برطانوی ایم پی جو کوکس کا دن دہاڑے قتل
جمعرات 16جون کو لیبر پارٹی کی اکتالیس سالہ ایم پی (Jo Cox)جو کوکس کی فاشسٹ تھومس میر نے گولی چلا کر جان لے لی۔یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب جو کوکس حسبِ معمول یورکشائر کی مقامی لائبریری میں اپنے حلقہ کے لوگوں سے ملنے جارہی تھیں۔ اس واقعہ کے بعد برطانیہ کے لوگوں میں مایوسی کی لہر دوڑ گئی۔1990 کے بعد یہ ایسا پہلا موقع ہے جب ایک ایم پی کا اس طرح کھلے عام قتل ہوا ہے۔ اس سے قبل ناردن آئرش انتہا پسند گروپ نے ایم پی ایئن گو کی کار کو بم سے اڑا دیا تھا ۔
52 سالہ تھومس میر کو ویسٹ منسٹر مجسٹریٹ کورٹ میں پیش کیا گیا جہاں اس نے اپنے نام بتانے کی بجائے کہا کہ ’ میرا نام غداروں کی موت اور برطانیہ کی آزاد ی ہے ‘ ۔ اس کے بعد اس سے دوبارہ نام پوچھا گیا تو اس نے پھر وہی بات دہر ائی۔پولیس نے تھومس میر کو جو کوکس کے قتل کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔ چیف کانسٹیبل ڈی کولن نے کہا کہ ایک 77 سالہ آدمی جس نے جو کوکس کو بچانے میں مدد کی تھی وہ بھی برُی طرح زخمی ہوگیا ہے۔
جو کوکس کے قتل اور اس واقعہ سے لوگوں میں غم و غصہّ ہے لیکن لوگ اس بات سے بھی حیران و پریشان ہیں کہ آخر کار اس آدمی نے جو کوکس کی جان کیوں لے لی۔ جو کوکس اپنے حلقہ میں ہر عام و خاص میں کافی مقبول تھیں اور اس کی ایک وجہ جو کوکس کی انسانی ہمدردی تھی۔ وہ شام کے پناہ گزینوں کے لئے مہم چلا رہی تھیں اور ان کی فلاح و بہبود کے لئے پارلیمنٹ میں کئی بار سوالات بھی کئے تھے۔اس کے علاوہ وہ برطانیہ کو یورپ میں شامل رہنے کی بھی حمایت کررہی تھیں۔ اسلام کے خلاف نفرت پر بھی وہ مؤثر آواز اٹھا رہی تھیں۔ سیاسی ماہرین یہ اندازہ لگا رہے ہیں کہ ان ہی باتوں کی وجہ سے جو کوکس کی جان لے لی گئی۔
جو کوکس کی موت سے ملک کے تمام سیاست دان ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو کر اس کی سخت مذمت کر رہے ہیں۔ وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہا کہ پور ے ملک کوجو کوکس کے قتل سے شدید صدمہ پہنچا ہے۔ڈیوڈ کیمرون نے یہ بھی کہا کہ سیاست کا مطلب ہے لوگوں کی خدمت کرنا اور ایم پی اپنی کوششوں سے دنیا کو ایک بہتر مقام بناتے ہیں۔لیبر پارٹی کے لیڈر جریمی کوربین نے کہا کہ سابق جو ایک غیر معمولی،عجیب اور بہت با صلاحیت خاتون تھیں جنہیں ملک اور لوگوں کو کافی کچھ دینا تھا اور جن کے سامنے پوری زندگی پڑی تھی۔
دریں اثنا ء معروف اخبار ڈیلی ٹیلی گراف کے ایک مضمون کے جواب میں ڈاؤننگ اسٹریٹ نے کہا کہ یہ سچ ہے کہ ایک نامعلوم کنزرویٹو پارٹی کی ایم پی نے پچھلے سال وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کو ایک خط لکھ کر اپنے ساتھی ایم پی کی حفاظت کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا تھا۔ ہاؤس آف کامن کے اپوزیشن کے لیڈر کرس برائینٹ نے کہا کہ انہوں نے ویسٹ منسٹر حکام سے ایم پی کے حلقہ میں ناکافی تحفظ پر خبر دار کیا تھا۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایسا ہونا تو نہیں چاہئے لیکن جو کوکس کے قتل نے ہم سب کو اس بات پر سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ ایم پی کے تحفظ میں کمی ہے اور اس طرح کاواقعہ کسی کے ساتھ اور کہیں بھی ہو سکتا ہے۔
امریکی صدر بارک اوباما نے ایئر فورس ون جہازسے فون کر کے جو کوکس کے شوہر سے اپنے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔بعد میں وائٹ ہاؤس سے ایک اعلان جاری ہوا جس میں کہا گہا ہے کہ صدر نے اس بات کو دُکھ کے ساتھ محسوس کیا ہے۔ جو کوکس ایک بے لوث خدمت گار تھیں۔ اس جرم کا کوئی جواز نہیں ہے جس نے ایک خاندان ، ایک برادری اور ایک قوم کی خدمت کرنے والی خاتون کی جان لے لی۔ اسی طرح ایک بیوی، ایک ماں اور عوام کی خدمت گار کو کو ہلاک کیا گیا ہے۔ فرانس کے وزیر اعظم مینول والس نے کہا کہ جو کوکس کا قتل دراصل جمہوریت پر حملہ ہے۔
جو کوکس 2015کے عام چناؤ میں مغربی یورکشائر کے باٹلی اور اسپین کے حلقہ سے لیبر پارٹی کی طرف سے الیکشن جیت کر پارلیمنٹ میں داخل ہوئی تھیں۔جو کوکس نے اپنے قریبی دوست برینڈن کوکس سے شادی کی تھی اور ان کے دو بچے ہیں۔جو کوکس دریائے تھیمس پر ایک ہاؤس بوٹ میں رہتی تھیں۔جو کوکس کے شوہر نے اپنے بیان میں کہا کہ جو کوکس کو اپنی زندگی میں کوئی پچھتاوانہیں تھا وہ اپنی زندگی بھر پور طریقے سے جی رہی تھیں۔جو کوکس ایک بہتر دنیا کی تمنا رکھتی تھیں اور جس کے لئے وہ روزانہ توانائی اور حوصلہ افزائی کے ذریعہ لڑ رہی تھیں۔
جو کوکس کی یاد میں ان کے چاہنے والوں نے ایک فنڈ کا انتظام کیا ہے جس میں دو اڑھائی لاکھ جمع کرنے کا اعلان کیا گیا تھا لیکن لوگوں نے اس فنڈ میں اب تک ایک ملین پونڈ جمع کر دیا ہے جو کہ ایک حیرت انگیز بات ہے۔
سوموار کو پارلیمنٹ میں اراکین نے جو کوکس کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور اشک بھری آنکھوں سے ان کی زندگی پر روشنی ڈالی۔اس موقعہ پر تمام ایم پی سفید گلاب اپنے سوٹ پر لگائے ہوئے تھے۔اسپیکر جون برکو نے کہا کہ ہم لوگ آج ایک غمگین ماحول میں جمع ہوئے ہیں لیکن ہم نے اس موقعہ پر یکجہتی کا بہترین نمونہ بھی پیش کیا ہے۔اسپیکر نے جو کوکس کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ جو کوکس فصیح، اصول ، عقل مند اور لوگوں کی دیکھ بھال کرنے والی ایم پی تھیں۔ان سب باتوں کے علاوہ وہ انسانیت اور محبت کی پیکر بھی تھیں۔ وہ مساوات، انسانی حقوق اور سماجی انصاف کی مہم چلاتی رہی تھیں۔اسپیکر نے کہا کہ اس طرح کا حملہ ایک فرد پر نہیں بلکہ ہماری آزادی پر ہوا ہے اور اسی لئے آج یہاں ہم دو باتوں کے لئے اکٹھے ہوئے ہیں۔ ایک جو کوکس کو عزت بخشنا اور دوسرا اپنی لگن سے جمہوریت کو اور مضبوط کرنا۔ کنزرویٹو پارٹی کے ایم پی انڈریو میچل نے کہا کہ جو کوکس ایک غیر معمولی خاتون تھیں جن میں انسانی ہمدردی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔وہ چاہتی تھیں کہ شام کا مسئلہ جلد سے جلد حل ہوجائے اور وہاں امن قائم ہوجائے۔
اس موقعہ پر ایک اور بات دیکھنے کو آئی جب حکمراں ایم پی اور حریف ایم پی پارلیمنٹ میں ایک ساتھ بیٹھے اور انہوں نے پارلیمنٹ کے اس خاص اجلاس میں یکجہتی کا بہترین نمونہ پیش کیا۔آخر میں تمام ایم پی جب پارلیمنٹ سے اُٹھ کر جانے لگے تو انہوں نے تالیوں سے جو کوکس کے خاندان کے لوگوں خراجِ عقیدت پیش کیا جو پبلک گیلیری میں موجود اراکین کی باتوں کو سن رہے تھے۔اس کے بعد تمام ایم پی قریب کے سینٹ مارگریٹ چرچ چلے گئے جہاں جو کوکس کے لئے ایک میموریل سروس کا انتظام کیا گیا تھا۔
برطانیہ کی ایم پی جو کوکس کی بے وقت اور دل دہلا دینے والی موت سے جہاں ہر انسان کو صدمہ پہنچا ہے تو وہیں ان کی موت سے ہر کوئی اس سوچ میں غلطاں ہوگیا ہے کہ انسان دوستی کے لئے اور نفرت کے خلاف آواز اٹھانے والی عورت کو کیوں گولی مار کر قتل کر دیاگیا۔ یوں تو برطانیہ اپنی تہذیب، اخلاق ، رواداری اور انسانی حقوق کے لئے دنیا کاایک بہترین ملک مانا جاتا ہے لیکن جو کوکس کے دن دہاڑے قتل نے سیاستدانوں کو اس بات پر سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ برطانیہ میں فاشسٹ طاقتیں ملک کی جمہوریت اور سالمیت کے لئے خطرہ ہیں۔
پچھلے کچھ برسوں سے برٹش نیشنل پارٹی اور انگلش ڈیفنس لیگ نے برطانیہ سمیت پورے یورپ میں اپنی خطرناک اور نفرت بھری پالیسی سے لوگوں کا جینا دو بھر کر رکھا ہے۔ تاہم ان گروپ کو اُس حد تک کامیابی نہیں ملی ہے جس کی وہ امید کر رہے تھے۔اس گروپ نے خاص کر مسلمانوں اور تارکینِ وطن کے خلاف نفرت کی مہم چلا رکھی ہے۔ جس کو روکنے میں شاید سیاست دان کچھ حد تک ناکام رہے ہیں اور اس کی مثال جو کوکس کا قتل ہے۔ اس واقعہ نے اب سیاستدانوں کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ کیا فا شسٹ جماعتیں آنے والے دنوں میں برطانیہ سمیت یورپ کے امن پسند لوگوں کو اپنے ناپاک اور نفرت بھری مہم سے قتل و غارتگری کا نشانہ بنائیں گی۔