ایک مظلوم فوج

دنیا بھر میں فوج کو طاقت کا مظہر سمجھا جاتا ہے اور فوجیں بہادری ، دلیری اور شجاعت کی داستانیں پیش کرتی ہیں۔ دراصل ایک مضبوط فوج ہی بیرونی جارحیت سے تحفظ اور اندرونی استحکام کی ضمانت ہوا کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کی عوام اپنے ملک کی فوج کو مضبوط اور طاقتور دیکھنا چاہتے ہیں اور ایک مضبوط فوج کسی بھی ملک کی عوام کےلئے باعث فخر ہوتی ہے۔

اس کے برعکس اگر کسی ملک کی فوج کمزور ہو تو یہ اس ملک کےلئے لمحہ فکریہ تصورکیا جاتا ہے کیونکہ کمزور فوج ملک کی جغرافیائی سرحدوں کا تحفظ کرنے کی اہل نہیں ہوتی۔ غرض یہ کہ جس ملک کی فوج کمزور ہو اس ملک کی سلامتی اور خود مختاری پر ہمیشہ خطرات منڈلاتے رہتے ہیں۔ لہٰذا کوئی بھی قوم انہی خطرات کے پیش نظر ضرورت پڑنے پر اپنی فوج کے ساتھ شانہ بشانہ لڑنے کا عزم کرتی ہے۔

بزدلی اور شکست جیسے الفاظ فوجوں کی لغت میں نہیں ہوا کرتے کیونکہ میدان جنگ میں شجاعت یا بزدلی کا مظاہرہ قوموں کی زندگی اور موت کا تعین کرتا ہے۔ البتہ کچھ فوجیں کبھی کبھی میدان جنگ میں بزدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے راہ فرار بھی اختیار کر لیتی ہیں اور اس کے برعکس کبھی کبھی شجاعت کے جوہر دکھانے کے باوجود حالات کی ستم ظریفی کے باعث میدان جنگ میں فوجیں شکست کھا جاتی ہیں اور ایسی صورتحال میں یہ فوج دشمن کے رحم و کرم پر ہوتی ہے۔ البتہ یہ الگ بات ہے کہ اکثر دشمن ممالک کی فوج میں رحم و کرم کا مادہ نہیں ہوتا۔ بہرحال شکست خوردہ اور لاچار فوجوں کےلئے بھی کبھی مظلوم فوج کی اصطلاح کا استعمال نہیں کیا جاتا۔

دنیا بھر کی جنگی تاریخ کا بغور مطالعہ کیا جائے تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ تاریخ دان  صرف حضرت امام حسین بن علی رضہ اللہ عنہ کے ساتھیوں کے مختصر گروہ کےلئے ہی کربلا کے میدان میں شکست کے بعد مظلوم کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔ لیکن میری نظر میں حسین بن علی کا وہ مختصر گروہ بھی مظلوم فوج کی تعریف پر پورا نہیں اترتا اور اس کی وجہ اس گروہ کی مظلومیت سے انکار نہیں بلکہ وجہ یہ ہے کہ یہ گروہ دنیا کی کسی بھی لغت کے اعتبار سے فوج نہیں تھا۔ ابن حیدر کے ساتھ تو درحقیقت نہتے ، پیاسے ، بے سروسامان اور کمزور بزرگوں، عورتوں اور بچوں کا ایک گروہ تھا جو گھر سے جنگ کی نیت سے ہرگز نہیں نکلا تھا۔ گویا یہ گروہ مسافروں کا ایک گروہ تھا۔ 72 مظلومین کو بیدردی سے شہید کر دیا گیا، جن میں بزرگ اور بچے بھی شامل تھے۔ گویا یہ گروہ مظلومین کا ایک گروہ تو تھا لیکن یہ کوئی باقاعدہ فوج نہ تھی تو اس گروہ کےلئے بھی ہم مظلوم فوج کی اصطلاح استعمال نہیں کر سکتے۔

اس بات کا بھی قوی امکان ہے کہ اگر ابن حیدر کا گروہ نہتے لوگوں ، عورتوں ، بزرگوں ، بچوں اور کمزوروں پر مشتمل ہونے کے بجائے افرادی قوت اور جنگی ساز و سامان سے مالا مال جوانوں پر مشتمل کوئی گروہ ہوتا تو شاید کربلا میں شہید ہونے والوں کےلئے راہ حق کے شہیدوں کی اصطلاح تو استعمال ہوتی لیکن شاید مظلوم کا لفظ استعمال نہ ہوتا۔ اس کی مثال یا دلیل یہ ہے  احد کے معرکہ میں شہید ہونے والے حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کہ جن کا کلیجہ تک نکال کر چبا لیا گیا، ان کےلئے بھی سید الشہدا کی اصطلاح تو استعمال کی جاتی ہے لیکن کبھی مظلوم کا لفظ استعمال نہیں کیا جاتا۔  لفظ مظلوم کا جائزہ لیا جائے تو یہ لفظ بزرگوں ، خواتین ، بچوں اور کمزوروں کےلئے تو استعمال کیا جا سکتا ہے، لیکن کسی مسلح فوج کےلئے یہ لفظ استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ گویا مظلوم اور فوج دو متضاد چیزیں ہیں۔

اگر زیر بحث  نکات کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ مظلوم فوج کی اصطلاح پر وہی فوج پورا اتر سکتی ہے کہ جو ایک باقاعدہ فوج ہو اور جدید اسلحہ کے ساتھ ساتھ جنگی مہارت اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں سے بھرپور آراستہ ہونے کے ساتھ ساتھ دنیا کی کسی بھی فوج کا ناکوں چنے چبوانے کی اہلیت رکھتی ہو، لیکن اس کی مظلومیت کا تعلق میدان جنگ میں بزدلی کا مظاہرہ کرنے یا شکست سے نہیں بلکہ جنگی مہارت اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی بجائے ، دوسرے معاملات سے ہو۔ گویا اس فوج کی مظلومیت کا تعلق دشمن کے جبر سے نہیں بلکہ ہم وطنوں کی سرد مہری سے ہو۔

اگر بیان کردہ تعریف کے مطابق کسی فوج کی مظلومیت کا اندازہ لگایا جائے تو یہ کہنا  بھی غلط نہ ہو گا کہ پاکستان کی فوج درحقیقت ایک مظلوم فوج ہے۔ اگرچہ پاکستان کی عوام کے دل افواج پاکستان کے ساتھ دھڑکتے ہیں اور افواج پاکستان اور اس کی قیادت کو ہمیشہ سے ہی عوامی سطح پر بھرپور پذیرائی ملی ہے۔ لیکن ہمیشہ سے ہی ضمیر فروشوں کا ایک ٹولہ جسے لوگ اشرافیہ یا کچھ لوگ بدمعاش بھی کہتے ہیں، افواج پاکستان کے خلاف رہا ہے اور انہیں عوام الناس میں  کبھی مذہب کے نام پر ، کبھی عدم برداشت کے نام پر، کبھی انسانی حقوق کے نام پر اور کبھی سانحہ مشرقی پاکستان کے نام پر،  بدنام کرنے کی سازشیں کرتا رہا ہے۔ بدقسمتی سے تقریباً ہر دور میں ہی عوام کا ایک طبقہ اس گروہ کی بات کو سنتا اور مانتا رہا ہے۔

سانحہ مشرقی پاکستان کی بات کی جائے تو سقوط ڈھاکہ کے دکھ کے ساتھ ساتھ بحیثیت پاکستانی مجھے اس بات پر کبھی کبھی فخر بھی محسوس ہوتا ہے کہ میرے ملک کی فوج کے صرف تین ڈویژن نے جس میں تقریباً تیس سے چھتیس ہزار فوجی تھے،  مشرقی پاکستان کے دشوار گزار علاقوں میں انتہائی مشکل حالات میں بنا کسی کمک کے تقریباً دس ماہ تک انتہائی جوانمردی کے ساتھ دشمن کی فوج کا مقابلہ کیا۔ اور معاملات کو یہاں تک طول دیا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں معاملہ چلا گیا، جس سے پاکستان کےلئے ایک باعزت طریقے سے جنگ بندی کے امکانات روشن ہو گئے۔ یہاں اس بات کا ذکر کرنا بھی ضروری ہے کہ 15 دسمبر 1971 کو اپنے خطاب کے دوران بھٹو نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں اس بات کا برملا اظہار کیا کہ کچھ طاقتوں نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں جان بوجھ کر چار دن کی تاخیر کروائی کہ کسی طرح سے اجلاس سے قبل ڈھاکہ پر قبضہ کر لیا جائے۔ لیکن پاکستان کی بہادر فوج نے ان تاخیری حربوں کے باوجود ہمت سے کام لیا اور ہندوستانی فوج کو ڈھاکہ میں داخل نہ ہونے دیا۔ لیکن افسوس کہ جن سیاستدانوں نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں اقرار کیا کہ پاکستان کے خلاف تاخیری حربے استعمال کر کے سازش کی گئی تھی، انہوں نے ہی اقوام متحدہ کی قرارداد کو پھاڑ کر مزید تاخیر کی راہ ہموار کی اور یوں سانحہ مشرقی پاکستان پیش آیا۔ اسی طرح سے کچھ لوگ کارگل کے معاملے پر بھی فوج کو ناجائز تنقید کا نشانہ بناتے آئے ہیں۔

اگر بات مذہبی اور اعتدال پسندوں کی جانب سے تنقید کے بارے میں  کی جائے تو دیکھنا ہو گا کہ کیا اس ملک میں کبھی مذہبی انتہا پسندی کے واقعات پیش نہیں آئے اور کس طرح بیدردی سے ہماری بچوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ تو کیا ہم یہ چاہتے ہیں کہ افواج پاکستان ملک سے اس ظلم کا خاتمہ نہ کریں؟ مزید یہ کہ افواج پاکستان تو خود ایک ایسی فوج ہے کہ جو مذہب پر بھرپور طریقے سے یقین کامل رکھتی ہے اور کبھی فوج کا اور مذہبی طبقے کا کوئی تصادم نہیں رہا۔ البتہ  راہ سے بھٹکے ہوئے انتہا پسندوں نے دین کے بتائے ہوئے طریقے چھوڑ کر عوام الناس اور معصوم بچوں کو اپنے ظلم کا نشانہ بنایا۔ اسی طرح سے اس ملک کے سیکولر انتہا پسندوں کا بھی منافقت میں کوئی ثانی نہیں ہے۔ ایک طرف تو یہ لوگ فوج کو برا بھلا کہتے نہیں تھکتے کہ یہ فوج مذہبی انتہا پسندوں کے خلاف کارروائی نہیں کرتی اور دوسری طرف جب فوجی عدالتوں سے ان انتہا پسندوں کو سزائیں ہوتی ہیں تو نجانے کیوں یہ سیکولر قوتیں ہی فوجی عدالتوں کے خلاف علم بغاوت بلند کرتی نظر آتی ہیں۔

جمہوریت اور قانون کی عملداری پر بات ہو تو میرا سوال انتہائی سادہ ہے کہ کیا کبھی اس ملک میں جمہوریت رہی ہے؟ اور اگر کبھی اس ملک میں جمہوریت رہی ہی نہیں ہے تو یہ بات کیسے ممکن ہے کہ فوج نے اس ملک میں جمہوریت کےخلاف سازش کی ہو؟ جمہوریت دراصل جمہور کی منشا کا نام ہے۔ گویا کہ جمہوریت ایک ایسا نظام حکومت ہے کہ جس میں ملک کے تمام تر فیصلے عوامی امنگوں کے مطابق کئے جائیں۔ بدقسمتی سے وطن عزیز میں کبھی جمہوریت آئی ہی نہیں۔ وطن عزیز میں انتخابات تو وقتاً فوقتاً ہوتے رہے ہیں لیکن ان انتخابات کے نتیجے میں کبھی کوئی ایسی پارلیمان وجود میں نہیں آئی ، جس نے صحیح معنوں میں عوامی امنگوں کی ترجمانی کی ہو۔ پاکستان میں دراصل انتخابات کے نتیجے میں ہمیشہ ہی ایسی پارلیمان وجود میں آئی کہ جس پر کسی نہ کسی صورت میں بدمعاشیہ کا قبضہ رہا ہے۔ گویا ملک میں کبھی جمہوریت کا سورج طلوع ہی نہیں ہوا۔

اتمام حجت کی غرض سے اگر یہ بات مان بھی لی جائے کہ ملک کا موجودہ نظام ایک جمہوری نظام ہے اور فوج اس جمہوری نظام کے خلاف سازشیں کرنے میں مصروف عمل رہتی ہے تو بھی ہمیں یہ سوال کرنے کا حق حاصل ہے کہ کیا دنیا کی کسی بھی جمہوریت میں عام انتخابات میں اس قدر بڑے پیمانے پر دھاندلی یا اگر محتاط رہ کر لفظ کا استعمال کیا جائے تو بدنظمی ہوا کرتی ہے،  جس پیمانے پر ارض پاک میں ہوتی ہے؟ کیا مہذب دنیا کی کسی بھی جمہوریت میں سانحہ ماڈل ٹاؤن جیسے واقعات رونما ہوتے ہیں؟ اور کیا سانحہ ماڈل ٹاؤن بھی فوج کی طرف سے کی جانے والی کوئی سازش تھی؟ کیا نوے کی دہائی میں عدالتوں پر حملہ فوج نے کرایا تھا؟ کیا بجلی ، پانی اور گیس کی عدم دستیابی فوج کی جمہوریت کے خلاف سازش کا نتیجہ ہے؟ کیا اشیائے خورد و نوش کا مہنگا ہو جانا اور انسانی جان کا ارزاں ہو جانا جمہوریت کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کےلئے فوج کی کسی سازش کا نتیجہ ہے؟ دراصل یہ تمام مسائل سیاستدانوں کے پیدا کردہ مسائل ہیں اور انہی مسائل کی وجہ سے پاکستان میں جمہوریت پر خطرات کے بادل منڈلاتے رہتے ہیں۔ سیاستدان اکثر اپنی ناکامیوں کو چھپانے کےلئے فوج پر بے بنیاد الزامات لگانے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ اب تو یہ ایک فیشن بن گیا ہے کہ فوج کو برا بھلا کہا جائے۔  سونے پر سہاگہ یہ کہ اگر فوج اس قسم کا کوئی پیغام دے کہ ملکی معاملات کو عوامی امنگوں کے مطابق چلایا جائے تو اسے فوج کی جانب سے جمہوریت کے خلاف سازش تصور کیا جاتا ہے۔

دفاعی بجٹ کی بات کی جائے تو اکثر یہ واویلا مچایا جاتا ہے کہ ملکی بجٹ کا ستر فیصد فوج پر صرف کردیا جاتا ہے۔ اگر اعداد و شمار کو دیکھا جائے تو یہ الزام ایک انتہائی جھوٹا اور گھٹیا  ہے۔ کیونکہ اس بات کا سرے سے کوئی وجود ہی نہیں ہے۔ اگر اوسطاً دیکھا جائے تو فوجی بجٹ ملکی بجٹ کا بمشکل تیس فیصد کے قریب ہوتا ہے جبکہ حاصل کردہ قرضوں پر سود کی مد میں ملک کا پچاس فیصد سے زائد بجٹ صرف ہوتا ہے۔ گویا معیشت کے معاملے پر بھی سیاستدان اپنی ناکامیوں کا بوجھ اس مظلوم فوج کے سر ڈالنے کی بھرپور کوشش کرتے نظر آتے ہیں۔

سفارتکاروں اور میڈیا نے بھی وطن عزیز کی فوج پر مظالم ڈھانے میں کوئی کسر باقی نہ رکھی۔ ایک طرف ہمیں حسین حقانی جیسے سفارتکار نظر آتے ہیں جو فوج کو برا بھلا کہتے نہیں  تھکتے، دوسری جانب اس قسم کا میڈیا نظر آتا ہے جو بنا ثبوت آئی ایس آئی کے سربراہ پر قاتلانہ حملے کا الزام لگاتا ہے۔

پاکستان کے عوام کی بات کی جائے تو ہمارے عوام بھی عجیب ہے۔ ہم ہمیشہ جمہوریت کی بات کرتے ہیں اور مشکل پڑنے پر فوج کی طرف دیکھتے ہیں۔ ہمیں نظام جمہوری چاہئے لیکن انصاف کےلئے ہم راحیل شریف کی طرف دیکھتے ہیں۔ ہمیں مشرف کی آمریت سے چھٹکارا چاہئے ہوتا ہے لیکن اگر اس آمریت سے چھٹکارے کے بعد جنرل کیانی آئین کے مطابق سیاستدانوں کی کرپشن پر خاموش تماشائی بنا رہے تو وہ قابل نفرت سمجھا جاتا ہے۔ یہ ایک مظلوم فوج کی داستان ہے۔ کہ  اگر فوج عوام کے حقوق کی بات کرے تو اسے کوسا جاتا ہے اور اگر نہ بولے تو بھی اسے ہی گالی دی جاتی ہے۔