ملکی معیشت ۔ بے وزن ہو کر رہ گئی ہے

جہاں وسائل نہ ہوں وہاں مسائل اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔
اس وقت ہمارے چاروں طرف مسائل ہی مسائل ہیں۔ علاقائی مسائل ، مذہبی مسائل ، گروہی مسائل ، سیاسی و ثقافتی مسائل، تعمیمی مسائل ، دفاعی مسائل ، لسانی مسائل ، بیروزگاری مسائل ۔۔۔۔ زندگی کے سارے مسائل ، ہر مسئلہ سو فیصدی معاشی مسئلہ سے جڑا ہے۔ تمام سیاسی و سماجی مسائل کی جڑیں معاشی صعوبت اور پریشانی کی تہہ میں گڑی ہوئی ہیں۔ مسائل حل نہ ہو رہے ہوں اور حل ہونے کی رفتار عوامی توقع اور صورتحال کے تقاضوں سے کہیں کم اور دھیمی ہو تو پریشان حال عوام کا پریشان ذہن ہو جانا فطری بات ہے۔ صاف نظر آتا ہے کہ وہ رفتہ رفتہ حکومت ، انتظامیہ ، عدلیہ ، منتخب اداروں اور معاشرے سے مایوس اور بدظن ہوتے جا رہے ہیں۔

جیسی بھی ہے جمہوریت آ چکی ہے مگر قانون کی حکمرانی ہنوز ایک خواب ہے۔ جمہوری ادارے بن نہیں پا رہے۔ ایسے میں مایوس عوام کا منفی سمتوں کی طرف چل نکلنا کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔ علاقائی ، لسانی اور مذہبی فرقہ وارانہ بنیادوں پر گروہ اور سیاسی جماعتیں تشکیل دے دی گئی ہیں۔ بنیاد پرستی اور انتہا پسندی زور پکڑ چکی ہے اور کئی لوگ اسلام کے نام پر خون خرابہ کرنے کےلئے تیار بیٹھے ہیں۔ نفرت اور عصبیت بڑی محنت اور ’’خلوص دل‘‘ سے پھیلائی جا رہی ہے، معاشرہ میں رواداری اور برداشت کا مادہ ختم ہو چکا ہے۔ اب پہلا مسئلہ یہ ہے کہ ہماری معیشت اپنے سیاسی پہلو کے ان جھٹکوں کو برداشت نہیں کر پا رہی۔ ملک کا سالانہ بجٹ بھی کوئی بڑی تبدیلی نہیں لا سکا۔ صورتحال تقاضہ یہ ہے کہ ہم سب سے پہلے قوم کے معاشی مسائل حل کریں۔ اسی صورت میں ہمارے یہاں جمہوریت پنپ سکتی ہے ورنہ معاشرہ جس طرح بے لگام ہو رہا ہے، بہت جلد وہ اس سے سوا ہو جائے گا۔  یہ بات ہر کس و ناکس جانتا ہے کہ جمہوریت صرف جمہوری عمل جاری و ساری رہنے اور بڑھاوا دینے اور ترقی کرنے اور نشوونما کے فروغ سے ہی مضبوط و مستحکم ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ کوئی چھومنتر ، کوئی ٹونا ٹوٹکا ، کوئی دوا دارو ، کوئی اکسیری نسخہ ، کوئی دعا و عبادت ، کوئی الہ دین کا چراغ ، کوئی گیدڑ سنگھی ، کوئی امرت دھارا ، کوئی جادو کی چھڑی یا کوئی دوسرا طریقہ نہیں ہے۔ ابھی حال ہی میں ترقی پسند رہنما عابد منٹو نے ایک نہایت اہم اور پتے کی بات کی ہے کہ سیاستدانوں نے نظام کو تبدیل نہ کیا تو ملک کو ذبردست معاشی تباہی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ میں یہاں اسحاق ڈار کی بات نہیں کروں گا بلکہ عابد منٹو کی بات کی تائید کرتے ہوئے ملک عزیز کی معاشی تباہی کے حل کےلئے اپن گزارشات پیش کروں گا۔

عام مفہوم میں ہم ایسا کہیں گے کہ جس طرح کوئی گھر یا خاندان چلتا ہے قومی معیشت چلانے کےلئے بھی وہی اصول ہیں۔ وہی بجٹنگ ، وہی آمدن ، وہی اخراجات ، وہی سیونگ اور وہی انویسٹمنٹ۔ قومیں بھی اسی طرح چلتی ہیں جیسے گھرانے چلتے ہیں۔ جب کسی گھرانے کے حالات ناگفتہ اور تنگ ہو جائیں تو وہ دوسرے سے قرض لے کر کام چلانے کی کوشش کرتا ہے اور وہ وقت بھی آ جاتا ہے یا آ سکتا ہے جب دوسرے مزید قرض دینے سے انکار کر دیتے ہیں کہ پہلے قرضوں کی واپسی کی کوئی صورت دکھائی نہیں دیتی۔ اب اس گھرانے کےلئے سوائے اس کے کوئی چارہ نہیں رہ جاتا کہ ایک تو وہ اپنے افراد کا معیار زندگی کم کرے (میں یہاں غریب لوگوں کی بات نہیں کر رہا) اور دوسرے اپنے اثاثے فروخت یا رہن رکھ کر روپیہ حاصل کرے۔

عام لفظوں میں اس وقت پاکستانی معیشت ایسا ہی ایک گھرانہ ہے جس کا بال بال (یہاں مراد بچے بھی ہیں) قرضوں میں جکڑا ہوا ہے اور وہ وقت آ گیا ہے جب قوم سال بھر میں جو کماتی ہے سب کا سب پرانے قرض اتارنے اور سالانہ سود اتارنے یا ادا کرنے پر لگ رہا ہے۔ چنانچہ ہمارے پاس واحد اور میری نظر میں یہی ایک راستہ ہے کہ ہم اپنی قومی معیشت کی از سر نو تشکیل کے لئے خود اپنے وسائل پیدا کرنے کی غرض سے قومی اثاثے کو Liquidate کریں۔ آج تک کسی بھی سیاستدان یا معیشت دان نے ہمیں یہ نہیں بتایا کہ ہماری وفاقی حکومت کے کل کتنے اثاثے ہیں اور کہاں کہاں ہیں؟ پاکستانی معیشت کے بارے میں تھوڑی بہت سوجھ بوجھ رکھنے والے ایک شخص کے طور پر میرا اندازہ ہے کہ وفاقی حکومت کے اثاثوں کی مالیت کسی طور بھی 125 ہزار کروڑ سے کم نہیں۔ سرفہرست 22 کارپوریشنز اور پاکستان ریلوے کے 20 بڑے انڈسٹریل پلانٹس اور ورکشاپ آتے ہیں جن کی مجموعی مالیت اربوں ڈالرز ہے۔ اس کے بعد دفاعی اثاثہ آتا ہے۔  واہ کمپلیکس، حویلیاں کمپلیکس ، کامرہ کمپلیکس اور کئی دوسری فیکٹریاں اور پلانٹس جن میں سے ایک ایک کی مالیت 9 سو ملین ڈالر جتنی یا زائد ہے اور وہ ہزاروں ایکڑ زمینیں ہیں جو مختلف دفاعی اداروں اور محکموں کی ملکیت ہیں۔ ان کے بعد پی آئی اے ، پاکستان شپنگ ، سول ایوی ایشن ، ٹی اینڈ ٹی ، واپڈا اور کئی دوسرے اثاثے ہیں جن کی مالیت بے پناہ ہے۔ یہ تمام  وفاقی حکومت کے اثاثے ہیں جن کی مجموعی مالیت پاکستان کو ڈوبنے سے بچا سکتی ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ ایک المیہ نہیں ہے کہ ملک کی بیمار معیشت کو جوں کا توں قائم رکھنے اور چلانے کےلئے زبوں حال قوم کو بیرونی قرضوں کے بوجھ تلے دبایا جا رہا ہے اور وفاقی حکومت کے یہ بے پناہ اثاثے اپنی جگہ محفوظ اور منجمد پڑے ہوئے ہیں۔ اتنا ہی المناک پہلو یہ ہے کہ حکومت کو اپنے اثاثوں کی محض دیکھ بھال اور انتظام و انصرام پر ہر سال لگ بھگ 7 ہزار کروڑ سے زیادہ صرف کرنے پڑتے ہیں۔ ایک طرف سفید ہاتھی پالے جا رہے ہیں تو دوسری طرف عوام کی بود و باش ، روزگار ، صحت ، تعلیم و تربیت اور ترقی و بہبود پر صرف کرنے کےلئے حکومت کے پاس بڑے بڑے قرضے لینے کے باوجود کوئی پیسہ نہیں ہے۔ میں مانتا ہوں کہ اس سلسلے میں معمولی کارروائیاں شروع ہو چکی ہیں مگر ان معمولی کارروائیوں سے ہماری معیشت یا ملک پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ اگر یہ خیال ہے کہ اس جزوی کارروائی کے نتیجے میں ہمارے صنعت کار اور تاجر حضرات میں اعتماد پیدا ہو گا تو یہ سراسر خام خیالی ہے۔ اعتماد صرف اسی صورت میں پیدا ہو سکتا ہے کہ پوری کی پوری معاشی پالیسی ایک پیکیج کی شکل میں آئے لیکن مجھے ڈر ہے کہ وفاقی حکومت کے یہ اثاثے دراصل وفاقی بیورو کریسی کے اثاثے بن چکے ہیں۔ یہ عوام کے اثاثے ہرگز نہیں ہیں۔ اب ایک آخری بات ۔۔۔۔۔

ایک کروڑ پتی ایم پی اے اپنے علاج کےلئے شہر کے ایک خیراتی اسپتال میں داخل ہوا۔ انتظامیہ نے بتایا کہ یہ خیراتی اسپتال ہے، یہاں صرف غریبوں کا مفت علاج ہوتا ہے۔ کروڑ پتی نے کہا ’’میں غریبوں کا نمائندہ ہوں اس لئے اس اسپتال میں علاج کروانا میرا استحقاق ہے‘‘۔

ہمی نے اس کےلئے راستے بنائے تھے
کہ گھر تک آ گیا بازار یہ تو ہونا تھا!