سوال یہ ہےکہ ہم کون ہیں!
- تحریر ارشاد احمد صدیقی
- اتوار 26 / جون / 2016
- 5484
سوال یہ ہے کہ ہم کون ہیں؟ ہمارا تعلق انسانی معاشرے میں کس سے متعلق ہے۔ جدید تر علوم ہماری رہنمائی جینیات (Gene) اور ڈی این اے (DNA) سے کرتے ہیں اور اس کے بعد تاویلات کا بحربے کراں وجود میں آ جاتا ہے۔ ان تاویلات کا مطالعہ کریں یا نہ کریں ہمارا وجود ان تاویلات سے بہت پہلے معرض وجود میں آ چکا تھا، ہم اسی طرح دیکھتے اور سنتے اور سانس لیتے تھے۔ لیکن Gene یا DNA کا ذکر ہماری فراست سے عنقا تھا۔ نہ جانے ہم تب مطمئن تھے یا اب خوش ہیں؟
خردمندوں سے کیا پوچھوں کہ میری ابتدا کیا ہے
کہ میں اس فکر میں رہتا ہوں میری انتہا کیا ہے؟
ہمارے مہربان دوست نثار احمد شیخ نے کمال مہربانی سے خالد مسعود خان کی تحریر ارسال کی اور ساتھ یہ بھی کہا یہ مسئلہ قابل غور ہے۔ ہم اقرار کرتے ہیں کہ مسئلہ غور طلب ہے لیکن اس وقت بحیثیت قوم ہم لازوال مسائل میں غرق ہیں۔ یہ کہئے کہ ہم اور ہمارے مسائل ہماری جین کا حصہ ہیں۔ ہم تو صدیوں سے مسائل کو سینے سے لگائے جادہ پیما ہیں۔ ہم تو وہ قوم ہیں کہ ہمیں مسائل سے فرصت اور فراغت سے نسبت ہے ہی نہیں۔ ہم انڈس ویلی تہذیب کے رکن ہیں۔ ہمارے تہذیبی ڈانڈے ایک طرف موہن جودڑو اور دوسری طرف حموربی کی عظیم الشان تہذیب کو چھوتے ہیں۔ ہم اپنے آپ کو آریائی نسل کہتے ہیں۔ ہماری سرزمین پر سکندراعظم کے نقش پا خوابیدہ ہیں۔ ہم درہ خیبر کے دعوے دار ہیں۔
ہم اپنی تاریخ کو بار بار مسرت و انبساط سے پڑھتے ہیں اور پڑھاتے ہیں۔ ہم اپنی تاریخ کو دنیا کی تاریخ کا سنہری باب تصور کرتے ہیں۔ ہمیں اپنی تاریخ کے ورق ورق میں اپنی عظمت کی پرچھائیاں نظر آتی ہیں جو سکون قلب کا مجرب نسخہ ہے۔ جب طارق بن زیاد نے اندلس کے کنارے اپنا بحری بیڑا نذرآتش کیا تو تاریخ نے اس کو سنہری الفاظ میں تحریر کیا۔ ہم اسے آج بھی پڑھتے ہیں تو سرشاری میں آنکھیں موند لیتے ہیں اور ہمارے ہونٹوں پر مسکراہٹیں پھیلنے لگتی ہیں۔
لیکن حقیقت اس سے جدا ہے۔ ہمارے خطہ زمین (غیر منقسم) ہندوستان پر کبھی آزادی اور جمہوریت کا آفتاب طلوع نہیں ہوا۔ زمانہ جہالت میں بھی بادشاہت تھی۔ مغلوں کے سنہری دور میں بھی بادشاہت تھی۔ برطانوی راج بھی بادشاہت تھی۔ تقسیم ہند کے بعد ہمیں آزادی تو ملی لیکن ہم جمہوریت سے بدستور بیگانہ رہے:
ہم انتظار صبح میں جاگے تمام رات
نکلا جو آفتاب تو وہ بھی گہن میں تھا
سوال یہ ہے کہ ہم کون ہیں؟ ہم اپنے آپ کو زندہ تصور کرتے ہیں یا ہم تاریخ کے اوراق ہیں؟ اور بدستور اپنی پہچان کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔ جیسا کہ ہم نے اوپر عرض کیا، ہم اپنی تاریخ کے ورق ورق میں اپنی عظمت کی پرچھائیاں دیکھتے ہیں اور ہم نے یہ بھی کہا کہ یہ سکون قلب کا مجرب نسخہ ہے۔
ہم طارق بن زیاد کو اندلس کے کنارے سفینہ نذر آتش کرتے دیکھتے ہیں۔ ہم محمد بن قاسم کو بحرہند میں لنگرانداز ہوتے دیکھتے ہیں۔ ہم عقبہ بن نافع کو سمندر میں گھوڑا ڈالتے دیکھتے ہیں اور وہ دونوں ہاتھ بلند کر کے آسمانوں کی وسعتوں کی طرف دیکھتے ہیں۔ ہم کمال اتاترک کو ترکی کے طول و عرض میں بغاوت کا علم بلند کرتے دیکھتے ہیں۔ ہم محمود غزنوی کی بے جگری کو سلام کرتے ہیں۔ ساری تاریخ درحقیقت ہمارے لئے ایک مجرب نسخہ ہے۔
سوال یہ ہے کہ ہم کون ہیں؟ ہم حسرت سے اپنے آپ کو اپنی حالت کو اپنی سرزمین کی طرف دیکھتے ہیں، اپنے آسمانوں کی وسعت کی گہرائیوں میں گھورتے ہیں، ہمیں کوئی طارق بن زیاد نظر نہیں آتا۔ ہمیں کوئی محمد بن قاسم نظر نہیں آتا، کوئی عقبہ بن نافع نظر نہیں آتا، کوئی اتاترک نظر نہیں آتا۔ ہماری کوئی پہچان نہیں۔ ہم تاریخ کے بوسیدہ اوراق میں دفن ہیں اور چین سے سو رہے ہیں۔
بہرمزار ما غریباں نے چراغ نے گلے
نے پر پروانہ سوزد نے صدائے بلبلے