بھر دو جھولی میری ... یا محمدﷺ

دو روز قبل کراچی میں پاکستان کے معروف قوال غلام فرید صابری کے صاحب زادے امجد صابری کو اس وقت سرِعام قتل کردیا گیا جب وہ نبی آخرالزماں حضرت محمد ﷺ کی شان میں اپنی خوبصورت آواز میں کلام پڑھنے جا رہے تھے۔ رحمت للعالمین ﷺ جو دنیا بھر کے لیے امن وسلامتی بھراسایہ ہیں، اُن کی شان میں کلام پیش کرنے والی خوبصورت آواز کا قتل۔ جو شخص لوگوں میں امن وسلامتی کا پیغام اپنی خوبصورت آواز میں عام کرتا تھا، اس کے قتل سے کس نظام کی بنیاد رکھی جائے گی، عقل سے بالاتر ہے یہ بات۔

امجد صابری اُسی روز صبح شانِ رسولﷺ میں کلام پیش کررہا تھا، ’’اے سبز گنبد والے، منظور دعا کرنا، جب وقت نزع آئے دیدار عطا کرنا۔‘‘ کیا اُس نے شہادت کی دعا کی تھی! سماج کے یہ قاتل جو مسلمانوں کو قتل کرکے اپنے نظریات اور عقائد ٹھونسنا چاہتے ہیں، کسی طرح بھی اسلام کی خدمت نہیں کررہے۔ شانِ رسولﷺ بیان کرنے والی زبان کو قتل کرنے والے کیسے نظامِ محمدیﷺ کے پیروکار ہوسکتے ہیں۔ سارا صابری خاندان دہائیوں سے شانِ رسول ﷺ بیان کرنے میں اپنی خوبصورت آواز کے ساتھ جس طرح پیش پیش ہے، اس کے اثرات پورے برصغیر پر ثبت ہوچکے ہیں۔ تاج دارِ حرم، ہو نگاہِ کرم۔ بھر دو جھولی میری، یا محمدﷺ۔ کچھ نواسوں کا صدقہ عطا ہو ۔ میرا کوئی نہیں ہے تیرےؐ سوا۔ اندھیرے سے دل میں چراغِ محبت، یہ کس نے جلایا سویرے سویرے۔ یا محمدﷺ نورِ مجسم۔ یہ سب تمہارا کرم ہے آقاﷺ۔ من کنت مولیٰ فھٰذا علی مولا۔ نمی دانم چی منزل بود۔ سر لامکاں سے طلب ہوئی۔ ہم یہ کلام سن کر جوان ہوئے۔

غلام فرید صابری1930ء میں مشرقی پنجاب میں روہتک کے گاؤں کلیان میں پیدا ہوئے۔ ان کا خاندان صدیوں سے انسانوں کو اپنے فن موسیقی سے لطف اندوز کرتا آیا ہے۔ صابری خاندان کا دعویٰ ہے کہ مغل دربار کے مشہورِعالم موسیقار تان سین اُن کے جدامجد تھے۔ صوفی سلسلہ صابریہ سے تعلق رکھنے والا یہ عاشقِ رسولﷺ خاندان صوفی کلام کو اپنے منفرد انداز میں پیش کرنے میں یکتا ہے۔ 1947ء میں قیامِ پاکستان کے بعد صابری خاندان اپنا سب کچھ لٹا کر بے سروسامان نئی مملکت کا شہری بن گیا۔ مشکل حالات میں دوبارہ زندگی کا آغاز کوئی آسان کام نہیں۔ غلام فرید صابری مرحوم ہجرت کے شروع کے ایام میں ایک سرکاری عمارت کی تعمیر میں اینٹیں ڈھو کر اپنی ہجرت زدہ فیملی کا سہارا بنا اور ایک رات اس نے سڑک سے پتھر جمع کرکے اپنے مختصر خاندان کے لیے ایک کٹیا تعمیر کرلی۔ زندگی کے جبر مسلسل سے نبردآزما ہونے والے اس بچے کو معلوم تھا کہ خدا سے کیسے مانگتے ہیں۔ بھر دو جھولی میری، یا محمدﷺ۔ اپنے معصوم ہاتھوں سے محنت کرکے جھولی بھرنے کی اس جدوجہد نے مہاجر بچے کے عزم میں جبر نہیں بلکہ محبت بسائی، سخت گیری نہیں بلکہ زبان شیریں اور دھونس نہیں بلکہ زبان وبیان میں التجا گوندھ دی۔ جدوجہد مسلسل سے اس معصوم بچے کے پھیپھڑے متاثر ہوئے، لیکن مزدوری سے ہمت نہ ہاری۔ محنت کش غلام فرید صابری اپنے والد کی خواہش کے مطابق، مہاجر کیمپ میں ہر رات گھنٹوں ذکر کرتا اور صوفی روایت کے مطابق خدا کی محبت کو اپنے وجود میں بسانے کی کوشش کرتا۔ اس نے بندوق نہیں اٹھائی بلکہ صوفیائے کرام کا کلام اکٹھا کیا اور کلام کے ذریعے پیغامِ محبت عام کرنے کا فیصلہ کیا۔ اپنا قوال گروپ بنایا اور پھر پاکستان بھر میں 1958ء میں اس کی آواز نے سب کو اپنے سحر میں جکڑ لیا جب غلام فرید صابری کی یہ قوالی منظر عام پر آئی کہ ’’میرا کوئی نہیں ہے تیرےؐ سوا۔‘‘

یہ وہ زمانہ تھا جب دنیا میں ہرے کرشنا تحریک اور مغرب میں ہپی لوگ ابھر کر سامنے آ رہے تھے۔ ایسے میں پاکستان کی قوالی نے یورپ کے ہپیوں کو اپنی طرف متوجہ کیا جو مکینکل طرزِزندگی کے باغی تھے۔ غلام فرید صابری نے قوالی کو ایک نئی روح دی اور اس طرح مزید قوال اور صوفی گلوکار ابھرے۔ اسی دور میں شہباز قلندر کے عشق میں گندھا پنجابی کلام ’’لعل میری پت رکھیو بلا، جھولے لعلن دا سیہون دا سخی سرکار قلندر‘‘ آیا تو اس نے مغرب میں ابھرنے والی ہرے کرشنا ہرے رام تحریک کا سامنا کیا۔ اسلام کا پیغامِ محبت صوفیائے کرام کی شاعری کے ذریعے برصغیر تک محدود نہ رہا۔ یورپ میں جہاں ہپی اور پھر ہپی سے ہرے کرشنا اثرورسوخ ابھرا، وہاں اب لعل میری پت رکھیو اور غلام فرید صابری کی آواز کے ذریعے پیغامِ اسلام عام ہونے لگا۔ بعد میں اسی روایت کے سبب نصرت فتح علی خان کی دنیا بھر میں پذیرائی ہوئی۔ فرانس، جاپان، امریکہ، مشرقِ وسطیٰ، بلجئیم، سویڈن، جہاں بھی قوالی پہنچی، لوگ جھوم اٹھے، کلام کے اندر موجزن انسانی پیغام کے ذریعے۔ غلام فرید صابری نے اردو، ہندی، عربی اور فارسی میں امام احمد رضا خان کا نبی پاک ﷺ کی شان میں لکھا کلام بھی قوالی کی صورت میں پیش کیا۔

1978ء میں نیویارک ٹائمز نے غلام فرید صابری کے بارے میں لکھا:The aural equivalent of dancing dervishes اور The Music of Feelings۔ غلام فرید صابری کی قوالیوں پر مشتمل سی ڈی میری گاڑی اور سٹڈی روم کا باقاعدہ حصہ ہے اور بیرون ملک سفروں کے دوران بھی۔ میں ایسے کئی غیرملکیوں کو جانتا ہوں جو قوالی کے سبب پاکستان کو جاننے لگے اور قوالیوں کو سنتے سنتے اسلام کو جاننے کے تجسس میں مبتلا ہوئے۔ قوالی برصغیر میں صوفیائے کرام کا سب سے طاقتور ذریعہ ابلاغ ہے جس کے ذریعے انہوں نے محمد عربیﷺ کے پیغامِ انسانیت کو عام کیا۔ صوفیائے کرام نے تبلیغ نہیں کی بلکہ عمل کیا۔ انہوں نے اسلام کے نفاذ کے لیے جبر نہیں کیا، تلوار نہیں اٹھائی، بلکہ محروم طبقات سے محبت اور اپنے عمل سے ثابت کیا کہ انسان کی معراج ، امن، انسانیت اور مساوات ہے۔ اسی لیے وہ برصغیر کے درباروں سے دور ویرانوں میں اپنے ڈیرے آباد کرتے تھے۔ شاعری میں انہوں نے مساواتِ محمدیؐ کا سبق دیا اور قوالی کے ذریعے اس شاعری کو پُرسوز بنایا۔

غلام فرید صابری کی آواز میں پیش کیا گیا کلام ’’بھر دو جھولی میری ، یا محمدﷺ‘‘ ذرا سنیں توپھر  آپ کو علم ہوگا کہ محبت کی یہ زبان کس قدر زوداثر ہے۔ تلوار سے زیادہ طاقتور۔ غلام فرید صابری کی روایات کا امین امجد صابری 1976ء میں پیدا ہوا۔ امجد صابری شہید نے مساواتِ محمدیؐ کے پیغام کو عام کرنے کے لیے صوفیائے کرام کی روایات کو اپناتے ہوئے قوالی کو اپنا ذریعۂ اظہار بنایا اور لوگوں کے دلوں میں گھر کرگیا۔ یقیناً وہ دلِ یزیداں میں کانٹے کی طرح کھٹکتا تھا، اسی لیے یزیدی قاتل سے اسے قتل کردیا۔ اس آواز کو سلا دیا جو ہر وقت شانِ محمدﷺ، پیغامِ محمدﷺ اور خدا کی کائنات کے حسن پر اپنی شیریں بیانی سے لوگوں کے دلوں میں گھر لیتی تھی۔ سخت گیری کے علمبرداروں کے لیے شیریں بیانی چیلنج تھی، اسی لیے چوروں کی طرح آئے، قتل کیا اور فرار ہوگئے۔

قاتل سماج کے علمبردار اسی طرح چوری چھپے آتے ہیں، قتل کرتے ہیں اور غائب ہو جاتے ہیں۔ کیا وہ کروڑوں انسانوں کا قتل کرسکتے ہیں۔ انہوں نے موت کا حق اپنے ہاتھ میں لے کر جس طرح خدا کی نافرمانی کی ہے، اس کی سزا دونوں جہانوں میں پانے کے حق دار ہیں۔ جو اپنی گولیوں کی تڑتڑاہٹ سے شانِ محمدﷺ میں بولنے والی زبان کو خاموش کرتے ہیں، وہ کس کے پیغام کو مسلط کرنا چاہتے ہیں؟