاتعلقی اختیار کر لی۔ جنرل ضیاء الحق سمیت کئی اعلی فوجی افسران کی ہلاکت کا واقعہ ان عناصر کے لئے ایک بڑا سبق تھا جو پاکستان میں امریکی مفادات کو یقینی بنانے کے ذمہ دار چلے آ رہے ہیں۔ لیکن ہم نے کوئی سبق نہیں سیکھا۔

افغانستان میں امن و امان کے حوالے سے طالبان تحریک چلی تو امریکہ نے اقوام متحدہ اور پاکستان کے ذریعے طالبان کو وظائف دینے کا سلسلہ شروع کرتے ہوئے افغانستان میں طالبان کو اتنا مضبوط بنا دیا کہ ان کی حکومت بھی قائم ہو گئی۔’’نائن الیون‘‘کے بعد امریکہ نے افغانستان میں اپنے ہی تراشے ہوئے بتوں کو توڑنا شروع کیا تو پاکستان ایک بار پھر امریکہ کے مفادات کے لئے فرنٹ لائین سٹیٹ کے طور پر استعمال ہوا۔اب یہ بات اتنی واضح ہو کر سامنے آ چکی ہے کہ ’’عقل کا اندھا‘‘ بھی دیکھ سکتا ہے کہ امریکہ نے ہمیشہ پاکستان کو اپنے مفادات کے لئے یوں استعمال کیا کہ پاکستان کو بری طرح دیرپا اثرات پر مبنی نقصانات کا سامنا رہا ۔ پاکستان میں عوامی سطح پر بھی امریکہ کے اس کردار اور روئیے کے خلاف سخت احساس پایا جاتا ہے اور ملک میں یہ مطالبہ کھل کر سامنے آ گیا ہے کہ اب امریکہ پر کلی انحصار کی پالیسی میں تبدیلی پاکستان کے لئے ناگزیر ہے۔پاکستان کو دولخت کرتے ہوئے بھی پاکستان بچانے کے لئے امریکی بحری بیڑے کی آمدکا ’’لالی پاپ‘‘ دیا گیا اور اب واضح طور پر پاکستان امریکی ’’ لالی پاپ‘‘ کے فیض سے بھی محروم ہو چکا ہے۔پاکستان کے لئے امریکہ کسی بھی قسم کے فائدے کے بجائے مہلک نقصانات کا باعث ہی رہا ہے۔ بجا طور پر اسے مہلک’’ امریکی سنڈی‘‘ یا امریکی وائرس سے تعبیر کیا جا تاہے۔

ماضی قریب تک مسئلہ کشمیر کے پرامن اور منصفانہ حل کے لئے پاکستان کی امریکہ پر مکمل انحصار کی پالیسی سے توقعات اور امیدیں وابستہ رہیں ۔ امریکہ کا مسئلہ کشمیر کے حوالے سے یہی جواب ہوتا تھا کہ امریکہ مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کے لئے دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات کی حوصلہ افزائی کرتا رہے گا۔لیکن اب امریکہ کی طرف سے بھارت کے ساتھ دفاع،نیوکلیئر اور حساس ٹیکنالوجی ،اقتصادی تعاون سمیت ہر شعبے میں گہرے تعلقات قائم کئے جا رہے ہیں ۔یوں امریکہ کا اپنے دو دوست ممالک کے ساتھ مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کی کوششیں ایک ڈھونگ اور دھوکہ ثابت ہو چکا ہے۔

قیام پاکستان کی جدوجہد کے عروج ،کٹھن حالات میں بھی قائد اعظم محمد علی جناح کا ریاست کشمیر کے عوام سے قریبی رابطہ استوار رہا ۔ قائد اعظم ریاست کے مظلوم عوام کو اپنی رہنمائی فراہم کرنے کے علاوہ برٹش حکومت کے سامنے کشمیریوں کے حق میں آواز بلند کرتے رہے۔19اگست1946ء کوریاست جموں و کشمیر کی اس وقت کی سب سے بڑی سیاسی جماعت مسلم کانفرنس کے سیکرٹری جنرل آغا شوکت علی نے قائد اعظم محمد علی جناح کو ایک خط میں لکھا ۔ جس میں کہا گیا کہ ،’’اس وقت ہماری پالیسی لڑائی ، جو جلد ہی شروع ہو سکتی ہے،کے لئے خود کو مضبوط بنانا ہے،تب ہم مسلم محسوسات کے خلاف اینگلو۔ہندو سازش کی توقع کریں گے۔ کانگریس کے لئے وارننگ ہے اگر وہ پہلے ہی اقتدار کے امکان کے نشے میں نہیں ہیں تو ۔آپ کو نہیں لگتاکہ ہم جوابی اقدام اور ناپاک سرمایہ دارانہ اتحاد کو مٹانے کے لئے روس کے ساتھ منافع بخش تعلقات قائم کر سکتے ہیں؟ہمارے پاس کھونے کو کچھ نہیں ہے سوائے ہماری زنجیروں کے۔اس وقت آپ کی طرف سے محض ایک اشارہ ہندوستانی سیاست کی صورتحال کی حقیقت کو بیدار کر دے گا،خاص طور پر ہمارے پاکستان کے مطالبے کو۔علاوہ ازیں جب آخر کار روس کے ساتھ اتحاد جغرافیائی اور سیاسی دونوں طور پر ہمارے لئے بہت بڑا فائدہ ہو گا؟ہم امریکہ یا چین کی طرف نہیں دیکھ سکتے ،برطانیہ پہلے ہی اس کا انتخاب کرتا دکھائی دیتا ہے۔ لیکن کیا میں زیادہ نہیں لکھ رہا؟ آپ اس عظیم فن کے استاد ہیں۔آپ نے ہمارے حال کے لئے ماضی میں ہماری رہنمائی کی ،آپ ہمیں مستقبل میں عظمت کی بلندیوں تک پہنچا سکتے ہیں۔‘‘۔

یہ خطوط دیکھنے اور پڑھنے کے بعد مجھے اشتیاق ہوا کہ آغا شوکت علی کی اس بات کا قائد اعظم کیا جواب دیتے ہیں ،لیکن ریکارڈ میں قائد اعظم کے جوابی خط کی غیر موجودگی سے اشارہ ملتا ہے کہ ضرور قائد اعظم نے اس کے جواب میں جو کہا ،وہ امریکی مفادات کی پاسداری میں ریکارڈ سے غائب کر دیا گیا۔