ڈور کہاں سے ہلتی ہے
- تحریر سید شاہد عباس
- ہفتہ 25 / جون / 2016
- 7932
میجر جواد چنگیزی افغان فائرنگ سے شہید ہوئے ہیں۔ یہ اس جھڑپ میں شہادت کا رتبہ پانے والے پہلے آفیسر رینک فوجی ہیں۔ اس کے علاوہ کافی تعداد میں زخمی بھی ہیں۔ جب کہ افغان فورسز کے دعوے کے مطابق ایک افغان فوجی مارا جا چکا ہے۔ حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ بھاری ہتھیار پاک افغان سرحد پہ پہنچائے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آ رہی ہیں اس کے علاوہ افغان چیف ایگزیکٹو کی طرف سے متنازعہ بیانات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ اس کے علاوہ غیر اعلانیہ طور پر دونوں ممالک کی فوجیں آمنے سامنے ہیں۔
تمام حالات کا جائزہ لیں تو ایک طالبعلم بھی یہ اندازہ کرسکتا ہے کہ افغان فورسز میں نہ ہی اتنی صلاحیت ہے کہ وہ پاکستان آرمی کے ساتھ مسلح پنجہ آزمائی کی متحمل ہو سکیں، نہ ہی ان کی تربیت کا معیار اتنا اعلیٰ ہے کہ وہ دنیا کی ایک مضبوط اور سخت جان فوج کے خلاف میدانِ کارزار میں آمنے سامنے ہو سکیں۔ اس کے علاوہ پاکستان میں موجود افغان مہاجرین ایک ایسا عنصر ہیں جن کے ہوتے ہوئے افغانستان کسی بھی صورت محاذ آرائی کا متحمل نہیں ہو سکتا ۔ ان تمام حقائق کے باجود یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ اس وقت دونوں ممالک کی افواج طورخم بارڈر پر آمنے سامنے ہیں۔ اور جانی و مالی نقصان بھی ہو رہا ہے۔
یہ محاذ آرائی ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب پاکستان کی طرف سے جنرل راحیل شریف نے امریکی قیادت کو افغانستان میں موجود فضل اللہ کو نشانہ بنانے پر اصرار کیا ہے اور پاکستان نے امریکہ سے ایف سولہ طیاروں کی خریداری کا معاملہ ختم ہو چکا ہے۔ ایک اور اہم عنصر یہ بھی قابل غور ہے کہ پاکستان فضائیہ کی دفاعی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے جے ایف 17 تھنڈر طیارہ ، جو پاکستان اور چین کے باہمی اشتراک سے طیار کیا گیا ہے ،فضائی بیڑے میں شامل ہو چکا ہے۔ جے ایف 17تھنڈر بے شک ایف سولہ کا متبادل تو نہیں لیکن اس کے باوجود دفاعی ضروریات پوری کرنے کے حوالے سے مددگار ضرور ثابت ہوا ہے۔ اور اب مکمل طور پر پاکستان میں ہی تیار بھی کیا جا رہا ہے۔ لہذا یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ امریکہ کو معمول کی تھپکی جو وہ اکثر اپنی بات منوانے کے لیے دیتا آیا اپنے ہاتھ سے نکلتی نظر آ رہی ہے۔ کہ جب بھی کچھ منوانا ہو کہا جاتا تھا کہ جلد ہی ایف سولہ طیارے دے دیے جائیں گے۔
یہ پہلو بھی قابل غور ہے کہ این ایس جی یعنی نیوکلئیر سپلائرز گروپ میں شمولیت اس وقت بھارت اور پاکستان دونوں کے لیے درد سر بنی ہوئی ہے۔ تمام تر سفارت کاری کے باوجود اس مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکا۔ تاہم اس معاملہ سے پاکستانی خارجہ پالیسی کے نقائص کھل کر سامنے آئے ہیں۔
ان تمام حالات میں جب عالمی طاقتوں اور دشمن ہمسائے کو اور کوئی راہ نہیں سوجھی تو اس نے ایک ایسے محاذ کو گرما دیا جس کی نہ تو کوئی منطق بنتی ہے نہ وقت ۔ پاکستان کے اپنی حدود کے اندر سرحدی دروازے کی تعمیر کو جواز بنا یا گیا ۔ افغانستان میں امریکہ اور بھارت کا جس قدر اثر و رسوخ ہے، اس کی روشنی میں یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ ڈور کہاں سے ہل رہی ہے۔افغان آرمی تو ابھی خود محتاج ہے۔ حکومت تنخواہیں تک ادا کرنے کے قابل نہیں ہے۔ اس لئے اسے بھڑکانے والے عناصر صرف اپنے مقاصد کی تکمیل کے لیے دو پڑوسی ممالک کے تعلقات خراب کرنے پہ تُلے ہوئے ہیں۔ بادی النظر میں عالمی طاقتوں کی انگلیاں کامیابی سے یہ ڈوریاں ہلا رہیں ہیں۔
ایک طرف دشمن کی ڈوریوں پر افغان آرمی و حکومت ناچ رہے ہیں اور دوسری طرف پاکستان نے لاکھوں افغان مہاجرین کا بوجھ اٹھایا ہؤا ہے ۔ ان حالات میں ہمسیہ مک سے آنے والے مہاجرین سے جان چھڑانا ہی قومی مفاد میں ہے۔