دو کروڑ کا باتھ روم اور بے وقعت لڑکی
- تحریر منور علی شاہد
- سوموار 20 / جون / 2016
- 6760
ایک حسین لڑکی راجہ کے دربار میں رقص کر رہی تھی۔ راجہ بہت بدصورت تھا۔ رقص کرنے کے بعد لڑکی نے راجہ سے ایک سوال کرنے کی اجازت مانگی۔ راجہ نے اجازت دے دی۔ لڑکی نے کہا جب اللہ حسن تقسیم کر رہا تھا، آپ کہاں تھے۔ راجہ نے غصہ نہیں کیا، بلکہ مسکراتے ہوئے کہا۔ جب تم حسن کی لائن میں کھڑی حسن لے رہی تھی میں قسمت کی لائن میں کھڑا قسمت لے رہا تھا اور آج تجھ جیسی حسن والی لڑکی میری غلام ہے۔ اسی بات پر اک شاعر نے کیا خوب کہا ہے کہ۔۔ حسن نہ مانگ، نصیب مانگ اے انسان
بات بہت سچی ہے پاکستان سمیت اسلامی ملکوں میں کسی کے ہاں لڑکی پیدا ہوتی ہے تو دعا مانگی جاتی ہے کہ اے اللہ اس کے نصیب اچھے کر۔ اس کی وجہ کوئی بھی ہو لیکن بنیادی وجہ اور خوف جو اس دعا کے پیچھے نظر آتا ہے وہ معاشرتی اخلاقی انحاط ہے۔ اونچ نیچ کی وہ دیواریں ہیں جو ہر دو گھروں کے درمیان کھڑی ہیں اور بلند سے بلند تر ہوتی جا رہی ہیں۔ اب ایسا ہی حال من حیث القوم پوری سوسائٹی کا ہو چکا ہے۔ ان کے نصیبوں کو بھی زنگ لگا چکا ہے ہر شخص اپنا مفاد عزیز رکھتا ہے۔ لیکن سب خاموش ہیں برداشت کئے جا رہے ہیں۔ یہ ایک ایسی سوچ ہے جو آج کی اور آنے والی نسلوں کو کہیں کا نہ چھوڑے گی۔ وہ اپنے ہی ملک میں ایک غلام زندگی گزارنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ حقیقت یہی ہے کہ پاکستان کی اشرافیہ اور ان کی اولادیں زندگی کی تمام رعنائیوں سے لطف اندوز ہو رہی ہے لیکن پاکستان کے عام اور سفید پوش لوگ المناک اور کربناک زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
پاکستان کے بے بس اور لاچار لوگوں کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ان پر وہ لوگ اور وہ سوچ مسلط ہے جو صرف اپنے مفاد اور اپنی ذات اور اپنی نسل کا سوچتی ہے۔ خود وہ پاکستان میں رہتے ہیں اور ان کی نسلیں بیرون ملک لوگوں کے پیسے پر عیاشی کرتی ہیں۔ فوج، ملا اور سیاست دان ان تینوں نے اپنے اپنے مفادات کے لئے کروڑوں لوگوں کی خوشیوں کو یرغمال بنا رکھا ہے ۔ حال ہی میں سپریم کورٹ نے دفاعی اداروں کے کاروباری معاملات میں ملوث ہونے پر سخت ایکشن لیا ہے۔ سیا ست دانوں نے کرپشن کے ہوشربا ریکارڈ بنائے ہیں۔ اور مولوی نے مذہب کے نام پر اپنے کاروبار چمکا رکھے ہیں۔ پیری مریدی کے نام پر الگ لوٹ مار مچا رکھی ہے ۔ آج کل ایک تصویر سوشل میڈیا پر نظر آتی ہے جس میں حضرت مولانا قادری ایک عورت کے ہاتھوں سے کڑے اترواتے دکھائی دیتے ہیں۔ اب صرف کپڑے ہی تن پر رہ گئے ہیں جو مستقبل میں شاید کیلوں کے پتوں سے بدل جائیں گے۔
عام آدمی کو نہ دو وقت کی روٹی میسر ہے، بیمار ہو جائے تو علاج نہیں کر واسکتا ، بچہ سکول ہینچ جائے تو فیسیں ادا کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ کسی مقدمہ میں ملوث ہو جائے تو جان بچانی مشکل۔ ایک سچا واقعہ بیان کرتا ہوں کہ کہ چھ سات سال پہلے ایک آدمی نے میرے کالم پڑھے اور میرا نمبر کسی نہ کسی طرح تلاش کرلیا اور مجھ سے رابطہ کیا۔ فون پر اس نے بتایا کہ وہ ایک سرکاری ادارے میں کلرک سے بھی کم پوسٹ پر ملازم تھا اور اس کا بیٹا میٹرک میں 900سے زائد نمبر لے کر کالج میں داخلہ لے چکا تھا۔ اب اس کے پاس مزید ہمت نہیں تھی کہ وہ اس کے تعلیمی اخراجات برداشت کر سکے۔ مجھے کہنے لگا کہ میں اس کی اپیل اپنے مضمون میں شائع کر دوں۔ شاید کوئی میری مدد کر سکے۔ میں یہ تو نہیں کر سکا لیکن اس کو ایک ایسے ادارے کے پاس بھجوا دیا جہاں سے اس کی ماہوار فیس کا بندو بست ہو گیا۔ پھر پتہ نہیں چلا کہ کیا ہوا۔ لیکن یہ سچ ہے کہ پاکستان کا بہترین ٹیلنٹ اور ذہین ترین دماغ ہمارے بدترین استحصالی نظام کا نشانہ بن رہے ہیں۔
برطانیہ ایک غیر اسلامی ملک ہے۔ حال ہی میں لندن کے مئیر کے بارے شہہ سرخیاں پاکستان کے اخبارات کی زینت بنی تھیں کہ ایک ڈرائیور کا بیٹا لندن کا مئیر منتخب ہو گیا۔ اسی طرح ایک پاکستانی نژاد خاتون ممبر پارلیمنٹ بنی جو ایک معمولی باپ کی بیٹی ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے پاکستان کے اندر ایسا کیوں نہیں ہوتا۔ اس سوال کے جواب کے لئے پاکستان کے لوگوں کو جاگنا ہو گا اور بدلنا ہو گا۔ اپنے لئے اور اپنی نسل کے لئے۔ اپنے ووٹ کی قیمت وصول کریں۔ پاکستان کے لوگوں نے کبھی بھی اس بات پر غور کرنے کی زحمت نہیں کی کہ آخر آج کی سب مصیبتیں انہی کا مقدر کیوں ہیں۔ انہی کا نصیب ایسا کیوں بن چکا ہے۔ ملک میں مسلمان حکمران ہیں لیکن وہ ناکام ہیں۔ اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ریاست کے معاملات کا مذہب و عقیدہ سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ بلکہ اس کے لئے دیانت داری، قابلیت اور اہلیت لازمی ہوتی ہے، خواہ حکمران کا عقیدہ کچھ بھی ہو۔ سعودی عرب اور چین دونوں کا پاکستان کے ساتھ کیسا سلوک ہے اس کا فیصلہ میں قارئین پر چھوڑتا ہوں۔ لیکن سچ یہی ہے کہ خدا کا انکاری ملک چین اس وقت 56 اسلامی ممالک سے زیادہ پاکستان کا دوست ہے۔
حال ہی میں قومی بجٹ پیش کیا گیا اور اس کے اہم نکات مسلسل اخبارات کی زینت بن رہے ہیں۔ چند ایک ملاحظہ کریں وزیراعظم کے باتھ روم کے لئے دو کروڑ اٹھارہ لاکھ کا بجٹ رکھا گیا ہے۔ اس باتھ روم میں کیا خاص ہوتا ہے وہی کام ہے نا جو ایک دھوبی موچی کرتا ہے اب وزیراعظم ایسا کیا خاص کرتے ہیں کہ دوکروڑ رکھے گئے ہیں۔ اسی طرح وزیراعظم ہاؤس کا خرچہ88کروڑ، ایوان صدر کا خرچہ86 کروڑ، وزیر اعلیٰ پنجاب کا خرچہ42 کروڑ مختص کیا گیا ہے اس کے علاوہ اربوں کے ایسے ہی غیر ضروری عیاشی والے خرچے ہیں۔
یہ پاکستان کی اشرافیہ کی عیاشی کی ایک معمولی جھلک ہے۔ دوسری طرف عوام کی حالت زار دیکھیں۔ یہ صرف ایک ماہ مئی کا ایک جائزہ ہے جس سے عوام کی حالت زار کا بخوبی پتہ چلتا ہے۔ صرف ایک ماہ میں پاکستان بھر میں223 افراد نے خودکشی کی، جن میں 81 خواتین شامل ہیں۔ اس وقت ماہانہ خود کشی کرنے والوں کی تعداد 150-200 کے درمیان ہے۔ ان کی وجوہات میں بنیادی وجہ غربت، بھوک، تنگ دستی اور گھریلو جھگڑے ہیں، جو غربت کی وجہ سے ہی پیدا ہوتے ہیں۔ اب عید کی آمد آمد ہے ہر سال کی طرح اس سال بھی گھروں میں اس وقت مشکل پیدا ہوگی، جب بچے عید کے کپڑوں کا مطالبہ کریں گے۔ آج کی پہلی خبر ملاحظہ کریں کہ راجن پور میں ایک باپ نے اپنی آٹھ سالہ بچی دعا کو اس لئے نہر میں پھینک کر مار دیا کہ اس نے عید کے لئے باپ سے کپڑوں کی فرمائش کی تھی۔ وزیراعظم کا باتھ روم دو کروڑ کا اور زندہ بچی ایک کوڑی کی بھی نہ تھی۔۔۔۔