سیکولر ترکی میں رمضان کی بہاریں
- تحریر فرخ سہیل گوئندی
- منگل 21 / جون / 2016
- 5594
رمضان کا مہینہ اسلام میں اپنے نفس کے امتحان اور خوشیوں کا مہینہ ہے ۔ روزہ رکھنے اور روزہ کھولنے کا ایک اپنا ہی لطف ہے۔ میرے نزدیک روزے میں بھوک کا احساس اُن لوگوں کے قریب کردیتا ہے جو غربت کے سبب ہماری طرح کی نعمتوں سے محظوظ ہونے سے محروم ہیں۔ رمضان کے مہینے میں جہاں احباب اور رشتہ دار اس کو مل کر مناتے Celebrate کرتے ہیں، وہیں اس کو مسلمان ملکوں میں اپنی طرح اپنے اپنے انداز میں منانے کا تصور ہے۔ تیل سے مالا مال خلیجی ریاستوں اور سعودی عرب میں لوگ ساری رات جاگتے اور خریداری کرتے ہیں اور دن کو سوتے ہیں۔ رات بھر شہروں میں میلوں کا سماں رہتا ہے۔ ہم چوں کہ جغرافیائی طور پر ان کے قریب ہیں، اس لیے اس حوالے سے ہمارے ہاں وافر معلومات ہیں کہ ماہِ رمضان سعودی عرب اور تیل سے مالامال ممالک میں کیسے منایا جاتا ہے۔
دو روز پہلے میں نے اپنے دوست سلیم خالد منصور کو فون کیا اور انہیں بتایا کہ ترک کیسے ماہِ رمضان کیسے مناتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ اس پر ضرور لکھیں۔ سلیم خالد منصور کا شمار پاکستان کے اُن لوگوں میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی زندگی اپنے نظریے کی نذر کردی۔ وہ جماعت اسلامی کے نہایت وسیع المطالعہ لوگوں میں سرفہرست شخصیت ہیں۔ زندگی کے معاملات کو اپنے وسیع مطالعے کی بنیاد پر بڑی گہرائی کے ساتھ دیکھتے ہیں۔ گفتگو کرتے ہوئے جذباتی نہیں بلکہ منطقی انداز ان کی گفتگو میں چھایا ہوتا ہے اور ان کا عقیدہ کمزور مطالعے کے باعث ڈگمگاتا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ کالم بعنوان ’’ ایک سیکولر ملک میں رمضان کی بہاریں‘‘ ضرور لکھیں۔ اس سے پہلے میرے ایک مخلص اور مطالعے کے شوقین دوست احمد تراث نے بھی یہی خواہش کی تھی جوایک اسلامی مدرسے میں استاد ہیں۔
میں ترکی میں رمضان کی آمد سے چار روز قبل پہنچا۔ یہاں لوگ اور ریاست دونوں رمضان کی تیاریوں میں مصروف تھے۔ یہ میرا ترکی میں ماہِ رمضان میں شاید پانچواں یا چھٹا سفر ہے۔ میں نے یہاں لوگوں اور ریاست کو جس طرح رمضان کے اس مہینے کو مناتے دیکھا، شاید ایسا ذوق وشوق تیل سے مالامال ریاستوں میں بھی کم ہو۔ ایک ایسی ریاست جو سیکولرازم کی بنیاد پر کھڑی کی گئی جس کا سماج عملاً سیکولر Secularized ہوچکا ہے اور جہاں پاکستان سے زیادہ مسلمان اکثریتی آبادی ہے، ایسے سیکولر سماج میں لوگوں اور سیکولر ریاست کا رمضان کو منانے کا تجربہ ہمارے ’’جذباتی تجزیہ نگاروں‘‘ کے لیے یقیناًسبق ہوسکتا ہے۔
ترک رمضان کو ایک مذہبی اور قومی تہوار کے طور پر مناتے ہیں۔ قارئین، آپ ایسی غلط فہمی کو دل سے نکال دیں کہ جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کے اقتدار میں آنے کے بعد ایسا ہوا ہے۔ اُس سے پہلے بھی رمضان یہاں اسی جوش وجذبے سے منایا جاتا تھا جیسے اب۔ اور ایک بات بہت غورطلب ہے کہ یہاں مقامی حکومتوں کا ایک مضبوط نظام ہے۔ میں نے ابھی تک رمضان جن شہروں میں دیکھا، وہاں مرکزی حکومت والی پارٹی (AKP) یعنی طیب اردوآن کی پارٹی کی مقامی حکومتیں نہیں ہیں۔
پہلا روزہ ادانہ کے قریب تاریخی شہر ترسوس میں ہوا جہاں تنگ نظر قوم پرست MHP کی حکومت ہے، وہاں روزہ ترکی کے کسی بھی دوسرے شہر سے زیادہ بھرپور انداز میں رکھا اور اس مہینے کو منایا جا رہا تھا۔ اسی طرح مرمرہ سمندر کے کنارے استنبول کے جس علاقے میں میرا قیام ہے وہاں ترقی پسند پارٹی CHP کی حکومت ہے۔ یاد رہے جہاں بلدیاتی حکومتیں AKP کی نہیں، وہاں آپ کو طیب اردوآن کی تصاویر نہیں ملیں گی، تو اس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ترکی میں بلدیاتی حکومتوں کا طاقتور نظام کیا ہے۔
رمضان کے آغاز میں مساجد رنگ برنگی روشنیوں سے سج جاتی ہیں۔ رمضان کے حوالے سے خصوصی بازار لگتے ہیں جہاں کتابوں اور ہینڈی کرافٹس کے لیے عام شہریوں کو بلامعاوضہ سٹال لگانے کی اجازت ہوتی ہے اور کسانوں کو قیمتی اجناس جیسے شہد، فندک، کافی اور دیگر مصالحے فروخت کرنے اور قسم قسم کی علاقائی مصنوعات فروخت کرنے کے لیے مقامی حکومتیں جگہ فراہم کرتی ہیں۔ اشیا کی قیمتوں میں ہماری طرح اضافے کی بجائے کمی ہوجاتی ہے۔ برانڈڈ مصنوعات سے لے کر سبزیوں اور پھلوں تک کی قیتیں کم ہوتی ہیں۔ کمپنیاں اس حوالے سے سکیمیں نکالتی ہیں۔ ریڈیو، ٹی وی، اخبارات خصوصی پروگرامز ترتیب دیتے ہیں (معذرت کے ساتھ، ہماری طرح مذہب کے نام پر مسخرے پروگرام نہیں بلکہ حقیقتاً مذہبی پروگرام)۔ سحر کے وقت ڈھول اور شہنائی کے ساتھ جس طرح خوبصورت دُھن پر لوگوں کو سحر کے لیے بیدار کیا جاتا ہے، وہ اس قوم کی تہذیبی بلندی کا احساس دلاتا ہے۔ تھالی، دیگچی اور فضول بے سُرا انداز نہیں بلکہ عثمانی دَور کے ڈھول اور شہنائی اور گیت گائے جاتے ہیں۔ اور عید کے روز اِن لوگوں کی جس طرح آؤ بھگت ہوتی ہے وہ قابل دید ہے۔ وہ کسی دلہے کی طرح محلوں میں لوگوں سے داد اور انعام وصول کرتے ہیں۔ لوگ انہیں کمّی کے طور پر نہیں بلکہ ایک روحانی عمل میں رہنمائی کرنے والے شخص کے طور پر عزت افزائی کرتے ہیں۔
اِس سیکولر ملک میں اذان اور قرأت کا اہتمام اسلامی دنیا کے لیے قابل تقلید ہے۔ اتاترک کی ثقافتی اصلاحات کے تحت ایسا کوئی شخص امام مسجد نہیں ہوسکتا جس نے الہٰیات میں ماسٹرز کی ڈگری نہ لی ہو۔ امام کی ملازمت سرکاری سطح پر ہوتی ہے۔ مؤذن کے لیے خوش الحان ہونا اور اس کے لیے سرکاری کورس کرنا لازمی ہے۔ لہٰذا اذان اور قرأت ترکی کی مساجد میں جس خوبصورت انداز میں بیان کی جاتی ہیں، سبحان اللہ۔ یہ ممکن ہی نہیں کہ آپ خوبصورت انداز کے بغیر کلام اللہ مسجد میں لاؤڈ سپیکر سے بیان کرسکیں۔ مساجد، مسجد الحرام کی طرح عبادت کے لیے مردوزن کے لیے برابر کھلی ہوتی ہیں، عورتوں کا حصہ اور مردوں کا حصہ۔ مساجد سے ملحقہ زمین پر جس انداز میں واش روم قائم ہیں، اس وقت احساس ہوتا ہے کہ ہم جنوبی ایشیا کے مسلمان اپنی مساجد کو خوشبوؤں کی بجائے بدبو سے کیسے لبریز کرتے ہیں۔ واش رومز مساجد سے دور اور کسی فائیو سٹار ہوٹل سے زیادہ شاندار ہیں۔ ایک لیرا (تقریباً 35 روپے) ادا کرکے اس سہولت سے مستفید ہوسکتے ہیں۔
رمضان میں اذانوں کی سحرانگیز آواز کے ساتھ قرأت مسلسل جاری رہتی ہے، لیکن اس کو سننے کا اہتمام مساجد کے اندر ہے۔ سیکولر اصلاحات کے تحت تعلیم یافتہ امام اور تربیت یافتہ مؤذن نے مساجد کو لڑائی جھگڑے، فساد اور نفرت انگیز تقاریر سے محفوظ کرکے یاد اللہ کا شاندار گہوارہ بنانے میں مدد دی ہے۔ اگر ایک عورت مسجد میں بغیر حجاب کے داخل ہوتی ہے تو اس کو قتل کرنے کی بجائے اس کے لیے حجاب کی الماری ہے کہ اپنا سر خود ڈھانپے اور فرائض ادا کرے۔ اسلام میں سترپوشی کا کہا گیا، ترک اسلام کی روح کو پاگئے ہیں۔ لہٰذا لباسوں کی شناخت سے نکل کر اسلام کے اصولوں کے مطابق مساجد میں سترپوشی کرکے مسلمان آپ کو حیران کر دیتے ہیں۔ اُن کا لباس، پتلون اور قمیص ہوتا ہے۔
رمضان میں مساجد اور ان کے اردگرد محلوں میں میلوں کا سماں تو ہوتا ہی ہے، مقامی حکومت جگہ جگہ رمضان کے مہینے کومنانے Celebrate کرنے کا جو اہتمام کرتی ہے وہ قابل دید ہے۔ مجھے چند سال پہلے ایک پاکستانی ہوٹل کی لفٹ میں ملے۔ اُن کا نام تھا مشتاق۔ کراچی سے تعلق رکھنے والے مشتاق صاحب، بلجیم میں چار بڑے ہوٹلوں کے مالک تھے۔ یہ رمضان کا مہینہ تھا اور رمضان کا مہینہ گزارنے کے لیے وہ سعودی عرب جا رہے تھے۔ انہیں رمضان کے پہلے دو دن ترکی میں گزارنے تھے۔ مجھ سے پوچھا کہ یہ دو دن کہاں، کن مساجد اور علاقوں میں گزاروں۔ میری رہنمائی کے دو دن بعد آئے اور کہا کہ میں ہر سال رمضان کا مہینہ کسی اسلامی ملک میں مناتا ہوں، مراکش، الجزائر، مصر، تیونس، دبئی، کویت وغیرہ، اب سعودی عرب جا رہا ہوں۔ اگلے سال طے ہوگیا کہ ترکی۔ اگلے سال اُن کا فون آیا کہ سعودی عرب میں بھی رمضان گزارا۔ اب ترکی میں ہوں۔ ترکی میں جیسا رمضان منایا جاتا ہے ، اس کا کوئی مقابلہ ہی نہیں۔
رمضان میں ترکی میں کھانے کا جو اہتمام کیا جا تا ہے، وہ قابل دید ہے۔ گداگروں کے ساتھ جس طرح ہمارے ہاں جنوبی ایشیا میں جیسا رویہ اختیار کیا جاتا ہے، مجھے اس کا تجربہ ہندوستان اور بنگلہ دیش میں بھی ہوا ہے۔ ہمارے ہاں جو بڑے دعوے کیے جاتے ہیں کہ فلاں ادارہ اور مخیرشخص روزہ داروں کی افطاری کا اہتمام کر رہا ہے۔ ذرا دیکھیں کیسے تذلیل کی جاتی ہے روزہ داروں کی ، گداگروں کی طرح بھی نہیں بلکہ اس کے اندر ہمارے اندر چھپا ذات پات کا نظام چھایا ہوتا ہے۔ مگر یہاں افطار پُروقار طریقے سے ہوتا ہے، ہزاروں لوگوں کے لیے میز کرسیاں اور خوراک کا مہذب اہتمام کیا جاتا ہے۔
ترک بنیادی طور پر روزہ رکھتے ہیں ، کم تعداد ہے جو روزہ نہیں رکھتی ۔ آپ کسی کو پتلون اور سکرٹ میں دیکھیں گے تو یقین کر یں گے کہ یہ روزے سے نہیں ، مگر پوچھیں تو معلوم ہو گا کہ روزہ ہے۔ یہاں اسلام میں جبر نہیں۔ جس کا روزہ نہیں اس پر اور کھانے پینے کی اشیاء فروخت کرنے پر پابندی نہیں ۔ ترکوں نے یہ راز بھی پا لیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے روزِ قیامت ان کا پاسپورٹ چیک نہیں کر نا کہ وہ اسلامی جمہوریہ ترکیہ سے آیا ہے بلکہ اُن کے اعمال دیکھنے ہیں ۔ حقوق اللہ بھی اور حقوق العباد بھی ۔ یہاں دوسروں پر نیکی ٹھونسنے کا رواج نہیں، نیکی اور اسلام کو اپنانے کا رواج ہے۔ سیکولر ریاست لوگوں کو اپنے مذہبی شعار ادا کرنے کی مکمل آزادی دیتی ہے۔ لیکن آپ کو زور ذبردستی کا اختیار نہیں دیتی کہ آپ دوسروں پر جبر کریں۔
روزہ افطار کے وقت اگر آپ استنبول کے مرکز سلطان احمت ، نیلی مسجد کے گرد ہوں تو معلوم ہو گا کہ ترک ماہِ رمضان کیسے مناتے ہیں۔ خاندان کے خاندان پارکوں میں، گلیوں میں اپنے سامان کے ساتھ موجود روزہ کھولتے ہیں اور راہ گیروں کو دعوت دیتے ہیں۔ حتیٰ کہ سیاحوں کو بھی اپنے لذیذ کھانوں کی پیشکش کرتے ہیں اور رات گئے یا سحر تک وہیں قیام کرتے ہیں۔ ہر شہر کی بلدیہ شہر کو دلہن کی طرح سجا دیتی ہے۔ مختلف علاقوں میں میلے لگائے جاتے ہیں جو افطاری کے بعد جوان ہوتے ہیں۔ گیت گانے والے، اناطولیہ کے گیت، صوفی موسیقی گاتے ہیں۔ اس کے کثیر اخراجات شہر کی مقامی بلدیہ برداشت کرتی ہے۔ سحر تک میلہ جاری رہتا ہے۔ عورتیں ، بچے بوڑھے اور جوان میلہ لگائے علاقے میں گیت بھی سنتے ہیں ، کافی اور چائے سے بھی لطف اندوز ہوتے ہیں اور آپس میں مشہور ترک کھیل طاولیہ کھیلتے ہیں۔ ایک کھیل جو میز پر بیٹھ کر کھیلا جاتا ہے۔ رات بھر سٹالوں پر مقامی دستکاروں کے شاہکار لوگوں کی خریداری کا مرکز ہوتے ہیں۔
رمضان ترکی میں خوشی کا مہینہ ہے۔ عبادات، تقریبات اور مساوات کا مہینہ ہے۔ ترکی میں رمضان کا اہتمام عوام اور ریاست دونوں اپنی اپنی جگہ کرتے ہیں۔