مفتی کی ٹوپی قندیل کے سر

تحریک انصاف کے علما ونگ پنجاب کے صدرمفتی عبدالقوی نے کہا ہے کہ قندیل بلوچ نے ایس ایم ایس کرکے اپنی غلطی تسلیم کرلی ہے اور مجھ سے معافی مانگی، جس پر میں نے معاف کردیا ۔ جبکہ دوسری طرف ماڈل قندیل بلوچ نے کہا ہے کہ میں نے کوئی معافی نہیں مانگی۔ اخبارات میں شائع ہونے والی تفصیلات کے مطابق قندیل نے الزام لگایا ہے کہ اس کو مفتی صاحب کی طرف سے دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ قندیل نے میڈیا کو بتایا میں نے ایک ایسے شخص کو بے نقاب کیا ہے جو اسلام کا لبادہ اوڑھ کر عوام کو گمراہ کرتاہے۔ ماہ رمضان میں یہ علمائے دین کا خواتین کے ساتھ اپنی طرز کا دوسرا بڑا سیکنڈل تھا جو منظر عام پر آیا تھا، جس کی بازگشت دنیا بھر میں سنی گئی تھی اور اظہار افسوس کیاگیا۔

دنیا کے کسی بھی کونے میں ہونے والے معمولی سے معمولی واقعہ تک اب منٹوں میں رسائی ہو جاتی ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایک پاکستانی مفتی نے اپنی ٹوپی خوبصورت ماڈل قندیل کے سر پر رکھی تو لمحوں میں سر بدلی کی رسم پوری دنیا نے دیکھ لی اور ایک ہی صوفہ پر بیٹھے دونوں کی میٹھی میٹھی سرگوشیوں کو پوری دنیا نے سن لیا۔ ایک شادی او ر کئی نکاح کی بات سے شہرت میں جو کمی رہ گئی تھی وہ اس کوشش سے پوری ہوگئی اور دنیا میں مفتی صاحب کا ڈنکا بجنے لگا۔ دل ناداں تجھے ہوا کیا ہے کی تشریح قندیل نے اس احسن طریق سے کی ہے کہ مفتی صاحب ایک ہفتہ تک اخبارا ت ، چینلز اور سوشل میڈیا کی بھرپور توجہ کا مرکز بنے رہے۔ ہلال کمیٹی کے رکن مفتی صاحب حسینہ کی محبت میں جو بے قابو ہوئے تو ماڈل کی شوخ و رنگین سلفیوں نے ان کو قابو کیا اور ایسا قابو کیا کہ آج دنیا کے ہر کونے میں بیٹھا پاکستانی ان کی ویڈیوز سے دل بہلا رہا ہے۔ قندیل کی مفتی کی ٹوپی والی تصویر سے پتہ چلتا ہے کہ ٹوپی کس قدر گرم تھی اور مفتی صاحب کے جذبات کس قدر بھڑکے ہوئے تھے۔ یوں لگتا ہے کہ اب ہر کوئی سیکورٹی سخت کردے گا اور موبائل کے بغیر ہی ملا کرے گا۔

سوشل میڈیا پر دھوم مچانے والی ویڈیوز اور تصاویر پر جس طرح کا ردعمل ہوا ، وہ اس سے کہیں زیادہ ہے جو اسلام آباد میں دھرنے کے دوران گالی گلوچ کی تقاریر پر سامنے آیا تھا۔ سب کو علم ہو گیا کہ مذہب کے لبادہ میں کون چھپے ہیں اور وہ کتنا دین کا علم رکھتے ہیں۔ آج ہر کوئی حیران ہے کہ منبر رسول کے وارث کے دعویدار جو کچھ کرتے پھر رہے ہیں، کیاوہ ان کو زیب دیتا ہے۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں تھی اور نہ ہی اس کو شغل کہہ کر نظر انداز کیا جا سکتا ہے۔ یہ تو علماء کرام کے وقار کامسئلہ ہے۔ لہذا وفاقی وزیر مذہبی امور نے سنجیدگی کے ساتھ اس کا نوٹس لیا اور مفتی صاحب کونہ صرف رویت ہلال کمیٹی سے معطل کیا بلکہ علماء مشائح کونسل کی رکنیت بھی معطل کر دی گئی۔ یہ ایک بروقت اور درست فیصلہ تھا ۔

سینیٹ میں مفتی عبدالقوی کی اس حرکت پر نقطہ اعتراض اٹھانے والے سینیٹر حافظ حمداللہ خودبھی ایک شرمناک واقعہ میں ملوث ہیں۔ان کے خلاف تو 14 جون کو پولیس میں پرچہ بھی درج ہو چکا ہے اور وہ ضمانت پر ہیں۔ حافظ حمداللہ نے ایک ٹی وہ لائیو پروگرام میں ماروی سرمد اور اس کی ماں کی شلوار اتارنے کی دھمکی دی تھی اور اس پر حملہ کرنے کی کوشش بھی کی، جس کے نتیجہ میں آج وہ مولانا شلوار کے لقب سے جانے پہچانے جاتے ہیں۔اس واقعہ کی بازگشت بھی دنیا بھر میں سنی گئی تھی۔ لیکن ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی کیونکہ ان کا تعلق ایک طاقتور سیاسی مذہبی جماعت سے ہے۔ جبکہ مفتی صاحب کا تعلق ایک حکومت مخالف پاکستان تحریک انصاف سے ہے۔

کچھ لوگوں نے ان واقعات کو ہلکے پھلے تشدد خیال کرتے ہوئے مٹی پانے کی کوشش کی ہے جو ایک بہت غیر سنجیدہ حرکت ہے۔ یہ علماء اور مفتیان کلیدی عہدوں پر بیٹھے ہیں جہاں وہ اسلام کی نمائندگی کرتے ہیں۔ دنیا اور پاکستان کے مسلمان ان کی ہر بات کو اپنے لئے مشعل راہ سمجھتے ہیں اور حکومت یہ خیال کرتی ہے کہ ان کی ہر بات اور ان کا ہر فعل قرآن و سنت کے تابع ہے۔ لہذا ان کی باتوں اور تجاویز پر غور کرنا آئینی ذمہ داری سمجھتی ہے ۔ ان واقعات سے سیاستدانوں اور عدلیہ کو یقین کر لینا چاہیئے کہ اب پاکستان میں علمائے حق ناپید ہیں بلکہ علمائے سو ہی اکثریت میں ہیں۔ ان کی باتوں کو اسلامی نقطہ نگاہ سے قابل اعتماد نہیں مانا جا سکتا۔ جن علماء اور مفتیوں کے اپنے کردار قرآن و سنت کے منافی ہوں وہ کیسے دوسروں کے عقائد کا فیصلہ کرسکتے ہیں۔ وہ کیسے لوگوں کو صراط مستقیم کادرس دے سکتے ہیں۔ اس کالم کے لئے مجھے خاص طور پر مفتی صاحب کی کچھ پرانی ویڈیوز بھی دیکھنا پڑیں تاکہ مجھے پتہ چل سکے کہ قندیل کے ساتھ ہلکا پھلکا فلرٹ تھا یا وہ سنجیدہ تھے۔ مفتی صاحب کی ایکسپریس نیوز چینل پر الماس بوبی کے ساتھ بھی ایک ریکارڈنگ موجود ہے جس میں ذومعنی گفتگو کی گئی ہے اور الفاظ کے ذریعے دلی بیقراری کا اظہار کیا گیا ہے۔ منچلوں کے لئے اس میں کافی مواد موجود ہے۔

مبشر لقمان کے پروگرام میں قندیل نے سرعام کہا کہ مفتی نے اس کی کوک اور چائے شیئر کی اور مجھے کہا کہ میں نے تمہاری محبت میں روزہ بھی نہیں رکھا ، جس پر مبشر لقمان نے لاحول ولاقوۃ پڑھی تھی ۔ قندیل کے ساتھ شوخ و رنگین سیلفیوں کے بعد چینلز پر مفتی صاحب کی ڈیمانڈ بہت بڑھ گئی تھی۔ وہ متعدد چینلز پر سوالوں کے جواب دیتے نظر آئے۔ ایسے ہی ایک پروگرام میں مفتی صاحب نے کھل کر قندیل کے لئے اپنے جذبات کا اظہار کیا ۔ پھر قندیل کو شادی کی دعوت دی۔ اس گفتگو میں جو اہم بات مولوی صاحب نے کہی وہ نہ صرف قابل اعتراض ہے بلکہ مفتی ایسے منصب پر فائز عالم کی شان کے بھی خلاف ہے ۔پروگرام کی خاتون میزبان کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے مفتی صاحب نے کہا تھا کہ ’میں ان سے شادی کا خواہش مند ہوں ان کو پیغام پہنچادیا ہے۔ اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔ اگر آپ کو کوئی اعتراض ہے تو آپ بتائیں۔ اگر قندیل بلوچ نہیں ہے تو کیا آپavailable ہیں میرے ساتھ شادی کے لئے‘۔۔اس جملے سے مفتی صاحب کی رنگ بازیوں اور ان کے مزاج کا پتہ چلتا ہے۔

ٹی وی پروگرام میں اگر ایک مفتی ایسی بے راہ روی اور غیر سنجیدہ گفتگو کرے گا تو پھر دنیا میں جگ ہنسائی تو ہو گی۔ سوشم میڈیا پر ان معاملات پر خوب لے دے ہو رہی ہے۔ اگر انصاف سے دیکھا جائے تو ایسے شخص کو مفتی کہلانے کا حق نہیں ہے۔ المیہ یہ ہے کہ وہ ایک دینی مدرسہ کے مہتمم بھی ہیں۔ لازمی بات ہے کہ مدرسہ کے طالب علم بھی یہ سب کچھ دیکھ اور سن رہے ہونگے۔ مفتی صاحب اپنے منصب کی پاسداری میں ناکام رہے ہیں۔ انہوں نے یکے بعد دیگرے مختلف نیوز چینلز پر انتہائی بیباکی اور بے تکلفی سے ایسی گفتگو کی ہے ،جو ان کے منصب کی شایان شان نہیں۔