قندیل بلوچ اور مولوی کا چاند

فی زمانہ پاکستانی عوام کا سب سے محبوب مشغلہ مذہب پر طبع آزمائی ہے۔ اور کیوں نہ ہو کہ ایک عرصے سے مذہب کی من پسند تشریح کا جو بیج بویا جا رہا تھا آج اسی کی فصل کاٹی جا رہی ہے۔ ایک محدود طبقہ مولوی کی مدح سرائی میں سرگرم تو ہے مگر معاشرے کی ایک قابل ذکر تعداد جہاں ملا اور مفتی سے بیزار نظر آتی ہے وہیں اسے گالیاں دینے سے بھی نہیں چوکتی۔ مولوی سے جڑی یہ بحث بہت طویل اور وقت طلب ہے مگر اسی تناظر میں سامنے آنے والی کچھ سیلفیز اور وڈیوز نے سوشل میڈیا پر مقبولیت کے تمام ریکارڈ توڑ دیئے ہیں۔ سوشل میڈیا کے ’’مجاہد‘‘ ان وڈیوز اور تصاویر کو لے کر ہلڑ مچا رہے ہیں۔ جن سیلفیوں اور وڈیوز کی دھوم مچی ہیں اس میں کردار نبھائے ہیں، رویت ہلال کمیٹی کے رکن مفتی عبدالقوی اور سوشل میڈیا کی معروف مگر متنازع شخصیت قندیل بلوچ نے۔

مفتی صاحب کہتے ہیں قندیل بلوچ نے ہی ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا تھا کہ اس پر جادو کیا گیا تھا اور وہ اس جادو کا توڑ کروانے آئی تھیں۔ مگر لگتا ایسا ہے کہ جادو کا یہ بھوت قندیل بلوچ کے سر سے اتر کر مفتی صاحب پر چڑھ گیا ہے۔ معاملہ میڈیا پر زور و شور سے اٹھا تو مفتی صاحب اپنی اور قندیل صاحبہ اپنی وضاحتیں دینے لگیں۔ قندیل بلوچ کے مطابق انہیں مفتی صاحب نے ہی ملاقات کے لئے ہوٹل بلایا تھا اور انہوں نے باقاعدہ شادی کی پیشکش بھی کی ہے۔

اس ملاقات کا منظر کچھ یوں تھا کہ کبھی مفتی عبدالقوی کی ٹوپی قندیل بلوچ کے سر پر تھی تو کبھی مفتی صاحب بکھرے بالوں کے ساتھ پہلوئے قندیل میں بیٹھے سیلفیاں اور ویڈیو شوٹ میں مصروف تھے۔ ساتھ ساتھ رننگ کمنٹری بھی جاری تھی جسے دہرانا وقت ضائع کرنے کے مترادف ہے۔ کیونکہ مذکورہ بالا بیان کردہ منظر ہی تصور میں لانے سے تصویر واضح ہو جاتی ہے کہ کس طرح لوگوں کو مذہب کی تعلیم دینے والا شخص عامیانہ طرز عمل کا مظاہرہ کر رہا ہے۔

لیکن معاملہ ایک انہی مولوی صاحب پر نہیں رکا۔ بلکہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور میں جب ایک معاملے میں رویت ہلال کمیٹی کے ارکان کے ناموں کی پکار لگی تو مفتی عبدالقوی کا نام نامی آتے ہی ماروی سرمد کو شلوار اتارنے کی دھمکیاں دینے والے سینیٹر حافظ حمد اللہ نے فل اسٹاپ لگوا دیا۔ حافظ صاحب (یہ فیصلہ آپ خود کریں کہ یہ پنجابی والے حافظ صاحب ہیں یا نہیں کیونکہ پنجاب میں نابینا افراد کو بھی حافظ صاحب کہا جاتا ہے) کا کہنا تھا کہ یہ مفتی عبدالقوی وہی تو نہیں جن کی قندیل بلوچ کے ساتھ تصاویر ہیں (یعنی انہوں نے بھی ان تصاویر اور ویڈیوز کو دیکھنے کا لطف اٹھایا ہے)۔ جب انہیں یہ بتایا گیا کہ یہ وہی مفتی صاحب ہیں تو حافظ صاحب کی تو گویا نکل پڑی۔ میڈیا میں زندہ رہنے کا فن جاننے والے حمداللہ نے فوراً میڈیا کے سامنے توپوں کا رخ قندیل بلوچ کی جانب موڑ دیا۔ حافظ صاحب کا کہنا تھا کہ ’’مفتی عبدالقوی کی ٹوپی قندیل بلوچ کے سر پر تھی اور مفتی صاحب رویت ہلال کمیٹی کے رکن ہیں، اس لئے قندیل بلوچ کو بھی کمیٹی کا رکن بنا دیا جائے‘‘۔ حافظ صاحب نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ ’’مفتی عبدالقوی کو تو عید سے پہلے ہی عید کا چاند نظر آ گیا‘‘۔ یہ کہتے ہوئے حمد اللہ صاحب کے لہجے میں حسرت نمایاں تھی گویا انہیں یہ غم ستا رہا ہے کہ کاش عبدالقوی کی جگہ یہ عید کا چاند میں ہی دیکھ لیتا۔

دو مولویوں کی یہ کہانی سن کر کوئی بھی ذی شعور ان ملاؤں کو برا بھلا نہ کہے تو اسی کی عقل پر ماتم کرنے کا دل چاہے گا۔ مذہب کے ان ٹھیکیداروں کی ہر بات کی تان عورت پر آ کر ٹوٹتی ہے۔ ملک کے سب سے بڑے سرکاری مذہبی ادارے ’’اسلامی نظریاتی کونسل‘‘ کا حال تو کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ۔ لگتا ہے کہ یہ کونسل صرف ’’خواتین‘‘ پر مباحث کے لئے وجود میں لائی گئی ہے اور ماشا اللہ جب سے مولانا فضل الرحمان کے معتمد خاص مولانا شیرانی اس کے سربراہ بنے ہیں، کونسل کی رونقوں میں چار چاند لگ گئے ہیں۔ اب تو عام لوگوں کے لطیفوں میں بھی مولوی اور عورت لازم و ملزوم ہو گئے ہیں۔ حالانکہ کوئی دل پر ہاتھ رکھ پر سوچے تو مفتی یا مولوی ایک بہت بڑا رتبہ اور اعزاز ہے جو برسوں کی مشقت اور ریاضت کے بعد ہی کسی بااصول اور باعمل مسلمان کو مل سکتا ہے۔ مگر ’’اندھا بانٹے ریوڑیاں ، وہ بھی اپنوں اپنوں میں‘‘ کے مصداق آج کوئی بھی مفتی یا مولوی بن سکتا ہے، شرط یہ ہے کہ وہ خاتون مخالف ضرور ہو۔ پھر تو کسی کی مجال نہیں کہ اس کے مولوی یا مفتی ہونے پر شک کا اظہار کر سکے۔

ایک مولوی کا اپنے منصب اور رتبے کو بھلا کر بری طرح ایک خاتون پر فریفتہ ہونا ایک ستم بالائے ستم، اس معاملہ پر دوسرے مولوی کا چسکے لینا اور میڈیا کے سامنے طرح طرح کے بیان دینا ، اس طبقے کی ذہنی پستی کا واضح ثبوت ہے۔ یقیناًسارے مولوی اور مفتی ان دونوں حضرات جیسے نہیں مگر کیا کیجئے کہ ’’جو دکھتا وہ بکتا ہے‘‘ کے مصداق قوم انہی جیسے حضرات کو مسلسل ٹی وی چینلز کی اسکرینوں پر دیکھ رہی ہے جس سے ان کی رائے میں سبھی ملا انہی جیسے بن کر رہ گئے ہیں جو عظیم المیہ ہے۔ اب بھی وقت ہے کہ مذہب کے یہ ٹھیکیدار نیند سے جاگیں اور اپنی شبیہ بدلنے کیلئے سنجیدہ کوششیں کا آغاز کریں ۔ ورنہ جو چند لوگ آج بھی ان پر اعتماد رکھتے ہیں وہ بھی انہیں لعنت ملامت کرتے نظر آئیں گے۔