برطانیہ کے ریفرنڈم میں کشمیریوں کے لئے سبق

چند ماہ قبل برطانیہ نے سکاٹ لینڈ میں انگلینڈ، سکاٹ لینڈ، ویلز اور شمالی آئرلینڈ پر مشتمل یونین میں رہنے یا نہ رہنے کے سوال پر ایک ریفرنڈم کروایا تھا۔ اب 23 جون کو برطانیہ نے یہ ریفرنڈم کروایا ہے کہ کیا اسے یورپی یونین میں رہنا چائیے یا نہیں؟ یہ دونوں ریفرنڈم کشمیری عوام ، قیادت اور پاک وہند حکومتوں کے لیے ایک سبق ہیں ۔ لیکن ہمیں ہندوستان اور پاکستان کو درس دینے کے بجائے پہلے اپنی صفوں کو درست کرنا ہے۔ 

سب سے پہلے میں اختصار سے یہ ذکر کرنا چاہونگا کہ سکاٹ لینڈ برطانیہ سے اور برطانیہ یورپ سے کیوں الگ ہو نا چاہتے ہیں۔ اکثر سکاٹش لوگوں کو شکایت ہے کہ برطانیہ کی یونین برابری موجود نہیں ہے۔ انگلینڈ باقی تینوں حصوں پر حاوی ہے۔ سیاست تو دور کی بات ہے کھیل کود کی دنیا میں بھی برطانیہ کی کرکٹ ٹیم کا اصل نام انگلش ٹیم ہے۔ جب برطانیہ یورپی یونین شامل ہؤا تھا تو اس کا موقف تھا کہ اسے اس کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ وہ کامن ویلتھ کا سربراہ ہے جس کے اراکین وہ تمام ممالک ہیں جو برطانیہ کی کالونیاں رہ چکی ہیں ۔ ان ترقی پزیر ممالک میں برطانیہ کم اخراجات پر زیادہ معاشی فوائد حاصل کر سکتا تھا جبکہ یورپ میں اس کا مقابلہ مضبوط جرمن اور فرانسیسی معیشت سے تھا سابق برطانوی وزیر اعظم مارگریٹ تھیچر نے کئی مرتبہ شکایت کی تھی کہ جرمن معیشت ان کے لیے خطرہ بنتی جا رہی ہے۔ سابق سوویت صدر گوربا چوف جب جرمنی کو متحد کرنے پر تیار ہو گئے تو مارگریٹ تھیچر نے ان سے ایک خفیہ ملاقات میں جرمنی کو تقسیم رکھنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ مضبوط جرمنی اس سے پہلے بھی ہم سب کے لیے خطرہ تھا اور آئیندہ بھی ہو گا۔ مگر گوربا چوف اور جرمن چانسلر ہیلمٹ کول کے درمیان معاملات طے پا چکے تھے۔

یورپی یونین سے برطانیہ کے انخلاء کی دوسری وجہ یہ ہے کہ وہ یورپی یونین میں رہنے کے باوجود امریکہ کے زیادہ قریب تھا ۔ بظاہر امریکہ اور یورپی یونین ایک دوسرے کے قریب ہیں لیکن یورپ امریکہ کی اجارہ داری سے خائف ہے اس لیے وہ یورپی یونین کو ایک متبادل قوت کے طور پر مضبوط کرنا چاہتا ہے۔ تیسرا برطانیہ باقی یورپ جتنا لبرل نہیں ہے۔ اس کے قوانین یورپ کے نسبت کم منصفانہ ہیں ۔ سیاست اور عدالت کے درمیان طاقت کے توازن پر بھی تنازعہ ہے۔ بھارتی سفارتکار مہاترے کیس سے واقف قارئین کو معلوم ہو گا کہ برطانوی حکومت کے دباؤ پر ہی جج نے پہلے ہماری سزاؤں کو خفیہ رکھا اور پھر دس سال بعد ہمارے حق میں لندن ہائی کورٹ کے فیصلہ کو پہلے برطانوی وزیرداخلہ نے مختلف حیلے بہانوں سے معطل رکھا اور دو سال بعد مسترد کر دیا تھا۔اس کے نتیجے میں ہم نے یورپی عدالت میں برٹش حکومت کو چیلنج کیا تھاجس نے عدالتی نظام میں برطانوی وزیر داخلہ کی مداخلت کے سارے دروازے بند کر کے ہمیں بری کر دیا تھا۔ برطانیہ متعدد بار یورپی یونین کو قانون شکنی پر جرمانہ بھی ادا کر چکا ہے۔

اب سوال ہے کہ مذکورہ بالا دو ریفرنڈم میں کشمیری عوام اور قیادت کے لیے کیا سبق ہے؟ سب سے پہلا سبق ہے قومی اور جمہوری شعورو بیداری ۔ باشعور اور بیدار قوموں کا حق کوئی دوسرا ہمیشہ کے لیے نہیں دبا سکتا۔ جن قوموں کی قیادت عوامی رائے کا احترام کرتی ہے وہ ا اس کی راہ میں ذاتی و گروہی مفادات کی خاطر روڑے اٹکانے کے بجائے اسے اس کے اظہار کا موقع دینے کے لیے جمہوری طریقہ کار اپناتی ہے۔ جہاں ایسا نہیں ہوتا وہاں تشدد جنم لیتا ہے ۔ دوسرا عوام کی رائے لینے کے لیے بھانت بھانت کی بولیاں نہیں بولی جاتیں بلکہ قابل عمل آپشنز سامنے رکھے جاتے ہیں۔ اس کے برعکس سرحد کے دونوں طرف کی کشمیری قیادت نے ہندوستان اور پاکستان کو اپنے وعدے پورے کرنے پر زور دینے کے بجائے اقتدار کی خاطر ان کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے غیر ریاستی جماعتوں کی شاخیں قائم کر کے عوام کو تقسیم کیا ۔ مسلہ کشمیر صرف یہ تھا اور ہے کہ جموں کشمیر کو زبردستی ہڑپ کرنے کے لیے ہندوستان اور پاکستان نے جنگیں کیں مگر لاکھوں انسانوں کو تباہ و برباد کرنے کے باوجود کوئی نتیجہ نہ نکلا۔ اب اس کا واحد حل جموں کشمیر سے غیر ملکی افواج کا انخلا ہے جس کا اعلان گزشتہ سال اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں وزیر اعظم پاکستان نواز شریف نے بھی کیا تھا ۔ مگر اس پر اقتدار پسندکشمیری تو درکنار وحدت پسندوں نے بھی کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ فوجوں کا انخلاء وحدت کشمیر کی بحالی کا بہترین طریقہ ہے جس پر کشمیری عوام اور قیادت کو بلا تاخیر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ رائے شماری ہمارے مسئلہ کا حل نہیں کیونکہ اقوام متحدہ کی غیر منصفانہ قرارداد (جو پاکستان کی درخواست پر پانچ جنوری 1949 کو منظور ہوئی) نے کشمیریوں کے حق خود ارادیت کو محدود کر کے اسے علاقائی جھگڑے میں تبدیل کر دیا تھا۔ دوسرے اقوام متحدہ کے مطابق رائے شماری سے پہلے پاکستان اپنی ساری فوج اور ہندوستان کچھ فوج نکالے گا۔جبکہ ہمارا مطالبہ ہے کہ ہندوستان بھی اپنی پوری فوج نکال لے کیونکہ قابض ملک کی فوجوں کی بندوقوں کے سایہ میں رائے شماری آزادانہ طور پر نہیں ہو سکتی۔ ہمیں حیرت ہے کہ پاکستان کے بعض حلقے اس قرارداد کے مفہوم کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔

کشمیری عوام اور قیادت کے لیے ایک اور سبق یہ ہے کہ سکاٹ لینڈ انگلینڈ میں یا برطانیہ یورپی یونین میں ضم نہیں ہوئے تھے بلکہ یونین کا حصہ بنے تھے جس میں تمام اراکین کے حقوق برابر ہیں۔ کسی نے کسی پر فوجی چڑھائی نہیں کی تھی اور نہ اب برطانیہ کے انخلاء کے موقع پر یورپی یونین نے جار حانہ رویہ اپنایا۔ ہر دو فریقین نے مہذبانہ انداز اور جمہوری اصولوں کی پاسداری کی ہے۔ اس کے برعکس کشمیری قیادت ہمیشہ عوام کو یہ توہین آمیز اور احساس کمتری پیدا کرنے والا درس دیتی آ رہی ہے کہ ہم ہندوستان یا پاکستان میں ضم ہوئے بغیر زندہ نہیں رہ سکتے۔ حالانکہ جموں کشمیر قدرتی وسائل سے مالا مال ہے۔ ہندوستان اور پاکستان کی ٹورسٹ انڈسٹری ہر جگہ جموں کشمیر کی قدرتی خوبصورتی کی تصایر کو اپنے اپنے ملک کے حصے ظاہر کر رہی ہے۔ دونوں ممالک کے ڈیم اور زمینوں کی سیرابی کا دارو مدار کشمیری دریاؤں پر ہے۔ جنگلات، جڑی بوٹیوں اور دیگر معدنی وسائل سے تو صاحب علم لوگ واقف ہی ہیں۔ چند سال قبل کینیڈا کی ایک کمپنی نے نیلم میں روبی پہاڑ کا تخمینہ لگا کر کہا تھا کہ اس کی آمدنی آزاد کشمیر کو دو ہزار سال زندہ رکھنے کے لیے کافی ہے۔ اس کا انکشاف اس وقت ہوا تھا جب آزاد کشمیر کے کرپٹ وزیروں نے کروڑوں روپے کمیشن لے کر اس پہاڑ کو غیر ملکی کمپنیوں کو فروخت کرنا شروع کر دیا تھا۔ دفاعی لحاظ سے بھی جموں کشمیر ایک مضبوط خطہ ہے۔

المختصر کہ کسی ایک قوم کی شناخت اور تشخص ختم کر کے اسے کسی دوسرے میں ضم کرنے کا نام یونین نہیں ہوتا بلکہ برابری کی سطح پر اکھٹے رہنے کا نام یونین ہے۔ کشمیریوں کا سر دست مسئلہ کسی یونین کی رکنیت نہیں بلکہ وحدت کشمیر کی بحالی ہے، جس کا مطلب 1947ء والی پوزیشن ہے۔ اس کے بغیر ہر راستہ تقسیم کشمیر کی طرف جاتا ہے۔ اس لئے قیادت مفادات کی سیاست چھوڑ کر آبرومندانہ حل کے لیے باوقار رویہ و پالیسی اپنائے۔ عوام بھی شخصیات کی بجائے جائز قومی اشوز کا ساتھ دیں۔