قتل امجد کا ، جنازہ امیدوں کا
کرم مانگتا ہوں عطا مانگتا ہوں
الہٰی میں تجھ سے دعا مانگتا ہوں
نہ مانگوں گا تجھ سے تو مانگوں گا کس سے
تیرا ہوں میں تجھ سے دعا مانگتا ہوں
یہ وہ صدا تھی کہ جس سے اور اس صدا کو بلند کرنے والے صداکار سے کراچی میں رہنے والا ہر بچہ ، بوڑھا اور جوان واقف ہے۔ یہ وہ صدا تھی جو اہل کراچی کے درمیان سے اٹھا کرتی تھی اور کراچی کے ہر گلی کوچے میں گونجا کرتی تھی۔ یہ امجد فرید صابری کی صدا تھی کہ جس کے بزرگوں نے فریاد کی تھی کہ کچھ نواسوں کا صدقہ عطا ہو۔ لوٹ کر میں نہ جاؤں گا خالی۔ گویا اہلیان کراچی امجد فرید صابری کی “لوٹ کر میں نہ جاؤں گا خالی“ کی فریاد کو قبولیت کی منزل سمجھا کرتے تھے۔
23 جون 2016 کی سہ پہر کراچی کے مصروف ترین علاقوں میں سے ایک لیاقت آباد میں دن دہاڑے دہشتگردی کے ایک واقعہ میں “لوٹ کر میں نہ جاؤں گا خالی“ کے فریادی کو ہم سے جدا کر دیا گیا۔ کرم مانگنے والے صداکار کی آواز کو ہمیشہ کے لئے خاموش کر دیا گیا۔ امجد فرید صابری جو کہ چالیس سال قبل رمضان المبارک کے مہینے میں افطار سے کچھ دیر قبل پیدا ہوئے تھے، انہیں اپنی پیدائش کے چالیس سال بعد رمضان المبارک کے مہینے میں افطار سے قبل روزہ کی حالت میں شہید کر دیا گیا۔
امجد فرید صابری کی شہادت کا دکھ پاکستان سمیت دنیا بھر میں ان کے چاہنے والوں نے محسوس کیا لیکن اہلیان کراچی کےلئے امجد فرید صابری کی شہادت کی خبر کسی قیامت صغریٰ سے کم نہ تھی۔ ان کی شہادت پر اہلیان کراچی کے شدت غم کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ شاید ہی اس دن کراچی کا کوئی گھرانہ ایسا ہو کہ جس میں ایک عام دن کی طرح روزہ افطار کیا گیا ہو اور یہی حال امجد صابری کے جنازے کا تھا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ جیسے پورا کراچی ان کے جنازے کےلئے امڈ آیو ہو۔ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ امجد صابری کے جنازے کا اجتماع کراچی کی تاریخ کے جنازوں کے بڑے اجتماعات میں سے ایک تھا اور شاید یہ اجتماع بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے جنازے کے اجتماع کے بعد کراچی کی تاریخ کا دوسرا بڑا جنازے کا اجتماع تھا۔ جنازے کا یہ عظیم اجتماع دراصل اس عقیدت اور محبت کا اظہار تھا کہ جو اہلیان کراچی کو شہید کے ساتھ تھی۔
امجد صابری کی شہادت کے بعد کراچی کے عوام جس دکھ سے گزر رہے ہیں اس کی بنیادی طور پر دو وجوہات ہیں۔ ایک وجہ تو یہ ہے کہ امجد صابری کا تعلق کراچی سے تھا اور وہ ایک ہر دلعزیز شخصیت تھے۔ دیگر فنکاروں کے برعکس وہ عوام کے درمیان رہنا پسند کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ آخری دم تک کراچی کے گنجان آباد علاقے لیاقت آباد میں واقع اپنے آبائی گھر میں ہی رہائش پذیر رہے۔ اسی طرح وہ گلی محلوں اور دیگر عوامی مقامات پر اکثر عوام میں گھلے ملے رہتے تھے۔ وہ ایک غریب پرور اور انسان دوست شخص تھے جو کہ دکھی انسانیت کی خدمت کے جذبے سے سرشار تھے۔ وہ نجانے کتنے گھرانوں کے چولہے جلتے رکھنے میں معاون و مددگار تھے۔
دوسری اہم وجہ یہ ہے کہ اہلیان کراچی اس حملے کو صرف امجد صابری پر حملہ نہیں سمجھتے بلکہ اس حملے کو کراچی کے امن پر حملہ تصور کرتے ہیں۔ گویا اہلیان کراچی اس حملے کو خود پر اور اپنے اہل و عیال پر حملہ تصور کرتے ہیں۔ امجد صابری پر ہونے والا حملہ درحقیقت امجد صابری پر حملہ نہیں تھا بلکہ افواج پاکستان اور رینجرز کی ان کوششوں پر حملہ ہے کہ جو انہوں نے کراچی کا امن بحال کرنے اور کراچی کی روشنیاں لوٹانے کےلئے کی ہیں۔
بنیادی طور پر کراچی کے عوام نے گزشتہ چند دہائیوں میں خود کو قتل و غارتگری ، ظلم اور جبر کے نظام کے درمیان پایا ہے اور کراچی کی نوجوان نسل اسی قتل و غارتگری ، ظلم و جبر کے نظام کی زنجیروں کے سائے تلے پیدا ہوئی اور پروان چڑھی ہے۔ کراچی کے عوام ظلم اور خوف کے اس نظام کو درحقیقت غلامی کا ایک طوق سمجھتے آئے ہیں لیکن ہمیشہ سے ہی غلامی کے اس طوق سے چھٹکارا حاصل کرنے کے معاملے میں خود کو بے بس محسوس کرتے رہے ہیں۔ شہر کی ایک واضح اکثریت اس بات کو تسلیم کر چکی تھی کہ اب اس غلامی سے چھٹکارا ممکن نہیں ہے۔
اہل کراچی کی زندگیوں میں ایک خوشگوار تبدیلی اس وقت رونما ہوئی کہ جب تین سال قبل رینجرز نے کراچی آپریشن کا آغاز کیا۔ شروع میں یہ آپریشن سست روی کا شکار تھا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس میں تیزی آئی اور گزشتہ تین سال سے جاری کامیاب آپریشن کے نتیجے میں شہر سے بھتہ خوری ، اغوا برائے تاوان ، زمینوں پر قبضہ ، ٹارگٹ کلنگ اور دیگر جرائم میں واضح کمی نظر آئی اور روشنیوں کے اس شہر کی رونقیں دوبارہ بحال ہونا شروع ہوئیں۔ گویا ظلم اور خوف کے نظام کا وہ طوق جسے کراچی کے عوام اتار پھینکنے سے قاصر تھے وہ انہیں ٹوٹتا نظر آیا۔
کراچی کے عوام کی نظر میں امجد صابری پر حملہ دراصل اسی لئے کیا گیا کہ کسی طرح شہر میں خوف طاری کیا جاسکے۔ تاکہ افواج پاکستان اور رینجرز کی کامیابیوں پر انگلیاں اٹھائی جا سکیں۔ کراچی کے عوام کا جو اعتماد ریاست پاکستان پر بحال ہوا ہے اسے ایک مرتبہ پھر متزلزل کیا جا سکے۔ گویا قتل تو امجد صابری کو کیا گیا لیکن قاتلوں کا اصل مقصد کراچی کی عوام کو خوف کی غلامی میں جکڑے رکھنا تھا۔ لیکن اہل کراچی نے صابری کے جنازے میں شرکت کے ذریعے واضح کردیا ہے کہ وہ دہشت گردوں کے مقاصد کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔