پاک وطن کے سفر کی داستان (1)

جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے اس سے قبل میں سن 1983 میں ہی اسلام آباد آیا تھا اور وہاں سے پشاور، سوات، مرغزار اور منگورہ وغیرہ گیا تھا۔ ان سالوں میں اسلام آباد نے خاصی ترقی کی ہے۔بلند وبا لا عمارتوں کا بھی یہاں اضافہ ہوا ہے۔اور دھرنوں کے کنٹینروں کا بھی۔ دھرنوں نے اسلام آباد کا تقدس اس کی آن بان اور دبدبے کو کافی متاثر کیا ہے۔ ظاہر ہے کہ ہم نے فوجی حکومتوں کے دور کے اسلام آباد کو اپنے ذہن میں بسا رکھا تھا۔مگر تب کے اسلام آباد کے بر عکس اب یہاں بھی اور شہروں کی طرح رواں دواں شہری زندگی بھاگتی دوڑتی نظر آئی۔ جس سے اسلام آباد اب وہ خاص بیوروکریٹ شہر نہیں رہا۔۔۔چند سیکٹروں میں ٹوٹی پھوٹی مخدوش سڑکوں کو دیکھ کر اپنانیت کا احساس ہوا کہ صرف کراچی ہی میں ایسی سڑکیں نہیں پائی جاتیں بلکہ چوڑی چوڑی شاہراہوں کے ہمرکاب ایسی سڑکیں یہاں بھی ہیں۔

بری امام اور گولڑہ شریف پر بھی حاضری دینے کا شرف ہوا۔ بری امام میں داخلے کے خواتین و حضرات کے لئے مخصوص جدا جدا گیٹ اور قناتوں کے ذریعہ ان کی تقسیم جبکہ اندر داخل ہو نے کے بعد زائرین ایک ہی جگہ دعاکرتے نظر آئے۔ اسلام آباد کی سیر کے دوران مرگلہ کی پہاڑیوں پر دامن کوہ کی جانب نکل پڑے۔دامن کوہ سے اسلام آباد کا نظارہ قابل دید تھا۔ وہاں سے شاہ فیصل مسجد، اسلام آباد شہر اور راول جھیل کا منظر قدرت کا ایک تحفہ ہی لگتا ہے۔ منال رستوراں میں بالکونی پر بیٹھے چائے پیتے ہوئے ان مناظر کو کیمرے اور دماغ کی آنکھ میں محفوظ کر تا رہا۔ ارے ہاں گولڑہ شریف کا پورا ماحول بیان کرنا بہت ضروری ہے۔ میں کسی بھی درگاہ، مزار یا قبر کی زیارت یا حاضری کو فاتحہ خوانی، اپنے مرحوم بزرگوں اور اہل قبور کی مغفرت کی دعا، اپنی والدہ کی صحت کی دعا کی حد تک ہی محدود رکھتا ہوں۔ سو یہاں بھی دعا اور مناجات کر تا رہا۔ گولڑہ شریف میں انتہائی نفیس عمارتیں ہیں اور ایک مردوں ، عورتوں اور بچوں کا ایک جم غفیر ہے جو دعاؤں اور عبادت میں مشغول ہوتے ہیں۔ظہر کی اذان ہو رہی تھی۔نماز سے فارغ ہو کر ٹیکسی مجھے ڈائیوو بس سروس کے اڈے پر پہنچا گئی جہاں سے میرے لاہور کے سفرکے شروع ہونے میں چند منٹ ہی باقی تھے۔

ہم لوگ جب تک کسی کو ایسی عزت نہ دیں کہ وہ ناخدا بن جائے تب تک کافی نہیں سمجھتے یہی حال کسی کو بے عزت کرنے میں کرتے ہیں۔ دوسری طرف " و تعزو من تشاو و تذل و من تشاو " کا ورد بھی کر تے رہتے ہیں۔ حالانکہ تعصب کی عینک اتار کر دیکھا جائے تو کہا جا سکتا ہے ملک کی موجودہ معاشی اور سیاسی ترقی کو قائم رہتے ہوئے آگے بڑھتے رہنا چاہیئے اور اس میں روڑا اٹکنا عوام و خواص کے حق میں نہ ہو گا۔ حفاظتی انتظامات بھی ہر جگہ تسلی بخش ہی نظر آئے۔

اسلام آباد سے لاہور جاتے ہوئے ڈائیوو بس سسٹم کی سروس اور تین تین چار چالین کی ہائی وے پر دوڑتی ٹریفک، اس پر کئے گئے جملہ انتظامات سب کچھ دیکھ کر میں نے خود سے سوال کیا کہ ترقی کر نا اور کس کو کہتے ہیں۔۔۔شعور کی ترقی۔۔۔وہ بھی کافی حد موجود ہے بس ذرا "ڈگری یافتہ افراد "میں آجائے تو بات ہے۔سیال کے بس اڈے پر تھوڑی دیر کے وقفے میں تازہ دم ہوا تو یہاں کے کشادہ صاف ستھرے واش روم دیکھ کر دنگ رہ گیا۔ تیس سال قبل کے بس کے دلچسپ سفر کی نسبت یہ سفر کس قدر آرام دہ اور جدید سہولیات سے مزین ہے۔ میں نے اسپین ،پرتگال اور مڈل اسیٹ میں بھی بہت بسوں کا سفر کیا ہے۔ یہ سفر چند خوبیوں میں ان سے بہتر ہی رہا۔ ہائی وے کے دونوں طرف سلیقے کے چھوٹے چھوٹے گاؤں کسی قصہ کہانی کا عملی نمونہ معلوم ہو رہے تھے۔ٹریفک کی روانی اور لین کی پابندی سے میں سوچ رہا تھا کہ کیا ایسا ہو جائے کہ لوگ شہروں میں بھی ایسی ہی پابندی کے عادی ہوکر اژدہام کے عذاب سے بچنے کا ہنر جان جائیں۔۔۔ڈائیوو بس سروس کسی ایئر لائن کی سروس سے کم نہیں۔۔۔اس کی خاتون ہوسٹس اور ڈرائیور۔۔۔جنہیں پائیلٹ کہنا غلط نہ ہوگا۔۔۔۔ نہایت سکون اور تندہی سے اپنے فرائض ادا کرتے ہمیں لاہور لے آئے۔۔۔اور ہلکی پھلکی خوشگوار گفتگو بھی رہی۔ مشروبات اور اسنیکس سے تواضع بھی۔۔۔وقت کی پاپندی سے لاہور آگیا۔۔۔جھٹ پٹے کا وقت تھا اور ہماری بس لاہور کے مضافات سے ہوتی لاہور شہر میں داخل ہو رہی تھی۔

میرے ہمسفر لاہور کے بینکار اور تاجر تھے۔ ان کی زبانی معلوم ہوا کہ لاہور شہر اپنے طول و عرض میں بہت پھیل چکا ہے۔ اپنے مضافات قصور اور اس جیسے کئی ایک علاقوں کو اپنے اندر سمو کر لاہور بہت عظیم شہر بن چکا ہے۔ لاہور کی تاریخی عظمت سے یوں بھی کسے انکار ہو سکتا ہے۔ مگر اب یہ لاہور تیس سال پرانا لاہور نہیں رہا ہے۔ بس سے اتر کر سیدھا ہوٹل پہنچا اور ہوٹل کے آرام دہ کمرے میں دراز ہو گیا۔ وقت کم تھا۔ چونکہ تھوڑی دیر بعد ہی پروفیسر ڈاکٹر سعادت سعید سے ملاقات طے تھی۔ غسل وغیرہ سے فارغ ہو کر کمرے پر نگاہ دوڑائی تو قرینے سے سجے کمرے کو میں نے گھنٹے بھر میں خاصا بگاڑ دیا تھا۔۔۔سب چیزیں کپڑے الماری میں ڈال کر کمرہ درست کیا اور امی کو کراچی فون کر تے ہوئے ڈاکٹر صاحب کاانتظا ر کر نے لگا۔۔۔اسلام آباد میں وہ ٹیکسی ڈرائیور جسے میں نے بہت سارے ٹیکسی ڈرائیوروں میں سے چنا بہت اچھا اور انسان دوست اور ایمان دار ثابت ہوا۔ پہلی مرتبہ راول پارک تو وہ میرے ساتھ اترا اور ساتھ ساتھ رہا مگر اس کے بعد ہر جگہ میں اپنا سامان سفر اسی کے پاس چھوڑ کر چلا جاتا رہا۔ اور کافی کافی دیر بعد بھی آیا۔ منال ریستوراں میں میرے ضد کر نے کے باوجود وہ اندرنہیں آیا۔۔۔۔۔ جبکہ مجھے اس نے کہا کہ آپ یہاں کچھ کھا پی لیں اور تازہ دم ہو لیں۔ منال ریستوراں سے نکلتے وقت جب میں نے ایک پیکٹ جس میں اس کے لئے کچھ سینڈویچیز تھے، اس کے حوالے کیا تو اس نے بتایا کہ ٹیکسی میں پڑے آپ کے سامان کی حفاظت کا بہانہ میں نے صرف اس لیے کیا تھا کہ یہ رستوراں بہت مہنگا ہے اور میں نہیں چاہتا تھا کہ آپ کی اضافی رقم مجھ پر خرچ ہو جائے۔ میں اس کی اس ایماندارانہ سوچ کو کبھی بھی نہیں بھلا پاؤں گا۔  مجھے تو پاکستان میں پھیلی کرپشن کی ساری خبریں جھوٹی لگیں۔ پاکستان اب بھی ان ایماندار اور سادہ لوح انسانوں کا پاک وطن ہے۔

کچھ دیر بعد ہوٹل کے کمرے میں لگا ٹیلی فون شور مچانے لگا۔ ریسپشن نے مطلع کیا کہ آپ کے کوئی مہمان تشریف لائے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب سے آخری ملاقات استنبول میں ہوئی تھی۔دس بجے شب سے لے کر تقریبا بارہ بجے تک ڈاکٹر صاحب سے نہایت پر مغز گفتگو رہی۔ ڈاکٹر صاحب دس سے زائد کتابوں کے مصنف، صاحب دیوان شاعر اور عصر حاضر کے مشہور نقاد مانے جاتے ہیں۔ نہایت خلیق و ملنسار انسان ہیں اور مجھ جیسے نئے لکھاری کو بھی اتنی سنجیدگی اور غور سے سنتے رہے جیسے میں واقعی کوئی علمی فلسفہ بیان کرر ہا ہوں۔

سعادت سعید 5 مارچ 1949  کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد بھی اردو زبان کے مشہور اسکالر تھے۔ 1963میں انہوں میٹرک اور سن 1965  میں انٹرمیڈیٹ کا امتحان پاس کر کے پنجاب یونیورسٹی میں داخلہ لیا۔ اور ایم اے امتیازی نمبروں سے پا س کیا۔ اردو زبان میں ایم اے کر نے پر انہیں گولڈ میڈل ملا۔اسی پنجاب یونیورسٹی سے انہوں نے ڈاکٹریٹ بھی کیا۔ سعادت سعید نے1970  میں بہ حیثیت لکچرر کہ اپنے کیریر کا آغاز کیا۔ 1999  سے لے کر 2004 ؁ تک وہ انقرہ یونیورسٹی سے منسلک رہے اور وہاں شعبے اردو کے صدر نشین مقرر ہوگئے۔اور پاکستان لوٹ کر وہ جی سی یونیورسٹی لاہور سے منسلک ہوگئے ہیں۔ان کی تصنیفات میں جہت نمائی ، فن اور خالق، اقبال ایک ثقافتی تناظر، کجلی بن(نظمیں) ادب اور نفی ء ادب، اقبال اور ساہیوال، ابن عربی کا نظریہ وحدت الوجود(مدیر)، چند وقت (ترک نظموں کا ترجمہ)، بانسری چپ ہے وغیرہ شامل ہیں۔ ڈاکٹر صاحب سے ادب اور ادبی صورتحال پر سیر بحث ہوئی۔ ان کی نئی تصانیف پر بھی گفتگو ہوئی۔ دوسرے دن کی ملاقات کے وعدے اور چند تصاویر پر اس ملاقات کا اختتام ہوا۔

دوسرے دن صبح صبح جبکہ ہوٹل تمام عملہ سو رہا تھا۔ میں نے ساڑھے سات بجے ناشتہ کرنے نیچے اتر کر سارے عملے کو حیران کر دیا۔ ناشتہ اس تین ستارے ہوٹل کا بس واجبی سا ہی تھا جبکہ ہم ڈٹ کر شاہانہ ناشتہ کر نے کے عادی ٹھہرے۔ رکشہ پکڑ کر گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کی تاریخی عمارت کی زیارت کو چلے۔ ابھی رکشہ تھوڑی دور ہی چلا تھا کہ ریلوے کے بند پھاٹک پر رک گیا۔ ٹریفک کے بہتے سیلاب پر جیسے کوئی بند باندھ دیا گیا ہو۔ مگر انسانوں کے صبر کا پیمانہ رواں دواں سیل سمندر کی طرح لبریز ہی رہتا ہے۔ سو ابلنے لگا۔ پیدل چلنے والے، سائیکل سورا، اور موٹر سائیکل والے تو بند پھاٹک کے روزن سے ایسے گزررہے تھے جیسے کو ئی رکاوٹ ہی نہ ہو۔ کسی بھی لمحے ریل آیا چاہتی تھی مگر سب کے سب ہماری طرح بزدل تھوڑے ہی ہوتے ہیں۔ پھر جب ٹرین آکر گزر گئی تو پھاٹک کھولنے والا کہیں سے نمودار ہوا اور پھاٹک کھولنے کی جدوجہد کرنے لگا۔ تمام گاڑیاں اور لوگ پھاٹک کے اس قدر نزدیک کھڑے تھے کہ پھاٹک کے پٹ کا وا ہونا ناممکن تھا۔ نہ لوگ پیچھے ہٹنے کو تیار تھے نہ ہی پھاٹک بغیر ان کے پیچھے ہٹے کھلنے کو راضی۔ خیر پھاٹک کھولنے والا شخص ہی اس کشمکش کا غازی صلاح الدین بنا اور ایک چنگھاڑتی موج کے ساتھ ہمارا رکشہ بھی آگے بڑھا۔

گورنمنٹ کالج یونیورسٹی GCU میں داخلے کے وقت سخت حفاظتی اقدامات بھلے ضروری ہوں اور اعلی کاکردگی کا نمونہ ہوں، ہماری سوچ کے مطابق تو نہایت تکلیف دہ بات تھی۔ یہاں سے فارغ ہوکر ہم ایک بار پھر آزاد تھے اور چار بجے کراچی کی فلائٹ پکڑنے تک ہمارے پاس وقت ہی وقت تھا، لاہور کی سیر کر نے کو۔ لاہور کی بادشاہی مسجد کے زیر سائے تاریخی منڈی مغلیہ دور کی منظر کشی کا سبب بنتی ہے۔ گردوار ا اور مسجد کی ملتی دیوار بھی میرے لئے پیغام لیے ہوئے تھی۔ مگر ایسی فضول باتوں پر اب کہاں کوئی دھیان دیتا ہے۔ قلعہ کی فصیل کی تصویر لیتے ہوئے سوچ رہا تھا واقعی یہاں سے تو "لائیو" کچھ بھی نہ نکلتا ہوگا۔ اور انور مقصود صاحب نے جو کبھی لائیو پروگرام کی بابت کہا تھا درست ہی کہا تھا۔ شہر کے ہنگام سے نکل کر، سیر اور زیارت سے فارغ ہو کر ٹیکسی لاہور کی صاف ستھری چوڑی شاہراہ پر تیزی سے علامہ اقبال ائرپورٹ کی جانب دوڑ رہی تھی۔ دونوں طرف خوبصورت باغوں کی مانند سبزہ زار کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ بھی بھاگتا چل رہا تھا۔ اور میں سوچ رہا تھا کہ واقعی لاہور لاہور ہے۔

کیب کے چلانے والنے نے پہلے ہی سیٹ بیلٹ لگا کر گاڑی چلا نے کے دوران مجھے حیران کر رکھا تھا کہ ائرپورٹ کے پہنچ کر اس نے مجھے مزید چونکا دیا۔ اس نے مجھ سے معذرت کی کہ وہ اتر کر میرا سامان ڈگی سے میرے حوالے نہیں کر سکتا۔ ہمارے پاس صرف دو منٹ کا وقت ہے اور اس دوران اسے سواری کو چھوڑ کر چلتے بننا ہے۔کیب کے جانے کے بعد میں کشادہ صاف ستھری اور نہایت آرام دہ انتطا ر گاہ میں بیٹھا یہ منظر بار بار دیکھتا اور سنتا بھی رہا کہ دومنٹ سے زائد رکنے پر چالان کی تلوار گر سکتی ہے اور شہری ذمہ داری کا واسطہ دے کر پورچ خالی کروالیا جاتا تھا ۔ لاہور کا ہوائی اڈا "ہمارے" کراچی کے ہوائی اڈے کی طرح کسی مچھلی بازار کا سا منظر پیش کرنے سے قاصر تھا۔ اندر جانے کی اجازت جہاز کی روانگی کے صرف دو گھٹے قبل جبکہ چیک ان کی سبز بتی پھڑپھڑا رہی ہو تب ہی ملتی ہے۔ سنتری باشاہ اتنا پڑھا لکھا تھا کہ آگے آکر بورڈ سے فلائٹ نمبر ملا کر مجھے سمجھانے لگا کہ دیکھو جب یہاں تمہاری فلائٹ کا نمبر لکھا ہو اور سبز بتی اشارہ کر رہی ہو کہ بورڈنگ شروع ہو چکی ہے تب ہی آنا اور اس وقت تک بیٹھ کر انتظار کرو۔ میں اس ڈسیپلن جسے میں عموما پردیس میں ہی چھوڑ کر ، دیس جاتا ہوں کو اپنانے پر مجبور اس لئے بھی ہو گیا کہ سارے دیسی اس پر عمل پیرا تھے۔ سب کام نہایت پر سکون انداز میں، قطار میں لگ کر، ایسے ہو رہا تھا جیسے یہ کوئی اور دیس ہو۔ "دیسی چٹخارا" تو تھا ہی نہیں۔

شہر اور ملک کی سیر ، سفر وسیلہء ظفر ہوتا ہے مگر کراچی، میں امی کی قدم بوسی کے لیے جاتا ہوں اور یہ دراصل میرے لیے ایک زیارت ہوتی ہے۔ اس د فعہ میں اپنے پاکستان کے انتہائی مختصر اور طوفانی دورے میں ابو کی قبر پر حاضری نہ دے سکا ، جس کا قلق رہے گا۔ ۔۔کراچی میں بھائی جان اور سبھوں کے ساتھ نہ صرف اپنایت کا احساس ہوتا ہے بلکہ میری عمر کئی سال گھٹ جاتی ہے اور میں وہی گھر کاچھوٹا بابو بن جاتا ہوں جس کے سارے مسائل گھر کے بڑے حل کر نے کے لیے تیار کھڑے ہوتے ہیں۔ لاہور سے شاہین ائرویز کا طیارہ وقت کی پابندی سے شام سواچھ بجے کراچی لینڈ کر گیا۔ اس وقت بھی دھوپ نکلی ہوئی تھی اور کراچی کا درجہ حرارت 35 ڈگری تھا۔ یوں تو گرمی نے اسلام آباد اور لاہور میں بھی خاصی 'گرمجوشی' سے خیر مقدم کیا تھا۔ مگر کراچی کی 'گرم اور جوش' کا انداز کچھ اور ہی تھا۔ آنیوالے ان چار دنوں میں گرمی ایسے مزاج پوچھے گی اس کا مجھے اندازہ نہ تھا۔

کراچی میں پرویز بلگرامی صاحب سے ملاقات طے تھی۔ ماہانہ سرگزشت کے مدیر اور ہزاروں کہانیوں، جاسوسی کہانیوں کے خالق خود مجھ سے ملنے آگئے تو یہ بھی اس سخت گرمی کی دین تھی کہ میں ایسے شدید موسم میں باہر نہ نکلوں ۔ وہ میرے سامنے ایسے بیٹھے تھے کہ میں ان کی سادگی پر حیران ہو رہا تھا۔ میں جاسوسی ادب کا ہمیشہ سے ہی شیدائی رہا ہوں۔ ابن صفی اور اقبال پاریکھ ہمیشہ ہی پڑھتا رہا۔ بلگرامی صاحب کی 'چیزیں' بھی پڑھتا رہا ہوں۔ پرویز بلگرامی صاحب اور مجھ میں بس ایک قدر ہی مشترک ہے وہ یہ کہ ہم دونوں کا سن ولادت ایک ہے۔ ورنہ وہ مکمل ادیب اور میں ان کے پاسنگ بھی نہیں۔ انہوں نے 6000 سے زائد کہانیاں لکھیں ہیں۔اور بے شمار بیسٹ سیلر ناولوں کو جنم دیا ہے، جن کی تعداد 28 کے لگ بھگ ہے۔ ان کا سراپا مجسم کہانی کار اور قلم کاری ہے۔ آپ جس خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں اس میں عظیم انسانوں نے جنم لیا ہے۔ آپ کے والد جوہر بلگرامی مشہور فلم ڈائیریکٹر تھے۔ اوران کے دادا بہت بڑے علمی اور مذہبی اسکا لر تھے۔ اتنی بڑی ادبی شخصیت اور اس قدر سادگی اور مجھ سے اس قدر دوستانہ اور مشفقانہ برتاؤ۔ میں تو فیس بک کی چیٹنگ کے دوران ان کے اتنے قدآور ہونے کا اندازہ بھی نہیں لگا پایا تھا۔ فیس بک بھی مگر کمال کی چیز ہے۔ اس کے ذریعہ آپ کیسے کیسے گوہر نایاب اور صحیح معنوں میں 'پارس' کو چھو لیتے ہیں۔ کہ آپ اپنے آپ کو پتھر سے سونا محسوس کر نے لگیں۔ اس دفعہ کراچی میں کئی ایک لکھاریوں اور صحافیوں سے، جن کا ذکر آگے آئے گا، ملاقات رہی۔ یہ ملاقاتیں کس قدر اہم تھیں۔ اتنی کہ میں، خود میں ایک دم ترو تازگی محسوس کر نے لگا۔ (جاری ہے)