سرمایہ دارانہ نظام اور برطانیہ دو راہے پر

  • تحریر
  • جمعہ 24 / جون / 2016
  • 4772

برطانیہ کے وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کی پریشانی اور بے تابی تو سمجھ میں آتی ہے لیکن حیرت ہے کہ دنیا بھر کے ادارے اور سرمایہ دار ان سے بھی زیادہ بے تاب ہیں۔ ہر روز برطانیہ کے ووٹرز کو جتلاتے ہیں بلکہ ڈراتے ہیں، خبردار جو ریفرنڈم میں برطانیہ کے یورپین یونین چھوڑنے کا ووٹ ڈالا۔ ورلڈ بنک، آئی ایم ایف کے سربراہان تو ایک طرف، امریکہ کے فیڈرل ریزرو کی چیر پرسن جینٹ ییلن نے بھی دہائی دی ہے کہ یورپین یونین چھوڑنے کے نتائج انتہائی سنگین ہو سکتے ہیں۔ یورپین ممالک کے کئی سربراہان بھی برطانیہ کے ووٹرز کو ریفرنڈم سے قبل ٌ نیک و بد حضور کو سمجھانے ٌ کا فریضہ ادا کر چکے ہیں۔ رہی سہی کسر مشہور سرمایہ کار جارج سورو نے پوری کر دی۔ فرمایا کہ یورپین یونین چھوڑنے کی صورت میں اسٹاک ایکسچینج اور پا ؤنڈ کرنسی پر تیس سال قبل وارد ہونے والے بلیک فرائیڈے کا عذاب پھر سے نازل ہو سکتا ہے ۔ اس لیے۔۔ بابو جی ذرا دھیرے !!!۔۔۔ لیکن بابوؤں نے فیصلہ سنا دیا کہ۔۔۔ بس بھئی بس زیادہ بات نہیں چیف صاحب !

یہ ہنگامہ کچھ یوں برپا ہوا کہ گذشتہ کچھ عرصے سے یورپین یونین میں شامل نئے رکن ممالک کے بے تحاشا امیگرینٹس یعنی نقل مکانی کر کے برطانیہ آنے والوں کی تعداد میں حیرت انگیز اضافہ ہو رہا ہے۔ نئے ممبر ممالک کی شمولیت کے وقت حکومت نے نقل مکانی کر کے آنے والوں کا جو تخمینہ لگایا تھا، آنے والوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ نکلی۔ اس پر مستزاد یہ کہ آنے والوں کا سلسلہ تھما نہیں بلکہ زو ر شور سے جاری ہے۔ آنے والوں کو روکنا اس لیے مشکل ہے کہ یورپی یونین کے ممبر ممالک کے شہری ٌ آزادانہ نقل و حرکتٌ کی شق کے تحت کسی بھی ممبر ملک میں قیام کر سکتے ہیں اور انہیں وہی مراعات اور سہولیات حاصل ہوں گی جو اس ملک کے اپنے شہریوں کو حاصل ہوتی ہیں۔

معا ہدہ لکھتے ہوئے تو یہ شق بڑی آئیڈیل اور افسانوی لگتی تھی لیکن اس کے سہارے جب یورپین یونین میں شامل ہونے والے قدرے غریب ممالک سے لاکھوں لوگ آ دھمکے تو مقامی آبادی کی زندگی میں بیٹھے بٹھائے ارتعاش پیدا ہونا شروع ہو گیا۔ ملازمتیں پہلے ہی کم تھیں اور تنخواہیں تقریباٌ جامد۔ لاکھوں نئے افراد ک لیبر مارکیٹ میں آنے اور ان کی طرف سے کم تنخواہیں قبول کرنے کی وجہ سے مقامی لوگوں کو بقول شخصے آٹے دال کا بھاؤ معلوم ہونا شروع ہو گیا۔ ملازمتوں کے بحران کے ساتھ ساتھ سوشل ویلفئیر پر دباؤ بڑھ گیا۔ صحت کے ادارے نیشنل ہیلتھ سروس پر دباؤ پہلے ہی بہت تھا، ان کی تو کمر دوہری ہونے لگی۔ ہاؤسنگ کے مسائل پہلے ہی جان کا وبال تھے، اب تو سر چھپانا اور گھر خریدنا مزید مشکل ہو گیا کہ ایک انار اور سو بیمار !
گلے شکوے ہونے لگے اور دھیرے دھیرے سیاسی بے چینی کی سی کیفیت پیدا ہونا شروع ہوئی تو چار ماہ قبل ڈیوڈ کیمرون یورپین یونین کے اراکین سے ملے اور انہیں قائل کیا کہ برطانیہ کی حد تک ممبر ممالک سے نقل مکانی کر کے آنے والوں کے لیے کوٹہ مقرر کیاجائے۔ طوعاٌ کرہاٌ کچھ رعایتیں ملیں لیکن سیاسی بے چینی کم نہ ہو سکی۔ ڈیوڈ کیمرون کی اپنی پارٹی میں سے کافی بڑی تعداد میں ارکان اس پر مطمئن نہ ہوئے۔ ابلتے ہوئے سیاسی بحران کو ٹھنڈا کرنے کے لیے وزیر اعظم نے ریفرنڈم کروانے کا فیصلہ کیا۔ 23 جون کو یہ ریفرنڈم ہو ہو چکا ہے۔ سوال یہ رکھا گیا ہے کہ برطانیہ یورپی یونین میں رہے یا نکل جائے۔ رائے عامہ کے تازہ ترین جائزوں کے مطابق اونٹ کسی بھی کل بیٹھ سکتا ہے لیکن یو رپین یونین میں بدستور شامل رہنے کا امکا ن زیادہ نظر آتا تھا۔ آج علی الصبح نتائج اس سے الٹ آئے تو کسی نے اسے زلزلے سے تعبیر کیا اور کسی نے دہائی دی کہ مجھے کوئی بتائے کہ یہ خواب ہے !

یوروپین یونین کا خمیر 1957 میں ایک معاشی اتحاد کی صورت میں چھ ملکوں نے اٹھایا اور یوں یورپین اکنامک کمیونٹی وجود میں آئی۔ اِس وقت یورپی یونین کے ممبر ممالک کی تعداد اٹھائیس ہے۔ اس بندھن میں تقریباٌ چونتیس کروڑ آبادی بندھی ہوئی ہے۔ اکثر رکن ممالک میں یورو بطور سنگل کرنسی استعمال ہوتی ہے۔ ممبر ممالک کے درمیان سفر کے لیے آنے والوں کے لیے ایک ہی ویزا درکار ہے۔ برطانیہ نے اپنی انفرادیت قائم رکھنے کے لیے اپنے کرنسی بھی الگ رکھی اور ویزا سسٹم بھی الگ رکھا۔ البتہ باقی تمام معا ملات میں وہ دوسرے ممبر ممالک کے ہم قدم ہے۔ اس وقت یورپی یونین ممبر ملکوں کی حکومتوں سے ماورا ء ایک نیا حکومتی نظام ہے جس کی اپنی پارلیمنٹ ہے، اپنے ادارے ہیں، اپنی کرنسی ہے، اپنا سنٹرل بنک ہے، اپنا بجٹ ہے، ایک سیاسی اور سفارتی وجود ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ یورپی یونین کا ادارہ مضبوط اور ممبر ممالک اس کے طفیلی بن رہے ہیں۔

لندن شہر مالیات اور بینکنگ کا مرکز ہونے کے ناطے یورپی یونین میں خاص اہمیت کا حامل ہے۔ دنیا بھر سے کمپنیاں یہاں قائم ہیں۔ اسی رونق کی وجہ سے لندن یورپ کا مہنگا ترین شہر ہے لیکن ایسی کشش برطانیہ کے صرف چند بڑے شہروں تک ہے جہاں روزگار اور کاروبار کے مواقع ہیں اور وائٹ کالر ملازمین کی ضرورت ہے۔ البتہ درمیانے اور چھوٹے شہروں میں معاملہ الٹ ہے۔ ان علاقوں اور شہروں میں نئے آنے والوں کی کثیر تعداد کی وجہ سے آبادی کا تناسب ہی تلپٹ ہو گیا ہے۔ مقامی لوگوں کے لیے ملازمتوں کا بیشتر حصہ نو واردانِ چمن کے حصے میں چلا گیا۔ ساتھ ہی ہاوسنگ، تعلیمی اداروں اور نیشنل ہیلتھ سروس میں بھی نو واردان ساجھے دار ٹھہرے۔ اس صورتحال میں مقامی لوگوں کو شکایت ہوئی کہ یورپی یونین نے ان کے ملک اور ملکی اختیار میں اپنی سلطنت بنا لی ہے۔ برطانیہ کی خود مختاری گہنا گئی ہے۔

یورپی یونین چھوڑنے کے اس نتیجے نے یورپی یونین کے اتحاد میں دراڑ ڈال دی ہے۔ گذشتہ سال یونان نے بھی یورپی یونین کے بیل آؤٹ پیکج پر ریفرنڈم کروایا جس کے نتیجے میں بیل آؤٹ پیکج مسترد کر دیا گیا۔ البتہ چوائس نہ ہونے کے سبب یونان نے اسی تنخواہ پر بیل آؤٹ پیکج احتجاجاٌ قبول کر لیا ۔ اب برطانیہ نے سیدھا سیدھا واپسی کا راستہ مانگ کر ممبر ممالک کو ایک نئی راہ سجھائی ہے کہ یورپین یونین مقدس گائے نہیں، اس کے سوا بھی بھلی چنگی زندگی ممکن ہے۔

دوسری جنگِ عظیم کے بعدسرمایہ داری نے انفرادی سطح کے ساتھ ساتھ اجتماعی فورمز پر سرمایہ داری نظام کے پھیلاؤاور استحکام کے لیے مختلف ادارے قائم کیے اور عالمی معاہدوں کا ایسا سلسلہ وضع کیا کہ ملکوں ملکوں نو آبادیات قائم کرنے کے جھنجھٹ کی ضرورت نہ رہے۔ سرمایہ، تجارت اور عالمی قوانین کا نظام ان طاقتوں کا تسمہ ء پا بنا رہے۔ اس انتظام کے تحت عالمی بنک، آئی ایم ایف سے لیکر WTO سمیت درجنوں ادارے قائم ہوئے ۔ اس کے ساتھ باہمی اور علاقائیا تحاد اور فورمز وجود میں آنے لگے تاکہ مشترکہ مفادات کے تحفظ میں سب شریک ہوں۔ اشتراکی نظام کے بکھرنے کے بعد یہ اتحاد مزید فعال ہو گئے۔ OECD, European Union, G 8, G 20 سمیت کئی ادارے اور اتحاد اب سرمایہ داری کے عالمی بھائی چارے کی علامت ہیں۔ سیاسی سطح پر یو این غیر فعال اور سلامتی کونسل فعال ہے کہ ان طاقتوں کی یہاں اجارہ داری ہے۔ یہ تمام انتظام اپنے تئیں ناقابلِ واپسی ہے۔ اس نظام میں ملکی شناخت سرمایہ داری کی عالمی شناخت کے تابع ہے۔ یہ نظام اک دوسرے سے یوں مربوط ہے کہ ایک اینٹ نکلنے سے عمارت کو نقصان پہنچنے کا ڈر ہے۔ یورپی یونین اسی سرمایہ دارانہ نظام کا پوسٹر چائلڈ ہے جس میں سرمایہ سب سے مقدم ہے، انفرادی حکومتوں سے کثیر الملکی ادارے اور کمپنیاں زیادہ محترم ہیں، عوام کا اصل ٖ فریضہ ان کا صارفین ہونا ہے، مارکیٹ اکونومی سب سے فائق اور سرمایہ کار سب سے افضل ہیں۔

اب برطانوی اشرافیہ میں سے ایک طبقے نے اسی سرمایہ دارانہ نظام کی فخریہ پیش کش ٌ یورپی یونین ٌ کے وجود سے الگ پرانی شناخت مانگنے کی گستاخی کی ہے۔ لیکن اب عالمی سرمایہ داری انفرادی شناخت کی بجائے اجتماعی سیاسی انتظام کے فوائد کا رسیا ہو چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس نظام کی سب طاقتیں انفرادی ریاستی شناخت پر عالمی اداروں او ر عوام پر سرمائے کی حکومت کے معاشی فوائد کا ڈھول پیٹ کر سرمایہ دارانہ نظام سے انحراف کی اس کوشش کو شکست دینے کے لیے بے تاب تھے۔ ڈیوڈ کیمرون کی پریشانی تو قابلِ فہم تھی مگر عالمی مالیاتی ادارے اور جارج سورو جیسے جید سرمایہ کار یونہی تو ان کی حمایت میں ہلکان نہیں ہو رہے تھے۔ سرمایہ دارانہ نظام کے وضع کردہ ماورائے عوام و حکومت انتظام کی سلامتی اور تسلسل کا سوال تھا۔ یہ ریفرنڈم برطانیہ کے لیے بھی دو راہا ہے اور سرمایہ دارانہ نظام کے لیے بھی۔ ریفرنڈم کے نتیجے نے اس دوراہے کا فیصلہ کر دیا ہے۔

اس فیصلے کے بعد ڈیوڈ کیمرون کو استعفیٰ دینا پڑا ہے۔ فوری طور پر پاؤنڈ کی شرح مبادلہ دس فیصد تک گر گئی ہے۔ ابھی اسٹاک مارکیٹوں میں بحران آنا ہے۔ برطانیہ کے پاس واپسی کی راہ کی تیاری کے لیے دو سال کا عرصہ ہے۔ اس سیاسی زلزلے کا صحیح اثر سامنے آنے میں وقت لگے گا۔ ایک مبصر نے بجا کہا ہے کہ یہ ان دیکھے راستے کا سفر ہے۔ برطانیہ کے لیے تو یہ ایک تاریخ ساز فیصلہ ہے ہی لیکن سرمایہ داری کے لیے ایک شدید جھٹکا ہے، جہاں انفرادی حکومتیں ایک کے بعد ایک عالمی سرمایہ داری انتظام کے سامنے سر بسجود رہی تھیں۔ اس کے نتیجے میں سرمایہ داری نظام کی اندھا دھند عالم گیریت کے جنون کو کم از کم وقتی طور پر بریک لگا دی ہے۔ آنے والے دنوں میں عالمی سرمایہ داری کو اپنے داؤ پیچ شاید کچھ بدلنے پڑیں کہ یورپ کے کئی مزید ممالک بھی اس راستے کے مسافر بننے کا سوچیں گے۔۔۔ اور یہی ڈیوڈ کیمرون سمیت سب کا ڈراؤنا خواب تھا۔۔۔